مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی دال اب نہیں گلے گی؟؟

عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں تبدیلی کا نعرہ بلند کیا ہے، جسکے اثرات بلاشبہ خطے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خطے میں موجود ممالک کی وابستگیاں بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ ایران پاکستان کے زیادہ قریب آرہا ہے۔ روس، چین اور ترکی کا پاکستان کیساتھ ملکر ایک نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے، جسکی وجہ سے خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

 

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کیساتھ ہی خطے میں بھی مثبت تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور عمران حکومت نے کھل کر اپنی خارجہ پالیسی بھی بیان کرنا شروع کر دی ہے۔ ماضی کی حکومت ذاتی مفاد اور مصلحت کے تحت خارجہ محاذ پر بری طرح ناکام رہی، جس سے پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا۔ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی سعودی عرب نے رابطہ کیا۔ ایران کی طرف سے پیغام آیا اور اب امریکہ کے وزیر خارجہ دورے کرکے گئے ہیں۔ پاکستان کیساتھ تعلقات کے حوالے سے ہونیوالی پیشرفت کے بعد امریکہ کی جانب سے باضابطہ تحریری بیان میں ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پومپیو نے مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن کے حصول کیلئے پاکستان کے اہم کردار کی نشاندہی کی اور پاکستان سے تقاضا کیا کہ دہشتگردوں اور شدت پسندوں کیخلاف متواتر اور فیصلہ کُن اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں مشترکہ ترجیحات پر امریکہ اور پاکستان کی جانب سے مل کر کام کرنے کے امکانات پر گفتگو کی، جن میں علاقائی امن اور استحکام شامل ہے۔ یہ بات محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے ایک باضابطہ تحریری بیان میں کہی ہے، جس میں پومپیو کی پاکستان میں مصروفیات کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔

 

ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اسلام آباد میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور دیگر سویلین و فوجی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ اُن کے ہمراہ چیئرمین جوائنٹ چیفز آف سٹاف جنرل جوزف ایف ڈنفرڈ جونئیر تھے، جنھوں نے حکومت تشکیل دینے پر وزیراعظم کو مبارکباد دی، جبکہ وزیر خارجہ نے سویلین اداروں کی مزید تقویت کا خیرمقدم کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ پومپیو نے امریکہ پاکستان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا، مشترک مفاد کے شعبوں کی نشاندہی کی، جیسا کہ دو طرفہ تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینا۔ امریکی وزیر خارجہ نے ہمارے ملکوں کے مابین عوام کے عوام کیساتھ مضبوط روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جن کی بنیاد عشروں پر محیط ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں پر مشتمل رہی ہے۔ نوئرٹ نے کہا کہ پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کے دوران، وزیر خارجہ پومپیو نے نئی سولین حکومت کو اختیارات دینے کے ہموار عبوری دور کو سراہا اور مضبوط جمہوری اداروں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ پومپیو نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشتگردی کا تعاون گہرا ہوگا۔

 

ترجمان نے کہا کہ اپنی تمام ملاقاتوں کے دوران وزیر خارجہ پومپیو نے افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول کیلئے پاکستان کے اہم کردار کی نشاندہی کی اور پاکستان سے تقاضا کیا کہ دہشتگردوں اور شدت پسندوں کیخلاف متواتر اور فیصلہ کُن اقدام کرنے کی ضرورت ہے، جو علاقائی امن اور استحکام کیلئے خطرے کے باعث ہیں۔ پاکستان کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ کی ٹون اس بار تبدیل تھی، لیکن ان کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں "حکمیہ" انداز بدستور موجود ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں امریکیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ہماری خود مختاری کا احترام کیا جائے اور برابری کی سطح پر بات کی جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک حساب سے "ٹیسٹ کیس" بھی تھا، جو پاکستانی حکومت کو دیکھنے کیلئے کیا گیا کہ نئی حکومت کا رویہ ان کیساتھ عملی اور بیانی حد تک کس طرز کا ہے۔

 

عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں تبدیلی کا نعرہ بلند کیا ہے، جس کے اثرات بلاشبہ خطے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خطے میں موجود ممالک کی وابستگیاں بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ ایران پاکستان کے زیادہ قریب آرہا ہے۔ روس، چین اور ترکی کا پاکستان کیساتھ مل کر ایک نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ کے کاسہ لیس یا نام نہاد دوست ممالک بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے چہرے پر اس وقت اضطراب واضح دکھائی دے رہا ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک خاموشی سے اپنی ترجیحات اور تعلقات کا ازسرنوء جائزہ لے رہے ہیں۔ ترکی، چین، روس اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک خطے میں قیام امن کیلئے نمایاں کردار ادا کرنے جا رہے ہیں اور امریکہ کا اثر و رسوخ ختم ہونے کے قریب آچکا ہے، یہی وجہ سے کہ وہ اب بھارت پر زیادہ انحصار کر رہا ہے اور بھارت کے ذریعے خطے پر اثرانداز ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے، مگر اب مشرق وسطیٰ میں امریکی دال گلتی دکھائی نہیں دے رہی۔