شکست کھانے کے بعد دشمنوں نے ایک بار پھر ایران کی طرف رخ کر لیا ہے

 

 

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے محرم الحرام کی مناسبت سے علما و ذاکرین نیز مبلغین کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمنوں نے اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کے لئے تکفیری وہابیوں کا ایک جعلی نسخہ تیار اور القاعدہ و داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے ذریعے اسے عملی نمونے کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی اور دنیا کے مختلف ملکوں کے تعلیمی مراکز میں اس کام پر اربوں ڈالر خرچ کئے۔انھوں نے کہا کہ یہ سازشی منصوبہ، پورے علاقے کے لئے تیار کیا گیا تھا مگر خداوند متعال کی مدد و نصرت اور رہبر انقلاب اسلامی کے صبر و تحمل اور تدبیر و رہنمائی کی بدولت یہ سازشی منصوبہ شکست سے دوچار ہو گیا۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ دشمن پابندیاں لگا کر ایران کو غلط طریقے سے پیش اور عوام کو ورغلا کر اور اسی طرح ایرانی قوم نیز ایران و عراق کے عوام کے درمیان فتنے کا بیج بو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے لبنان اور تحریک مزاحمت کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اس وقت علاقے میں بنیادی کردار کی حامل ہے جس کی وجہ اس کا عوامی اور حزب اللہ اور تحریک امل کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا ہونا ہے۔