حضرت جون کون تھے؟
: روز عاشور حضرت جون امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام نے فرمایا میں تمہیں اس سرزمین سے جانے کی اجازت دیتا ہوں، تم اپنی جان کی حفاظت کرو، کیونکہ تم ہمارے ساتھ آئے تھے، تاکہ خوشی و عافیت ملے، اب اپنی جان خطرے میں نہ ڈالو۔ حضرت جون نے عرض کی: اے فرزند پیغمبر میں خوشی و مسرت کے زمانے میں تو آپکے ساتھ رہوں اور جب آپ پر مشکل وقت آن پہنچا ہے تو آپکو تنہا چھوڑ کر چلا جائوں! خدا کی قسم اگرچہ میرا جسم بدبودار ہے، میرا حسب نسب پست اور میرا رنگ سیاہ ہے، لیکن آپ مجھ پر رحم فرمائیں اور مجھے جنت کی جادووانی زندگی سے بہرہ مند فرمائیں۔
 

تحقیق و تحریر: توقیر کھرل

آج تلک جتنی بھی اسلامی تحریکیں رونما ہوئیں اور ان میں کامیابی ملی، اس میں یہ راز پنہاں ہے کہ اس تحریک کے قائدین کے پاس مخلص اور وفادار ساتھی موجود تھے۔ کربلا کے عظیم اور دلخراش واقعہ میں بھی امام حسین (ع) کے پاس نہایت ہی وفادار اصحاب تھے کہ جنکی قربانی کے سبب آپ کو کامیابی ملی۔ امام حسین (ع) کے اصحاب کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ آپ کا وہ مبارک کلام نقل کیا جائے کہ جس میں آپ اپنے اہلبیت اور اصحاب کی تعریف میں فرماتے ہیں: میں نے کسی کے اصحاب کو اپنے اصحاب سے بہتر اور باوفا نہیں پایا اور کوئی بھی رشتہ دار میرے رشتہ داروں سے نیک اور حقیقت سے نزدیک تر نہیں۔ خدا آپ لوگوں کو مجھ سے جزائے خیر عنایت کرے۔

آج جانثار امام حسین حضرت جون کا ذکر کرنا چاہوں گا، جون ایک غلام تھے۔ حضرت امیر المومنین امام علی نے انہیں دینار میں خریدا اور حضرت ابوذر غفاری کو عطیہ کیا۔ جب حضرت ابوذر کو ربذہ کی طرف جلاوطن کیا گیا تو یہ غلام ان کی کمک کیلئے وہاں گئے۔ حضرت ابوذر غفاری کی رحلت کے بعد مدینہ واپس چلے آئے اور حضرت علی کی خدمت میں رہنے لگے۔ آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن مجتبٰی (ع) کی خدمت میں رہے۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین (ع) کے پاس آئے، پھر یہ آپ کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کربلا تک آپ کے ہمراہ رہے۔ روز عاشور حضرت جون امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام نے فرمایا میں تمہیں اس سرزمین سے جانے کی اجازت دیتا ہوں، تم اپنی جان کی حفاظت کرو، کیونکہ تم ہمارے ساتھ آئے تھے، تاکہ خوشی و عافیت ملے، اب اپنی جان خطرے میں نہ ڈالو۔ حضرت جون نے عرض کی: اے فرزند پیغمبر میں خوشی و مسرت کے زمانے میں تو آپ کے ساتھ رہوں اور جب آپ پر مشکل وقت آن پہنچا ہے تو آپ کو تنہا چھوڑ کر چلا جائوں!

خدا کی قسم اگرچہ میرا جسم بدبودار ہے، میرا حسب نسب پست اور میرا رنگ سیاہ ہے، لیکن آپ مجھ پر رحم فرمائیں اور مجھے جنت کی جادووانی زندگی سے بہرہ مند فرمائیں، تاکہ میرا جسم خوشبوادر ہو جائے، میرا حسب و نسب شریف اور میرا چہرہ نورانی ہو جائے، خدا کی قسم میں آپ سے اس وقت تک دور نہیں ہوں گا، جب تک میرا سیاہ خون آپ کے پاک خون کے ساتھ غلطان نہ ہوجائے۔ اس کے بعد حضرت جون نے جنگ شروع کی۔ جب میدان جنگ میں اترے تو ایسے آئے جیسے ایک غضبناک شیر اپنے شکار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ آخر کار دشمن کی فوجوں نے آپ کو ہر طرف سے گھیر لیا۔ آپ زخم کھا کر زمین پر گرے۔ امام (ع)، جون کے پاس پہنچے اور اس کا سر اپنے دامن پر رکھا اور بہت گریہ فرمایا اور اپنا مبارک ہاتھ، جون کے چہرے اور جسم پر پھیرا اور دعا فرمائی، اے پروردگار! جون کے چہرے کو سفیدی عطا فرما۔ اس کی بو کو پسندیدہ بنا اور اسے خاندان عصمت و طہارت کے ساتھ محشور فرما۔ واقعہ عاشورا کے دس روز بعد بنو اسد کی ایک جماعت نے حضرت جون، غلام ابوذر کی لاش مطہر کو تلاش کیا۔ اتنے عرصہ کے باوجود ان کا جسم مبارک معطر اور نورانی تھا، اس کے بعد انہیں دفن کر دیا گیا۔