امریکہ کیجانب سے سعودی عرب کو ناکارہ اسلحہ کی فراہمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے دوران اسلحہ کی فروخت کے معاہدات، اسرائیل دوست اور ایران دشمن پالیسی کی ترتیب و ترکیب مقدم رہے۔ دونوں دورہ جات نے ملکی و عالمی میڈیا میں خوب جگہ پائی، کہیں پہ تنقید تو کہیں ستائش کی صورت میں تبصرے بھی ملے۔ ایک عرب کارٹونسٹ نے دونوں دوروں کی تصویر یوں پیش کی ہے کہ پہلے گوالا (ٹرمپ) خود گائے (سلمان) کا دودھ نکالنے کیلئے گائے کے پاس گیا ہوتا ہے، جبکہ دوسری تصویر میں گائے (سلمان) اپنا دودھ دینے کیلئے خود گوالے (ٹرمپ) کے پاس پہنچی ہوتی ہے۔

 

ترتیب و ترجمہ: آئی اے خان

 

امریکا نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق بنیادی سمجھوتہ 67 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹینک شکن میزائلوں سے متعلق ہے، سمجھوتے میں سعودی عرب کو 6700 ناؤ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے، دیگر معاہدوں میں ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور دیکھ بھال (10.3 کروڑ ڈالر) اور مختلف نوعیت کی زمینی سواریوں کے پرزہ جات (30 کروڑ ڈالر) شامل ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسلحے کی اس فروخت کی تیاریاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال مئی میں سعودی عرب کے دورے کے وقت سے کی جا رہی تھیں، اس دورے میں طے پانے والے 110 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کے بڑے حصے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا تھا، تاہم حالیہ پیشرفت سے ان معاہدوں پہ کامیاب عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے اب جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اسلحہ کی خرید و فروخت کے معاہدوں پہ تیزی سے عملدرآمد جاری ہے تو امریکی وزیر توانائی ریک پیری نے شنید دی ہے کہ پرامن مقاصد کیلیے ایٹمی پلانٹ تیار کرنے میں سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیئے، اپنے بیان میں امریکی وزیر توانائی نے کہا کہ امریکا کو چاہیئے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی شرائط کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایٹمی پلانٹ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے، اس مقصد کے حصول کیلیے روس یا پھر چین اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی نائب صدر مائک پنس نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا، تو اس موقع پہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اگر ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود نہیں کیا تو سعودی عرب کے پاس دیگر آپشن موجود ہیں، سعودی عرب کو خطے میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے دوران اسلحہ کی فروخت کے معاہدات، اسرائیل دوست اور ایران دشمن پالیسی کی ترتیب و ترکیب مقدم رہے۔ دونوں دورہ جات نے ملکی و عالمی میڈیا میں خوب جگہ پائی، کہیں پہ تنقید تو کہیں ستائش کی صورت میں تبصرے بھی ملے۔ ایک عرب کارٹونسٹ نے دونوں دوروں کی تصویر یوں پیش کی ہے کہ پہلے گوالا (ٹرمپ) خود گائے (سلمان) کا دودھ نکالنے کیلئے گائے کے پاس گیا ہوتا ہے، جبکہ دوسری تصویر میں گائے (سلمان) اپنا دودھ دینے کیلئے خود گوالے (ٹرمپ) کے پاس پہنچی ہوتی ہے۔ ایک تجزیہ کار نے ان دوروں پہ کچھ یوں تبصرہ کیا ہے۔’’امریکہ مشرق وسطٰی میں اسرائیل کو جبکہ ایشیاء میں بھارت کو طاقتور اور پراثر رکھنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر وہ ریاست جو خطے میں اسرائیلی بالادستی کا خیر مقدم کرے یا اس بالادستی کے قیام کیلئے فضا سازگار کرے، امریکی کیلئے قابل قبول ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان دونوں امریکہ کے آزمودہ دوست ہیں تاہم پاکستان نے بھارتی تھانیداری کو مسترد کیا، اس لئے دونوں کے درمیان پہلے سی گرمجوشی نہیں جبکہ سعودی عرب نے نہ صرف اسرائیل کے بڑھتے کردار کو قبول کیا بلکہ اسرائیل مخالف ہر قوت کو زک پہنچا کے خاص امریکی قربت حاصل کرلی ہے، تاہم یہ امر باعث حیرت ہے بڑھتے ہوئے اسرائیلی کردار کو مکمل طور پہ قبول کرنے کی بجائے قیمت وصول کرنے کے سعودی عرب کو الٹا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، غیر ضروری ناکارہ امریکی اسلحہ خرید کر اور متعدد ممالک سے کرائے کے فوجی لیکر سعودی عرب دفاعی میدان میں ترقی کرے نا کرے البتہ معیشت کو رہن رکھنے کے سفر کا آغاز کرچکا ہے‘‘۔

 

سعودی عرب نے امریکہ سمیت برطانیہ اور یورپی ممالک سے بھی اسلحہ کی خریداری کے بڑے بڑے معاہدات کئے ہیں، تاہم بنیادی دفاعی نظام اور پروگرام دونوں ہی امریکی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عین ضرورت کے وقت یعنی دوران جنگ امریکہ کا یہ مہنگا ترین دفاعی نظام ناکام ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ یمنیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے گئے 7 میزائلوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں امریکی ڈیفنس سسٹم پیٹریاٹ کی مدد سے فضا میں تباہ کر دیا گیا، مگر آن لائن ویڈیوز سے ان دعوؤں پر نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتوار کی رات داغے گئے ایک پیٹریاٹ میزائل نے فضا میں راستہ تبدیل کیا اور ریاض کے رہائشی علاقے میں گر کر پھٹ گیا، دوسرا داغے جانے کے کچھ دیر بعد ریاض میں ہی دھماکہ سے پھٹ گیا۔ یمنیوں کے ان کامیاب میزائل حملوں کے بارے میں جب میڈیا نے سعودی وزارت اطلاعات سے رابطہ کیا تو اس بارے میں انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔ کیلیفورنیا کے مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ایکسپرٹ جیفری لیوس کے مطابق میزائلوں کو مار گرانا تو دور کی بات ہے، غالب امکان یہ ہے کہ کوئی میزائل روکا بھی نہیں جاسکا۔ سعودی عرب کہتا ہے کہ تین سال سے جاری یمن جنگ کے دوران اس نے حوثی قبائل کے داغے گئے 90 میزائلوں کو نشانہ بنایا۔ اتوار کے حملے میں میزائل کے ٹکڑے کی وجہ سے ایک مصری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ،جوکہ تین سالہ یمن جنگ کے دوران سعودی دارالحکومت میں پہلا جانی نقصان ہے۔ اس سے قبل حوثیوں کے راکٹ حملوں میں سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

 

سعودی فوج کے مطابق گذشتہ رات حوثی باغیوں کے داغے گئے 7 بیلسٹک میزائل روکے گئے، جن میں تین کا ہدف ریاض، دو کا ہدف جازان جبکہ ایک نجران اور ایک خمیس مشیط کی جانب داغا گیا تھا۔ سعودی عرب کے سرکاری نیوز چینل نے جو فوٹیج جاری کی ہے اس میں پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں کو ریاض کی جانب بڑھتے حوثیوں کے میزائلوں کا راستہ روکتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک پیٹریاٹ میزائل چلائے جانے کے چند سیکنڈ بعد ہی پھٹ گیا جس کے آگ کے گولوں جیسے ٹکڑوں کے زمین پر گرنے کیساتھ لوگوں کے شور کی آواز سنی گئی۔ ایک اور آن لائن ویڈیو میں پیٹریاٹ میزائل کو اچانک راستہ بدل کر قریبی رہائشی علاقے میں پاش پاش ہوتے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی کرنل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ساتوں میزائل فضا میں روک کر تباہ کر دیئے گئے تھے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی ایئر ڈیفنس فورسز زیادہ تر پیٹریاٹ پیک 2 میزائلوں پر انحصار کرتی ہیں، 1980ء کی دہائی میں تیار کئے گئے یہ میزائل دشمن کی جانب سے داغے گئے میزائل کے قریب پہنچ کر ایک شاٹ گن شیل کی طرح پاش پاش کرکے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حوثی میزائلوں کے تباہ شدہ ٹکڑوں پر ایسے کوئی نشان نہیں ملے جو ظاہر کریں کہ وہ پیک 2 میزائلوں کا نشانہ بنے۔

 

ریاض پر حملوں میں حوثی ‘‘برکان’’یا ‘‘والکینو’’میزائل استعمال کرتے ہیں جن پر نصب وارہیڈز میزائل سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، جس سے انہیں نشانہ بنانا بہت مشکل ہے۔ ڈیفنس ویکلی کے تجزیہ کار جریمی بینی کے مطابق 1990ء کی دہائی کے پیک 2 میزائل صرف کم رفتار، شارٹ رینج اور علیحدہ نہ ہونیوالے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کیلئے ڈیزائن کئے گئے تھے، برکان میزائل کے حصوں میں بٹنے کے بعد اسے روکنا پیک 2 میزائل کیلئے بہت مشکل ہے۔ اسی شبہ کا اظہار جیفری لیوس کرتے ہیں، ان کے مطابق‘‘ریاض پر جو میزائل حوثیوں نے داغے، ان کا پیٹریاٹ سسٹم سے درحقیقت کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ حوثیوں کے میزائل کی رینج ایک ہزار کلومیٹر اور اس کا وارہیڈ علیحدہ ہو جاتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میزائل کو روکنے میں کوئی کامیابی ملی ہو گی’’۔ سعودی عرب کے پاس پیک 3 پیٹریاٹ میزائل بھی ہیں، جوکہ مخالف سمت سے آنیوالے میزائل سے براہ راست ٹکرانے کیلئے ڈیزائن کئے گئے ہیں۔ 2015ء میں ان میزائلوں کی فروخت کا اندازہ 5.4 ارب ڈالر لگایا گیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے خوب سراہا۔ نومبر میں ٹرمپ نے ریاض پر داغے گئے حوثی میزائل کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم سے نشانہ بنانے پر کہا ،‘‘ہمارے سسٹم سے اسے مار گرایا’’۔ تاہم جیفری لیوس اور دیگر ماہرین کو یقین نہیں کہ کوئی پیٹریاٹ میزائل حوثی راکٹ فضا میں روک سکتا ہے۔ پیٹریاٹ میزائل سسٹم 1991ء کی خلیجی جنگ میں معروف ہوا، جس میں امریکی فورسز نے صدام حسین کی فوج کو کویت سے نکال باہر کیا۔ امریکی حکام نے شروع میں دعویٰ کیا کہ پیٹریاٹ نے صدام حسین کے تقریباً تمام سکڈ میزائل تباہ کر دیئے تھے۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ ان میزائلوں سے ہلاکتوں کا تناسب صرف 9 فیصد تھا۔

 

یمنیوں کے سعودی عرب پہ میزائل حملوں کی آن لائن وڈیوز اور ان پہ ماہرین کی آراء ان خدشات کو تقویت بخشتے ہیں کہ امریکی دفاعی سسٹم یمنیوں کے ردعمل سے سعودی عرب کو محفوظ رکھنے کی سکت نہیں رکھتا، جس سے اربوں ڈالر مالیت کے ان اسلحہ معاہدوں کی صحت اور اسلحہ کی کوالٹی پہ کئی سوالات ثبت ہو گئے ہیں جو امریکہ اور سعودی عرب کے مابین طے پائے ہیں۔ یمنیوں کے میزائل کی سعودی عرب تک رسائی سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ امریکہ اپنا ناکارہ اسلحہ مہنگے داموں سعودی عرب کو بیچ رہا ہے جو کہ بوقت ضرورت قابل بھروسہ نہیں۔ (اسلحہ ہی نہیں کیا امریکہ خود قابل بھروسہ ہے۔؟) تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔