نگاہ ِ دہر ہے پھر ابن بوترابؑ کی سمت
 ممکن ہے جوش ملیح آبادی کے اس مصرع میں یہ معنی بھی چھپے ہوں :'' ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع) ''
    حال ہی میں مسلمانوں کی ایسی ریاستوں اور ملکوں میں بھی امام مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کی ذات و حیات پر کتابیں لکھی گئیں اور چھپی ہیں جہاں اس کاتصور بھی محال تھا ۔ کم از کم جزیرہ نمائے عرب میں سعودی انقلاب اور پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے اتباع سعودیت کے بعد سے ابتک۔
     میں یہاں ایسی دو کتابوں کا ذکر کرنا چاہوں گا ایک عربی میں ہے ایک اردو میں
    ۲۰۰۵ میں عمرہ اور زیارت مدینہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ مدینہ سے ہوکے جب مکے پہنچے تو آل رضا صاحب جو حجتہ الاسلام پروفیسر سید ظل صادق زیدی الحسینی صاحب مدظلہ العالی( وکیل آیہ اللہ السید صادق الحسینی شیرازی دام ظلہ) کے عزیز ہیں ،نے اپنی ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں ۔میں نے پوچھا کون ڈاکٹر صاحب ؟ (اس لئے کہ لفظ ڈاکٹر علامہ کی طرح مطلق نہیں کہ تبادر صرف علامہ حلی علیہ ا لرحمہ ہی کی طرف ہو۔ یا ملّا کی طرح کہ صرف محمد باقر مجلسی علیہ ا لرحمہ ہی یاد آئیں۔)۔
    کہنے لگے ۔ڈاکٹر کلب صادق ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جدہ سے جس ٹیکسی میں آئے ہیں اس کے ڈرائیور نے ذکر کیا کہ'' ایک کتاب یہاں چھپی ہے یہیں کے کسی عالم نے لکھی ہے۔ امام مہدی ( عج) پر اور ہم سعودیوں کو اب پتہ چلا کہ امام مہدی (ع) بھی کوئی ہستی ہیں۔''(یہ بیان آل رضا صاحب نے نقل کیا کلب صادق صاحب سے میری ملاقات نہیں ہوئی کہ بیان کی لفظ بلفظ تصدیق بھی ہوجاتی۔ورنہ خیر آل رضا معتمد ہیں)۔
    میں نے کہا کہ میں نے وہ کتاب مدینے سے خرید لی ہے اگر انھیں نہیں ملی تو مجھے بتا دیں ۔ پتہ نہیں انھیں خبر ہوئی یا نہیں مگر میں نے دوران سفر ہی میں خاصہ حصہ پڑھ بھی ڈالا۔
    پہلے کتاب کا تعارف پھر کچھ بات۔
کتاب:''المہدی (ع) ''۔مصنف : ڈاکٹر محمد احمد اسماعیل المقدم ۔طبع : ریاض ، اسکندریہ ۔صفحات : ۶۵۴
اب آئیے اس کتاب کے مطالب پر۔ اس کی طبع ثانیہ کے مقدمہ کی سرخی یہ ہے:
المھدی (ع) حقیقۃ لا خرافۃ
    مصنف نے (امام) مہدی (علیہ السلام ) کے بارے میں دو طبقات قراردئے ہیں۔ خاصہ و عامہ
    '' اما الخاصۃ فقد خرج کثیر منھم من الاعتدال فی ھذہ المسالۃ، فبالغ طائفۃ فی الانکار،حتی ردّو جملۃ من الاحادیث الصحیحہ ، وقابلھم آخرون فبالغو فی الاثبات، حتی قبلو الموضوعات، والحکایات ا لمکذوبۃ؛ و اما العامۃ فصارو فی حیرۃ و تذبذب، مابین مصدّق ومکذّب''
    خاصہ کا عالم یہ ہے کہ اس باب میں ، ان میں کے اکثر راہ اعتدال سے ہٹ گئے ہیں۔ایک گروہ نے انکار کیا ہے یہانتک کہ تمام احادیث صحیح کو بھی رد کردیا۔دوسرے گروہ نے قبول کیا تو وضعی اور جھوٹے قصے بھی لے لئے۔رہے عامہ تو حیرت و تذبذب میں ہیں ،نہ تصدیق کرسکتے ہیں نہ تکذیب۔
    آگے چل کر اسی مقدمے میں '' اخبار الرسل (ع) بالمستقبل'' کے ذیل میںکہتے ہیں کہ''جب رسول (ص) کسی شئے کی خبر دے تو اس کے وقوع میں شک کی مجال نہیں''
    تیسری بات اسی تسلسل میں ہمارے ہی موقف کی مکمل نہ سہی مگر تائید کرتی ہے۔
'' ان المھدیَّ المبشر بہ لا یدعی نبوَّۃ ، بل ھو من اتباع النبی ۔صلّٰ اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔، وماھو الّا خلیفۃ راشد مھدی، من جملۃ الخلفاء الذین قال فیھم رسول اللّٰہ صلّٰ اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔:(( فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین))۔۔۔الحدیث (رواہ مسلم فی صحیحہ) وھو عند اھل السنۃ والجماعۃ بشر من البشر، لیس نبی ولا معصوم،وما ھو الّا رجل من اھلبیت رسول اللّٰہ۔صلّی اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔،و حاکم عادل یملأ الارض عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً ''
    ترجمہ ۔
     وہ مہدی (عج)جن کی بشارت دی گئی ہے مدعی نبوت نہ ہوں گے بلکہ پیرو پیغمبر اکرم (ص) ہوں گے ، وہ نہ ہوں گے مگر خلیفہ راشد ہدایت کرنے والے، ان خلفاء میں سے ایک جن کے بارے میں آنحضرت (ص) کا فرمان ہے کہ'' تم پر میری اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے''۔وہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک نوع بشر سے ایک بشر ہوں گے، نہ تو نبی نہ معصوم،وہ نہ ہوں گے مگر اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک فرداور حاکم عادل، زمین کو عدل سے ایسے بھر دیں گے جیسے جور سے بھری ہوئی ہوگی۔ ایسے وقت میں ظاہر ہوں گے کہ امت ان سے زیادہ کسی کی محتاج نہ ہوگی۔
    کتاب کے باب اول کی؛فصل اول ان احادیث کے بیان میں ہے جو امام مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کی شان اقدس میں وارد ہوئی ہیں۔
    ولی العالمین عجل اللہ فرجہ شریف کا اہلبیت (ع) میں ہونا :
    عن علی( علیہ السلام )۔رضی اللہ عنہ : قال رسول اللّٰہ صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ۔: ((المھدی منّا اھل البیت ،۔۔۔))
     آپ کا فرزند زہرا علیہا السلام ہونا :
    عن ام سلمۃ ۔ رضی اللہ عنھا ۔ قالت : سمعت رسول اللّٰہ صلّیٰ اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ۔ یقول : (( المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ ( علیہا السلام )۔ ))
    فصل ثانی میں ان رواۃ و محدثین کا ذکر ہے جنھوں نے ان احادیث کو روایت یا نقل یا استخراج کیا ہے۔
    (یہ فہرست کم و بیش وہی ہے جسے آقائے میلانی دام ظلہ نے اپنے ایک مقالے میں بھی مرتب کیا ہے۔)
    فصل ثالث کا عنوان ہے ۔'' نصوص اھل العلم فی اثبات حقیقۃ المھدی (عج) ''
    ولی عصر عجل اللہ فرجہ شریف کا ''قائم ''ہونا:
    وقال الحسن ابن علی بن خلف ابو محمد البربھاری شیخ الحنابلۃ فی وقتہ (ت۳۲۹ھ) فی کتابہ '' شرح السنۃ'' ؛ (( والایمان بنزول عیسی ابن مریم ۔علیہ السلام، ینزل فیقتل الدجال ، و یتزوج، ویصلی خلف القائم من آل محمد۔صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔ ))
منیّت پر فائز اور رجل ہونا
    عن ابی سعید الخدری ( ر ض ) : قال رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم : المھدیُ منّی ،اجلی الجبھۃ ، اقنی الانف ،۔۔۔۔ (یہ فصل اول سے نقل کیا گیا ہے)
    وفی ترجمۃ زیاد ابن بیان الرقی :
    '' وفی المھدی ( ع) احادیث صالحۃ الاسا نید : ان النبی۔ صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔ قال : یخرج منی رجل۔۔۔''
منتظَرہونا
     اسی فصل سے ایک عبارت اور دیکھئے۔
    جو نقل بیان ہے ، اس عہد کی ایک ایسی فرد کا جو بلا شک و شبہ لسان الوھابیین تھا۔ یعنی عبد العزیز بن باز ۔
    انہ قال: '' اما انکار المھدی المنتظَر بالکلیۃ ، کما زعم ذالک بعض المتأخرین ،فھو قول باطل ؛لان احادیث خروجہ فی آخر الزمان ، وانہ یملاء الارض عدلاً و قسطاً، کما ملئت جورا ،قد تواترت تواترا ً معنویاً ، وکثــرت جد اً ،۔۔۔ ''
    مطالب کتاب کوہی نقل کرنا مقصود ہو تو دوسری کتاب تیار ہوجائے اس مختصر سے مضمون کا مقصد حضرت ولی عصر ، مھدی المنتظر عجل اللہ فرجہ شریف کی ولادت باسعادت کے موقع پر اہل دانش و بینش کے ذریعے خاص و عام کی توجہ صرف اس سمت مبذول کروانا ہے۔ کہ اگر وصایت پیغمبر (ص) اور جانشینی رسول (ص) کے لئے کوئی معیار غدیر کے بعد بھی طے نہ ہو پایا تھا تو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے لئے بیان کی گئی احادیث رسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کافی ہیں اس بات کے تعین میں کہ قیادت امت ، امارت مومنین اور امام الناس ہونے کے لئے ۔ ابن زہرا سلام اللہ علیہاہونا ، اہلبیت(ع) میں سے ہونا ،منیت رسول (ص) پر فائز ہونا ، رجل ہونا، عترت میں کا فرد ہونا امر لازم ہے۔ اگر آخری نائب اور خلیفہ راشد اور وصی الرسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ان شرائط کے بغیر ممکن نہیں ہے تو پہلا کیسے ممکن ہو گا۔
    اور حدیث ِ ''علیکم بسنتی وسنۃ الخلافاء الراشدین المھدیین من بعدی'' (کتاب مذکور۔ ص۸۲ )کا اطلاق اگر بارہ (۱۲) کی تعدادپر ہوتا ہے جیسا کہ کتاب مذکور ص ۱۷۸ ''یکون اثناء عشر خلیفۃً کلھم من قریش'' تو یہ بارہ یا تو ایک جیسے ہونگے یا ایک دوسرے سے مختلف ہونگے اگر ایک دوسرے سے متفاوت ہیں تو تضاد عمل وفکر کے نتیجے میں کون عوام پر حجت ہو گا، کون نہیں ۔؟ اور اگر ایک ہیں یعنی ایک جیسے ہیں تو پھر جو گزر گئے انہیں بھی مہدی(ع) جیسا ہی ہونا چاہئے۔ جبکہ امت کی مانی ہوئی بارہ کی فہرست کے مطابق ایسا نہیں تھا۔
    اس کتاب کا دوسرا باب بھی ایک دلچسپ عنوان لئے ہوئے ہے۔
    اس میں دو شبھات رفع کئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک ہی رائے سے نمودار ہوئے ہیں۔
    وہ رائے یہ ہے:
    ''قرآن میں مہدی (عج)کے لئے کوئی اشارہ نہیں وارد ہوا اور اسمیں قرآن کے علاوہ کچھ حجۃ نہیں''
    مزے کی بات یہ ہے کہ مصنف نے یہ رائے رکھنے والے گروہ کو '' قرآنین '' کے نام سے یاد کیا ہے اور اسے ''الفرقہ الضالۃ'' گرداناہے۔ اور اس رائے کے دوسرے حصہ پر خاصی لے دے کی ہے۔
    ان دو لفظوں کے نقل کرنے کے بعد اس دعوے کی رد میں مصنف کے تفصیلی جواب کے نقل کی چنداں حاجت نہیں رہ جاتی۔
     اس پر ہم کسی اور مضمون میں انشاء اللہ بات کریں گے۔ مگر یہ نقل کردیں کہ
    مصنف نے قرآن میں ذکر مھدی عجل اللہ فرجہ شریف کی بابت دو آیات کا بیان کیا ہے۔
    ۱۔ ( لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الآخرۃ عذاب عظیم) البقرہ/۱۱۴
    ''اما خزی لھم فی الدنیا ۔قیام المھدی (عج)''
    ۲۔وقال الشیخ سید الشبلنجی فی ((نور البصار)) قال مقاتل بن سلیمان ،و من تابعہ من المفسرین ، فی تفسیر قولہ ۔تعالیٰ۔ ( وانہ لعلم للساعۃ ) [الزخرف ۔۔۶۱] ، ((قال ھو المھدی (ع )یکون فی آخر الزمان ،و بعد خروجہ تکون امارات الساعۃ وقیامھا )) ۔
ترجمہ۔
    دوسری کتاب جس کا بیان یہاں ضروری ہے وہ پاکستان میں سواد اعظم کے ایک بڑے دارے جامعہ اشرفیہ سے شائع ہوئی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے استاد الحدیث محمد یوسف خان صاحب کے افادات ہیں جسے حافظ محمد ظفر اقبال نے ترتیب دیا ہے۔
    کتاب ۔''اسلام میں مہدی ( عجل اللہ فرجہ شریف)رضی اللہ عنہ کا تصور''
صفحات۔ ۳۰۲ ، طبع ۔لاہور
اب ہم اس کے بعض مطالب نقل کرتے ہیں۔
یوسف زہرا( علیہاالسلام ) کاسراپا
    ''کھلی ہوئی گندمی رنگت،درازی مائل قد موزوں، کشادہ و روشن پیشانی،بلند بینی،،جدا گانہ کشیدہ ابرو جیسے کھنچی ہوئی کمانیں، بری بڑی خوبصورت سرمگیں آنکھیں، کشادگی مائل سامنے کے دنداں جیسے چمکتے ہوئے تارے،دائیں عارض پر سیاہ تل ،چہرہ ایسا روشن گویا کوکب دری، گھنی ریش ،شانہ پر مہر نبوت (ص) کی طرح علامت،تہہ دار زانو، رنگت عربی ، بدن اسرائیلی ،۔۔۔، سن مبارک ۴۰، ایک روایت کے مطابق ۳۰ اور ۴۰ کے درمیان،وقت عبادت خشوع الٰہی سے کندھوںکو جھکاتے ہوں گے،دوش پر دو سوتی عبائیں ہوں گی ،پیغمبر اکرم ؐسے خُلق میں مشابہ ہوںگے خَلق۔ میں نہیں۔''
    کتاب مذکور ۔ص ۸۳۔بحوالہ۔( الاشاعۃ۔ ص۱۹۵،۱۹۴۔۔سید محمد بن رسول برزنجی)
    ''گھنی ریش ،بڑی بڑی خوبصورت سرمگیں آنکھیں، سامنے کے دنداں جیسے چمکتے ہوئے تارے، رخ پر خال سیاہ ،بلند بینی،شانہ پر مہر نبوت (ص) کی طرح علامت،خروج کے وقت ان کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چوکور سیاہ ریشمی روئیں دار جھنڈا ہوگا جس میں( ایسی روحانی )بندش ہوگی جس کی وجہ سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے لے کر ظہور مہدی(عج) تک کبھی نہیں پھیلا یا جاسکا ہو گا، اللہ تعالیٰ ۳۰۰۰ فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے،جو انکے مخالفین کے چہروں اور کولہوں پر مارتے ہونگے، ظہور کے وقت ان کی عمر ۳۰ سے ۴۰ کے درمیان ہوگی۔''
کتاب مذکور ۔ص۸۵۔ بحوالہ۔(کتاب الفتن۔ص۲۵۹۔۔شیخ نعیم ابن حماد)
     اگر چہ روایات معصومین علیہم السلام کی بنا پر منقولہ پیرائے کے بعض مطالب سے ہمیں اختلاف ہے ۔ لیکن پھر بھی بنیادی مقصود سے افادے کے لئے یہ ایک خاصا اہم بیان ہے۔
علامات ظہور
    ۱۔الاشاعۃ (برزنجی)، الفتن( حماد) اور آثارالقیامۃ فی حجج الکرامۃ(نواب صدیق حسن خان ) کے حوالے سے کم وبیش ایک ہی عبارت نقل کرتے ہیں۔
    '' ان کے (مھدی ۔عج) کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص مبارک، تلوار اور سیاہ رنگ کا ریشمی روئیں دار جھنڈا ہو گا۔اوروہ جھنڈا کسی روحانی بندش کی وجہ سے حضور کی وفات سے لیکر ظہور مہدی (ع) سے قبل نہیں پھیلایا جاسکے گا، اور اس جھنڈے پر یہ الفاظ لکھے ہوںگے ''البیعۃ للہ''۔
    ۲۔امام مہدی (عج) کی تصدیق اور تائید کے لئے ان کے سر پر ایک بادل سایہ فگن ہوگا جس میں سے ایک منادی کی یہ آواز آرہی ہوگی:
        ''ھذا المھدی خلیفۃ اللّٰہ فاتبعوہ ''
        یہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں لہذان کا اتباع کرو۔
    اور اس بادل میں سے ایک ہاتھ نکلے گا جو امام مہدی (عج )کی طرف اشارہ کرے گا کہ یہی مہدی ہیں ان کی بیعت کرو۔ (الاشاعۃ ۔ص ۱۹۸)۔
روح قیام
    بعد قیام و ظہور جن اوامر کا نفاذ آپ (ع) فرمائیں گے وہی تو آپ کے قیام کی روح ہے ظلم وجور کے خاتمہ کا تعین اور قسط وعدل کی بحالی کی پہچان بھی انہیں قوانین پر منحصرہو گی جن کو آپ (ع) نافذ کریں گے۔ اسی ذیل میں کتاب مذکور میں نقل کیا گیا سید برزنجی کا یہ بیان بھی دیکھئے۔
    ہم اس بیان کو خط کشیدہ نقل کریں گے درمیان کے جملے ہمارے ہیں۔
     امام مہدی (عج) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کریں گے،
    گویا قانون مہدی (ع) سنت رسول (ص) کا واضح تعین کرے گا، تو آج بھی یہ پیمانہ ہاتھ سے گیا تو نہیں۔
    کسی سوئے ہوئے شخص کی نیند خراب کرکے اسے جگائیں گے نہیں ، ناحق خون نہیں بہائیں گے۔، ہاں البتہ سنت کے خلاف کام کرنے والے سے جہاد کریں گے۔تمام سنتوں کو زندہ کردیں گے اور ہر قسم کی بدعت کو ختم کئے بغیر چین نہ لیں گے،آخر زمانے میں ہونے کے باوجود دین پر اسی طرح قائم ہونگے جیسے حضور قائم تھے۔
    جب اول بھی قائم ہے اور آخر بھی قائم تو درمیان میں گیارہ ہادیوں کی فہرست کا تعین انکے قائم ہونے کی خصوصیت سے کیا جاسکتا ہے۔
    ذوالقرنین سکندر اور حضرت سلیمان (ع) کی طرح پوری دنیا کے فرمانروا ہوں گے۔
    یعنی نیابت رسول(ص)میں سارے عالم کی فرمانروائی ہے تو پھر اگر سقیفہ کو نیابت حاصل تھی تو ان کی فرمانروائی مکہ اور مدینے ہی میں کیوں رہی۔ ؟
    صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے۔(عیسائیت کو مٹادیں گے ) زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔لوگوں کو بے حسب لپ بھر بھر کر مال دیں گے۔
     اس کا مطلب ہے کسی سخی اور کریم کا لہو رگوں میں گردش کررہا ہوگا۔ہاں تو ''ھل اتی ٰ '' کا تسلسل ختم کیسے ہوسکتا ہے۔
    مسلمانوں میں الفت ، پیار و محبت اور نعمتوں کو لوٹا دیں گے اور تقسیم بالکل ٹھیک ٹھیک کریں گے ۔
    کیوں نہ ہو قسیم النار والجنۃ کے لال جو ٹھہرے۔
    آسمان میں رہنے والے ملائکہ بھی ان سے راضی ہوں گے اور زمین پر بسنے والے جاندار بھی ان سے خوش ہوں گے۔پرندے فضاؤ ں میں، وحشی جانور جنگلات میں اور مچھلیاں سمندروں میں ان سے خوش ہوں گی۔
    تو اگر بارہ میں کا آخری امام کائنات ہے تو باقی گیارہ بھی امام کائنات ہی ہونے چاہئے۔
    امت محمدیہ کے دلوں کو غنا سے بھر دیں گے حتی کہ ایک منادی آواز دے گا کہ جس کو مال کی ضرورت ہو وہ آکر لے جائے تو اس کے پاس صرف ایک آدمی آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے،منادی اس سے کہے گا کہ تم خزانچی کے پاس جاکر کہو کے مہدی (ع) نے مجھے مال دینے کا حکم دیا ہے چناچہ وہ شخص خزانچی کے پاس جاکر اسے پیغام پہنچا دے گا تو وہ کہے گا کہ تم حسب منشاء جتنا چاہو لے لو،وہ شخص اپنی گود میں بھر بھر کر مال جمع کرنا شروع کردے گاکہ اچانک اسے شرم سی محسوس ہوگی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ تو امت محمدیہ (ص) کاسب سے زیادہ لالچی انسان ہے، یہ سوچ کر وہ شخص اس مال کو واپس کرنا چاہئے گا تو اس سے وہ مال واپس نہیں لیا جائے گااور اس سے یہ کہا جائے گا کہ ہم لوگ کچھ دے کر واپس لینے والوں میں سے نہیں ہیں۔
    کاش یہ آواز امت نے گیارہ آئمہعلیہم السلام کے زمانے بھی سن لی ہوتی۔
    ان کے زمانے میں تمام لوگ ایسی نعمتوں میں ہوں گے کہ اس سے پہلے اس کی مثال لوگوں نے سنی تک نہ ہوگی۔
    ہاں وہی اکملت لکم نعمتی کا وارث اور انعمت علیہم کا آخری مصداق ہو گا۔تو مصداق اوّل سے روگردانی کیا معنی رکھتی ہے۔؟
    بارشیں اس کثرت سے ہوںگی کہ آسمان اپنا کوئی قطرہ پس اندوختہ نہیں چھوڑے گا، اور زمین اتنی پیداوراگائے گی کہ ایک بیج بھی ذخیرہ نہیں کرے گی۔ ان کے زمانے میں جنگیں ہونگیں وہ زمین کے نیچے سے اس کے خزانوں کو نکال لےںگے۔
    کیا ابوتراب(ع) کے بیٹے کے علاوہ بھی زمین کسی کو اپنے خزانے دے سکتی ہے۔؟
    اور شہروں کے شہر فتح کرلیں گے۔
    واہ رے فاتح بدر وحنین (ع) کے پسر ،لاریب آپ ہی اپنے اجداد کی قولی وفعلی تصدیق کریں گے۔
    ہندوستان کے بادشاہ انکے سامنے پابند سلاسل پیش کئے جائیں گے اور ہندوستان کے خزانوں کو بیت المقدس کی آرائش اور تزئین کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ لوگ ان کے پاس اس طرح آئیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ اور سردار کے پاس آتی ہیں۔
یعسوب(ع) المومنین کے پوتے کو سلام
    حتی کہ لوگ اپنی سابقہ نیک حالت پر واپس آجائیں گے۔اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے۔ جو انکے مخالفین کے چہروں اور کولہوں پہ مارتے ہونگے۔
    ''تنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر'' کی ظاہری تفسیر ہوگی تو باطنی تفسیر بھی ڈھونڈو کہ نزول آیت سے اب تک فرشتے کس کے پاس آتے رہے۔؟
    ان کے لشکر کے سب سے آگے جبرئیل علیہ السلام اور حفاظت کی خاطر سب سے پیچھے میکائیل علیہ السلام ہوںگے۔ان کے زمانے میں بھیڑیئے اور بکریاںایک جگہ چریں گے۔ بچے سانپ اور بچھؤوں سے کھیلیں گے اور وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔
حافظ اگر ہو عدل جناب امیر (ع) کا
شعلہ پہن لے جسم پہ کرتا حریر کا
(میر انیسؔ)
     انسان ایک مُد( خاص مقدار) بوئے گا ور اس سے سات سو( مد) کی پیداوار ہوگی۔سود خوری ،وباؤں کا نزول،زنا اور شراب نوشی ختم ہوجائے گی۔ لوگوں کی عمریں لمبی ہونگی۔ امانتوں کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے گا، شریر اور بدکار لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ حضور (ص) کی اولاد و اہلبیت (ع) سے بغض رکھنے والا کوئی نہ رہے گا ۔
    گویا روح قیام خاتمہ ئ بغض ِ اہلبیت (ع) ہے تو اسی معیار پر آج بھی امت میں حق وباطل کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
    نیز انبیاء کرام علیہم السلام کے اسفار میں لکھا ہے کہ امام مہدی (عج) کے فیصلوں میں ظلم و نانصافی کا شائبہ تک نہیں ہو گا۔
     اگرآخری جانشین رسول (ص) کا ذکر اسفار انبیاء علیہم السلام میں ہے تو پہلے جانشین کا بھی ذکر ہو گا ۔وہیں سے دیکھ کر آج فیصلہ کر لیا جائے اور اگر انبیا علیہم السلام کے اسفار میں ذکر ہے تو قرآن اس پر کیوں چپ رہے گا۔
    سادہ سا مضمون کہیں مقالہ نہ بن جائے اس لئے ہم انہیں مطالب پر اکتفا کرتے ہوئے اس سلسلے کی آخری بات نقل کرتے ہیں۔ ہمارے قارئین نے جان لیا ہوگا کہ ہمارا یہ مضمون ظہور مہدی (عجل اللہ فرجہ شریف)کے تناظر میں کون سے پس منظر سے پردہ ہٹاتا ہے۔
    اس کتاب کے صفحہ ۵۱ کی سرخی ہے کہ:
امام مہدی افضل ہیں کہ شیخین ؟
    اس مبحث میں مؤلف نے ((کتاب الفتن۔۔( ص۲۵۰ )، اور الحاوی للفتاوی ۔ سیوطی ۔۔(ج ۲۔۔ص۹۲ ) سے ضمرہ اور ابن ابی شیبہ ، انھوں نے ابن سیرین سے ، القول المختصر فی علامات مھدی المنتظر۔۔ابن حجر مکی۔(ص۷۱) سے اور الاشاعۃ ۔۔برزنجی (ص۲۳۸) نے المشرب الوردی فی مذہب المہدی ۔۔ملاعلی قاری ))
سے جو قول نقل کئے ہیں ہم انہیںیکجا تحریر کرتے ہیں۔
    ''عن ابن سیرین قیل لہ المھدی خیر او ابو بکروعمر ؟ قال ھو اخیر منھما ویعدل بنبی۔''
    '' لوگوں نے پوچھا کیا ابوبکر وہ عمر سے افضل بھی کوئی شخص ہوگا؟ فرمایا کہ وہ تو بعض انبیا ء پر فضیلت رکھتا ہوگا۔ ۔ بسند ضمرہ ''
    ''یکون فی ھذہ الامۃ خلیفۃ لایفضل علیہ ابوبکر ولا عمر۔الحاوی ۔ج۲۔ص۹۳''
    ''امام مہدی (عج) کی افضلیت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خلیفتہ اللّٰہ فرمایا ہے اور حضرت ابوبکر کو زیادہ سے زیادہ خلیفہ رسول (ص) کہا جاتا ہے''
    جو خلف سے افضل نہ ہو وہ اسی کے سلف سے کیسے افضل ہوسکتا ہے۔
    یہ سب لکھ کر بھی اگر آخر میں یہ لکھ دیا جائے کہ یہ مہدی (ع) ہمارا والا ہے روافض یا شیعوں والا نہیں تو چلئے آپ ہی کو مبارک ۔ آنے تو دیجئے۔
    بہر الحال مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کسی کے بھی ہوں ایسی کتابیں یقینا ً امت کے فکری جمود میں ایک تحرک کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔