Image result for ‫رمضان‬‎

روزہ کا معنی

 

 1. شریعت اسلامی میں روزہ کا معنی یہ ہے کہ انسان طلوع فجر سے لیکر مغرب تک اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کی قصد سے کھانے, پینے اور ان چیزوں سے پرہیز کرے جنکی تفصیل بعد میں آئے گی

 

میں کل روزہ رکھوں گا" ضروری نہیں بلکہ اس کا ارادہ کرنا کافی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا کے لئے اذان صبح سے مغرب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے روزہ باطل ہوتا ہو اور یقین حاصل کرنے کے لئے اس تمام وقت میں وہ روزے سے رہا ہے ضروری ہے کہ کچھ دیر اذان صبح سے پہلے اور کچھ دیر مغرب کے بعد بھی ایسے کام کرنے سے پرہیز کرے جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے

 

روزہ  واجب ہونے کی شرایط

 

۱۵۵۹۔ انسان کے لئے روزے کی نیت دل سے گزارنا یا مثلاً یہ کہنا کہ " ۔

 

7. روزہ ان افراد پر واجب ہے جسمیں در ج ذیل شرایط پائی جاتی ہوں:

- بالغ ہو.
- عاقل ہو.
- قدرت رکھتا ہو.
- بےہوش نہ ہو.
- مسافر نہ ہو.
- عورت حیض یا نفاس کی حالت میں نہ ہو.
- روزہ رکھنا  ضرر کا باعث نہ ہو.
- روزہ رکھنا حرج اور مشقت نہ ہو.

مبطلات روزہ


وہ چیزیں جو روزہ کو باطل کرتی ہیں.
74. نو چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں:اول: کھانا اور پینا, دوم: جماع کرنا, سوم:  کوئی ایسا فعل انجام دے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو(اِستِمَنَاء), چهارم: الله تعالی,  پیغمبر اکرام
اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا, پنجم: غلیظ غبار کو حلق تک پہنچانا, ششم: پورا سر پانی میں ڈبونا, هفتم: اذان صبح تک جنابت پر باقی ,حیض یا نفاس کی حالت میں رہنا, هشتم:  کسی سَیَّال چیز سے حُقنہ (انیما) کرنا,نهم: جان بوجھ کر قے کرنا۔ ان نو موارد کی خصوصیات اور احکام آیندہ مسائل میں  بیان کئے جائیں گے. [ان  موارد میں سے چہارم سے ششم تک بنابر احتیاط واجب روزہ کو باطل کرتے ہیں

 

 

۱۶۶۹۔ ماہ رمضان کا روزہ توڑنے کے کفارے کے طور پر ضروری ہے کہ انسان ایک غلام آزاد کرے یا ان احکام کے مطابق جو آئندہ مسئلے میں بیان کئے جائیں گے دو مہینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا ہر فقیر کو ایک مد تقریباً ۴۔۳ کلو طعام یعنی گندم یا جو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ افعال انجام دینا اس کے لئے ممکن نہ ہو تو بقدر امکان صدقہ دینا ضروری ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو توبہ و استغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جس وقت (کفارہ دینے کے) قابل ہو جائے کفارہ دے۔

 

روزہ رکھنے میں مشقت


بلوغت کے ابتدائی ایام میں روزہ رکھنے سے ناتوانی
8. اگر کوئی لڑکی سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکتی ہو اور نہ آنے والے رمضان تک ان کی قضا کی طاقت بھی نہ رکھتی ہو تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟
ج۔ صرف کمزوری و ناتوانی کی وجہ سے  روزہ اور اس کی قضا نہ رکھ سکنا  قضا کو ساقط نہیں کرتی بلکہ اس پر ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔

9. اگر نو بالغ لڑکیوں پر روزہ  کسی حد تک شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیاں شرعا قمری نو سال پورے ہونے کے بعد بالغ ہوتی ہیں؟
ج۔ مشہور یہ ہے کہ قمری نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہو جاتی ہیں , اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور صرف کسی  معمولی عذر کی وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر روزہ  رکھنا ان کے لئے ضرر ہو یا  مشقت اور دشواری کے ساتھ رکھ سکتی ہو  تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔

10. اگر نو سالہ لڑکی جس پر روزہ واجب ہوچکا ہے  روزہ شاق ہونے کی وجہ سے توڑ دے تو کیا اس پر روزے کی قضا واجب ہے ؟
ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے اس نے توڑے ہیں ان کی قضا واجب ہے.

11. میں نے بالغ ہونے کے بعد  سے بارہ سال کی عمر تک جسمانی کمزوری کی وجہ سے  روزہ نہیں  رکھ سکی ہے۔ اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟
ج۔ سن بلوغ تک پہنچنے کے باوجود جو روزے نہیں رکھے ہیں انکی قضا بجا لائے ۔ اور اگر روزوں کو عمداً اور اختیار کے ساتھ کسی عذر شرعی کے بغیر ترک کئے ہیں تو  قضا کے علاوہ کفارہ بھی آپ پر واجب ہے۔