ہم لوگ غیر جانبداری سے غیر محفوظ ہونے تک

نذر حافی


سوچتی ہوئی عقل سے ہر فریب کار کو خطرہ ہے، اگر کسی کا دماغ فعال ہے اور اُس کی عقل کام کر رہی ہے تو پھر اُسے فریب دینا آسان کام نہیں۔ کسی بھی ملت کا دماغ اس کے دانشور ہوتے ہیں، اگر کسی ملت کے دانشور اپنا کام نہ کریں تو وہ ملت فہم و فراست اور شعور سے عاری ہو جاتی ہے، یعنی پسماندہ رہ جاتی ہے۔ دانشوروں کا کام اچھائی اور برائی کی تمیز اور حق و باطل کا فرق کرکے اچھے کو اچھا اور برے کو برا، اسی طرح حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہوتا ہے۔ چنانچہ فریب کار جب کسی معاشرے میں برائیوں کی ترویج اور باطل کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس معاشرے، قوم اور ملک کے دانشوروں کو اچھائی اور برائی نیز حق اور باطل کی نسبت غیر فعال کرتے ہیں۔ آج کے دور میں دانشوروں کو اُن کا کام کرنے سے روکنے کے لئے انہیں غیر جانبداری کے درس دیئے جاتے ہیں، حالانکہ غیر جانبداری کے یہ درس دینے والے خود بھی غیر جانبدار نہیں ہوتے، یہ فریب کار اپنے مدِّمقابل کو نرم کرنے کے لئے اُسے کہتے ہیں کہ سارے گروہوں، سارے ادیان، ہر طرح کے حق و باطل سے بالاتر ہو جاو۔ بالاتر ہو جاو، یعنی حق کا ساتھ نہ دو اور ہمارے ساتھ مل جاو۔ یہ دراصل کسی کو حق کی حمایت سے ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ خداواندِ عالم جو سارے انسانوں کا خالق ہے، وہ بھی سارے گروہوں کی نسبت غیر جانبدار نہیں ہے، بلکہ وہ حزب الشیطان کا سخت ترین دشمن ہے اور سارے ادیان میں سے صرف اسلام کو ہی دین قرار دیتا ہے اور باقی ادیان کی نفی کرتا ہے، اسی طرح اس

امام صادق (ع) کا مقام امام ابو حنیفہ کی زبانی
 امام صادق ہر مسئلے کو بیان کرنے کے بعد، اسکے جواب میں فرماتے تھے کہ اس مسئلے میں تمہارا عقیدہ اسطرح ہے، مدینہ کے علماء کا عقیدہ اسطرح ہے اور ہم اہل بیت کا عقیدہ اسطرح ہے۔ بعض مسائل میں امام کی نظر ہماری نظر کے مطابق تھی اور بعض مسائل میں مدینہ کے علماء کی نظر کیساتھ موافق تھی اور کبھی امام کی نظر ہر دو نظروں کے مخالف تھی، اس صورت میں امام تیسری نظر کو انتخاب کرکے بیان کیا کرتے تھے۔ میں نے تمام چالیس مشکل سوال کہ جو انتخاب کئے ہوئے تھے، ایک ایک کرکے سب کو جعفر ابن محمد سے پوچھا تو انہوں نے بھی بڑے آرام اور تحمل سے ان سوالات کے مجھے جوابات دیئے۔

شہید باقر الصدر رہبر انقلاب اسلامی کی نگاہ میں

شہید باقرالصدر کی برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کے کچھ چیدہ چیدہ فرمودات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔

 

 رہبر انقلاب اسلامی نے شہید صدر کے بارے میں فرمایا: شہید باقرالصدر زمانے کے نابغہ افراد میں سے ایک تھے، ہماری دینی درسگاہوں میں با استعداد افراد کی کمی نہیں، نہایت سجمھدار، با سلیقہ اور سخت کوش افراد موجود تھے اور ہیں جہنوں نے دین مبین اسلام کے لئے عظیم کارنامے انجام دئے ہیں، جیسے حالیہ صدی کے بزرگ مراجع عظام جو ایران اور عراق میں موجود رہے ہیں وہ سب کے سب نہایت عظیم اور با استعداد ہیں، لیکن جو نابغہ ہوتا ہے اس کی الگ ایک خصوصیت ہوتی ہے ہرکوئی اس قسم کے نبوغ سے سرشار نہیں ہوتا ہے، میرے خیال میں مرحوم صدر ایک نابغہ تھے کیونکہ جو کام شہیدصدر کرسکتے تھے وہ کام بہت سے علماء، فقہاء اور حوزہ علمیہ کے متفکرین نہیں کرسکتے۔

شہید صدر وسیع ذہنیت کے مالک تھے اور عالم اسلام کی ضرورتوں کو سمجھتے تھے اور حاضر جواب ہونے کے ساتھ ساتھ ہرنیک کام کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔

شہید باقرالصدر جب نجف اشرف میں تھے تو ان کے امام خمینی اور ان کے رفقاء کے ساتھ اتنے تعلقات نہیں تھے، عام طور پر ایک طالب علم کی حیثیت سے امام کی ملاقات کے لئے جاتے تھے لیکن جونہی ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور امام خمینی تہران تشریف لائے تو شہید باقرالصدر نے اپنے شاگردوں سے اپنا یہ معروف جملہ کہا: "ذوب بشوید در امام خمینى همچنان که او در اسلام ذوب شده" یعنی تم لوگ امام خمینی کے ساتھ اس طرح گھل مل جاؤ جس طرح وہ اسلام کے ساتھ گھل مل گئے ہیں"، تم اپنے آپ کو خمینی میں فنا کردو جس طرح خمینی نے خود کو اسلام میں فنا کردیاہے۔

شہید صدر کا یہ جملہ معروف ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اس قسم کے جملے وہی کہہ سکتے ہیں جو نہایت عظیم سمجھ کے مالک اور انقلاب کی اہمیت کوجان چکے ہوتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے پاس کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو انقلاب کے چالیس سال گزرنے کے بعد بھی انقلاب کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انقلاب کیا ہے؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ لیکن شہید باقرالصدر عراق میں بیٹھ کر انقلاب اسلامی کی اہمیت کو درک کرگئے اور اس قسم کے عظیم جملے کہے۔ یہی نبوغ اور نابغہ ہونے کی علامت ہے، خطے کے مسائل کے بارے میں درست شناخت رکھنا، پھر نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرنا، نہایت ہوشیاری کی علامت ہے۔

شہید صدر ایک علمی نظریہ پرداز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی تھے، میرے خیال میں آقائے صدر ایک منفرد انسان تھے اگر انہیں بے مثال نہ بھی کہیں تو کم سے کم مثال ضرور کہہ سکتے ہیں۔

ہماری دینی درسگاہوں میں بڑی شخصیات موجود ہیں لیکن شہید باقرالصدر کچھ خاص خصوصیتوں  کے مالک تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں شہادت نصیب فرمائی، ہماری دعا ہے کہ  اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے۔


حجة الاسلام والمسلمین اکبر دہقان
کتاب ”امام حسین (ع) انبیاء کے وارث“ کے مولف حجة الاسلام والمسلمین اکبر دہقان نے ایک مقالہ میں عزاداری سے متعلق آٹھ بنیادی سوالوں کا جواب دیا ہے ۔

حوزہ علمیہ کے کامیاب مولف حجة الاسلام والمسلمین اکبر دہقان نے اب تک تقریبا
۳۵ کتابیں لکھی ہیں، آپ کی کتاب ”ہزار و یک نکتہ از قرآن کریم“ ممتاز کتاب قرار دی گئی ہے ،اب تک اس کتاب کی تین جلدیں لکھی گئی ہیں جبکہ مولف نے اب تک قرآن کریم کے تین ہزار نکتوں کو جمع کیا ہے ۔

حجة الاسلام والمسلمین دہقان نے ماہ محرم کی آمد اور عزاداری سید الشہداء کی مناسبت سے اپنے مقالہ میں عزاداری سے متعلق آٹھ بنیادی سوالوں کا جواب دیا ہے :
قرآن کریم کی کس دلیل کی بنیاد پر عزاداری منانا چاہئے؟
قرآن کریم میں کچھ آیات ایسی ہیں جن میں تعظیم شعائر کے موضوع کو تقوائے قلوب کی نشانیاں بیان کیا گیا ہے (سورہ حج ، آیت ۲۳) ۔ اس کے علاوہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور بزرگوں کی یاد منانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے (سورہ مریم، آیت ۴۱ ۔ اور سورہ آل عمران ، آیت ۱۴۶) ۔ اور جو لوگ ناحق قتل کردئے گئے ہیں وہ خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے شہید ہوگئے ہیں (سورہ تکویر ، آیت ۸ و ۹ ۔ اور سورہ بروج، آیت ۴۔۸) ۔
امام حسین (علیہ السلام ) کے لئے عزاداری منانے کے موضوع میں بھی اسی طرح کی مختلف وجوہات پائی جاتی ہیں جیسے عزاداری ، شعائر کی تعظیم بھی ہے اور مجاہدین کی یاد گاربھی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے آپ نے دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور امام حسین (علیہ السلام) کے لئے عزاداری منانا ایک طرح سے رسالت کی اجرت ہے ”قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربی“ (سورہ شوری، آیت ۲۳) ۔
امام حسین (علیہ السلام) کے لئے نذرکرنے پر بھی بحار الانوار میں ایک حدیث موجود ہے جو اس کی تائید کرتی ہے ” قال علی (علیہ السلام) ” ان اللہ اختارنا و اختار لنا شیعة ینصروننا و یفرحون لفرحنا و یحزنون لحزننا و یبذلون اموالھم و انفسھم فینا اولئک منا والینا“۔ یقینا خداوند عالم نے ہماراانتخاب کیا اور ایک ایسے گروہ کا انتخاب کیا جو ہماری مددکریں اور وہ ہماری خوشی میں خوش ہوں اور ہمارے غم میں غمگین ہوں، اور اپنی جان و مال کو ہماری راہ میں قربان کریں، وہ لوگ ہم سے ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں ۔


عزاداری کی مشکلات کیا ہیں؟
اس سوال کے جواب میں پندرہ بنیادی مشکلات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے :
۱۔ بعض لوگوں کا ریاکاری اور تظاہرکرنا ۔
۲۔ مہمانداری میں اسراف کرنا ۔
۳۔ محرم اور نامحرم کی رعایت نہ کرنا ۔
۴۔ مستحبات، واجبات کو ضرر نہ پہنچائیں، قال علی (علیہ السلام) : لا قربہ بالنوافل اذا اضرت بالفرائض ۔
۵۔ لوگوں کے راستہ میں جانوروں کو ذبح کرنا ۔
۶۔ خمس و زکات اداء کئے بغیر انجمنوں کو پیسہ دینا ۔
۷۔ علمائے دین سے عزاداری کو جدا کرنا ۔
۸۔ قوم و قبیلہ کے تعصبات کو بڑھاوا دینا ۔
۹۔ پرگراموں کو زیادہ لمبا کرنا اور لوگوں کو تھکا دینا ۔
۱۰۔ عزاداروں اور انجمنوں میں تبعیض کا قائل ہونا ۔
۱۱۔ بچوں کے ساتھ غلط سلوک کرنا ۔
۱۲۔ امام بارگاہوں اور انجمنوں کے لئے نذر کرنے میں اعتدال کی رعایت نہ کرنا ۔
ذاکری اور مرثیہ خوانی میں بھی بعض نکات کی طرف توجہ ضروری ہے جیسے :
۱۳۔ ایسا کلام پڑھے جس سے غلو کی بو آئے اور ایسی باتیں نہ کہیں جس سے معصومین (علیہم السلام) کا مقام و منزلت کم ہو۔
۱۴۔ نماز کے اوقات میں عزاداری کو بند کردیا جائے ۔
۱۵۔ ایسے کلمات استعمال نہ کریں جس سے دشمن سوء استفادہ کرے، جیسے حسین کے دیوانوں کی انجمن۔ بلکہ اس کی جگہ یہ کہنا بہتر ہے حسین کے عاشقوں کی انجمن۔
اسی طرح تاسوعا اور عاشورہ کے علاوہ بہت ہی جانسوز مصائب نہ پڑھے ، جانسوز مصائب اس وقت پڑھے جب اس کا حق ادا ہوجائے اور لوگ آنسوں بہا کر اس کا احترام کریں ۔


امام حسین (علیہ السلام) کے لئے عزاداری کس حدتک منانا جائز ہے؟
اس حد تک کہ جذبات پر شعور غالب رہے اور منحرف ہونے کا خطرہ نہ ہو ، قمہ لگانے، اپنے آپ کو طوق و زنجیر میں جکڑنے ، سینہ کے بل زمین پر چلنے اور علم کے نیچے چلنے سے پرہیز کریں، کیونکہ کبھی کبھی اس طرح کے کام جسم کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان کاموں کے اوپر کسی طرح کی کوئی عقلی اور شرعی دلیل موجود نہیں ہے ، لیکن ہاتھ سے ماتم کرنا اور بغیر پھل کی زنجیر سے ماتم کرنا صحیح ہے ، امام خمینی (رہ ) کے بقول ، عزاداری کو قدیم طریقہ سے منانا چاہئے ۔


کیا ایسے اشعار اور مباحث بیان کرنا جائز ہیں جن سے امام حسین کی خفت اور ذلت ہوتی ہو؟
یقینا جائز نہیں ہے ، جیسے زینب مضطرم، مہربان خواہرم، الوداع ، الوداع !! کیونکہ امام حسین کا قیام عزت کی حفاظت کے لئے تھا: ”ھیھات منا الذلہ”۔


کیا سمینار، میز گرد ، اور جلسات وغیرہ قائم کرنا عزاداری منانے سے بہتر نہیں ہے؟
انسان میں عقلائی اور عاطفی دو بعد پائے جاتے ہیں صرف عالمانہ بحث کرنے سے روح متحول نہیں ہوتی ، یہ عزاداری، سیاہ کپڑے پہننا ،آنسوں بہانے کا سبب ہوتے ہیں اور ایک طرح سے روح میں ایک تحول پیدا ہوجاتا ہے ، اور امام حسین (علیہ السلام) پر آنسووں بہانے کی وجہ سے بہت سے لوگ توبہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور تہذیب نفس حاصل کرلیتے ہیں ۔


عزاداری سے متعلق عجیب و غریب اور ذہن سے دور ثواب بیان کرنا کس حدتک صحیح ہے؟
اس طرح کے ثواب ذکرکرنا ایسا ہی ہے جیسے فحشاء اور منکر کو دور کرنے میں نماز کا اثر ہوتا ہے اور یہ مقتضی ہے ، علت تامہ نہیں ہے ۔ جیسے کہاجائے جلانے کی علت آگ ہے، اگر کوئی مانع موجود نہ ہو۔ یا کہا جائے کہ پانی کے ذریعہ ، آگ کو بجھایا جاتا ہے ، لیکن ہر پانی اور ہر آگ میں یہ تاثیر اور تاثر نہیں پایا جاتا ۔ ہر ایک پانی ، ہر آتش کو خاموش نہیں کرسکتا؟


فقط امام حسین (علیہ السلام) کے لئے خاص طور سے عزاداری کیوں منائی جاتی ہے ، دوسرے اماموں کے لئے کیوں نہیں منائی جاتی؟
مختلف خصوصیات جو اس واقعہ عاشورا میں پائی جاتی ہیں جیسے ان لوگوں کا محاصرہ کرلینا، پانی بند کردینا، ان کے مال کو غارت کردینا، ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرلینا، اور ان کے چھے مہینہ کے بچہ سے لے کر بوڑھے شخص کو پیاسہ شہید کردیناوغیرہ۔ یقینا امام حسین (علیہ السلام) کا قیام بے مثال ہے ۔


عزاداری کے ایام میں سیاہ کپڑے پہننے کا فلسفہ کیا ہے؟
سیاہ رنگ کے مختلف آثار ہیں، اور ہر گروہ اپنے لحاظ سے اس کو استعمال کرتا ہے:
۱۔ اپنے آپ کو چھپانے اور پردہ کرنے کیلئے ۔
۲۔ ہیبت اور تشخص کا رنگ (اس لحاظ سے بعض شخصیات کا رسمی لباس سیاہ یا سرمہ ای ہوتا ہے) ۔
۳۔ مجالس ماتم و عزا کے لئے حزن آور رنگ مناسب ہوتا ہے ۔
جو بھی اپنے کسی عزیز کے غم میں سیاہ لباس پہنتا ہے اور در و دیوار کو سیاہ پوش کرتا ہے وہ اپنے عزیز سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ تو ہماری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک تھا اور تمہارے جانے سے ہماری دنیا سیاہ ہوگئی ۔ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا ) نے بھی اپنے والد کے فراق میں فرمایا : ” یا ابتاہ ․․․ اسود نھارھا“۔ بابا ․․․ آپ کے غم میں دنیا تاریک ہوگئی (بحار الانوار ، ج ۴۳ ، ص ۱۷۶) ۔
امام باقر (علیہ السلام) نے بھی فرمایا ہے : ”لما قتل الحسین بن علی لبس نساء بنی ھاشم السواد“۔ امام حسین (علیہ السلام) کے غم میں بنی ہاشم کی عورتوں نے سیاہ کپڑے پہنے تھے (وسائل الشیعہ )

عزاداری کیوں؟
حجۃ السلام والمسلمین علی عباس حمیدی
اکثر ذہنوں میں کسی کے ابھارنے سے یا خود بخودیہ سوال ابھرتا ہے کہ محرم میں ہر سال عزاداری کیوں بر پا کی جاتی ہے ؟لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر گفتگو کی جائے تاکہ شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جائیں اور حق و حقیقت کے آفتابِ جہاں تاب کی شعاعوں سے ہمارے ذہن کی کائنات منور ہوجائے ۔
لفظ عزاداری، صوم وصلاۃ، حج وزکوٰۃجیسے الفاظ کی طرح شارع مقدس کی جانب سے وضع ہونے والی اصطلاح نہیں ہے کہ جس کے معنی کی کوئی خاص شکل و صورت ہوبلکہ یہ لفظ غم و الم اور سوگواری کے مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ جس کے مصادیق ، اقوام و ملل کے رسم ورواج اور طور طریقوں کی وجہ سے مختلف ہیں ۔عربی لغت اور تاریخ کی کتابوں میں دکھ ، درد ، سوگ، ماتم، جیسی کیفیات پر دلالت کرنے والے الفاظ میں عزا، عزّیٰ، تسلی، ناحت یا نوحہ، ماتم، رثا اور مرثیہ مشہورہیں ۔
جس دن سے انسان نے اس دنیا میں جنم لیا ہے ، بے جرم و خطاقتل ہونے اورتلخ و ناگوارحادثات سے اس کا پالا پڑ ا ہے .لہٰذا اس کی فطرت میں ایسے حالات اور واقعات سے بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔اسی سبب جب تلخ اور ناگوار حادثات کو ٹالنا انسان کے اختیارسے باہر ہو جاتا ہے تو اس کے دل پر چوٹ لگتی ہے وہ حزین و غمگین ہوجاتا ہے اور ا سکی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امنڈ پڑ تا ہے ۔ دل کی فریاد پربہنے والے یہی گرم گرم آنسو اس کے کلیجے کو ٹھنڈک پہونچاتے ہیں ۔ پھر بھی اگر ا سکی تسکین نہ ہو تو وہ دوسروں سے ان حادثات کی حکایت کرتا ہے ۔ اگر وہ لوگ بھی اس کے شریک غم ہوتے ہیں توآہ و فغاں میں اس کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں اس عمل سے بھی اسے سکون میسر ہوتا ہے اوراسی عمل کا نام سوگواری اور عزاداری ہے ۔
ماہِ محرم میں نواسۂ رسول امام حسین اور ان کے با وفا اصحاب کی شہادت کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے جو غم کی تقریبیں منعقدکی جاتی ہیں عزاداری کے بارزاور ظاہر ترین مصداق ہیں ۔
مظلوم کے غم میں شریک ہونا، ا نسانی فطرت کا تقاضہ اور ستم دیدہ سے ہمدردی وحمایت کا اظہا رہے .یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے عقل و فطرت دونوں ہی بے چون وچرا تسلیم کرتے ہیں .مگر کچھ لوگ مخصوص اغراض کی وجہ سے اس مقدس عمل پر طرح طرح کے اعتراض وارد کرتے ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ:
عزاداری اور گریہ و ماتم قضا و قدر الٰہی کے خلاف ہے .کیونکہ خدا وندِ عالم نے نا خوش آیندحالات اور ناگوار حادثات و مصیبات کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لینے کا حکم فرمایا ہے .لہٰذا ، گریہ و زاری اور ماتم و عزاداری خدا کی حکم عدولی اور نافرمانی ہے . اس کے علاوہ شہدائے راہِ حق ہمیشہ زندہ ہیں جوایک عظیم مرتبہ اور خوشی کا مقام ہے اب اس پر رونا دھونا اور ماتم منانا ان کی شان کے خلاف اور ان کے مرتبہ کے منافی ہے ۔
اسی قسم کے اوربھی دیگر اعتراضات ہیں جنہیں بیان کرنا طوالت کا باعث ہو گا یہاں صرف مذکورہ دو اعتراض ہی کا جواب دیکر بات کو واضح کیا جائے گا۔
مصیبتوں پر آہ و فغاں اور بیقراری کی حالت میں اول فول بکنا اور بے صبری کا اظہار کرنا دین وشریعت کی نظر میں ایک منفور عمل ہے .سید الشہداء کا کوئی بھی عزادار، اس عمل کا مرتکب نہیں ہوتا .صبر کا مطلب گریہ و زاری نہ کرنا بھی نہیں ہے .قضاو قدرِ الٰہی پر صبر کرنے سے مقصودخدا وندِعالم کی مشیئت کے آگے سراپا تسلیم ہوجانا ہے .جس دل پرچوٹ لگتی ہے اس سے آہ نکلنا طبیعی اور انسانی عمل ہے .اس وقت احساسات کی عنان کو ہاتھ میں رکھکر دل میں ابھرنے والے بے جا توہمات سے گریز کرنا صبر کہلاتا ہے جس سے ہر عزادار ، اچھی طرح واقف ہے .پھرعزاداری محض گریہ و زاری ہی پر تو منحصر نہیں اس کے اور بھی بہت سے ارکان ہیں جو ہمارے معصوم رہنماؤں کی تعلیمات سے دستیاب ہوتے ہیں جیسے گریہ سے پہلے معرفت کا ہونا عزاداری کا ایک اہم ترین رکن ہے .جس کو حضرت امام حسین علیہ السلام کی صحیح معرفت ہوتی ہے اس کا گریہ عزادارانہ ہوتا ہے اموات پر گریہ کرنا اور سید الشہداء پر گریہ کرنا دونوں برابر نہیں ۔ سید الشہداء پر گریہ و زاری کا ایک خاص مقصدہے جس کی تکمیل پر عرفانِ الٰہی کے گوہرِ آبدار میسر ہوتے ہیں .اس گریہ میں صبر کے معنی کومتحمل اور گریہ کرنے والے کو صابر کا رتبہ ملتا ہے .یہ گریہ آنکھوں کے ساتھ دل کو بھی صاف کرتا ہے یہ گریہ ظالم کے خلاف خدا کی دی ہوئی طاقت کو صرف کرنے کی دعوت دیتا ہے ایثار کی تربیت اور حق کی راہ میں قربانی پیش کرنے کی تعلیم دیتا ہے .یہ گریہ عدل وانصاف کی حکمرانی کا خواہاں ہے اور مظلوم ومحروم سے حمایت وہمدردی کا مشتاق .شہنشاہِ کربلا کی یاد میں عزا داری منا کر عزادار خود کوخداکی مشیت کے نزدیک محسوس کرتا ہے .یہ صرف ہمارا ہی نظریہ نہیں بلکہ انصاف کی نظروں سے دیکھنے والے غیر مسلم دانشوروں کی بھی رائے ہے .چنانچہ، فرانسیسی دانشور، ’’ڈوکیری موریس ‘‘کا ماننا ہے کہ حسینؑ کے ماننے والے ماتمِحسین کے صدقہ میں اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ استعمار اور استکبار کی غلامی کو قبول نہیں کرنا چاہتے .کیونکہ ان کے امام کا نعرہ ’’ظلم وستم کے آگے سر نہ جھکانا ‘‘تھا۔
نینوا کے پیاسہ کی یاد میں عزاداری تنہاعزاداری نہیں ہے بلکہ تلیغ حق کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔
’’اسلام و مسلمین ‘‘نامی کتاب کے مصنف، فرانسیسی مستشرق، ’’ جوزف رینو‘‘کی نظر میں عزاداری کا ہدف یہ ہے :
۔۔’’شیعوں نے اپنے مذہب کو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ پھیلایا انھوں نے عزاداری کے مراسم کو جو اہمیت دی اس کی وجہ سے دو تہائی مسلمان، ہندؤں کی ایک جماعت، مجوس اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے حسین ؑ کی عزاداری میں شرکت کرنے لگے ۔
ان تمام اہداف کے ساتھ اور بھی دیگر عالی مقاصداس عزاداری میں مضمر ہیں جنہیں حقیقت بین ، حق جوخداکے بندوں اور تیز بین اغیار نے بخوبی بھانپ لیا ہے ۔لہٰذا ہر سال اس عزاداری کی تکرار کا مسٔلہ روشن ہوجاتا ہے ۔ عزادار اس غم کے تصدق انسانیت کے اعلیٰ اقدار کا حصول چاہتا ہے .انسانیت اور معیاری انسان مخالف طاقتیں ان اہداف سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کی قدرت استثمار واستحصال پرقائم ہے ۔اور عزاداری ان کے خلاف ایک تحریک ہے جسے وہ ہر ممکنہ حربے سے نا کام بنانا چاہتے ہیں .اعتراض تراشی کی ٹکسال انہیں سود جو، انسان دشمن طاقتوں کے ایما پر کھلی ہوئی ہے .جس میں شہید راہِ حق کی یاد منانے کو توہمات کے سہارے روکنے کی ناکام کوششیں دن رات کی جاتی ہیں ۔بھلا غور تو فرمائیں کتنی سادہ سی بات کو کتنا پیچیدہ بنایا جاتا ہے کہ شہید زندۂ جاوید ہوتا ہے اور زندہ کی عزاداری جائز نہیں .یہ کسے نہیں معلوم کہ عزادار کا ہدف شہادت پر گریہ کرنا نہیں بلکہ اس پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھ کر ہوتا ہے . عزاداری میں عزادار اپنی آنکھوں میں اشکوں کے ساغر لے کر پیاسوں سے ہمدردی اور وفا داری کا عہد کرتا ہے .اسے شہیدو ں کی شہادت سے حاصل ہونے والے مرتبہ کا افسوس نہیں ہوتا بلکہ اس کا گریہ اس بات پر ہوتا ہے کہ آج تقریباً چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان کے دشمن ان کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں اور جس طرح کل میدانِ نبرد میں انکے سامنے آنے والے سود جونام نہاد مسلمان باطل کے ہمراہ تھے آج بھی اسی طرح ان کے اہداف کے دشمن صف باندھ کر ان پر ہمہ جانب حملے کر رہے ہیں اگر ان حملوں کا زور گھٹ گیا ہوتا تو عزادار کو غم نہ ہوتا اس کے سامنے ہر روز ایک نئی کربلا ہوتی ہے ہر دن ایک نئی رودادِ ظلم ثبت ہوتی ہے ا سکے سامنے جب بھی کہیں کسی بیکس کا خون بہتا ہے کربلا والوں کے خون کی لالی اسمیں نظر آ جاتی ہے ۔
دوسروں کی نظروں میں کربلا کے واقعے کو چودہ سوسال ہونے کو ہونگے مگر عزادار کی آنکھیں تو صبح وشام کبھی افغانستان کبھی عراق کبھی فلسطین، کبھی پارا چنار، کبھی ڈیرہ غازی خان اورغزہ میں شہداء کے پارہ پارہ نازنین تنوں سے خون کی دھاروں کو بہتا دیکھتی ہیں اس کے قلب میں اتنے غم دیکھنے کی طاقت کہاں !؟کیا اسے اتنے غموں پر بلک بلک کر رونے کا بھی حق نہ ملے گا؟! کیا ان مظالم پر اسے عزاداری کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو گی؟!ظلم و جور کا سلسلہ رکا کب ہے جو عزاداری کا سلسلہ بند کیا جائے ؟! عزاداری شہداء کا غم ہی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک مسلسل تحریک ہے جو ہر سال شہیدوں کے تذکرہ سے زور پکڑ تی ہے اس کا ہر سال ظلم سے مقابلے کی نئی طاقت لیکر آتا ہے

حجہ الاسلام و المسلمين مولانا عبداللہ صادقي صاحب
یہ ایک وسیع موضوع ھے اور کسی خاص ملک سے مخصوص نھیں ھے ۔ البتہ ممکن ھے کہ اسی ضمن میں میں ھندوستان یا دنیا کے کسی اور گوشہ سے متعلق خاص طور سے کچھ باتیں عرض کروں کہ تاریخی اعتبار سے وھاں کے حالات کیا رھے ھیں ۔
میں اس بحث میں ایک مقدمہ اور سوال عرض کروں گا اور پھر وقت کو پیش نظررکھتے ھوئے اس سوال کے جواب میں چند اھم نکات اپنی توانائی کے مطابق عرض کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اس موضوع پر کافی گفتگو کی جاسکتی ھے۔ البتہ میرے خیال میں ایک گھنٹہ کی اس مختصرسی نشست میں اس بحث کے ھر پھلو پر بات کرنا حدود امکان سے باھر ھے، البتہ بعض اھم نکات اشارتاً بیان کئے جا سکتے ھیں ۔ اگر آپ کو مفید محسوس ھوں تو آپ خود ان اھم نکات کو موضوع قرار دے کر مفصل تحقیق کر سکتے ھیں ۔ یقینا یہ بعض نکات جن کی طرف ابھی اشارہ کروں گا انتھائی اھم اور قابل توجہ ھیں۔
اھل مغرب جس زمانہ میں ظلمتوں اور جھل کی تاریکیوں میں بھٹک رھے تھے وہ قرون وسطیٰ کا دور تھا اور خود اھل مغرب قرون وسطیٰ کو جھالت ، تاریکی ، توحش کا زمانہ اور غیر مھذب دور کھتے ھیں۔ قرون وسطیٰ میں اھل مغرب کی دو خصوصیات خاص طور سے قابل ذکر ھیں: ایک علم دشمنی اور دوسرے تشدد پسندی۔ اس کا مطلب یہ ھے کہ قرون وسطیٰ میں تدین اور دینداری مذکورہ دو امور سے پیوستہ تھی ۔میں کوئی فیصلہ کن بات نھیں کھنا چاھتا کہ قرون وسطیٰ کا دور تاریکی کا دور تھا یا نھیں تھا، اس لئے کہ کچھ حضرات کا خیال ھے کہ قرون وسطیٰ کے بارے میں جو کچھ کھا جاتا ھے در حقیقت ایسا نھیںھے ۔ بھر حال بطور کلی نہ سھی بہ طور جزئی تو ماننا ھی پڑے گا کہ قرون وسطیٰ میں اخلاقی اقدار کا انحطاط تھا،ضعف و ناتوانی تھی، لوگ غیر مھذب اور وحشی تھے ۔
خدا وند کریم نے اس طرح کے دور میں جزیرہ نمائے حجاز میں ان غیر متمدن عربوں کے بیچ خورشید اسلام طلوع کیا جو خرافات میں گھرے ھوئے تھے اور جن کا اجتماعی اور سیاسی نظام قبائلی زندگی ھی تھی ۔ وھاں سے اسلام کی تھذیب ، تمدن اور علم پوری دنیا پر چھاگیا ۔ اسلام کے اتنے بڑے کارنامے کو کوئی کم نھیں کھہ سکتا ۔ اگر چہ ھم نے خود کچھ بھی نھیں کیا ، ٹھیک سے تبلیغ نھیں کی، اسلام کی صحیح تشریح نھیں کی پھر بھی اسلام کی کامیابی اور اسلامی تھذیب و تمدن کا پھلے جزیرہ نمائے عرب میں اور پھر دوسرے ممالک میں پھیل جانا انصافاً کسی معجزہ سے کم نھیں ھے ۔ مغربی اور مشرقی تاریخ نگا ر کھتے ھیں کہ طلوع اسلام کی پھلی چار صدیوں میں اسلام اس تیز رفتاری سے ترقی کر رھا تھا کہ قریب تھا پوری دنیاکو اپنے پرچم تلے جمع کر لے ۔پھلی چار صدیوں میں اسلامی تھذیب ، علوم ، ھنر ، تمدن اور اجتماعی اور بلدیاتی نظام ترقی پر تھا اور یہ ترقی دنیا کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکی اور یقینا اسلام نے بڑی کامیابی حاصل کی ، خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں واقعاً ایک عظیم کارنامہ انجا م پایا ۔ اپنے تیئس سالہ مکی دور میں سر کار دو عالم ایک ایک فرد پر کام کر رھے تھے اور اسے اسلام کی طرف لا رھے تھے ۔چونکہ وھاں اعلانیہ طور پر معاشرہ میں اسلام کو متعارف کرانے کا امکان نھیں تھا اس لئے آپ نے ھجرت اختیار کی ، ھجرت کا ایک سبب یہ بھی تھاکہ مکہ کے لوگ تبلیغ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتے تھے ۔ اب مدینہ کے تیرہ سالہ دور میں حضور نے کیا کیا ؟ عقل و منطق کے سھارے قبائلی اور محدود زندگی گزارنے والے عربوں کو متحد کر کے ایک نظام تشکیل دیا ، ایک قدرت ایجاد کی ، اور یہ اقتدار کے اعتبار سے اتنی بڑی طاقت تھی کہ حضور کی زندگی کے آخری سال میں آپ کے سامنے سے فرار کرنے والی روم کی بڑی شھنشاھیت تھی ۔آپ جنگ تبوک کو ملاحظہ کریں کوئی جنگ یا لڑائی ھوئی ھی نھیں، فقط ایک ریلی ھوئی ، روم کی بڑی شھنشاھیت پینسٹہ ھزار کا لشکر لے کر چلی ادھر پیغمبر اسلام مدینہ سے تیس ھزار افراد کے ساتھ چل پڑے ۔ جیسے ھی شھنشاہ روم کو اس کی خبر ھوئی کہ حضور تیس ھزار افراد کے ساتھ آرھے ھیں تو وہ اپنے پینسٹہ ھزار کے لشکر کے ساتھ تبوک سے بھاگ گیاچونکہ لڑائی کے لئے تیار ھی نھیں تھا،یہ ایک عظیم کار نامہ یا معجزہ تھا ۔
تھذیبی اعتبار سے بھی مسلمان جھاں جھاں گئے تھذیب و تمدن بھی اپنے ھمراہ لے گئے۔ ایران کو ملاحظہ کیجئے، اھل ایران کا اسلام قبول کرنا کسی جنگ یا مسلمانوں کے ایران پر قبضہ کا نتیجہ نھیں تھا ۔ممکن ھے بعض طاغوتی سلاطین اسلام کے مقابلہ آئے ھوں لیکن عام لوگوں کے سامنے جوں ھی یہ مذھب پیش کیا گیا اور انھوں نے اسے اپنی فطرت سے ھم آھنگ پایا ( آپ مجھ سے بھتر جانتے ھیں اسلام فطرت ، عقل اور سماج سے ھم آھنگ دین ھے جو معاشرہ کی جملہ ضروریات پوری کر سکتا ھے ) تو اس کاپر جوش استقبال کیا ۔ حضور سر کار دو عالم کے بعد بھی ایسا ھی تھا ، طلوع اسلام کی اولین چار صدیوںکا زمانہ اسلامی تمدن، اسلامی ھنر، اخلاق اسلامی اور علوم اسلام کے عروج کا دور سمجھا جاتا ھے۔ لیکن ان چار صدیوں کے بعد مسلمانوں کی تنزلی کا آغاز ھو جاتا ھے ، تھذیب و تمدن اورعلم و ھنر کے میدان میں مسلمان دھیرے دھیرے پچھڑتے چلے جاتے ھیں، حکومت اور عالمی اقتدار کے اعتبار سے کمزور ھوتے چلے جاتے ھیں ، سوال یہ ھے کہ اس کا سبب کیا تھا ؟ یا اسباب کیا تھے ؟ آخر ھوا کیا اسلام جو پھلے چار قرن میں اس طرح سے ترقی کر رھا تھا کہ خود اھل مغرب نے بھی لکھا کہ اسلام کی یہ ترقی دنیا پر مسلمانوں کے قبضہ کی عکاسی کرتی تھی، جسے علم و تمدن کی تلاش ھوتی وہ مسلمانوں کی چوکھٹ پرپیشانی رکھتا تھا، اسلام کے خوان علم سے کسب فیض کرتا تھا ۔ اب کیا ھو گیا اس تنزلی کے اسباب کیا تھے ؟ کیا اسلام سے استفادہ کا وقت ختم ھو چکا تھا بعض دوسرے مکاتب فکر کی طرح ؟ میں خود سے کوئی موازنہ نھیں کرنا چاھتا ، البتہ کھتے ھیں کہ حضرت موسیٰ ایک زمانے تک بنی اسرائیل کو عروج پر لے گئے پھر ان کا تنزل شروع ھو گیا ۔ کیا اسلام کی کیفیت بھی یھی ھے ؟یا جیسے حضرت عیسیٰ (ع) نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے تھے لیکن آخر کار کچھ بھی نھیں رھا ۔کیا اسلام آوٹ آف ڈیٹ ( Out of date) ھو چکا تھا اس کے استعمال کا وقت ختم ھو چکا تھا یا کچھ اور اسباب تھے مسلمانوں کی تنزلی کے ؟ میرا اصلی سوال یہ ھے، اب دیکھتا ھوں کہ کتنی فرصت ملتی ھے جس میں اس کا جواب دے سکوں ۔ وہ کون سے اسباب تھے جنکے باعث چوتھی صدی کے بعد سے عالم اسلام میں دھیرے دھیرے اضمحلال و ناتوانی اور انحطاط و تنزلی عام طور سے دکھائی دینے لگی ۔
ممکن ھے آئندہ پھر اسلام کا نام تمدن اور اقتدار کے ساتھ ساتھ لیا جانے لگے لیکن حالیہ صورتحال یہ ھے کہ دنیا کا ھر پانچواں آدمی مسلمان ھے، دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ھے ۔ آپ جانتے ھیں بعض مردم شماریوں میں مسلمانوں کی تعدا د ایک عرب تیس کڑوڑ ستر لاکہ تک بتائی جاتی ھے ، جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اھم ترین Strategic points مسلمانوں کے ھاتہ میں ھیں ۔ یعنی جن ممالک میں مسلمان سکونت پذیر ھیں وہ دنیا کے دوسرے علاقوں کی بنسبت نھایت حساس مانے جاتے ھیں ۔ قدرتی ذخائر اور منابع کے لحاظ سے اسلامی ممالک دنیا میں سب سے زیادہ قوی ھیں،لیکن تھذیب و تمدن اور اقتدار کے اعتبار سے مسلمان اغیار کے محتاج ھیں ۔ دنیا والوں کو ان کی باتیں سمجھ ھی میںنھیں آتیں ،خود مسلمانوں کا عمومی نقطہ نظر یہ ھے کہ مغرب سے علاحدہ ھو کر نہ کوئی تمدن قائم کیا جا سکتا ھے اور نہ ھی اقتدار تک رسائی ممکن ھے ۔ کبھی کبھی ایران کے اسلامی انقلاب کو بھی لوگ مشورہ دیتے ھیں کہ اگر زندہ رھنا چاھتے ھو تو اسلامی اقدار کو ترک کر کے مغرب سے ھاتہ ملا لو یا قرآن مجید کے الفاظ میں کھا جائے کہ ان کی غلامی قبول کر لو ۔ قرآن مجید نے یھود و نصاریٰ سے متعلق کیا خوب فرمایا ھے کہ ” لن ترضیٰ عنک الیھود ولا النصاریٰ“ کہ تم سے کسی چیز پر راضی نھیں ھوں گے اور اگر راضی ھوں گے بھی تو کس بات پر ” حتیٰ تتبع ملتھم “ اس سے کم پر یہ راضی ھی نھیں ھیں۔” یہ لوگ مختلف تھذیبوں کے ما بین گفتگو “کے معتقد نھیں ھیں، انھیں منطقی اعتبار سے کوئی صلح و صفائی نھیں کرنا ھے ۔ یہ صرف بادشاہ اور رعایا والا نظام چاھتے ھیں، ا ن کی کوسش فقط یہ ھے کہ آپ تسلیم کر لیں کہ یہ آپ کے آقا اور آپ ان کے غلام ھیں، یہ حکم فرما ھیں اور آپ مطیع و فرماں بردار ۔ بڑے افسوس کی بات ھے کہ بعض لوگ یہ سوچتے ھیں کہ استکباری طاقتوں سے مذاکرات کئے جا سکتے ھیں ، ان سے منطقی گفتگو کی جا سکتی ھے ۔ نھیں بلکہ ھمیں یہ دیکھنا ھو گا کہ مغربی تھذیبوں کے ما بین گفتگو کیوں کر انجام دی جائے ۔ اس بات پر کافی توجہ کی ضرورت ھے کہ تنزلی کے اسباب کیا تھے ؟ اس کے جواب سے قبل میں ایک بات کھنا چاھوں گا ۔ اسلام کی پھلی چار صدیاں کو ن سی تھیں؟ شیعوں کے لئے یہ نقطہ قابل افتخار ھے ۔ ائمہ معصومین (ع) اگر سیاست میں بھی ھوں تب بھی ھم امام معصوم (ع)کے وجود اوران سے ارتباط سے ھر گز محروم نھیں ھیں اور یہ رابطہ آج بھی بر قرار ھے ۔
دیکھئے یہ بڑا باریک نقطہ ھے جس کی طرف اھل مغرب قطعی متوجہ نہ ھو سکے، انھوں نے صرف اتنا کھا کہ طلوع اسلام کی پھلی چار صدیوں میں مسلمان ترقی کر رھے تھے، ان کا تمدن پھیلتا جا رھا تھااور اس کے بعد تنزلی کی طرف آنے لگے ،چوتھی صدی کے اواخر سے پچھڑنے لگے ، لیکن اھل مغرب یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسا کیوں تھا کہ پھلی چار صدیوں میں مسلمان علم و تمدن میں مستقل ترقی کر رھے تھے ۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہ امام معصوم (ع)کی برکت تھی ۔ اب ایسا کیوں ھوا کہ امام معصوم(ع) اپنے فیوض و برکات کے ھمراہ پردہ غیبت میں چلے گئے، مرکز لطف الٰھی لوگوں کے سامنے نہ رھا۔یہ میری گفتگو کا موضوع نھیں ھے ، البتہ بھت ھی قابل توجہ امر ھے۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ اس موضوع پر بھی کام کریں ۔ بڑے افسوس کی بات ھے کہ امام معصوم(ع) غائب ھیں،کب ظھور فرمائیں گے ،اس سے متعلق بھت ساری تحریفات ھوئی ھیں ۔ عام تصور یہ ھے کہ امام تب ظھور فرمائیں گے جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی ۔ ھاں ! یہ بھی ایک شرط ھے اور ھماری روایات میں بھی یہ وارد ھوا ھے لیکن بنیادی شرط ایک دوسری شرط ھے ھمیں وہ شرط تلاش کرنی چاھئے اور وہ بنیادی شرط یہ ھے کہ ظلم و جور اتنا بڑہ جائے گا کہ انسان تھک ھار کر یہ سمجھے گا کہ مشرق یا مغرب سوشلزم یا لبرالزم کوئی کچھ بھی نھیں کر سکتا ۔ انسان خدائی حکومت کا پیاسا ھو جائے گا ۔ دعا کے لئے ھاتہ اٹھا کر کھے گا خدا یا غلطی ھوگئی ، مجھ میں اپنے اوپر حکومت کرنے کی طاقت نھیں ھے اب تو مجھ پر حکومت کر ! خدا کھے گا اب تمھاری سمجھ میں آیا ! ٹھیک ھے اب میرا خلیفہ ،نائب اور جانشین ظھو ر کرے گا ۔ امام معصوم (ع)نے غیبت اختیار کیوں کی تھی ؟ کیونکہ تم نے یہ نورانی چراغ ایک ایک کر کے بجھا دئے تھے۔
اب امام زمانہ (ع) آپ کے پاس آنے والے ھیں تو آپ اپنے اندر ان کی استقبال کی صلاحیت پیدا کیجئے۔ اپنے آپ کو تشنہٴ امام زمانہ (ع) بنائیے ۔ ایک مسلمان اور مومن ھونے کے ناطے آپ یہ کیجئے ! ظلم و جور پھیلانا دوسروں کا کام ھے ۔ بعض لوگ تو کھتے ھیں کہ کوئی بھی اسلامی عمل امام عصر (ع) کی تحریک کی شروعات میں رکاوٹ بنتا ھے ۔ ھرگز ایسا نھیں ھے، دنیا میں تو فساد ھے ھی آپ اس کی فکر نہ کیجئے ۔ اس کے بعد کی فکر کیجئے ۔ ظلم و جور زیادہ ھو جائے آخر کیوں ؟ یعنی فساد اتنا بڑہ جائے کہ انسان تنگ آجائے، تھک ھار کے بیٹھ جائے ، یوسیڈزم کے معنی پتہ نھیں میں نے آپ کے سامنے عرض کئے ھیں یا نھیں ۔ اس کے عجیب و غریب معنی بیان کئے جاتے ھیں یعنی دنیائے غرب اس سال یہ کھہ رھی ھے کہ ھم اس جگہ پھونچ چکے ھیں جھاں سے نہ آگے جا سکتے ھیں اور نہ پیچھے آسکتے ھیں ، نہ قرون وسطیٰ ھمیں کھیں پھونچا سکا اور نہ ھی ماڈرنزم ، یعنی قرون وسطیٰ کے دور کے فساد کا ایک اور رخ تھا اور ماڈرنزم کے فساد کا ایک دوسرا رخ ھے ۔یھاں پر اگر ھم اور آپ صحیح معنی میں دنیا کواسلام سے متعارف کر اسکیں تو دنیا با آسانی یہ سمجھ جائے گی کہ اس کی رھائی کا راستہ فقط اسلام ھے ۔
بھر حال سوال یہ تھا کہ اتنے عروج کے بعد مسلمان تنزلی کا شکار کیوں ھو گئے ؟ میں پھر آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ آغاز اسلام کی پھلی چار صدیوں کا بغور مطالعہ کیجئے ، دیکھئے عالم اسلام کی ان پھلی چار صدیوں کو ”ورڈیڈ “کس انداز میں بیان کرتا ھے ؟ خود مسلمان مورخین کیا کھتے ھیں ؟ خود اپنی جگہ ھماری کتاب و سنت نے کس عظیم تمدن کی تاسیس کی ھے ؟
اھل مغرب کیا کھتے ھیں یہ میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ھوں ۔خود اھل مغرب کے بقول اسلام اس عروج پر تھا کہ اسلامی شھر علم و تمدن کا گھوارہ کھے جاتے تھے ،بغداد مرکز تمدن کے طور پر جانا جاتا تھا ۔اھل مغرب کو جس زمانے میں شھری زندگی کی خبر تک نھیں تھی مسلمان اسلامی ممالک میں علم و ھنر اور بھترین اجتماعی اخلاق کے ساتھ مھذب ترین شھری کی حیثیت سے زندگی گزار رھے تھے ۔ دشمن اپنی زندگی دیکہ رھا ھے ، جھاں تک خود اھل مغرب نے اعتراف کیا ھے ویل ڈورنٹ اعتراف کرتا ھے ۔ مغرب میں نشأ ت الثانیہ(renaissance) کا وجود میں آنا ،نشأت الثانیہ کا مطلب فارسی میں نوزائی ھوتا ھے یا میرے اپنے الفاظ میں ” تولد جدید “۔نشأ ت الثانیہ کے وجود میں آنے کے چند اسباب ھیں۔ ان میں سے ایک اھم ترین سبب صلیبی جنگوں کے دوران علم و تمدن کا مغرب کی طرف منتقل ھونا ھے ۔ آئیے پھر سے دیکھتے ھیں اھل مغرب نے کیا لکھا ھے ۔ کھتے ھیں کہ صلیبی جنگوں میں ایلٹیلیا جو سب سے بڑا مال غنیمت لے کر گیا وہ ، وہ چھوٹی چھوٹی کشتیاں تھیں جن میں مشرقی اور اسلامی ممالک کے کتب خانے اور علوم مغرب کی طرف منتقل کئے جارھے تھے ۔ میں آپ سے ایک بات کھنا چاھتا ھوں بڑی عجیب بات ھے خود اھل مغرب کھتے ھیں، بڑی توجہ کی ضرورت ھے، توجہ فرمائیے گا،کھتے ھیں کہ مغرب کو خود اپنی قدیم تھذیب کی کوئی شناخت نھیں تھی ، نہ ارسطو کو جانتے تھے نہ افلاطون کو اور نہ ھی سھراب کے بارے میں کوئی خبر رکھتے تھے ۔ صلیبی جنگوں کے دوران، قدیم یونانی کتب کے عربی تراجم کو دیکہ کر سمجھے کہ کوئی ارسطو ، سقراط اور افلاطون بھی تھے ۔ اس وقت انھیں خود اپنے قدیم علماء اوراسکالرز کی خبر ھوئی یعنی خود اپنے علماء کی انھیں کوئی شناخت نھیں تھی اور یہ شناخت بھی انھیں مشرق ھی سے حاصل ھوئی ۔ جیسا کہ میں نے کھا کل رھبر انقلاب اسلامی کا اشارہ بھی یھی تھا کہ ھم مغربیوں کے استاد تھے، انھوں نے ھر چیز ھم سے سیکھی، ھمارے شاگرد تھے اور آج ھمارے آقا و مولا بن گئے ۔ وہ سب کچھ یھیں سے لے کر گئے ھیں ۔ اب ھندوستانی مسلمانوں کی مشکلات اور ان کی پسماندگی کے کیا اسباب تھے ۔ میں کچھ بنیادی باتیں عرض کرنا چاھوں گا ۔
پھلی بات اور پھلا سبب جو سب سے زیادہ اھم اور قابل توجہ ھے وہ حقیقی اسلام سے دوری ھے ۔ اسلام میں تحریف کر دی گئی، اسلام کے ساتھ بھی وھی ھوا جو اس سے قبل کے ادیان کے ساتھ ھوا ۔ اس مقدس کتاب کی آیات اور الفاظ تو بدل نہ سکے جس طرح توریت اور انجیل میں الفاظ کی تحریف ھوئی ،وہ تو نہ کر سکے لیکن کلام الٰھی میں معنوی تحریف کر دی گئی ، مختصراً یوں کھا جائے کہ اسلام کی روح نکال کر اسے ایک بے روح نقش میں بدل دیا گیا ۔
ایک بورڈیا پردہ پر اگر شیر جیسے قوی درندے کی پینٹنگ ھو تو اس سے کون ڈرتا ھے ؟کون اس سے ڈرے گا؟ اس شیر سے وھی شخص بھاگے گا جس کے خیال میں یہ واقعی اور اصلی ھو ۔ لیکن پینٹنگ کے سامنے ایک دوسال کا بچہ بھی آکر کھڑا ھو جاتا ھے اور ھرگز نھیں ڈرتا۔،پانی کے کسی حسین چشمہ کی پینٹنگ کسی کی پیاس نھیں بجھاسکتی اور نہ کوئی اور فائدہ پھونچا سکتی ھے ۔ اسلام چشمہ حیات کا نام ھے ، اسلام ایک عظیم طاقت کا نام ھے، لیکن شرط یہ ھے کہ اسلام واقعی اور اصلی ھو، اسلام کی نقاشی یا پینٹنگ کسی کام کی نھیں ھے ۔ جب قرآن میں توریت وانجیل جیسی تحریف نہ کر سکے تو اس کے معنی اور تفسیر بدل دی تو مسلمان دھیرے دھیرے اصلی اسلام سے دور ھوتے چلے گئے ۔ اصلی اسلام وھی ھے جسے امام خمینی ۺ اسلام ناب کھتے تھے، یعنی روح و جان والا اسلام ، ترقی پسند اور زمانے کے ساتھ چلنے والا اسلام،اسلام یعنی مکتب زندگی ۔اسلام شخصی اور انفرادی احکام اور چند آداب و رسوم کا نام نھیں ھے ۔ کچھ لوگ اس بات کو پھر سے زندہ کرنا چاھتے ھیں کہ دین ھر شخص کا انفرادی معاملہ ھے، آپ اس بات کو سنجیدگی سے لیجئے ،اس کے پیچھے ایک بڑی سازش کا ر فرما ھے ۔یہ دین کو بے کار کر دینے کا ایک حربہ ھے ۔ یہ لوگ کھتے ھیں کہ دین کا کام فقط بندے کو خدا سے جوڑنا ھے اس کے علاوہ دین کسی کام کا نھیں ھے ۔ انسان کا رابطہ خدا سے بر قرار کرانا ، یہ دین کا کام ھے۔ لیکن ایک انسان کا رابطہ دوسرے انسانوں سے کیسا ھو اس میں دین کا کوئی عمل دخل نھیں ھے ۔ دین آخرت آباد کرنے کے لئے آیا ھے نہ کہ دنیا آباد کرنے کی خاطر اور وہ بھی اس آخرت کو آباد کرنے کے لئے جو دنیا کے بالکل مقابل ھے ۔
مختصر یہ کہ دین کی بھت ساری تعریفات کی جاتی ھیں۔ میں اس موضوع پر کچھ نھیں کھنا چاھتا ۔ شروع سے یہ ھوتا چلا آیا ھے اور اب بھی کوئی نہ کوئی ایسا کرنے والا نکل ھی آتا ھے۔ ایک نمونہ عرض کرتا ھوں ۔رحلت پیغمبر اسلام کے بعدصحابہ کے زمانے میں ھی اسلام میں اتنی بڑی تحریف کی گئی کہ اسلام مر گیا یا دوسرے لفظوں میں کھوں نماز تھی ، محراب عبادت تھی ، لیکن کسی کام کی نھیں۔ یہ وھی اسلام ھے جس میں قرآن مجید ولایت اھلبیت (ع) سے جدا سمجھا جاتا ھے ۔لھذا یہ اسلام کسی کام کا نھیں ھوتا ۔ دیکھئے قرآن اور سنت دونوں نے یہ بات بھت زور دے کر کھی ھے کہ اسلام کے دو حصے ھیں۔ خدا وند کریم اس وقت اس دین سے راضی ھوا ھے جب قرآن اور وحی الٰھی جیسے آئین کے ساتھ ساتھ ولایت اھلبیت (ع) یعنی اس قرآن کے مفسر و مبین بھی ھوں ۔قرآن اور سنت دونوںنے اس بات کی بھت تاکید کی ھے، میں تفصیل میں نھیں جانا چاھتا آپ مجھ سے بھتر جانتے ھیں ۔ قرآن مجید نے واضح الفاظ میں کھا کہ اسلام ایک کامل دین بن چکا ھے، خدا کی نعمتیں مکمل ھو چکی ھیں اور ان سب سے بڑہ کر یہ کہ خدا اس دین سے راضی ھو گیا ھے ۔ ” رضیت لکم الاسلام دینا “ یہ” رضیت “یعنی تائید اور دستخط یعنی میں نے پسند کر لیا ھے ، قبول کر لیا ھے ۔ مطلب یہ کہ خدا وند کریم نے اس اسلام پر مھر تائید لگائی ھے جو اسلام ولایت اھلبیت علیھم السلام کے ساتھ ساتھ ھو ۔ ولایت سے جدا اسلام سے خدا راضی نھیں ھے ۔یہ ایک حقیقت ھے ۔خدا نے کس اسلام کو دشمن کے لئے زور دار طمانچہ قرار دیا ھے ؟ کون سا اسلام استکباری طاقتوں سے نبر د آزما ھے ؟ کون سا اسلام دشمنوں کو آپ پر حکومت کرنے کی لالچ سے دور رکھتا ھے ؟ ” الیوم یئس الذین کفرو من دینکم “ کون سا اسلام دشمنوں کے لئے یاس و نا امیدی کا سبب ھے ؟ صرف وھی اسلام جس میں اھلبیت اطھار ولایت رکھتے ھوں ۔
یہ بحث کافی مفصل ھے ، ساری تفصیلات میں جانے کا وقت نھیں ھے ۔ آپ سب جانتے ھیں مجھ سے زیادہ آپ نے اس موضوع پر کام کیا ھو گا ۔پیغمبر نے بھی اسی بات کی تاکید کی ھے ۔ بھت ھی کم کوئی حدیث ھو گی جو اپنی عظمت اور تواتر میں حدیث ثقلین کے ھم پلہ ھو ۔ ٹھیک ھے یا نھیں ؟! شیعہ اور سنی دونوں میں حدیث ثقلین جیسی حدیث متواتر شاذ و نادر ھی ملے گی ۔ حدیث ثقلین میں پیغمبر کس بات پر زور دے رھے ھیں ۔ میں دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا چاھوں گا اوریہ دونوں باتیں بھت ھی اھم ھیں ۔ پیغمبر اسلام انھیں دو باتوں پر زور دے رھے ھیں تاکید کر رھے ھیں۔ ایک یہ کہ ” قرآن کا عترت و ولایت سے جدا نہ ھونا “ اس کا مطلب کیا ھے ؟ قرآن مجید ولایت سے اور عترت سے جدا نھیں ھے۔ اس جملہ کا کیا مفھوم ھے ؟ کیا اس کا مفھوم یہ ھے کہ اگر قرآن ولایت سے جدا ھو گیا تو وہ قرآن نھیں رھے گا؛نھیں قرآن تو ھے لیکن اس میں وہ روح اور حیات نھیں ھے جس کے پیغمبرطلبگار ھیں ، قرآن مجید کھتا ھے کہ پیغمبر اور اس قرآن کا کام کیا ھے ؟ سورۂ انفال کی پچیسویں آیت میں قرآن مجید پیغمبر کی اطاعت کی کیا خاصیت بیان کر رھا ھے ؟ ” یا ایھا الذین آمنوا استجیبوا لِلّٰہ و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم “ اسلام اس لئے آیا ھے تاکہ تمھیں حیات طیبہ عطا کرے، تمھیں حیوان کے درجہ سے نکال کر انسان کے درجہ تک پھونچا دے۔ اس ماڈرن دور میں ھیومنزم(Humanism)کھتا ھے کہ خدا کے بجائے مرکزیت انسان کوحاصل ھونا چاھئے ۔ ھیومنزم کی لغت میں وہ کون سا انسان ھے جو مرکز بن سکتاھے محور قرار پا سکتا ھے اگر خدا ملجاء و ماٴویٰ نہ ھو؟ کھتا ھے کہ خدا کی جگہ ھر انسان محو ر و مرکز بن سکتا ھے ۔ ھمارا اور آپ کا قرآن کیا کھتا ھے ؟ قرآن مجید چودہ سو سال پھلے فرما رھا ھے کہ انسان اس وقت تک انسان بن ھی نھیں سکتا جب تک کہ خدا کو محور و مرکز قرار نہ دے ۔
کتنی اچھی اور حسین بات ھے کہ تم انسان بن ھی نھیں سکتے، تم میں حیات انسانی آھی نھیں سکتی خدا کو محور بنائے بغیر،کیوں ؟ اس لئے کہ تمھارے وجود کا ایک بھت بڑا امر صرف خدا سے مخصوص ھے ۔ تم ایک نا محدود موجود ھو ، تم ایک ایسی مخلوق ھو جو کبھی سیر ھو ھی نھیں سکتی لھذا ایک دوسرے مقام پر ارشاد ھوا کہ مال و دولت جاہ و منصب ھر چیز سے ھٹ کر انسان جب خدا کو چھوڑ دے تو یہ انسان بے چینی و اضطراب اور نفسیاتی مرض کا شکار ھوتا ھے ” و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا“ ۔واقعاً بڑی پیاری بات ھے۔ قرآن مجید عجیب و غریب کتاب ھے۔ خدا ھم مسلمانوں کو توفیق دے کہ ھم قرآن کی طرف پلٹ آئیں ۔بھر حال ایک بھت بڑا انحراف وھاں سے شروع ھو گیا ، پھلے جملہ میں پیغمبر قرآن و اھلبیت علیھم السلام کے ایک دوسرے سے جدا نہ ھونے کا ذکر فرما رھے ھیں ، حدیث کا دوسرا جملہ بھی بھت اھم ھے ۔ حدیث ثقلین کی طرف کم توجہ دی جاتی ھے لیکن میرے لئے اس کا یہ نکتہ بھت ھی اھمیت رکھتا ھے ۔ صادق و مصدق پیغمبر نے اس حدیث میں ایک غیبی خبر دی ھے ” ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا ابدا “ ۔یہ بات ھمارے موضوع سے متعلق ھے ۔ مسلمانو! جب تک تم ان دونوں سے متمسک رھو گے کبھی گمراہ نہ ھو گے ، منحرف نھیں ھو گے ۔
اس کا مطلب کیا ھے؟ اس کا مطلب یہ ھے کہ اے نوجوانو! سنو تم مسلمانوں کی تنزلی کے اسباب معلوم کرنے کے لئے یھاں جمع ھوئے ھو ۔ دیکھو تم کو جو بھی پریشانی لاحق ھو ،جو بھی بلا تمھارے سر پر نازل ھو تو یہ دیکھو کہ قرآن و اھلبیت علیھم السلام سے کس قدر دور ھو چکے ھو؟ یہ سب اسی دوری کے باعث ھے۔اس لئے کہ پیغمبر خاتم نے ھم سے یھی فرمایا ھے کہ جب تک تم ان دونوں یعنی قرآن و اھلبیت (ع) سے متمسک رھو گے ” لن تضلوا ابدا “ ”لن“ نفی ابد کے لئے آتا ھے ۔اس کلمہ ابد کی تشریح یھی ھو گی کہ تا قیام قیامت تمھاری ھر قسم کی تنزلی ، کمزوری اور ھر طرح کا نقصان جو تمھیں اٹھانا پڑے وہ صرف قرآن و اھلبیت علیھم السلام سے دوری ھی کی بنیاد پر ھو گا، یہ ایک حقیقت ھے۔ آپ جانتے ھیںکہ دشمن بھی اچھی طرح سمجھ چکے ھیں کہ اگر انھیں مسلمانوں کے سروں پر سوار رھنا ھے تو مسلمانوں سے قرآن مجید کے اثرات و برکات ختم کرنا ھے تو کیا کریںکہ یہ قرآن مسلمانوں میں تحرک پیدا نہ کر سکے،اس کے لئے کون سا حربہ اختیار کریں ؟ یا امام خمینی ۺ کے الفاظ میں کھا جائے کہ مسلمانوں کو جوش و خروش ، تحرک اور جھاد سے روکنے کے لئے کیا کریں ؟ اس کا فقط ایک راستہ ھے اور وہ قرآن و اھلبیت (ع) میں جدائی ڈالنا ھے۔”حسبنا کتاب اللہ “کا جملہ آپ سنتے رھتے ھیں ۔آپ نے کبھی سوچا ھے ”حسبنا کتاب اللہ “کے جملہ نے ایک تیر دو شکار والا کام کیا ھے ۔ ایک کھتا ھے کتاب کافی ھے قرآن ھمارے پاس ھے پس ولایت کی کوئی ضرورت نھیں ھے ۔ حضور آپ نے ھمارے درمیان دو ھی تو چیزیں چھوڑی ھیں نا ! قرآن و اھلبیت ۔سر کار آپ کا بھت بھت شکریہ ! ھم سب کے پاس قرآن ھے پس علی (ع) کی کوئی ضرورت نھیں ھے ۔ ولایت ھمیں نھیں چاھئے ۔ جناب سیدہ (س) کے شھادت کے ایام چل رھے ھیں آپ کو معلوم ھے زھرائے مرضیہ کی شھادت کا سبب کیا تھا ؟ سب سے زیادہ جس بات نے جناب زھرا(س) کو تکلیف پھونچائی وہ یہ تھی کہ پیغمبر اسلام کے بعد عالم اسلام میں انحرافات و تحریفات ایجاد کی جارھی تھیں ۔ زھرا و علی مرتضیٰ علیھما السلام اس پر غمزدہ ھو کر لوگوں سے کھتے تھے مسلمانو! تمھیں کیا ھو گیا ھے ،کیوں راہ راست سے منحرف ھو گئے ھو ؟ تو مسلمانوں کا جواب یہ ھوتا تھاکہ اے زھرا اتنی دنیا طلبی بھی اچھی نھیں ھوتی، آپ کو اس بات کا غم ھے کہ آپ کے شوھر خلیفہ نھیں بن سکے اور آپ ملکہ نھیں ھیں !! زھرا (س) کو پشت در سے یہ بھی سننا پڑا ، سیدہ (س) مار کھانے کی وجہ سے شھید نھیں ھوئیں ،بلکہ یہ سب دیکہ اور سن کر آپ کا دل پاش پاش ھو چکا تھا جس کی وجہ سے آپ شھادت سے ھم آغوش ھو گئیں ۔ مجھے غم ھے عالم اسلام میں انحرافات رونما ھونے کا اور تم مجھ پر دنیا طلبی کا الزام لگا رھے ھو ! یہ ایک مصداق ھے جس کا میں نے ذکر کیا ھے ۔
آغاز اسلام ھی سے دین میں ھونے والی یہ تحریفات بعد میں اشعری مکتب فکر کے وجود میں آنے کا سبب بنیں۔ مسلمانوں کی تنزلی میں اشعری مکتب فکر نے بڑاا ھم رول ادا کیا ھے ۔ آپ جانتے ھیں اکثر خلفاء اشعری مکتب فکر کی ھی طرفداری کرتے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ مسلمانوں کی تنزلی میں اس مکتب فکر کا بڑا اھم رول ھے، آپ پوچھیں گے کیوں ؟ اس نے ایسا کیاکیا ھے ؟ تو میں ان کی دو باتیں عرض کرتا ھوں اور اگر دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ یہ دو باتیں اسلام کا حصہ ھیں تو انھیں اسلام سے نفرت رکھنے کا پورا پورا حق ھے اور یھی دو چیزیں اشعری فکر کی بنیاد ھیں ۔ اشعری نے پھلی چیز جو پیش کی وہ یہ ھے کہ انسان کو کوئی اختیار نھیں ھے ، توحید یعنی جبر۔ توحید ، افعالی بھی ھوتی ھے اور توحید افعالی کا مطلب یہ ھے کہ فاعل مختار فقط خدا کی ذات ھے تو اگر فاعل مختار فقط خدا ھے تو بقیہ فاعل کس فھرست میں آئیں گے ؟ یقینا فاعل مجبور کی فھرست میں یعنی سب کے سب فاعل مجبورھیں ۔ اشعری نے انسان سے اختیار سلب کر لیا۔ اس کے بعد اسے ایک اور مشکل پیش آگئی اور وہ یہ کہ اگر فاعل مختار فقط خدا ھے اور انسان جو کچھ بھی کرتا ھے وہ خدا وند عالم کے حکم کے تحت کرتا ھے تو پھر انسان جو برے اعمال انجام دیتا ھے ان کی کیا توجیہ ھو گی ؟ کیا وہ بھی خداھی کرواتا ھے ؟ ؟!!ھم بعض ایسے افعال بھی انجام دیتے ھیں جو یقینا برے ھیں تویہ مکتب کھتا ھے کہ کس نے آپ سے کھا کہ فلاں کام اچھا ھے اور فلاں کام برا ھے ۔ اشیاء اور افعال میں حسن و قبح عقلی و ذاتی پایا ھی نھیں جاتا۔
آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ اشعری نے دو چیز یں انسان سے سلب کیں، ایک اختیار اور دوسرے عقل اور قدرت تشخیص ۔ اب میں آپ سے پوچھتا ھوں کہ اگر یہ دو چیزیں انسان سے چھین لی جائیں تو پھر باقی کیا بچتا ھے ؟ اسلام کو اس طرح سے پھچنوایا گیا ، ایک ایسا اسلام جس میں انسان ایک بے ارادہ اور بے اختیار موجود ھو، جس میں انسان کو اتنا بھی فیصلہ کرنے کا حق نہ ھو کہ یہ پانی میٹھا ھے اچھا ھے یا برا ھے۔ تو میں آپ سے پوچھتا ھوں کہ کیا ایسا اسلام انسانوں کو زندگی عطا کر سکتاھے ؟ یھی میرا درد دل ھے۔ قرآن کو اھلبیت (ع) سے جدا کرنے کے نتیجہ میں عالم اسلام پر مصیبتوں کے پھاڑ ٹوٹے ھیں ۔ قرآن کو اھلبیت (ع) سے جدا کرنے کا نتیجہ تھا کہ خلفائے ثلاثہ ھی کے دور میں ، کعب الاحبار اور عبد اللہ بن سلام جیسے لوگوں کو قرآن میں اسرائیلیات وارد کرنے کا موقع مل گیا ، بھت سارے یھودی مفسر قرآن بن گئے۔،صحیح بات ھے جب علی (ع) سے تفسیر نہ پوچھی جائے گی جب آپ در علی (ع) سے دار القرآن میں داخل نہ ھوں گے ، ولایت کو قرآن سے الگ رکھیں گے تو کعب الاحبار جیسے لوگ منبر نشین ھوں گے اور عبد اللہ ابن سلام جیسے لوگ مفسر قرآن ۔آپ کے فقھاء وہ ھوں گے جنھیں روح قرآن کی خبر تک نھیں ھے ۔
اسلامی فقہ میں قیاس و استحسان کیسے وارد ھوا ؟ جب پھنس گئے اور جدید سوالوں کے جواب نہ دے سکے تو امام باقر(ع) اور امام صادق (ع) کے پاس تو گئے نھیں، مجبور تھے کیا کرتے قیاس و استحسان کا سھارا لے لیا ۔ کلام میں کچھ لوگوں نے صرف آیات جبر پر توجہ دی۔ ” و ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمیٰ “ کھنے لگے کام میں انجام دیتا ھوں لیکن بغیر اپنے اختیار کے ۔ بھت نقصان ھوا ھے اسلام کو ۔ اسلام میں جو بھی کجی آئی ھے وہ صرف قرآن کو ولایت سے جدا کرنے کا نتیجہ ھے ، اسلام میں تحریفات بھت زیادہ ھیں۔ میں نے توچند ایک باتیں بطور نمونہ پیش کی ھیں ۔ میرا دل چاھتا ھے کہ آپ خود اس موضوع پر کام کریں کہ طلوع اسلام کے آغاز ھی سے کیا کیا خرافات مذھبی کلچر میں داخل کر دیئے گئے، لیکن چونکہ اس دور میں ائمہ معصومین علیھم السلام موجود تھے لھذا اسلام نے عجیب و غریب ترقی کی ۔ اب بھی بھت سارے انحرافات دین میں داخل کئے جا رھے ھیں ۔ آغا ز اسلام کے خرافات کے چند نمونے میں نے آپ کی خدمت میں پیش کئے اب ایک نمونہ آج کے خرافات کابھی سن لیجئے ۔ دین میں تحریف کی آج جو بڑی کوشش کی جارھی ھے اس کے دائرہ کار کو محدود کرنا ضروری ھے ۔ کھتے ھیں اسلام اچھا ھے ، دین اچھا ھے لیکن اس کا دائرۂ کار صرف انسان کے انفرادی اور عبادی مسائل تک محدود ھے ۔ اسلام میں نہ سیاست ھے اور نہ ھی اقتصاد ۔بعض اھل مغرب سے متاثر اور ان کی فکر سے دھوکہ کھائے ھوئے ھمارے اپنے پڑھے لکھے لوگ بھی کھتے ھیں کہ دین سے یہ امید رکھنا ھی نھیں چاھئے کہ یہ تمھاری دنیا آباد کر دے گا ،لھذا حکومت میں دین کو مرکزی حیثیت دینا فضول ھے یعنی وھی سیکولرزم کا الاپ ۔
مجھے نھیں معلوم اس طرح کی مجالس میں سیکولرزم سے متعلق کس قدر گفتگو کی جاتی ھے۔ عالم اسلام کے دشمنوںکی طرف سے اس وقت مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یھی سیکولرزم ھے ۔ پھلا اھم ترین مورچہ اور سب سے بڑا چیلنج سیکولرزم ھے۔ سیکولرزم کا کھنا یہ ھے کہ ایسا اسلام جس میں سیاست نہ ھو ، اقتصاد نہ ھو ، حکومت نہ ھو، ایسے اسلام سے ھمارانہ کوئی اختلاف ھے اور نہ جھگڑا ۔ جھگڑے اور اختلاف کی بات یہ ھے کہ حکومت ایک ولی فقیہ کے ھاتہ میں ھو ،ایک دینی رھبر کے ھاتہ میں ھو۔آج اکثر مسلمانوں کے ضعف اور انحطاط کا باعث سیکولرزم کو قبول کر لینا ھے ۔ سیکولرزم کے حامی انقلاب اسلامی کے دشمن ھیں۔ وہ کھتے ھیں کہ اسلامی انقلاب نھیں ھونا چاھئے اس لئے کہ اسلامی انقلاب سیکولرزم کی مخالفت کرتا ھے ۔ ان کا کھنا ھے کہ اسلام دین زندگی نھیں ھے ۔ارے بھائی! اسلام دنیا ھی کوتو آباد کرنے کے لئے آیا ھے ،دنیا آباد کرنے کے ھی نتیجہ میں آخرت بھی آباد ھوتی ھے ۔ بنیادی طور سے دنیا اور آخرت کا تقابل ھی غلط ھے ۔ دین ھمیں سکھاتا ھے کہ اپنی آخرت اسی دنیا ھی میں بنا لیں۔ دین دنیا کو آباد کرتا ھے ،دنیا کے لئے اسلام کے بھترین قوانین ھیں۔ ایک دو کی طرف میں اشارہ کرنا چاھوں گا ۔ مثلا ً وھی جو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ انسان یہ نہ سوچے کہ خدا کو چھوڑ کر وہ مالک بن جائے گا ،یہ نہ سوچے کہ خدا کو چھوڑ کر اسے مرکز یت حاصل ھو جائے گی بلکہ خدا سے الگ ھٹ کر انسان چوپائے میں تبدیل ھو جاتا ھے۔ تمھیں اگر انسان بننا ھے تو خدا کو محور بنانا ھو گا۔ ” ھیومنزم “ انسان کو مرکز بنانا چاھتا ھے ۔ دوسرے یہ کہ انسان آزادی چاھتا ھے یعنی ”لبرالزم “ ،تو آپ کے پیروں سے غلامی کی زنجیریں وھی کاٹ سکتے ھیں۔ لوگو ! تمھیں عوامی حکومت چاھئے تو سنو کہ عوامی حکومت بھی صرف قانون الٰھی ھی کے سایہ میں قائم ھو سکتی ھے ۔ میں نے امام خمینی ۺ فاونڈیشن میں ” عوامی حکومت :نظام ولائی کے سائے میں “ کے عنوان کے تحت ایک مقالہ پیش کیا تھا ۔اس مقالہ میں میں نے ثابت کیا ھے کہ بنیادی طور سے لبرل۔ ڈموکریسی کے تحت عوامی حکومت قائم ھی نھیں ھو سکتی ، لبرل۔ ڈموکریسی میں لوگوں کو آلۂ کار بنایا جاتا ھے ۔ دین میں ھونے والی بھت ساری تحریفات کا میں نے ذکر کیا ھے ۔ ایک اوربڑی تحریف یہ کی گئی ھے کہ یا خدا یا عوام۔ غور کیجئے ! خدایا عوام یعنی حکومت یا خدائی ھو گی یا عوامی ، اس طرح کا تقابل اور یہ جھوٹا تضاد دین کے ساتھ بھت بڑی نا انصافی ھے ، خوب غور کیجئے تعبد یا تعقل ، آپ کو بھت ھی محتاط رھنا چاھئے، اس طرح کی باتیں ضرور آپ کے سننے میں آتی ھوں گی جن میں دو چیزوں میں تضاد دکھایا جارھا ھو، لیکن اس کی کوئی واقعیت نھیں ھوتی ۔مثلا ًیھی تحریف کہ کھا جا تا ھے تعبد یا تعقل یعنی مانعة الجمع ھیں دونوں ایک ساتھ آھی نھیں سکتے۔ اسی طرح کھا جاتا ھے دنیا یا آخرت ، جبکہ قرآ ن مجید چلا چلا کر کھہ رھا ھے کہ لوگوں کی خدمت کے بغیر خدا سے قریب ھوا ھی نھیں جا سکتا ۔یھاں ایک قرآنی نکتہ عرض کرنا چاھتا ھوں جو انشاء اللہ میری طرف سے آپ کے لئے ایک یادگاری تحفہ ھو گا ۔ یہ بات میں ایک سوال کی شکل میں آپ سے کھنا چاھوں گا ۔
آپ جانتے ھیں کہ اصحاب پیغمبر کے درمیان حضرت علی بن ابی طالب علیھما الصلوٰة و السلام کو نمایاں حیثیت حاصل تھی ، حضور کے زمانے میں آپ نے بھت سارے کمالات حاصل کئے ، عمر و بن عبدود جیسے نامی پھلوان کو پچھاڑا ، خیبر فتح کیا ، شب ھجرت پیغمبر کے بستر پر سوئے یہ سب اپنی جگہ پر لیکن جس وقت خدا نے یہ بتانا چاھا کہ مسلمانو! جانتے ھو تمھارا رھبر بننے کی صلاحیت کس شخص میں ھے تو فرمایا ایک خدا ، دوسرے رسول اور تیسرے وہ شخص کہ جو حالت رکوع میں زکوٰة دیتا ھے۔ سوال یہ ھے کہ علی کے اتنے فضائل و کمالات ھونے کے باوجود خدا نے آپ کو ولایت امت کا خطاب حالت رکوع میں زکوٰة دینے پر ھی کیوں دیا ؟ سورۂ مائدہ کی ۵۶ویں آیت ھے آیۂ ولایت ” انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلوٰة و یوتون الزکوٰة و ھم راکعون “ ۔سوال یہ ھے کہ خدا نے یہ کیوں نھیں کھاکہ عمر بن عبدود کے مقابلے میں جب تم سب نے سر جھکالیا تھا اور علی نے اٹھ کر کھاکہ میں جاؤں گا اس کے مقابلے میں۔لھذا بس یھی علی ولی ھے ، فتح خیبر کے بعد علی کو ولایت کا خطاب کیوں نھیں دیا ؟ شب ھجرت بستر رسول پر سونے کے بعد علی کو ولی کیوں نھیں کھا ؟ یہ کیوں نھیں فرمایا کہ جس شخص کی ولادت خانہ کعبہ میں ھوئی ھے وہ تمھارا ولی ھے اور اگر زکوٰة دینے ھی کی بات ھے، خدا کی راہ میں خرچ کرنے ھی کی بات ھے تو ایک انگوٹھی سے سو گنا زیادہ علی (ع) پھلے ھی راہ خدا میں خرچ کر چکے ھیں !!؟ اس کی وجہ کیا ھے کہ خدا نے فرمایا کہ رھبری کی صلاحیت اس شخص میں ھے جو حالت رکوع میں زکوٰة دے جبکہ یہ وھی علی (ع) ھیں کہ حالت نماز میں جن کے پیر سے تیر نکال لیا جاتا ھے اور انھیں خبر تک نھیں ھوتی۔ آخر بات کیا ھے، خدا کھنا کیا چاھتا ھے کیا پیغام دینا چاھتا ھے ؟
میں نے اس کا راز جو سمجھا ھے وہ آپ کے سامنے بھی بیان کرنا چاھتا ھوں اور اس سے پھلے ایک بزرگ عالم کے سامنے بھی عرض کر چکا ھوں۔ انھوں نے بھی اس کی تائید فرمائی ھے۔ وہ نکتہ یہ ھے کہ خدا کھنا چاھتا ھے کہ دینی سماج کی رھبری کی صلاحیت صرف اس شخص میں ھے جو اس وقت بھی خلق خدا سے غافل نہ ھو جب اس کا خد ا سے راز و نیاز منزل عروج پر ھو۔ نماز میں علی کی خدا سے گفتگو اور راز و نیاز اپنے عروج پر ھوتا ھے ۔ نماز میں علی خدا کے ساتھ گفتگو میں اس قدر محو ھو جاتے ھیں کہ پیر سے تیر نکل جائے لیکن انھیں خبر تک نھیں ھوتی یعنی خود کو بھول جاتے ھیں لیکن علی (ع) خدا سے اس قدر محویت کے عالم میں بھی بندگان خدا سے غافل نھیں ھیں لھذا تمھارے امام ھیں ۔
یہ ھوتی ھے عوامی حکومت ، مسلمانو! کیاتمھیں حق ھے کہ علی (ع) سے بڑہ کر کسی کو عوامی حکومت کا علمبردار قرار دو ، کیا گھر میں علی (ع) کی گریہ و زاری مظلوموں سے ھمدردی کی نشانی ھے یا بنی امیہ کے زرق و برق محل ؟! کیا علی (ع) کی جوکی روٹی سے سجا ھوا دسترخوان عوام اور مظلوموں سے ھمدردی کی علامت ھے یاکارل مارکس کا ڈائننگ ٹیبل ؟! خدا ھر جگہ ھے، آپ کو عوامی حکومت چاھئے تو یھاں بھی خدا ھے۔جو جھوٹے تضاد اور تقابل پیش کئے جاتے ھیں ان سے ھوشیار رھنے کی ضرورت ھے۔ قرآن و اھلبیت (ع) سے ھم اور آپ جو تعبد رکھتے ھیں یہ تعبد قوی ترین تعقل پر مبنی ھے ، تعبد کا مطلب اندھی تقلید نھیں ھے ۔ عقل کھتی ھے کہ اگر تمھیں کسی بیماری کے علاج کا نسخہ نھیں پتہ تو کسی اسپیشلسٹ سے رجوع کرو اور اس سے نسخہ لو ! کیا خدا سے بڑہ کر بھی کوئی اسپیشلسٹ پایا جاتا ھے ؟ قرآن مجیدھماری زندگی کا نسخہ ھے ، قرآن ھدایت کا سر چشمہ ھے، خدا تک پھونچنے کا راستہ ھے ، میں مقصد تک رسائی حاصل کرنا چاھتا ھوں تو یہ قرآن سعادت ، کمال اور خوشبختی کا پتہ ھے ، آپ اسلام کی جامعیت خود پیغمبر اسلام کی زبان سے سنئیے جو آپ نے اپنی عمر کی آخری سال حجة الوادع کے موقع پر بیان فرمائی ھے۔یہ پیغمبر اسلام کا بھت ھی مشھور خطبہ ھے۔ آپ سے بڑہ کر کون اسلام کو جامعیت عطا کر سکتا ھے ؟ میں جب حضور کے اس خطبہ کا مطالعہ کرتا ھوں اور دیکھتا ھوں کہ اسلام کو کس خوبصورتی سے ایک جامع دین بنایا گیا ھے اور ھمیں ایک کامل شریعت عطا کی گئی ھے تو واقعاً لطف آتا ھے ۔ پیغمبر فرماتے ھیں ” ما من شئی یقربکم من الجنة و یباعدکم من النار الا و قدامرتکم بہ و ما من شئی یقربکم من النار و یباعدکم من الجنة الا و قد نھیتکم عنہ “ ۔کتنے خوبصورت جملے ھیں! ”مسلمانو! میری شریعت کا خلاصہ بس دو باتوں میں ھیں، بخدا کوئی ایسی چیز بچی نھیں ھے کہ جو تمھیں جنت سے قریب اور جھنم سے دور رکھنے کا باعث ھو اور میں نے تمھیں اس کا حکم نہ دیا ھو اور کوئی ایسی چیز بھی نھیں بچی ھے جو تمھیں جھنم سے قریب اور جنت سے دور کر دے اور میں نے تمھیں اس سے روکا نہ ھو ، یعنی میری شریعت کا خلاصہ دو باتوں پر منحصر ایک نسخہ ھے جس میں کھا گیا ھے کہ ان کاموں کو انجام دو اور ان کاموں کو انجام نہ دو، کچھ میرے اوامر ھیں جو مقربات الی الجنة ھیں اور کچھ میری نواھی ھیں جو مقربات الی النار ھیں ۔ ھر وہ چیز جو راہ سعادت میں تمھارے لئے رکاوٹ بن رھی ھو اسے انجام نہ دو ۔ بالکل ایک طبیب کے مثل ، حضرت علی (ع) پیغمبر اسلام کے بارے میں فرماتے ھیں: ” طبیب دوّار بطبہ “۔ پیغمبر کھتے ھیںکہ میں نے اپنا کام انجام دے دیا ،یہ نسخہ تمھارے حوالہ کر دیا۔
بھر حال مسلمانوں کے زوال کا اولین سبب جو میں آپ سے عرض کر چکا ھوں وہ دین و دنیا کو آپس میں جدا کر دینا ھے یعنی سیکولرزم ؛اور قرآن و اھلبیت (ع)کو ایک دوسرے سے جدا کر دینا ۔ اب اگر مسلمان زندہ ھونا چاھتے ھیں تو انھیں اسلام کا احیاء کرنا ھو گا ، مسلمانوں کو اسلام کی طرف پلٹ کر آنا ھو گا ۔ امام خمینی ۺ جیسے بزرگ مصلحین بھی یھی کھتے تھے کہ اے مسلمانو! ایک ارب تیس کروڑ یا ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانوں سے کہ مسلمانو! مسلمان ھو جاؤ ، اگر زوال سے نجات حاصل کرنا چاھتے ھو تو مسلمان ھو جاؤ ۔ھم اور آپ جو حوزۂ علمیہ قم میں ھیں، ھمارا سب سے پھلا کام اور سب سے پھلی کوشش یہ ھونی چاھئے کہ اسلام حقیقی کی شناخت حاصل کریں۔ امام خمینی ۺ کا ارشاد ھے کہ ” عالم اسلام کی ایک مشکل یہ تھی کہ ھمارے علمائے اسلام خود اسلام سے ناواقف تھے “۔اگر وقت ھوتا تو اس بات کو میں کچھ تفصیل سے عرض کرتا ، بنیادی کمزوری ھم لوگوں کی ھے۔ ھم لوگوں نے اسلام کا صحیح تعارف نھیں کروایا ، لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ تو کیا لیکن روح نماز کیا ھے یہ نھیں بتایا ۔ھم نے نھیں بتایا کہ قرآن کے پاس بھترین اقتصادی اور سیاسی نظام ھے۔ اصل قرآنی توحید سے استفادہ کرتے ھوئے میں نے نظام سیاسی پر کئے جانے والے بھت سارے مشکوک وشبھات کاجواب دیا ھے ،اور مجھے یقین ھے کہ نئی نسل کے کچھ اسکالروں کی طرف سے کئے جانے والے سوالات کا جواب خود توحید ھے، توحید ربوبی نہ کہ توحید ذاتی ۔
بھر حال مسلمانوں کے زوال کا ایک سبب ادھر ادھر کی کافی باتیں کرکے میں نے آپ کے سامنے عرض کیا ۔ مسلمانوں کے زوال کا دوسرا سبب یہ ھے کہ مسلمانوں نے اغیار کی تھذیب سے متاثر ھو کر ھتھیار ڈال دئے ۔یہ ایک اھم سبب ھے ، اپنی شناخت کھو دینا ، اغیار کی اندھی تقلید کرنا۔ یہ بڑی مفصل باتیں ھیں۔ اس کے لئے الگ سے ایک جلسہ رکہ کر گفتگو کرنے کی ضرورت ھے ۔میں صرف قرآن سے ایک بات عرض کرنا چاھوں گا ۔ قرآن جھاں بنی اسرائیل کی مذمت کرتا ھے اور ان کی تحقیر کرتا ھے کہ تم نے کتنا برا عمل انجام دیا، تو کھتا ھے کہ میں نے تمھیں فرعون سے نجا ت دی ، توحید کی طرف ھدایت کی ، تمھیں دریا سے گزارا، دریا سے پار ھو کر جب تم نے کچھ لوگوں کو بت کی پوجا کرتے ھوئے دیکھا تو تمھارے اندر دوسروں کی تقلید اور ان سے متاثر ھونے کا جذبہ اتنا زیادہ تھا کہ تم یہ بھول ھی گئے کہ تم خدا پرست ھو اور موسیٰ سے کھنے لگے ” اجعل لنا الٰھاً کما لھم آلھة “یعنی موسیٰ ھمارے لئے بھی اس طرح کے دو خدا بنا دو ۔ بالکل ویسے ھی آج باوجود اس کے کہ ھمارے پاس بھترین الٰھی تمدن ھے ، بھترین قانون زندگی ھے پھر بھی ھم دیکھتے ھیں کہ اھل مغرب کا کیا کھنا ھے ؟ عجیب بات ھے ، ھمارا لباس ، معماری ، ھنر ، بات چیت کا انداز ، طرز زندگی ، حکومت ، پڑھے لکھے لوگوں کی خامہ فرسائی اور مقالہ نگاری ھر چیز میں ھم اھل مغرب کی تقلید کر رھے ھیں ۔ اغیار کی تقلید تنزلی کا ایک اھم سبب ھے ۔ سید جمال الدین اسد آبادی ۺ کے نزدیک بھی مسلمانوں کے زوال کا ایک سبب یھی ھے ،وہ کھتے ھیں کہ ھم نے مغرب سے علم نھیں لیا بلکہ مغرب کاکلچر اپنا لیا ۔عجیب بات ھے کہ دین نے ھم سے کھا ان سے علم و حکمت لے لو لیکن اپنی شناخت اور تھذیب نہ کھونا۔اس کے برعکس ھم نے اھل مغرب سے نہ ھی علم و ھنر لیا اور نہ ھی صنعت و ٹکنالوجی سیکھی بلکہ لباس پھننے کا طریقہ اور کلچر ان سے لیا ،تو اغیار کی تقلید بھی مسلمانوں کے زوال کا ایک سبب ھے۔ اس میں کافی تفصیل کی ضرورت تھی لیکن صرف عنوان عرض کر کے میں تیسرے سبب کی طرف آرھا ھوں۔ صرف عنوان ھی عرض کر سکتا ھوں اس لئے کہ وقت ختم ھو رھا ھے ۔
مسلمانوں کے زوال کا تیسرا سبب مسلمان حکمرانوں کا استبداد اور نفس پرستی ھے ، ان کے لئے اپنی بادشاھت اور حکومت سب کچھ ھوتاھے۔ اگر ان سے کھا جائے کہ مسلمانوں کو چھوڑ دو یا حکومت کو چھوڑ دو تو وہ تمام مسلمانوں کو اور پورے اسلامی تمدن کو ترک کرنے کے لئے تیار ھو جائیں گے لیکن حکمرانی چھوڑنے کے لئے آمادہ نھیںھوں گے۔ اسی لئے استعماری طاقتوں سے ساز باز کر کے کرسی اقتدار پر برا جمان ھیں ۔ مسلمان کی یہ بد بختی آج ھم اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر رھے ھیں ۔ یھی لوگ جب جمھوری اسلامی میں آتے ھیں تو جب سامنے کیمرہ نہ ھو ٹیپ ریکارڈر نہ ھو یعنی ان کی بات کھیں ریکارڈ نہ ھو رھی ھو تو یھی سر براھان مملکت اسلامیہ دھیمے سے کھتے ھیں ” ھم آپ کی باتوں کی تائید کرتے ھیں لیکن کیا کریں اگر سر عام ھم آپ کی باتوں کی حمایت کرنے لگیں تو ھمیں حکومت سے معزول کر دیا جائے گا ، کویت کے سربراہ ھوں یا سعودی عرب کے، امریکہ ھم کو آپ کی حمایت میں کوئی بات نھیں کھنے دیتا لھذا ھم مجبور ھیں اس طرح کی کوئی بات نھیں کھہ سکتے “ یہ ھے مسلمانوں کی بد بختی ۔ اس سے پھلے بھی بنی امیھ، بنی عباس اور ھر دور میں ایسا ھی رھا ھے ۔ یہ بھی مسلمانوں کے زوال کا ایک اھم سبب ھے ۔ صلیبی جنگوں کے دوران اھل مغرب تمدن پر قابض ھو گئے اور مسلمان ان جنگوں میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ،آپ کو پتہ ھے کہ ان جنگوں میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ شکست کا سامنا کب کرنا پڑا ؟ انھیں سب سے زیادہ شکست کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب خود آپس ھی میں لڑنے لگے ۔
بھر حال مسلمانوں کی تنزلی کے بھت سارے اسباب ھیں، دامن وقت میں اتنی گنجائش نھیں ھے کہ میں تفصیلات میں جا سکوں ۔میں ایک دوسری بات کی طرف اشارہ کرنا چاھتا ھوں ۔ جتنی بھی تحریفات اور انحرافات اسلام میں رونما ھوئے ان کے مقابلہ میں ماضی میں بھت ساری تحریکیں وجود میں آتی رھی ھیں ۔ آزادی کی تحریکیں اور اسی طرح اسلامی تحریکیں ، مسلمانوں کو زندہ کرنے کے لئے بھت ساری تحریکیں اٹھیں ۔ اسی ھندوستان کو لے لیجئے شاہ ولی اللہ دھلوی نے ایک تحریک شروع کی لیکن کسی نتیجہ تک نہ پھونچ سکی۔ آپ غور کیجئے کہ اس طرح کے برجستہ لوگ کیوں موثر نہ ھو سکے ،سر سید کی تحریک، اسی طرح میر حامد حسین ۺ کی تحریک لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ھو سکی کیوں؟!اس لئے کہ ان ساری تحریکوں میں حقیقی اسلام کا سھارا نھیں لیا گیا ۔ عصر حاضر میں فقط ایک ھی تحریک ھے کہ واقعاً یوروپ ، امریکہ ، برطانیہ اور پوری دنیا کو ایک ھو کر اس تحریک اور اس انقلاب اسلامی کے مقابلہ میں کھڑا ھونا ھی چاھئے، اس لئے کہ امام خمینی ۺ کے لائے ھوئے اسلامی انقلاب میں اسلام واقعی کا احیاء ھے ، اور یہ اسلام واقعی دنیا بھر میں اپنی حیات کا ثبوت دے رھا ھے ، دنیا گھبراگئی ھے کہ کھیں دھیرے دھیرے یہ اسلام واقعی پوری دنیا میں نہ پھیل جائے۔ اس لئے دنیا والوں کا خیال ھے کہ اس انقلاب کے مقابلہ میں آنا ھی چاھئے ۔ انقلاب اسلام کا سورج کس مشرق سے طلوع ھوا ، خمینیت کسی نئی چیز کا نام نھیں ھے ، امام خمینی ۺ نے صرف اسلام کو کتابوں سے باھر نکالا ھے ،قم کے مدرسۂ فیضیہ اور اس کے جیسے دوسرے مدارس کے کتب خانوں میں موجود اسلام کی پولٹیکل تھیوری کو عملی جامہ پھنایا ھے اور بس!

ہشت زدہ معاشرہ اور ملکی سیاست
انفرادی سطح پہ اگر ہماری قوم کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بہت سی اقوام سے اگر آگے نہ ہوں تو پیچھے بھی نہیں ہیں، صدقات و زکواۃ سے لے کر نماز و روزہ تک اور صلہ ارحام سے لے کر معاشرتی رواداری تک، ہم کسی بھی دوسری قوم سے پیچھے نہیں ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قومی سطح پہ اپنا وقار بنانے کے لیے، ہم میں یہ شعور ہی اجاگر نہیں ہوا کہ خداوند تبارک و تعالٰی نے ہر قوم کا حکمران چننے کا اختیار خود اس قوم کو دیا ہے، اور اگر وہ برے افراد کا انتخاب کرے تو سب سے بڑا گناہ اور ظلم اس نے خود اپنے آپ پہ کیا ہے۔
دہشت زدہ معاشرہ اور ملکی سیاست
تحریر: گوہر مراد
این آدرس ایمیل توسط spambots حفاظت می شود. برای دیدن شما نیاز به جاوا اسکریپت دارید

ویسے تو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں جو دفعات، سیاستدانوں کی کردار سازی کے لیے خود انہی حکمرانوں کی طرف سے منظور کی گئیں ہیں، ان کا مفہوم نہایت ہی واضح اور شفاف ہے۔ جسے کسی بھی پاکستانی یا غیر پاکستانی کے سامنے رکھ دیا جائے تو وہ بلا تردید اسے سمجھ بھی لے گا اور سمجھا بھی لے گا، تاہم کچھ سیاست زدہ صحافیوں نے اپنی نامعلوم اغراض پوری کرنے کے لیے، انہیں ساتویں آسمان سے جڑے کسی غیر انسانی قانون یا دور دراز سرزمینوں سے آئے ہوئے کسی افسانے سے جوڑ کر اسے بے وقعت اور ناقابل عمل گردانا ہے، اور انہیں ایسے تخیلات سے تعبیر کیا ہے، جن کا زمینی حقائق سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئین کی ان دفعات پہ پورا اترنے کے لیے نوے فیصد پاکستانی بھی کم پڑتے ہیں۔

ان پاکستانیوں کے لیے تو موجودہ حکمرانوں سے زیادہ بہتر آپشن سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ کیونکہ سبھی جھوٹ بولتے ہیں، سبھی رشوت کھاتے ہیں، سبھی کرپشن میں مبتلا ہیں، سبھی پہ غداری اور ملک فروشی کے الزامات ہیں، بڑے بڑے علماء کو دوسرے فرقے کے لوگ جاہل مانتے ہیں، اس حساب سے نہ تو کسی کا کردار صاف ستھرا ہے اور نہ ہی کسی کی سمجھ داری اور شعور کو ماپنے کے لیے کوئی پیمانہ ہے، جس پہ انہیں تولا یا ناپا جاسکے، خلاصہ ان باتوں کا یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل بھی انہی کے ہاتھ میں رہے گا اور رہنا چاہیے، جنہوں نے ماضی میں پاکستان کو عقب ماندگی اور بدحالی کے سب سے گہرے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے۔

لیکن خاکسار کی رائے میں مسئلہ نوے فیصد پاکستانیوں کے کردار کا نہیں ہے، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جن ملکوں میں کرپشن نہیں ہو رہی، کیا وہاں صحابہ کرام حکومت کر رہے ہیں؟ یا وہاں عوام کی اکثریت تابعین یا تبع تابعین سے تشکیل پاتی ہے۔ مسئلہ فقط عوام کے کردار کا نہیں ہے، جسے اچھال کر سب سے بدترین لوگوں کو آگے لانے کے لیے پوری جدوجہد کی جا رہی ہے۔ اصل مسئلہ شعور کا ہے، عوامی شعور، ملی شعور، قومی شعور ، ہمہ تن شعور، ہمہ جانبہ شعور، جب تک کسی بھی قوم میں شعور نام کی چیز بیدار نہیں ہوتی تب تک وہ کرپٹ، ظالم ، بے رحم، بے شعور اور بے ضمیر حکمرانوں کے ہاتھوں "چھتر" کھاتے رہیں گے اور یہ ان کا حق ہے۔ جب تک وہ نہیں سمجھیں گے کہ اپنی تقدیر کا فیصلہ وہ خود کرسکتے ہیں، تب تک ناکامیوں کے گہرے بادل ان کے سروں پہ منڈلاتے رہیں گے اور مایوسیوں کے بحر ظلمات سے نکلنے کے لیے کوئی سبیل نہیں ہوگی۔

انفرادی سطح پہ اگر ہماری قوم کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بہت سی اقوام سے اگر آگے نہ ہوں تو پیچھے بھی نہیں ہیں، صدقات و زکواۃ سے لے کر نماز و روزہ تک اور صلہ ارحام سے لے کر معاشرتی رواداری تک، ہم کسی بھی دوسری قوم سے پیچھے نہیں ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قومی سطح پہ اپنا وقار بنانے کے لیے، ہم میں یہ شعور ہی اجاگر نہیں ہوا کہ خداوند تبارک و تعالٰی نے ہر قوم کا حکمران چننے کا اختیار خود اس قوم کو دیا ہے، اور اگر وہ برے افراد کا انتخاب کرے تو سب سے بڑا گناہ اور ظلم اس نے خود اپنے آپ پہ کیا ہے۔ مان لیا کہ وہ جھوٹے ہیں، لیکن ان کے جھوٹوں پہ یقین کس نے کیا؟ مان لیا کہ وہ رشوت خور ہیں، لیکن انہیں رشوت خوری کی کرسی پہ کس نے بٹھایا ؟ مان لیا کہ وہ ان پڑھ جاہل، نکمے نکھٹو اور جعلی ڈگریوں والے ہیں تو ایسے لوگوں کو آگے لانے والے کون ہیں؟ انہیں ووٹ دینے والے کون ہیں۔؟

یہ ہم ہی ہیں اور ہم ان جرموں میں ان کے شریک بن جاتے ہیں، اگر ہم مجرمانہ خاموشی سے ان کی یہ ادائیں دیکھتے نہ رہ جاتے اور ان کے احتساب کے لیے ہمہ تن کوشش کرتے تو آج نوبت یہاں نہ پہنچتی۔ آج کسی بھی دوسرے وقت سے زیادہ اس ملک کو باکردار، باصلاحیت، مخلص اور دین دار افراد کی ضرورت ہے، اور کردار کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو چھپی رہ جائے، جب چودہ سو سال پہلے والے بے کردار اور باکردار لوگوں کی شناخت ممکن ہے تو آج اپنے ہی بیچ رہنے والے لوگوں کو کیسے نہیں پہچانا جاسکتا۔؟ فقط دیکھنے کے لیے آنکھیں کھلی ہونی چاہییں، کیونکہ بند آنکھوں سے تو چمکتا سورج بھی اوجھل ہو جاتا ہے۔


یہ وہی الزامات ہیں جو ابوذر پر دھرے گئے اور اسے اسی بلاد حرمین میں ربذہ کی جانب بےدخل کر دیا گیا۔ یہ وہی الزامات ہیں جو یزید نے حسین (ع) پر دھرے، یہ وہی الزامات ہیں جو میثم تمار کو سن کر سولی پر جھولنا پڑا۔ ان الزامات کا تانا بانا اسی شاہی فکر سے جڑا ہوا ہے جو اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کے لیے ہر حربے کا استعمال کرتی ہے۔ مگر تاریخ سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ ابوذر، میثم تمار اور حسین ابن علی (ع) کو مجرم ٹھہرانے والے معدوم ہو گئے اور وہ جو کل ملزم ٹھہرائے گئے تھے آج حق گوئی، استقلال اور حریت کا استعارہ قرار پائے۔
ابوذر زمان شیخ نمر باقر النمر
تحریر: سید اسد عباس تقوی

گذشتہ دنوں بلاد الحرمین کی ایک عدالت نے مسلکی جذبات بر انگیختہ کرنے، دہشت گردوں کی مدد کرنے، خلیجی راہنماؤں اور علماء کی توہین کرنے نیز خدا کے خلاف اعلان جنگ کرنے جیسے الزامات لگا کر قطیف کے ایک راہنما شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ شیخ نمر باقر النمر کون ہیں؟ انہیں کب اور کیوں گرفتار کیا گیا؟ کیا وہ واقعاً مندرجہ بالا جرائم کے مرتکب ہوئے؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ یہ اور اس قسم کے سینکڑوں سوالات اس قضیے کی خبر جاننے کے بعد ذہن انسانی میں ابھرتے ہیں۔

گذشتہ سال کا واقعہ ہے کہ شیخ نمر باقر النمر کو سعودی حکومت نے بلاد الحرمین کے مشرقی شہر قطیف سے زخمی کرنے کے بعد گرفتار کیا۔ شیخ نمر کی گرفتاری کا سبب ان کے وہ جرات مندانہ خطابات قرار دیئے جاتے ہیں جن میں انہوں نے سعودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور سعودی عرب کے مشرقی خطے کے محروم عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے عوام کو میدان عمل میں اترنے کی دعوت دی۔ یہ شیخ نمر باقر النمر کی پہلی گرفتاری نہیں تھی۔ آپ کے والد نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سعودی عقوبت خانوں میں گزارا۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شیخ نمر بھی متعدد بار پابند سلاسل کیے گئے۔

شیخ نمر ایک بلند پایہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جری اور پرجوش خطیب ہیں۔ آپ اکثر خطبات جمعہ میں کہتے تھے کہ میں کلمہ حق ادا کرنے سے نہیں ڈرتا۔ چاہے اس کے لیے مجھے پابند سلاسل کیا جائے، مجھ پر تشدد ہو یا مجھے شہید کر دیا جائے۔ اپنی تقاریر میں انہوں نے اکثر کہا کہ سعودی حکومت کی نظر میں شاہی خاندان کے افراد پہلے درجے کے شہری جبکہ ان سے متمسک افراد دوسرے درجے کے شہری اور مشرقی خطے میں بسنے والے افراد تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ الشرقیہ کے عوام وہ لوگ ہیں جن کی مٹی سے کالا سونا نکال کر تم (سعودی شاہی خاندان) اپنی تجوریاں بھرتے ہو، لیکن اس خطے میں غربت ہے کہ روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وہ کھلے عام سعودی حکمرانوں کو للکار کر کہتے تھے کہ تم نے اس خطے کے عوام کے وقار کو مجروح کیا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قطیف اور سعودیہ کے مشرقی علاقے وہ مقامات ہیں جہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور انہی ذخائر کے طفیل آج سعودیہ کا شاہی خاندان عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

شیخ نمر سعودی حکومت کو بلاد حرمین اور الشرقیہ میں منظم فرقہ وارنہ امتیازی رویے کا مجرم تصور کرتے ہیں اور اس کی پالیسیوں کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ آپ اپنی تقاریر میں اکثر کہتے تھے کہ عدل و انصاف کا قیام جہاد کے بغیر ممکن نہیں اور پامال شدہ حقوق ایثار، قربانی اور شجاعت کے بغیر واگزار نہیں کرائے جاسکتے۔ انہوں نے اپنے خطبات جمعہ میں بارہا کہا کہ الشرقیہ کے عوام اب توہین اور تجاوز کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ وہ کہتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ آخر کار تم مجھے گرفتار کرو گے، کیونکہ تمہاری منطق اور راہ و روش گرفتاری، تشدد اور قتل و غارت ہے لیکن آگاہ رہو کہ ہم تمھاری اس روش سے نہیں ڈرتے، ہمیں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں۔

قارئین کرام! شیخ نمر نے یہ تقاریر دنیا کے کسی جمہوری ملک میں نہیں کیں، نہ ہی شیخ نمر کسی مغربی ملک میں سیاسی پناہ لیے ہوئے تھے۔ نمر باقر النمر نے یہ نعرہ مستانہ ایک مطلق العنان حکومت کے خلاف بارود اور سنگینوں کے سائے میں بلند کیا۔ انھوں نے یہ صدا سعود ی عقوبت خانوں میں اپنی زندگی کے کئی سال بسر کرنے، اذیتیں جھیلنے اور مظالم کا مشاہدہ کرنے کے بعد بلند کی۔ یہ نحیف سا مرد قلندر تن تنہا سعودیہ کے مضبوط شاہی نظام کی فصیلوں سے ٹکڑا گیا۔ اس انتظامی شکنجے میں طائر محصور کی یہ صدائے آزادی اگرچہ کوئی معنی نہ رکھتی تھی پھر بھی نہ جانے کیوں یہ دیوانہ اپنی جان لٹائے بنا نہ ٹلا۔

شیخ نمر کی صدائے رندانہ الشرقیہ کے نوجوانوں کے دلوں میں کچھ یوں گھر کر گئی کہ اب وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے نہیں گھبراتے۔ آٹھ ماہ قبل شیخ نمر کی گرفتاری کے بعد الشرقیہ میں گرفتاریوں اور ریاستی قتال کا نہ تھمنے والا وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے سبب کئی بوڑھے والدین اپنی زندگی کے آخری سہاروں سے محروم ہوگئے، مگر شیخ نمر کا آزادی، استقلال اور عزت کے لیے جلایا ہوا جرات و ہمت کا چراغ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود آج بھی سعودی عرب کے صوبہ الشرقیہ کے ہر گھر میں روشن ہے۔

حکومت جانتی ہے کہ اس شخص کا قتل اور آزادی دونوں شاہی خاندان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج وہ شیخ نمر پر، وہ الزامات دھر رہے ہیں جو ہر دور کا مطلق العنان حکمران اپنی حکومت و اقتدار کے باغیوں پر دھرتا ہے۔ یہ وہی الزامات ہیں جو ابوذر پر دھرے گئے اور اسے اسی بلاد حرمین میں ربذہ کی جانب بےدخل کر دیا گیا۔ یہ وہی الزامات ہیں جو یزید نے حسین (ع) پر دھرے، یہ وہی الزامات ہیں جو میثم تمار کو سن کر سولی پر جھولنا پڑا۔ ان الزامات کا تانا بانا اسی شاہی فکر سے جڑا ہوا ہے جو اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کے لیے ہر حربے کا استعمال کرتی ہے۔ مگر تاریخ سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ ابوذر، میثم تمار اور حسین ابن علی (ع) کو مجرم ٹھہرانے والے معدوم ہو گئے اور وہ جو کل ملزم ٹھہرائے گئے تھے آج حق گوئی، استقلال اور حریت کا استعارہ قرار پائے۔

شیخ نمر باقر النمر کے ساتھ سعودی حکومت جو بھی معاملہ کرے، آج اس کی طاقت اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے لیکن تاریخ کبھی کسی مجرم کو معاف نہیں کرتی۔ اگر تاریخ نے فرعون، ابرہہ، ابوجہل، ابولہب، یزید اور ان جیسوں کو تمام تر شاہی اقتدار اور قوت کے باوصف نہیں بخشا تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج بھی کیا جانے والا ہر ظلم تاریخ کے ابواب کا حصہ بن رہا ہے۔ اگر یزید قریش کے باعزت و عظمت خاندان کا فرد ہونے کے باوجود زمانے سے عزت نہیں پاسکا تو خادم الحرمین کہلوانے والے جان رکھیں کہ ان کے پاس تو ایسی کوئی نسبت بھی نہیں۔

جہاں تک دنیا میں انسانی حقوق کے نعرے بلند کرنے والوں اور سوات کی معصوم بچی کے زخموں پر پیٹنے والوں کا تعلق ہے تو ان سے نہ پہلے توقع تھی اور نہ اب ہے۔ ان سے توقع کی بھی کیسے جا سکتی ہے، اربوں ڈالر کا کاروبار، زرمبادلہ، علاقائی مفادات ایسی شراب ہے جو اچھے اچھوں کو ہوش نہیں آنے دیتی۔ انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے ادارے سال کے آخر میں الشرقیہ، بحرین، یمن فلسطین اور کشمیر پر اپنی مفصل رپورٹیں شائع کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض منصبی انجام دے دیا۔ عالمی حکمرانوں کا احوال کسی سے کب پنہاں ہے، اب تو اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک کھلی حقیقت کو بار بار دہرا کر لوگوں کی سمع خراشی کی جا رہی ہے۔

شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے گذشتہ ایک سال میں مغربی طاقتیں اور عرب حکمران نہ جانے کتنی دفعہ جمع ہوئے۔ عرب ریاستوں اور یورپی دارالحکومتوں میں روزانہ باغیوں کے اجتماعات منعقد کروائے گئے۔ ہر قوت اپنی استطاعت کے مطابق اس کار خیر میں شریک ہوئی۔ فوجی ساز و سامان سے لے کر مذہبی تشاویق تک کونسی ایسی چیز ہے جس کی کسر چھوڑی گئی۔ اب تو یہ بھی سنا ہے کہ مجاہدین کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے ’’جہاد النکاح‘‘ کا فتویٰ جاری کر دیا گیا ہے۔ وہ خواتین جن پر سے اسلام نے جہاد ساقط کیا تھا کو تشویق دلائی جا رہی ہے کہ وہ بھی میدان جنگ میں جا کر مجاہدین کے ساتھ شریک جہاد ہوں۔ سوات کی بیٹی ملالہ کے زخموں پر بان کی مون، اوباما اور دیگر عالمی قائدین کا نوحہ اور آہ و فغاں تو ہمارے سامنے کی بات ہے۔ حیرت ہے تو یہی کہ اتنے نرم دل اور آگاہ انسانوں کو الشرقیہ، بحرین، یمن، فلسطین، کشمیر اور برما کے انسان کیوں نظر نہیں آتے

آہ، پروفیسر سیّد سبطِ جعفر زیدی

تحریر: یوشع ظفر حیاتی

سادہ لباس زیب تن کئے ہوئے، ایک پرانی سی موٹر سائیکل پر سوار پورے شہر میں سر وعدہ پہنچنے والے شخص کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ شخص ایڈووکیٹ، مصنف و شاعر اور سوز خوان و قومی سماجی کارکن ایک کالج کا پروفیسر، کئی مذہبی اور تعلیمی اداروں کا بانی، پاکستان میں فن سوز خوانی اور مرثیہ خوانی کے مؤثر ترین بلکہ واحد ادارے، ادارہ ترویج سوز خوانی کا سربراه اور ان سب باتوں سے بڑھ کر شاعر و مداح اہلبیت (ع) تھا۔ ہزاروں شاگردوں کی مختلف میدانوں میں تربیت کرنے والے سبط جعفر کی شخصیت سادگی میں پر کاری کا مصداق تھی۔ طبیعت کی سادگی نے مزاج کو اتنا شفیق کر دیا تھا کہ ہر ملاقات کرنے والا یہ سمجھتا تھا کہ استاد اسی سے اتنا قریب ہیں۔ بچے بڑے کا فرق ان کی نظر میں کیا تھا بس احترام کرنا تھا ہر انسان کا اور وہ بھی عبادت جان کر۔ ہر وقت خوشگوار مزاج میں دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے مشاق ہر حال میں راضی برضائے الہی نظر آتے۔ ایکسیڈنٹ میں ہاتھ ٹوٹا اور میری ان سے اسپتال میں ملاقات ہوئی اور ہاتھ پر بندھا پلاسٹر دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی تو بولے بس طوطا پال لیا ہے۔ جب آنکھ کا آپریشن ہوا تو پھر ملنے کا اتفاق ہوا، جب عیادت کی تو بولے کچھ نہیں بس چند دنوں آرام کرنا تھا۔ نہ جانے کون سا دل دے کر خدا نے انہیں اس زمین پر بھیجا تھا۔ اتنی سادگی تھی کہ سادگی بھی شرما جائے۔

مولانا سید احمد میان زیدی راہی جہانگیر آبادی مرحوم ابن مولانا سید انوار الحسن زیدی کے گھر سن 1957ء میں آپ کی ولادت ہوئی۔ تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے نمایاں امتیازی حیثیت سے متعدد مضامین میں ایم اے، بی ایڈ، ایل ایل بی اور جامعہ کراچی سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ بزبان عربی بدرجہ امتیاز حاصل کیا۔ ادیب اعظم، مفسر قرآن مولانا ظفر حسن نقوی امروہوی کی سرپرستی اور مولانا پروفیسر سید عنایت حسین جلالوی صاحب کی نگرانی میں مدرسۃ الواعظین جامعہ امامیہ کراچی سے گریجویٹ مبلغ کورس بھی مکمل کیا اور اس کے بعد عملی وکالت اور سول سروس سے دستبرداری کے بعد پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر گورنمنٹ کالج (محکمہ تعلیم / حکومت سندھ) میں ایسوسی ایٹ پروفیسر، مشیر قانون و نگران امورِ طلبہ اور ناظم تقریبات مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ پیشہ وارانہ اور شعبہ جاتی وابستگیاں کچھ اس طرح تھیں۔

مختلف دینی، ادبی، علمی و سماجی و ثقافتی اداروں سے مختلف حیثیتوں میں وابستگی کے علاوہ دورانِ طالب علمی اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں مختلف عہدوں پر منتخب ہوئے۔ (کراچی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا کونسلر، FR چیئرمین پریس اینڈ پبلیکیشنز اور چیئرمین اسپورٹس بورڈ۔ اس دوران اعلٰی سطح پر کرکٹ اور ٹیبل ٹینس بھی کھیلی)۔ انجمن محمدی قدیم (رجسٹرڈ) کے صدر اور انجمن سوز خوانان کراچی کے بھی عہدے دار رہے۔ انجمن محبان اولیاء کے مرکزی خادم، بانی رکن ہونے کے علاوہ کراچی بار ایسوسی ایشن اور سندھ پروفیسرز لیکچررز ایسوسی ایشن کی رکنیت کے علاوہ آرٹس کونسل آف پاکستان (کراچی) کی تاحیات رکنیت حاصل تھی۔ نیز بین الاقوامی ادارہ تزویج سوز خوانی کے بانی ہونے کے علاوہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ کے مرکزی صدر (2005ء تا 2008ء) ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ بطور شاعر و سوز خوان مختلف ممالک کی سیاحت و زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی نامور یونیورسٹیز (بالخصوس ہارورڈ یونیورسٹی) نے بطور ماہر فن خصوصی پذیرائی کی۔

1967ء میں مختلف حیثیتوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستگی رہی۔ خصوصاً کمپیئر، سوز خوان اور مقرر اور مہمان و صدر کی حیثیت سے بھی شرکت کی، جبکہ بطور شاعر و ناظم، نعت خوان ریڈیو ٹی وی سے طویل اور مستقل وابستگی رہی ہے۔ نارویجن ریڈیو / ٹی وی پر بھی بطور ادیب و شاعر و سوز خوان پروگرام کئے۔ نیز مختلف سرکاری اور نجی چینلز کے لئے خصوصی پروگرام تحریر و تیار اور پیش کیے۔ بطور محقق و مصنف 1996ء پاکستان ٹیلی وژن نے صوتی علوم و فنونِ اسلامی پر "لحن عقیدت" کے نام سے دس خصوصی تحقیقی و معلوماتی پروگرام نشر کئے۔ بطور شاعر و سوز خوان تقریباً 50 آڈیو، ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز EMI، شالیمار، رضوی کیسٹس، زیدی پروڈکشن، یاسین اسٹوڈیو، جعفری کسیٹس، پنجتن کیسٹن، AB میوزک سینٹر، باب العلم کیسٹ لائبریری، عترت فاؤنڈیشن، پیام، ترابی کیسٹس لائبریری، شاہ جی اسلامک سی ڈی سینٹر وغیرہ نے جاری کئے۔ ان میں سے خاصا مواد مختلف اداروں نے سی ڈی اور ویب سائٹ / انٹرنیٹ پر بھی جاری کر رکھا ہے اور مزید کام جاری ہے۔

اس کے علاوہ آپ کی تصانیف میں انٹر میڈیٹ اور ڈگری کلاسز کیلئے نصابی، امدادی نصابی کتب 1983ء سے 1988ء کے دوران متعدد بار شائع ہوئیں۔ مطالعہ پاکستان، عمرانیات اور اطلاق عمرانیات وغیرہ نیز منتخبات نظم و نثر، "زادِ راہ"، "نشان راہ" اور صوتی علم و فنونِ اسلامی وغیرہ۔ علاوہ ازیں علمی دینی ادبی سماجی اور فن و ثقافت کے حوالہ سے مختلف مقامی و قومی اور بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہوئے۔ بالخصوص روزنامہ جنگ، اخبار جہاں، عوام، نوائے وقت، قومی اخبار، پبلک، امن حریت، جہانِ چشت، تنظیم، ندائے اسلام، رہنما، نوائے اسلام، توحید، سنگم ٹائمز، عوامی مسائل، اصلاح، سفینہ (ناروے) اور دیگر جبکہ مختلف مجلوں، رسالوں اور خصوصی شماروں کی ادارت اور ترتیب و تدوین و اشاعت کی سعادت بھی حاصل کی۔ بالخصوص منتخب و معیاری کلام پر مشتمل مجموعہ کلام "بستہ" انتخاب بستہ اور گلدستہ وغیرہ شامل ہیں۔

تعلیم و تدریس کے حوالہ سے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، تصنیف و تالیف اور شعر و سخن میں بھی بہت سے شاگرد ہیں، تاہم سوز خوانی کے حوالہ سے براہ راست استفادہ کرنے والے خواتین و حضرات کی تعداد بھی سو سے زائد ہے، جو کراچی و بیرون کراچی اور ملک سے باہر بھی کسی نذرانہ یا کرایہ آمد و رفت کے بغیر یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ (ان افراد کے متعلقین اور بالواسطہ استفادہ کرنے والے بے شمار ہیں)۔ لیکن جب خود ان کے جاہ و حشم کا تذکرہ کروں تو ان خراب حالات میں بھی اپنی روٹین کے مطابق اسی موٹر سائیکل پر اکیلے پورے شہر میں گھومنا کیونکہ خود ہی تو کہتے تھے
موت برحق ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیسا
ہے شہادت کی خبر اپنے لئے خوشخبری

آج دشمنوں نے بلاشبہ ایک بہت بڑے ہدف کا انتخاب کیا، کیونکہ کسی بھی قوم کو اگر تباہ کرنا ہو تو اس کی علمی اور تربیتی بنیادوں کو کمزور کر دو، بس وہ قوم خود بخود تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اسی نظریہ کے پیش نظر ہزاروں جوانوں کے مربی اور مرد مومن استاد سبط جعفر کو ڈگری کالج لیاقت آباد کہ جس کالج میں وہ علم دوست جوانوں کو علم کی دولت سے مالا مال کیا کرتے تھے، علم دشمنوں نے اپنے ہدف کا نشانہ بنایا اور وہ اس حملے میں شہید ہوگئے۔ ورثاء میں ایک بیٹا دو بیٹیاں اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔ آج ببانگ دھل یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مرثیہ نگاری کا قلم ٹوٹ گیا۔ علم کی مسند ویران ہوگئی، بلکہ کیا لکھوں، ایک انسان اس دنیا کی وحشی گری کا شکار ہوگیا۔ مگر یہ دشمن کی بھول ہے کہ وہ سبط جعفر کو شہید کر پایا ہے، کیونکہ سبط جعفر کسی شخص واحد کا نام نہیں بلکہ ہر باشعور انسان، علم دوست جوان اور اردو زبان عزاداران شہہ مظلوم کا نظریہ اور اسکی فکر کا نام ہے۔
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا

تحریر: ایم کے بہلول
خون سے تحریر شدہ لبیک یا رسول اللہؐ دیکھ کر خدا شاہد ہے میرے جذبات بھی بھڑک اٹھے اور میں نے نبی (ص) پر درود بھیجا۔ منتظر کے سامنے میں جذبات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب تو ہوا لیکن گھر لوٹ کے مجھے چین نہیں ملا۔ مجھے بھی منتظر کی طرح دل کھول کر رونا آیا۔ میں اپنے کریم نبی (ص) سے مخاطب ہوا اور التجا کی کہ اے میرے آقا و مولاؐ میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ آپ (ص) کا پاک نام لوں کیونکہ آپ کے ازلی دشمن یہود نے آپ (ص) کی شان میں گستاخی کی اور میں کچھ نہیں کرسکا۔
پاسداران ناموس رسالت (ص) موت سے نہیں ڈرتے
وہ مسلسل روتا رہا، میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن کچھ بتا نہیں پایا، میں نے سوچا کہ اس کے گھر پر جاکے اسے تسلی دوں۔ وہ میرا دوست تھا کہ جس کا نام منتظر تھا، جب میں اس کے گھر پہ گیا اس سے ملاقات ہوئی تو اس وقت اس کی آنکھیں سرخ تھیں، وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گیا اور کمپیوٹر آن کیا، میرے بات شروع کرنے سے قبل اس کے آنسوؤں کے گہر پلکوں کے باڑ توڑ کر گرنے لگے، وجہ پوچھنے سے قبل ہی ہچکیاں لینا شروع کی۔ میں نے کہا میرے عزیز کیا بات ہے خیریت سے تو ہو ؟ اس نے کہا خیریت ہی تو نہیں ہے۔ میرے مزید کچھ پوچھنے سے قبل اس نے کہا کہ میں نے اسی لیے آپ کو کال کی تھی، میں جذبات کے سبب بے قابو ہو رہا تھا لیکن آپ کو کچھ کہہ نہیں سکا، یہ کہہ کر منتظر نے آنسوؤں کو پونچھ لیا ایک سرد آہ کھینچی اور مجھے کہا یہ دیکھو کہ کس وجہ سے میں رونے پر مجبور ہوا۔ میں نے غور کیا تو وہ ایک تصویر تھی غالباً کراچی میں امریکی قونصل خانے پر مجلس وحدت المسلمین اور آئی ایس او پاکستان کے احتجاج کی۔

تصویر پر غور کیا تو اس تصویر میں چند نوجوان تھے اور آئی ایس او پاکستان کا پرچم اسی دیوار پر آویزاںتھا۔ میں نے مسکرا کے کہا ارے اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ اس نے کہا بھائی آپ آنکھیں کھول کے دیکھیں نا! میں نے دوبارہ دقت کی تو کوئی خاص بات سمجھ نہیں آئی جسے دیکھ کے رونے کو دل کرے۔ اس نے مجھے کہا اب سنو اس جوان کو آپ دیکھ رہے ہو جو امریکی قونصلیٹ جانے کے دوسری جانب جہاں آئی ایس او پاکستان کے جوانوں نے اپنا پرچم نصب کیا ہے، اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں، اس نے کہا معلوم ہے آپ کو یہ کیا کر رہا ہے؟ تصویر دھندلی تھی۔ غور کرکے بتایا کہ وال چاکنگ۔ اس نے کہا ہاں وہ زخمی جوان ہے جو امریکی قونصل خانے پر حملہ کرتے ہوئے زخمی ہوا ہے۔ اس کے جسم کے مختلف حصوں سے خون جاری ہے۔ چوٹ، پتھر، فائرنگ ، شیلنگ اور ظالم پولیس کے ڈھنڈوں سے زخمی ضرور ہوا لیکن ہمت نہیں ہاری اور پرچم باطل کو اتار کر نذر آتش کیا۔

یہاں تک بات رونے کی نہیں تھی لیکن جب اس نے اپنے زخمی ہاتھ سے جس سے خون ٹپک رہا ہے۔ امریکی قونصل خانے کی دیوار پر لبیک یارسول اللہ (ص) لکھا۔ یہ منظر مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ میرے نبی (ص) کے عاشقوں کو دیکھ لو۔ علی رضا تقویؒ ناموس رسالت (ص ) کی حفاظت کے لیے جان دے ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو بیٹھے۔ کراچی میں اور کتنے اب بھی زخمی ہیں۔ سلام ہو ان عاشقان رسول (ص) پر جو اپنی جان کی پروا کیے بنا فرعون عصر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے نمک خواروں سے الجھ بیٹھے۔ ان کے نمک خواروں نے نمک حلالی کرتے ہوئے رسول (ص) کے عاشقوں کا خون بہانے اور ان کو قتل کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی۔

خون سے تحریر شدہ  لبیک یا رسول اللہؐ دیکھ کر خدا شاہد ہے میرے جذبات بھی بھڑک اٹھے اور میں نے نبی (ص) پر درود بھیجا۔ منتظر کے سامنے میں جذبات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب تو ہوا لیکن گھر لوٹ کے مجھے چین نہیں ملا۔ مجھے بھی منتظر کی طرح دل کھول کر رونا آیا۔ میں اپنے کریم نبی (ص) سے مخاطب ہوا اور التجا کی کہ اے میرے آقا و مولاؐ ہزار جان آپ پہ قربان ہوں، میں شرمندہ ہوں، میں احساس ندامت میں جل کر خاکستر ہو رہا ہوں۔ اے شفیع روز جزا! میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ آپ (ص) کا پاک نام لوں کیونکہ آپ کے ازلی دشمن یہود نے آپ (ص) کی شان میں گستاخی کی اور میں کچھ نہیں کر سکا اور تو اور میرے معاملات زندگی میں خلل تک نہیں آیا۔

اگر آپ کی گستاخی کے خلاف گریبان چاک کرکے، سر پر مٹی ڈال کے ننگے پاؤں، شہر شہر، گلی گلی دیوانوں کی طرح امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے، لبیک یا رسول اللہؐ کہتے ہوئے، سر پہ مٹی ڈالتے ہوئے، نوحہ خوانی کرتے، سینہ زنی کرتے، چیختے اور روتے پھرتے جہاں بھی امریکہ پلید کے مفادات دیکھتا وہاں دھاوا بول دیتا تو شاید میں اپنے آپ کو عاشق رسول (ص) کی صف میں پاتا لیکن ایسا نہیں ہوا میرے آقا مجھے معاف کرنا تیری ذات رحم و بخشش کا سمندر ہے۔

میرے حضور (ص) کی ذات اقدس پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ آپ کی حیات طیبہ میں بھی کفار تو کفار آسمانی کتاب کے دعویداروں نے بھی کوئی کمی نہیں رکھی۔ محققین نے اس ضمن میں یہ بھی کہا ہے کہ حضور (ص) کی ذات اقدس کو سب سے زیادہ خطرہ یہود سے ہی تھا۔ کفار مکہ تو آپ کے جانی دشمن تھے ہی لیکن یہودیوں کو اپنے شیطانی علم کے علاوہ اپنی کتابوں سے حضور (ص) کے آخری نبی ہونے کی تصدیق ہوئی تھی اور یہ بات مسلم تھی کہ آپ (ص ) کے ظہور کے بعد دیگر تمام ادیان اور کتابیں منسوخ ہونگے جو کہ اہل کتاب کے لیے کسی صورت قابل برداشت نہیں تھی۔

چنانچہ یہود کے بچپن میں ہی آپ (ص) کو شہید کرنے کی کوششوں کے سراغ ملتے ہیں۔ نوجوانی میں پاسدار نبوت حضرت ابوطالب (ع) نے آپ کی جس انداز میں حفاظت کی وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ جب حضرت ابوطالب (ع) آپ (ص) کو اپنے ساتھ شام کی طرف تجارت میں لے گئے تو راستے میں عیسائی عالم دین نے آپ (ص) کے اندر نبی کی صفات پاکر کہا کہ ان کی حفاظت کرنا یہود ان کے جان لینے کے درپے ہیں۔ پاسدار رسالت ابوطالبؑ نے آپ کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب آپ (ص) نے اعلان نبوت کیا تو کفار نے حضرت ابوطالبؑ کے گرد جمع ہوکر سمجھانے کی کوشش کی لیکن حضرت ابوطالبؑ نے اعلان کردیا کہ میں دنیا کہ تمام تر سختیاں جھیلنے کو تیار ہوں لیکن محمد (ص) جو کہ مجھے اپنے جان سے زیادہ عزیز ہے کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔

شعب ابی طالبؑ میں میرے نبیؐ جب محصور ہوئے تو ابوطالبؑ کا خانوادہ تھا جو آپ کی حفاظت پر مامور تھا۔ شعب ابی طالبؑ میں ایک کربلا برپا تھی۔ میرے نظروں سے ایک کتاب گذری تھی جس میں شعب ابی طالبؑ میں میرے نبیؐ اور ابوطالبؑ کے خانوادہ کے ساتھ جو ہوا درج تھا۔ بعض اوقات انہیں درختوں کے پتے بھی کھانے پڑے اور بعض اوقات پانی ناپید ہوگیا تو درختوں کی جڑ چوستے، زمین کھود کر میرے رسول (ص) گیلی مٹی پہ اپنا سینہ رکھتے تاکہ گرمی کی شدت میں کمی محسوس ہو۔ یہ تمام مشکلات جو رسول پاکؐ کے خلاف کھڑی کی گئیں ان کے پیدا کرنے والوں میں یہودی سر فہرست تھے۔

اُس وقت بھی ابوطالبؑ اور ان کے بیٹے حفاظت ناموس رسالتؐ کے لیے جان کو ہتھیلی پہ رکھ کر زندگی گزارتے تھے۔ خواہ وہ ہجرت کی شب ہو، احد ہو یا کہ بدر و حنین اور اِس وقت بھی ابوطالبؑ کے بیٹے حیدر کرارؑ کے نام لیوا موت کی پروا کئے بغیر حرمت رسول (ص) کی خاطر جان کی بازی لگانے کے لیے مستعد و آمادہ ہیں، خواہ کراچی میں امریکی قونصل خانہ پہ حملہ ہو یا لاہور میں امریکی قونصل خانہ کا گھیراؤ۔ حیدر کرارؑ کے ماننے والوں نے ثابت کیا ہے کہ ناموس رسالتؐ کے دفاع کے لئے وہ ہمیشہ میدان عمل میں موجود رہیں گے۔