ستمبر 65 ! پاک بھارت جنگ

 

 

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

 

ہم جب بھی بم پاکستان کی طرف پھینکتے نہ تو پھٹتااور نہ ہی کسی قسم کا نقصان کرتا، مگر جیسے ہی وہ فولادی جوان واپس ہماری طرف پھینکتے تو وہ فورا پھٹ بھی جاتا اور ہمارا بہت بڑا نقصان بھی کر جاتا،ایسی مخلوق سے ہمارا جانی، اور فوجی سازوسامان کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا۔جس سے ہماری ہمت ٹوٹ گئی، ہمارے حوصلے پست ہوگئے، ہمارے جوانوں میں خوف، ڈر اور دہشت بیٹھ گئی تھی ان جیسے ملے جلے خیالات کا اظہار ان انڈین آرمی کے جوانوں نے کیا جو پاکستان نے ستمبر 1965 کو جنگی قیدی بنا لئے تھے، بھارت چاہتا ہے کہ 1962 میں شرم ناک شکست جو چین نے تبت وغیرہ میں دی وہ دھبہ دھل جائے تا کہ انڈیا اپنی عوام جسکے خون پسینے کی کمائی انڈین فوج کے ناز و نخرے پر خرچ کر رہا ہے اس کو بتایا جائے کہ بھارتی فوج ایک طاقت ور فوج ہے۔ حقیقت میں انڈیا آرمی طاقت ور نہیں بلکہ پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی بجائے مکرو فریب اور تعصب پسند ہے۔حالانکہ جنگی سازو سامان انڈین کے پاس بہت زیادہ تھااور یہ تعداد میں کئی گنا زیادہ تھے۔بھارت اب اپنی عوام کو یہ باور کروارہا ہے کہ 1971

پاکستان کے خلاف کامیابی کا دارومداد ستمبر 1965 کی جنگ ہے، اگر بھارت پاکستان کو شکست نہ دیتا تو پھر ہم 1971 کی کامیابی کیسے حاصل کر سکتے تھے؟حقیقت میں بھارت کو نہ کامیابی 1965 میں نصیب ہوئی اور نہ ہی 1971 کو پاکستان کو شکست دے سکا، ہمارا بازو ہم سے کاٹ دیا گیا، افسوس صد افسوس۔۔اس میں بھارت کی پوری مداخلت تھی،لیکن ہمارے سیاستدان اور حکمران ڈگمگا گئے تھے اور اس کافائدہ انڈیا نے اٹھایا پہلے بھی عرض کرچکا ہوں، انڈیا طاقت کے بل بوتے پر نہ کل ہم سے مقابلہ کر سکتا تھا اور نہ آئندہ کبھی مقابلے کا سامنانہ کر سکے گاکیونکہ انڈیا کافر ہے اور پاکستان مسلمان بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

 

کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپائی

 

تاریخ انسانی نے ستمبر 1965کو دیکھا کہ پاکستان نے اللہ کے فضل و کرم سے ایسے ریکارڈ بنائے۔جو نہ اس سے پہلے دنیا نے ایسے ریکارڈ دیکھے اور نہ قیامت تک دیکھے گی انشاء اللہ۔1965کی جنگ میں جب دشمن کے فضائیہ پائلٹ نے ساری گولیاں فائر کردیں مگر پاکستان کو ایک بھی نہ لگی، اس موقع پر ایک غازی ایم ایم عالم صاحب کا ایک واقعہ ایم ایم عالم نے 15 سیکنڈ کے پاور فائر تھا، ہمارے پاس Fـ86 saber ائیر کرافٹ تھا اور اس میں سے جب فائر کیا جاتا ہے تو 15 سیکنڈ کی گولیاں ہوتی ہیں، 15 سیکنڈ کی گولیوں سے بھارت دشمن کے 5 طیارے مار گرائے۔اور یہ ورلڈ ریکارڈ ہے، جس کو کوئی بھی توڑ نہیں سکا، اور نہ توڑ سکے گاـجب لاہو ر پر بم گرانے انڈیا کے طیارے آتے تو ملت اسلامیہ پاکستان کے شاہین ان کا پیچھا کرتے تھے اور لاہور کے رہائشی لوگ اپنے چھتوں پر چڑھ جاتے اور دشمن کے طیاروں پر جوتے، انڈے اور ڈنڈے پھینکتے تھے اور پوری وادی نعرہ تکبیر سے گونجنے لگ جاتی تھی، گویا میلے جیسا سماں تھا،جب ہمارے شاہین دشمن کے طیاروں کو مار گراتے تو لوگوں کا جوش و خروش کو سمجھنے کے لئے انڈیا اور پاکستان کے میچوں سے لگایا جا سکتا ہے حالانکہ میچ کھیل ہوتا ہے اور جنگ جنگ ہوتی ہے۔

 

دشمن نے مکاری سے 6 ستمبر 1965 کی اندھیری رات میں اچانک لاہور کے تین اطراف سے حملہ کردیا، شمال میں جسٹر کے مقام اور جنوب میں قصور کے مقام کے ساتھ عین وسط میں آر بی آر کنارے دشمن نے توپوں، گنوں سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی،پاک فوج کے جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گولیوں سے سینہ چھلنی کرواتے رہے، لاشوں پر لاشیں گرتی رہیں، مگر پاکستان کی بہادر افواج کے شاہینوں نے جام شہادت کو نوش کرنااور دشمن کے سامنے سیسسہ پلائی دیوار اپنے آپ کو ثابت کر دیا۔نہر آر بی آر نے دیکھا پاکستانی فوج اور پاکستانی عوام کے حوصلے جو چٹانوں سے بلند فولاد سے مضبوط تھے، دشمن نے جو اپنی طاقت، اپنے اسلحہ بارود کے نشے میں بد مست ہاتھی بنکر پاکستان کے دل، داتا کی نگری لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب لیکر اس قوم کو للکارا جو موت سے محبت کرتے ہیں۔

 

دشمن جنگ کی تیاری کرکے ہم پو حملہ آور ہوا تھااور دشمن پورے جنگی سازو سامان سے لیس تھا، نفری میں بھی دشمن کو برتری حاصل تھی قصہ مختصر ایک وقت آیا دشمن ہماری توپوں کے بالکل قریب پہنچ گیا اور دشمن کے پاس ٹینک تھے ٹینک میں بہت ساری خصوصیات ہوتی ہیں، یعنی موبائل سسٹم ٹینک میں ہوتا ہے جبکہ توپ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتی صرف گولہ فائر کرتی ہیں،دشمن گھبراہٹ میں آکر ہماری توپوں کو تباہ و برباد کر کے مٹی کا ڈھیر کرنے کا سوچ رہا تھا۔

 

جب انڈین ڈویژن نے لاہور پر حملہ کیا تو انڈین جرنیل اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے یہ کہہ رہے تھے کہ لاہور اب صرف تین چار میل دور رہ گیا ہے، بس تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ تھوڑا سا آگے بڑھو اور لاہور تمہارے قبضہ میں ہو گا۔ مذاہمت شدید ہو رہی تھی۔ اور پاکستان کے جوانوں نے دشمن کو روکنے کیلئے اپنے آپ کو دشمن کے ٹینکوں کے سامنے ڈال دیا تھا۔ اس کیفیت میں لاہور تقریباً 14 میل دور تھا۔ اس زمانے میں وائرلیس انکرپٹڈ نہیں ہوا کرتے تھے۔ جو بھی بات چیت ہوتی تھی وہ دونوں جانب سے سنی جاتی تھی۔ تو جب ہمارے جوانوں نے یہ سنا کہ دشمن کا جنرل اپنی فوج سے کہہ رہا ہے کہ لاہور صرف تین یا چار میل دور رہ گیا ہے جبکہ لاہور اس وقت 14 میل دور تھا۔ تو اس وقت ہمارا وہ زخمی افیسر اپنے مورچہ سے نکلتا ہے اور سڑک کے کنارے جو کتبہ لگا ہوا تھا جس پر لاہور 14 میل لکھا تھا اس کو اکھاڑ کر انڈیا کی جانب مزید دو فرلانگ اور لے کر گیا اور اس پر اپنے خون سے نقطہ لگا کر 2 لکھ کر لگا دیا جس کا مطلب تھا 14.2 بلڈی میل۔ اور وہ جوان واپس آگیا۔ جب دشمن کے ٹینک اس کتبے تک پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ لاہور تین یا چار نہیں بلکہ 14.2 بلڈی میل دور ہے تو دشمن اس کو پار نہیں کر سکا۔

 

کہ اللہ تعالی کی ذات بابرکت نے پاکستان کے مسلمانوں کی اسی طرح غائبانہ مدد فرمائی جیسے چودہ سو سال قبل غزوہ بدر کے مقام پر فرمائی تھی، غزوہ بدر میں بھی دشمن بے پناہ جنگی سازو سامان سے لیس تھا،افرادی قوت میں بھی بہت زیادہ تھے مگر جذبہ ایمانی سے لبریز مسلمان تھے اور شہادت کی تمنا اور دعائیں لیکر دشمن پر ٹوٹ پڑے تھے،اللہ تعالی کی ذات دلوں کا حال جانتی ہیں، یہی وجہ ہے چودہ سوسال قبل بھی اللہ نے غزوہ بدر کے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور بارش کو اتنا برسایا کہ دشمن کے سارے پلان بارشی پانی میں بہہ گئے، دشمن لاچار اور بے بسی کی حالت میں ذلیل و خوار ہواتھا، اب 1965 میں بھی اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور پاکستان کو نصرت نصیب ہوئی۔

 

جب ٹینک اور توپوں کا آمنا سامنا ہوا جو فاصلہ تھا کوئی زیادہ نہ رہا۔تو اللہ تعالی نے پاکستان کے مسلمانوں پر اپنا خاص کرم و فضل کیا اور ٹینکوں اور توپوں کی لڑائی نہ ہوئی کیونکہ اللہ تعالی نے دھند کو اتنا پھیلایا کہ ایک قدم پر بھی کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔ جب بھی کوئی حسد، بغض اور کینہ پروری کی عینک اتار کر 1965 کی انڈیا اور پاکستان کی جنگ جو بھارتی افواج نے چھپ چھپا کر اپنی کئی گنا افرادی برتری، جدید جنگی سازوسامان اور تیاری کے ساتھ پاکستان پر یلغار کی اور پھر دنیا نے دیکھا عبرت ناک شکست سے انڈیا کا سارا غرور اور تکبر خاک میں ملیا میٹ ہو گیایہ سب اس بات کی نمائندگی ہے کہ مسلمان جب بھی حق پر ہوتا ہے تو اللہ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے اور 1965 میں بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ دو ملکوں کے درمیاں جنگ نہیں تھی بلکہ عالم کفر اور اسلام کی جنگ تھی،اور اللہ پاک نے قدم قدم پر مسلمانوں کی مددفرمائی۔اہل دانشور حدت حیرت میں ڈوبے ہیں کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی کی کامیابی کی وجہ معجزہ ہے یا نومولود ملک خداداکی اعلیٰ حکمت عملی ہے ؟