افغانستان، داعش میں پاکستانی دہشتگردوں کی موجودگی کا انکشاف

اس داعشی کمانڈر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا نام صدیق ہے اور میرا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقہ اورکزئی ایجنسی سے ہے، میرے ساتھ گرفتار ہونے والا میرا جو ایک اور ساتھی ہے، اسکا نام سجاد ہے، وہ بھی اورکزئی ایجنسی اور میرے گاوں کا ہی ہے۔ ہم افغانستان کے علاقہ چین اولسوالے میں رہ رہے تھے، پھر ہم نے افغان حکومت کیخلاف جنگ شروع کردی۔ نزیان سے گرگرے کے علاقہ تک میں نے خود بھی کئی لڑائیاں لڑیں اور میں خود بھی کمانڈر تھا۔

رپورٹ: ایس اے زیدی

 

عراق اور شام میں ذلت آمیز شکست کے بعد دہشتگرد تنظیم داعش کے جنگجووں نے افغانستان کا رخ کیا، یہاں اپنے آپ کو مضبوط کیا اور پھر لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا، حتیٰ کہ افغانستان میں موجود طالبان شدت پسندوں کیساتھ بھی داعش کی کئی لڑائیاں اور ان میں کافی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ داعش کی موجودگی پاکستان سے متصل بارڈر کے علاقوں میں بھی پائی گئی ہے، جو کہ پاکستان کیلئے بھی ایک خطرہ ہے۔ اسی خطرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے بعض حفاظتی اقدامات بھی کئے، جن میں سرحد پر باڑ لگانا اور بارڈر سکیورٹی بہتر بنانا شامل ہیں۔ اس حقیقت کو تو تسلیم کیا جا رہا تھا کہ داعش پاکستان کی سرحد کے قریب موجود ہے، تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں برسرپیکار دہشتگرد تنظیم داعش میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اور دہشتگرد بھی موجود ہے۔ یہ انکشاف گذشتہ دنوں افغان نیوز چینل شمشاد نیوز پر گرفتار ہونے والے داعش کے کمانڈر کی وساطت سے ہوا، نیوز چینل کے رپورٹر نے اس شدت پسند کیساتھ پشتو زبان میں بات چیت کی، تاہم اسلام ٹائمز اپنے قارئین کے لئے اس بات چیت کو اردو زبان میں ترجمہ کرکے پیش کر رہا ہے۔

 

اس داعشی کمانڈر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا نام صدیق ہے اور میرا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقہ اورکزئی ایجنسی سے ہے، میرے ساتھ گرفتار ہونے والا میرا جو ایک اور ساتھی ہے، اس کا نام سجاد ہے، وہ بھی اورکزئی ایجنسی اور میرے گاوں کا ہی ہے۔ ہم افغانستان کے علاقہ چین اولسوالے میں رہ رہے تھے، پھر ہم نے افغان حکومت کیخلاف جنگ شروع کر دی۔ نزیان سے گرگرے کے علاقہ تک میں نے خود بھی کئی لڑائیاں لڑیں، اور میں خود بھی کمانڈر تھا۔ صحافی نے پوچھا کہ آپ وہاں کتنے جنگجووں کی کمانڈ کر رہے تھے۔؟

داعشی کمانڈر: اس میں ہمارے گروپس تھے، 60، 60 افراد کا ایک ایک گروپ ہوتا تھا، جس میں 10، 10 افراد کے مزید گروپس ہوتے تھے، 10 افراد والے ایک گروپ کا میں کمانڈر تھا۔

صحافی: آپ کے استاد کون تھے۔؟

داعشی کمانڈر: کچھ ہمارے استاد مقامی تھے اور کچھ باہر کے تھے، جن میں تاجک، ازبک، پاکستان کے علاقہ اورکزئی کے بھی تھے۔

 

صحافی: وہ (سینیئر کمانڈرز) آپ کو کیا ہدایات دیتے تھے۔؟

داعشی کمانڈر: وہ کہتے تھے کہ یہ جو افغانستان کی حکومت ہے، اس کے خلاف جنگ جائز ہے، وہ لوگ جو مریں گے، وہ دوزخ میں جائیں گے اور آپ لوگ جنت میں جائیں گے۔

صحافی: آپکو تنخواہ کتنی ملتی تھی۔؟

داعشی کمانڈر: ہماری ماہانہ تنخواہ تو کم تھی، اس کے علاوہ جتنا بھی ہم خرچہ مانگتے تھے، وہ ہمیں دیتے تھے، اگر ہم 10 ہزار یا 20 ہزار مانگتے تھے تو وہ ہمیں دیتے تھے۔

صحافی: یہ پیسہ کہاں سے آتا تھا۔؟

داعشی کمانڈر: شام اور عراق سمیت پاکستان میں موجود ہمارے لوگ بہت زیادہ پیسے بھجواتے تھے۔

صحافی: اب وہاں داعش کے کتنے ٹھکانے ہیں۔؟

داعشی کمانڈر: 6 سے 7 سو کے قریب ٹھکانے اب بھی وہاں ہوں گے۔

صحافی: یہ ٹھکانے کس جگہ پر ہیں۔؟

داعشی کمانڈر: یہ نزیان سے وزیر کے علاقہ تک جگہ جگہ ہیں۔ اس میں باہر والے جنگجو ہیں، جن میں ترک، ازبک اور چین والے بھی ہیں۔

 

صحافی: یہ کون سے راستوں سے آتے ہیں۔؟

داعشی کمانڈر: یہ مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور ہمارے کمانڈرز کیساتھ ہر وقت رابطے میں ہوتے ہیں، ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔

صحافی: اسلحہ اور ہتھیار وغیرہ کہاں سے آتا ہے۔؟

داعشی دہشتگرد: خیبر میں پہلے ڈپو ہوتے تھے، وہاں سے اسلحہ آتا تھا، یہاں بہت زیادہ اسلحہ تھا، تاہم بمباری کی وجہ سے وہ کافی حد تک کافی تباہ ہوگیا ہے۔ اب بھی وزیر اور تورا بورا کے علاقہ سے بہت سا اسلحہ آتا ہے۔

صحافی: کیا جنگجو عورتیں بھی آپ لوگوں کیساتھ ہوتی ہیں۔؟

داعشی کمانڈر: نہیں، یہاں عورتیں تو نہیں ہوتیں، لیکن انہیں اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دی گئی ہے، وہ گھر پر ہوتی ہیں، اپنی حفاظت کر سکتی ہیں۔

صحافی: آپ نے خود کتنے لوگوں کو قتل کیا ہے۔؟

داعشی کمانڈر: (ہنستے ہوئے) میں نے تو اب تک صرف 8،7 لوگوں کو ہی قتل کیا ہے۔

 

صحافی: آپ ان لوگوں کو کیوں مارتے تھے۔؟

داعشی کمانڈر: ہمیں کہا گیا ہے کہ ان کو مارنا جائز ہے، جو ان کو مارے گا، اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔

صحافی: کسی انسان کو ذبح کرنے کی ہمت کیسے کر لیتے ہیں آپ لوگ۔؟

داعشی دہشتگرد: ذبح کرنے کے عادی ہوگئے تھے، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا، ہمارا ذہن ایسے بن گیا تھا کہ ہمیں کسی انسان کو ذبح کرتے ہوئے کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔

صحافی: حکومت کیساتھ آپ کے معاملات کیسے ٹھیک ہوگئے۔؟

داعشی کمانڈر: آخر میں انہوں (داعش) نے ایسے کام شروع کر دیئے تھے کہ بازاروں اور گلیوں میں دھماکے اور ظلم کیا، اس وجہ سے۔ ہم حکومت کے قریب ہوگئے اور گرفتاری دی۔

 

صحافی: اس علاقہ میں کیا ایسے مزید لوگ ہیں، جو امن کی طرف آنا چاہتے ہیں۔؟

داعشی کمانڈر: کئی لوگ ایسے ہیں کہ جو امن کی طرف آنا چاہتے ہیں۔

صحافی: آپ چار سال تک حکومت سے لڑے، لوگوں کو قتل کیا، پھر بھی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو معافی مل جائے گی۔؟

داعشی کمانڈر: اب ہم ادھر آگئے ہیں، اب ان کی مرضی ہے کہ یہ لوگ ہمیں مار ڈالیں یا معاف کر دیں، ہم وہاں کے مقابلہ میں یہاں پر ٹھیک ہیں، ہم ان لوگوں کو ساری کہانی سنائیں گے اور یقین دہانی کرائیں گے کہ آئندہ اب ایسا کام نہیں کریں گے۔

صحافی: آپ کے وہ بڑے کمانڈرز اب زندہ ہیں یا نہیں۔؟

داعشی کمانڈر: پرانے کمانڈرز اب بہت کم رہ گئے ہیں، کئی بمباری میں مارے گئے ہیں، ان میں چھوٹا طبقہ رہ گیا ہے، مگر ان کے مابین روز بروز اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔

 

افغانستان میں موجود داعش جیسی دہشتگرد اور خطرناک تنظیم میں پاکستانی شدت پسند جنگجووں کی موجودگی جہاں افغانستان کیلئے مشکل کا باعث ہے، وہیں یہ پاکستان کے امن کیلئے بھی خطرہ ہے۔ اس سے قبل عراق اور شام میں بھی پاکستان سے شدت پسند داعش کی حمایت اور کمک کیلئے جاتے رہے ہیں، اب افغانستان میں بھی پاکستانی جنگجووں کی موجودگی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، یہ دہشتگرد پاکستان واپس آکر کیا وطن عزیز کے امن کیلئے خطرہ نہیں ہوں گے۔؟ کیا وہ داعش کے خطرناک نظریات یہاں لاگو کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔؟ کیا ان دہشتگردوں کی افغانستان میں موجودگی عالمی سطح پر کئے جانے والے ان دعووں کی تقویت نہیں بخشے گی کہ پاکستان افغانستان میں مداخلت کرتا ہے۔؟

 

پاکستان کو اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، حکومت پاکستان کو بارڈر سکیورٹی کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے، افغانستان میں گرفتار ہونے والے پاکستانی جنگجووں کو پاکستان لاکر ملکی قوانین کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے اور ساتھ ہی ان کے ساتھ تحقیقات کرکے اس سلسلہ کو روکنا چاہیے، علاوہ ازیں افغانستان کیساتھ انٹیلی جنس شئیرنگ موثر بنائی جائے، خطہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے دونوں ممالک کو سرحد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنا ہوگا۔