بچوں کو امن دو

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا مستقبل روشن ہو، ہم ایک پرامن دنیا میں زندگی بسر کریں تو ان خوارج کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ انکے حمایتی چاہے مشرق میں ہوں یا مغرب میں، انکا محاسبہ کرنا ہوگا، شام اور عراق میں ان قوتوں کیخلاف برسرپیکار لوگ دراصل انسانیت کے خادم ہیں۔ انہوں نے ان وحشیوں کے بڑھتے قدم اپنا خون دیکر روکے ہیں۔ وہ قوتیں جنہوں نے ان داعشیوں کو مشرق وسطٰی میں فرقہ واریت اور عدم استحکام پھیلانے کیلئے تیار کیا، وہ انسانیت کی مجرم ہیں۔ ہمیں بیدار رہنا ہوگا کیونکہ داعشیوں کی ایک بڑی تعداد کو وطن عزیز کے بارڈر پر جمع کیا جا چکا ہے، افغانستان میں پچھلے چند ہفتوں میں جسطرح سے مظلوم ہزارہ کمیونٹی پر منظم حملے ہوئے، یہ اس بات کے غماز ہیں کہ یہ لوگ کافی منظم ہوچکے ہیں۔ انکو فکری طور پر دلیل سے اور عملی طور پر طاقت سے روکنا ہوگا، تبھی ہمارے خطے اور دنیا میں امن قائم ہوسکے گا۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

بچے گھر کی رونق اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ گھر، گلی، محلے، شہر اور ملک انہی سے آباد ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں بچوں کے حوالے سے ایک خاص حساسیت پائی جاتی ہے۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کی تصاویر سامنے آتے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگتی ہیں، قاتل سے نفرت جنم لینے لگتی ہے۔ مگر کیا کیا جائے؟ یہاں ماؤں کی گودیں اجڑنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ کہیں لسانیت کے نام پر اور کہیں مذہب کے نعرے پر بچوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ مختلف ذرائع سے کراچی میں  انسانیت دشمنوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے علی اصغر کی تصویر بار بار آ رہی ہے۔ میں ایسی تصاویر کو دیکھ بھی نہیں سکتا ہوں۔ ایک معصوم بچہ جو  اپنے باپ کی آغوش میں گھر سے نکلا تھا،وہ نا صرف اس پرامن آغوش سے محروم کر دیا گیا بلکہ اسے اتنی گولیاں ماری گئیں کہ کئی دنوں سے ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں ہے۔ اس کا نام ہی علی اصغر ہے، جو عزم، قربانی اور معصومیت کا استعارہ ہے۔

 

سیرتِ نبی اکرمﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو آپؐ بچوں سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ اپنے نواسون کے لئے سواری بن جانا، انہیں گرتا دیکھ کر خطبہ دینا چھوڑ دینا، دوران نماز پشت پر سوار ہو جائیں تو سجدے کو طویل کر دینا، یہ سب اتفاقی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے نبی ﷺ بچوں سے محبت کا درس دے رہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب لوگ اسلام کے نام پر بچوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے تو جنگ میں اور کفار کے بچوں کو قتل کرنے منع کیا ہے، یہ جانے کیسے مسلمانوں کا قتل عام کر لیتے ہیں۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں جب آپؐ لشکر کو جنگ کے لئے روانہ فرماتے تھے تو یہ ہدایات دیا کرتے تھے:"کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کو نہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا، کسی جانور کا مُثلہ نہ کرنا، بدعہدی نہ کرنا اور چوری و خیانت نہ کرنا۔" حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اسلامی لشکروں کو جہاد پر روانہ کرتے تو انہیں واضح طور پر یہ ہدایات فرمایا کرتے تھے:"ﷲ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، تم ﷲ کی راہ میں اس کے ساتھ کفر کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے جا رہے ہو، اس دوران بدعہدی نہ کرنا، چوری و خیانت نہ کرنا، مُثلہ نہ کرنا، بچوں کو قتل نہ کرنا اور راہبوں کو قتل نہ کرنا۔"

 

یہ ہدایات کتنی واضح اور مکمل ہیں، تمام محروم اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے اور جب کسی جگہ پر جنگ میں بچے قتل ہوگئے تو آپؐ کا ردعمل کیا تھا، ایک صحابی بیان کرتے ہیں:"ہم ایک غزوہ مں شریک تھے (ہم لڑتے رہے یہاں تک) کہ ہمں غلبہ حاصل ہوگیا اور ہم نے مشرکوں سے قتال کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے بعض بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جن کے قتل کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے بچوں تک کو قتل کر ڈالا؟ خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو، خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ! کیوں، کیا وہ مشرکوں کے بچے نہں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکوں کے بچے نہیں تھے؟" میں نے اس حدیث مبارکہ کو بار بار پڑھا اور اس میں اللہ کے نبی کی اس تڑپ کو محسوس کیا، جس کا اظہار آپؐ بچوں کے قتل پر فرما رہے تھے۔

 

بچوں کا قتل خارجی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ سوچ ہی ایسی ہے، اس میں نہ اتباع سنت ہے اور نہ آپؐ کی تعلیمات کی کوئی اہمیت ہے، اپنی پسند کا نام دین رکھ لیا گیا ہے۔ حضرت علیؑ کے زمانے میں خوارج نے ایک صحابی رسولﷺ  کو ان کی بیوی اور غیر مسلم غلام کے ساتھ روکا اور کہا حضرت علیؑ سے اظہار برات کرو، ان صحابی رسولﷺ نے اس سے انکار کر دیا تو انہوں نے انہیں شہید کر دیا، اس کے بعد ان کی بیوی سے یہی مطالبہ کیا، جب انہوں نے بھی انکار کیا تو ان کو ایسی حالت میں شہید کیا کہ ان کے پیٹ میں بچہ تھا۔ یہ خارجی اصحاب رسولﷺ اور ان کی اولاد کو اس طرح شہید کر دیتے ہیں اور اس پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار بھی نہیں کرتے بلکہ فخر کرتے ہیں۔ یہ انسانیت دشمنی آج کے خوارج جو داعش کی صورت میں دنیا میں اسلام کا امیج تباہ کر رہے ہیں، ان میں بھی اسی طرح سے پائی جاتی ہے۔ آپ دیکھیں وہ قیدیوں کو آگ لگاتے ہیں، وہ قیدیوں کو پانی میں ڈبوتے ہیں اور اسی طرح نہتے قیدیوں کو ٹینک کے نیچے دے دیتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے۔؟ یہ سب اسی خارجی فکر کی وجہ سے ہے۔

 

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا مستقبل روشن ہو، ہم ایک پرامن دنیا میں زندگی بسر کریں تو ان خوارج کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ ان کے حمایتی چاہے مشرق میں ہوں یا مغرب میں، ان کا محاسبہ کرنا ہوگا، شام اور عراق میں ان قوتوں کے خلاف برسرپیکار لوگ دراصل انسانیت کے خادم ہیں۔ انہوں نے ان وحشیوں کے بڑھتے قدم اپنا خون دے کر روکے ہیں۔ وہ قوتیں جنہوں نے ان داعشیوں کو مشرق وسطٰی میں فرقہ واریت اور عدم استحکام پھیلانے کے لئے تیار کیا وہ انسانیت کی مجرم ہیں۔ ہمیں بیدار رہنا ہوگا کیونکہ داعشیوں کی ایک بڑی تعداد کو وطن عزیز کے بارڈر پر جمع کیا جا چکا ہے، افغانستان میں پچھلے چند ہفتوں میں جس طرح سے مظلوم ہزارہ کمیونٹی پر منظم حملے ہوئے، یہ اس بات کے غماز ہیں کہ یہ لوگ کافی منظم ہوچکے ہیں۔ ان کو فکری طور پر دلیل سے اور عملی طور پر طاقت سے روکنا ہوگا، تبھی ہمارے خطے اور دنیا میں امن قائم ہوسکے گا۔

 

دنیا میں لبرل ڈیموکریسی کا مستقبل



تحریر: محمد کاظم انبارلوئی

امریکہ کے 300 شہروں میں امریکی عوام سڑکوں پر نکل کر یہ نعرہ لگاتے رہے: "مسٹر ٹرمپ! اپنا منہ بند کرو اور عوام کو درپیش مشکلات حل کرو"۔ اسی طرح ان مظاہروں کے دوران عوام نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "ہم جمہوریت پر نظر ثانی کرنے کیلئے اپنا ووٹ استعمال کریں گے"، "مزاحمت کریں اور پھر ووٹ دیں"، "ہم دوسروں میں جوش پیدا کرنے کیلئے سڑکوں پر نکلے ہیں"، "ہم واپس لوٹ گئے ہیں اور مزاحمت کریں گے"۔ ان مظاہروں میں عوام کی شرکت اس قدر زیادہ تھی کہ لاس اینجلس کے میئر نے اس شہر میں ہونے والے مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد پانچ لاکھ تک بتائی جبکہ نیویارک پولیس کا کہنا تھا کہ ان کے شہر میں ہونے والے مظاہرے میں دو لاکھ افراد شریک تھے

عراق اور شام میں آٹھ ہزار امریکی فوجی محاذ مزاحمت کی زد میں/ امریکہ اور اسرائیل کردوں کو بطور اوزار استعمال کرنا چاہتا ہے

عراق اور شام میں آٹھ ہزار امریکی فوجی محاذ مزاحمت کی زد میں/ امریکہ اور اسرائیل کردوں کو بطور اوزار استعمال کرنا چاہتا ہے

 

امریکہ اور اسرائیل شام کو تقسیم اور کردوں کو ایران، ترکی اور عراق کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ عراق اور شام میں آٹھ ہزار امریکی سپاہی اسلامی محاذ مزاحمت کی زد میں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اخبار رأی الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا: شام کی تقسیم اور کردوں کو استعمال کرکے ایران، ترکی اور عراق پر دباؤ بڑھانے کا امریکی ـ اسرائیلی منصوبہ ایسے حال میں منظر عام پر آیا ہے کہ علاقے میں ایک نہایت شدید قسم کی مزاحمت تشکیل پا رہی ہے جو کہ امریکی فوجیوں کی گھات میں ہے اور امریکی فوجی ان کے لئے بہت اچھا شکار تصور کئے جاتے ہیں۔

ہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

!

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر!

 

بحیثیت مجموعی اس قسم کے واقعات سے یہ بات اخذ ہو جاتی ہے کہ مادی، سائنسی اور فنی اعتبار سے بامِ عروج پر پہنچنے والا موجودہ انسان سماجی، اخلاقی، معنوی اعتبار سے مسلسل زوال پزیری کی جانب گامزن ہے۔

بقلم: فدا حسین بالہامی
           چند دن قبل پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں ایک د ل فگار سانحہ رونماہوا۔ جس میں ایک کم سن بچی کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔اس بچی کا نام زینب تھا اور وہ مظلومیت کی علامت بن گئی ۔اس کی وہ چیخ و پکار جسے قاتل نے دبایا تھا،جیسے فضائے بسیط میں گونجنے لگی۔ یہی وجہ ہے اس کے خونِ ناحق نے پورے پاکستان کو سراپا احتجاج ہونے پر مجبور کیا ۔ جس کسی کے پہلو میں انسان کا دل تھا وہ ٹرپ اٹھا۔ ایک انسان نما درندے نے ایک بچی کے ساتھ ظلم ِ عظیم کر کے گویاپوری انسانیت کو سوگوار بنا دیا۔ حساس طبعیت ماووں کو زینب کی دل موہ لینے والی تصویر میں اپنے بچوں کا عکس نظر آیا تو ان کا روم روم اس خیال سے کانپ اٹھا کہ کل کو ان کے ننھے منھے لاڈلوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس بہیمانہ قتل نے بچوں کے تئیں عدم ِتحفط ک


نگاہ ِ دہر ہے پھر ابن بوترابؑ کی سمت
 ممکن ہے جوش ملیح آبادی کے اس مصرع میں یہ معنی بھی چھپے ہوں :'' ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع) ''
    حال ہی میں مسلمانوں کی ایسی ریاستوں اور ملکوں میں بھی امام مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کی ذات و حیات پر کتابیں لکھی گئیں اور چھپی ہیں جہاں اس کاتصور بھی محال تھا ۔ کم از کم جزیرہ نمائے عرب میں سعودی انقلاب اور پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے اتباع سعودیت کے بعد سے ابتک۔
     میں یہاں ایسی دو کتابوں کا ذکر کرنا چاہوں گا ایک عربی میں ہے ایک اردو میں
    ۲۰۰۵ میں عمرہ اور زیارت مدینہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ مدینہ سے ہوکے جب مکے پہنچے تو آل رضا صاحب جو حجتہ الاسلام پروفیسر سید ظل صادق زیدی الحسینی صاحب مدظلہ العالی( وکیل آیہ اللہ السید صادق الحسینی شیرازی دام ظلہ) کے عزیز ہیں ،نے اپنی ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں ۔میں نے پوچھا کون ڈاکٹر صاحب ؟ (اس لئے کہ لفظ ڈاکٹر علامہ کی طرح مطلق نہیں کہ تبادر صرف علامہ حلی علیہ ا لرحمہ ہی کی طرف ہو۔ یا ملّا کی طرح کہ صرف محمد باقر مجلسی علیہ ا لرحمہ ہی یاد آئیں۔)۔
    کہنے لگے ۔ڈاکٹر کلب صادق ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جدہ سے جس ٹیکسی میں آئے ہیں اس کے ڈرائیور نے ذکر کیا کہ'' ایک کتاب یہاں چھپی ہے یہیں کے کسی عالم نے لکھی ہے۔ امام مہدی ( عج) پر اور ہم سعودیوں کو اب پتہ چلا کہ امام مہدی (ع) بھی کوئی ہستی ہیں۔''(یہ بیان آل رضا صاحب نے نقل کیا کلب صادق صاحب سے میری ملاقات نہیں ہوئی کہ بیان کی لفظ بلفظ تصدیق بھی ہوجاتی۔ورنہ خیر آل رضا معتمد ہیں)۔
    میں نے کہا کہ میں نے وہ کتاب مدینے سے خرید لی ہے اگر انھیں نہیں ملی تو مجھے بتا دیں ۔ پتہ نہیں انھیں خبر ہوئی یا نہیں مگر میں نے دوران سفر ہی میں خاصہ حصہ پڑھ بھی ڈالا۔
    پہلے کتاب کا تعارف پھر کچھ بات۔
کتاب:''المہدی (ع) ''۔مصنف : ڈاکٹر محمد احمد اسماعیل المقدم ۔طبع : ریاض ، اسکندریہ ۔صفحات : ۶۵۴
اب آئیے اس کتاب کے مطالب پر۔ اس کی طبع ثانیہ کے مقدمہ کی سرخی یہ ہے:
المھدی (ع) حقیقۃ لا خرافۃ
    مصنف نے (امام) مہدی (علیہ السلام ) کے بارے میں دو طبقات قراردئے ہیں۔ خاصہ و عامہ
    '' اما الخاصۃ فقد خرج کثیر منھم من الاعتدال فی ھذہ المسالۃ، فبالغ طائفۃ فی الانکار،حتی ردّو جملۃ من الاحادیث الصحیحہ ، وقابلھم آخرون فبالغو فی الاثبات، حتی قبلو الموضوعات، والحکایات ا لمکذوبۃ؛ و اما العامۃ فصارو فی حیرۃ و تذبذب، مابین مصدّق ومکذّب''
    خاصہ کا عالم یہ ہے کہ اس باب میں ، ان میں کے اکثر راہ اعتدال سے ہٹ گئے ہیں۔ایک گروہ نے انکار کیا ہے یہانتک کہ تمام احادیث صحیح کو بھی رد کردیا۔دوسرے گروہ نے قبول کیا تو وضعی اور جھوٹے قصے بھی لے لئے۔رہے عامہ تو حیرت و تذبذب میں ہیں ،نہ تصدیق کرسکتے ہیں نہ تکذیب۔
    آگے چل کر اسی مقدمے میں '' اخبار الرسل (ع) بالمستقبل'' کے ذیل میںکہتے ہیں کہ''جب رسول (ص) کسی شئے کی خبر دے تو اس کے وقوع میں شک کی مجال نہیں''
    تیسری بات اسی تسلسل میں ہمارے ہی موقف کی مکمل نہ سہی مگر تائید کرتی ہے۔
'' ان المھدیَّ المبشر بہ لا یدعی نبوَّۃ ، بل ھو من اتباع النبی ۔صلّٰ اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔، وماھو الّا خلیفۃ راشد مھدی، من جملۃ الخلفاء الذین قال فیھم رسول اللّٰہ صلّٰ اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔:(( فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین))۔۔۔الحدیث (رواہ مسلم فی صحیحہ) وھو عند اھل السنۃ والجماعۃ بشر من البشر، لیس نبی ولا معصوم،وما ھو الّا رجل من اھلبیت رسول اللّٰہ۔صلّی اللّٰہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔،و حاکم عادل یملأ الارض عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً ''
    ترجمہ ۔
     وہ مہدی (عج)جن کی بشارت دی گئی ہے مدعی نبوت نہ ہوں گے بلکہ پیرو پیغمبر اکرم (ص) ہوں گے ، وہ نہ ہوں گے مگر خلیفہ راشد ہدایت کرنے والے، ان خلفاء میں سے ایک جن کے بارے میں آنحضرت (ص) کا فرمان ہے کہ'' تم پر میری اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے''۔وہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک نوع بشر سے ایک بشر ہوں گے، نہ تو نبی نہ معصوم،وہ نہ ہوں گے مگر اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک فرداور حاکم عادل، زمین کو عدل سے ایسے بھر دیں گے جیسے جور سے بھری ہوئی ہوگی۔ ایسے وقت میں ظاہر ہوں گے کہ امت ان سے زیادہ کسی کی محتاج نہ ہوگی۔
    کتاب کے باب اول کی؛فصل اول ان احادیث کے بیان میں ہے جو امام مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کی شان اقدس میں وارد ہوئی ہیں۔
    ولی العالمین عجل اللہ فرجہ شریف کا اہلبیت (ع) میں ہونا :
    عن علی( علیہ السلام )۔رضی اللہ عنہ : قال رسول اللّٰہ صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ۔: ((المھدی منّا اھل البیت ،۔۔۔))
     آپ کا فرزند زہرا علیہا السلام ہونا :
    عن ام سلمۃ ۔ رضی اللہ عنھا ۔ قالت : سمعت رسول اللّٰہ صلّیٰ اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ۔ یقول : (( المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ ( علیہا السلام )۔ ))
    فصل ثانی میں ان رواۃ و محدثین کا ذکر ہے جنھوں نے ان احادیث کو روایت یا نقل یا استخراج کیا ہے۔
    (یہ فہرست کم و بیش وہی ہے جسے آقائے میلانی دام ظلہ نے اپنے ایک مقالے میں بھی مرتب کیا ہے۔)
    فصل ثالث کا عنوان ہے ۔'' نصوص اھل العلم فی اثبات حقیقۃ المھدی (عج) ''
    ولی عصر عجل اللہ فرجہ شریف کا ''قائم ''ہونا:
    وقال الحسن ابن علی بن خلف ابو محمد البربھاری شیخ الحنابلۃ فی وقتہ (ت۳۲۹ھ) فی کتابہ '' شرح السنۃ'' ؛ (( والایمان بنزول عیسی ابن مریم ۔علیہ السلام، ینزل فیقتل الدجال ، و یتزوج، ویصلی خلف القائم من آل محمد۔صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔ ))
منیّت پر فائز اور رجل ہونا
    عن ابی سعید الخدری ( ر ض ) : قال رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم : المھدیُ منّی ،اجلی الجبھۃ ، اقنی الانف ،۔۔۔۔ (یہ فصل اول سے نقل کیا گیا ہے)
    وفی ترجمۃ زیاد ابن بیان الرقی :
    '' وفی المھدی ( ع) احادیث صالحۃ الاسا نید : ان النبی۔ صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔ قال : یخرج منی رجل۔۔۔''
منتظَرہونا
     اسی فصل سے ایک عبارت اور دیکھئے۔
    جو نقل بیان ہے ، اس عہد کی ایک ایسی فرد کا جو بلا شک و شبہ لسان الوھابیین تھا۔ یعنی عبد العزیز بن باز ۔
    انہ قال: '' اما انکار المھدی المنتظَر بالکلیۃ ، کما زعم ذالک بعض المتأخرین ،فھو قول باطل ؛لان احادیث خروجہ فی آخر الزمان ، وانہ یملاء الارض عدلاً و قسطاً، کما ملئت جورا ،قد تواترت تواترا ً معنویاً ، وکثــرت جد اً ،۔۔۔ ''
    مطالب کتاب کوہی نقل کرنا مقصود ہو تو دوسری کتاب تیار ہوجائے اس مختصر سے مضمون کا مقصد حضرت ولی عصر ، مھدی المنتظر عجل اللہ فرجہ شریف کی ولادت باسعادت کے موقع پر اہل دانش و بینش کے ذریعے خاص و عام کی توجہ صرف اس سمت مبذول کروانا ہے۔ کہ اگر وصایت پیغمبر (ص) اور جانشینی رسول (ص) کے لئے کوئی معیار غدیر کے بعد بھی طے نہ ہو پایا تھا تو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے لئے بیان کی گئی احادیث رسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کافی ہیں اس بات کے تعین میں کہ قیادت امت ، امارت مومنین اور امام الناس ہونے کے لئے ۔ ابن زہرا سلام اللہ علیہاہونا ، اہلبیت(ع) میں سے ہونا ،منیت رسول (ص) پر فائز ہونا ، رجل ہونا، عترت میں کا فرد ہونا امر لازم ہے۔ اگر آخری نائب اور خلیفہ راشد اور وصی الرسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ان شرائط کے بغیر ممکن نہیں ہے تو پہلا کیسے ممکن ہو گا۔
    اور حدیث ِ ''علیکم بسنتی وسنۃ الخلافاء الراشدین المھدیین من بعدی'' (کتاب مذکور۔ ص۸۲ )کا اطلاق اگر بارہ (۱۲) کی تعدادپر ہوتا ہے جیسا کہ کتاب مذکور ص ۱۷۸ ''یکون اثناء عشر خلیفۃً کلھم من قریش'' تو یہ بارہ یا تو ایک جیسے ہونگے یا ایک دوسرے سے مختلف ہونگے اگر ایک دوسرے سے متفاوت ہیں تو تضاد عمل وفکر کے نتیجے میں کون عوام پر حجت ہو گا، کون نہیں ۔؟ اور اگر ایک ہیں یعنی ایک جیسے ہیں تو پھر جو گزر گئے انہیں بھی مہدی(ع) جیسا ہی ہونا چاہئے۔ جبکہ امت کی مانی ہوئی بارہ کی فہرست کے مطابق ایسا نہیں تھا۔
    اس کتاب کا دوسرا باب بھی ایک دلچسپ عنوان لئے ہوئے ہے۔
    اس میں دو شبھات رفع کئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک ہی رائے سے نمودار ہوئے ہیں۔
    وہ رائے یہ ہے:
    ''قرآن میں مہدی (عج)کے لئے کوئی اشارہ نہیں وارد ہوا اور اسمیں قرآن کے علاوہ کچھ حجۃ نہیں''
    مزے کی بات یہ ہے کہ مصنف نے یہ رائے رکھنے والے گروہ کو '' قرآنین '' کے نام سے یاد کیا ہے اور اسے ''الفرقہ الضالۃ'' گرداناہے۔ اور اس رائے کے دوسرے حصہ پر خاصی لے دے کی ہے۔
    ان دو لفظوں کے نقل کرنے کے بعد اس دعوے کی رد میں مصنف کے تفصیلی جواب کے نقل کی چنداں حاجت نہیں رہ جاتی۔
     اس پر ہم کسی اور مضمون میں انشاء اللہ بات کریں گے۔ مگر یہ نقل کردیں کہ
    مصنف نے قرآن میں ذکر مھدی عجل اللہ فرجہ شریف کی بابت دو آیات کا بیان کیا ہے۔
    ۱۔ ( لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الآخرۃ عذاب عظیم) البقرہ/۱۱۴
    ''اما خزی لھم فی الدنیا ۔قیام المھدی (عج)''
    ۲۔وقال الشیخ سید الشبلنجی فی ((نور البصار)) قال مقاتل بن سلیمان ،و من تابعہ من المفسرین ، فی تفسیر قولہ ۔تعالیٰ۔ ( وانہ لعلم للساعۃ ) [الزخرف ۔۔۶۱] ، ((قال ھو المھدی (ع )یکون فی آخر الزمان ،و بعد خروجہ تکون امارات الساعۃ وقیامھا )) ۔
ترجمہ۔
    دوسری کتاب جس کا بیان یہاں ضروری ہے وہ پاکستان میں سواد اعظم کے ایک بڑے دارے جامعہ اشرفیہ سے شائع ہوئی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے استاد الحدیث محمد یوسف خان صاحب کے افادات ہیں جسے حافظ محمد ظفر اقبال نے ترتیب دیا ہے۔
    کتاب ۔''اسلام میں مہدی ( عجل اللہ فرجہ شریف)رضی اللہ عنہ کا تصور''
صفحات۔ ۳۰۲ ، طبع ۔لاہور
اب ہم اس کے بعض مطالب نقل کرتے ہیں۔
یوسف زہرا( علیہاالسلام ) کاسراپا
    ''کھلی ہوئی گندمی رنگت،درازی مائل قد موزوں، کشادہ و روشن پیشانی،بلند بینی،،جدا گانہ کشیدہ ابرو جیسے کھنچی ہوئی کمانیں، بری بڑی خوبصورت سرمگیں آنکھیں، کشادگی مائل سامنے کے دنداں جیسے چمکتے ہوئے تارے،دائیں عارض پر سیاہ تل ،چہرہ ایسا روشن گویا کوکب دری، گھنی ریش ،شانہ پر مہر نبوت (ص) کی طرح علامت،تہہ دار زانو، رنگت عربی ، بدن اسرائیلی ،۔۔۔، سن مبارک ۴۰، ایک روایت کے مطابق ۳۰ اور ۴۰ کے درمیان،وقت عبادت خشوع الٰہی سے کندھوںکو جھکاتے ہوں گے،دوش پر دو سوتی عبائیں ہوں گی ،پیغمبر اکرم ؐسے خُلق میں مشابہ ہوںگے خَلق۔ میں نہیں۔''
    کتاب مذکور ۔ص ۸۳۔بحوالہ۔( الاشاعۃ۔ ص۱۹۵،۱۹۴۔۔سید محمد بن رسول برزنجی)
    ''گھنی ریش ،بڑی بڑی خوبصورت سرمگیں آنکھیں، سامنے کے دنداں جیسے چمکتے ہوئے تارے، رخ پر خال سیاہ ،بلند بینی،شانہ پر مہر نبوت (ص) کی طرح علامت،خروج کے وقت ان کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چوکور سیاہ ریشمی روئیں دار جھنڈا ہوگا جس میں( ایسی روحانی )بندش ہوگی جس کی وجہ سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے لے کر ظہور مہدی(عج) تک کبھی نہیں پھیلا یا جاسکا ہو گا، اللہ تعالیٰ ۳۰۰۰ فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے،جو انکے مخالفین کے چہروں اور کولہوں پر مارتے ہونگے، ظہور کے وقت ان کی عمر ۳۰ سے ۴۰ کے درمیان ہوگی۔''
کتاب مذکور ۔ص۸۵۔ بحوالہ۔(کتاب الفتن۔ص۲۵۹۔۔شیخ نعیم ابن حماد)
     اگر چہ روایات معصومین علیہم السلام کی بنا پر منقولہ پیرائے کے بعض مطالب سے ہمیں اختلاف ہے ۔ لیکن پھر بھی بنیادی مقصود سے افادے کے لئے یہ ایک خاصا اہم بیان ہے۔
علامات ظہور
    ۱۔الاشاعۃ (برزنجی)، الفتن( حماد) اور آثارالقیامۃ فی حجج الکرامۃ(نواب صدیق حسن خان ) کے حوالے سے کم وبیش ایک ہی عبارت نقل کرتے ہیں۔
    '' ان کے (مھدی ۔عج) کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص مبارک، تلوار اور سیاہ رنگ کا ریشمی روئیں دار جھنڈا ہو گا۔اوروہ جھنڈا کسی روحانی بندش کی وجہ سے حضور کی وفات سے لیکر ظہور مہدی (ع) سے قبل نہیں پھیلایا جاسکے گا، اور اس جھنڈے پر یہ الفاظ لکھے ہوںگے ''البیعۃ للہ''۔
    ۲۔امام مہدی (عج) کی تصدیق اور تائید کے لئے ان کے سر پر ایک بادل سایہ فگن ہوگا جس میں سے ایک منادی کی یہ آواز آرہی ہوگی:
        ''ھذا المھدی خلیفۃ اللّٰہ فاتبعوہ ''
        یہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں لہذان کا اتباع کرو۔
    اور اس بادل میں سے ایک ہاتھ نکلے گا جو امام مہدی (عج )کی طرف اشارہ کرے گا کہ یہی مہدی ہیں ان کی بیعت کرو۔ (الاشاعۃ ۔ص ۱۹۸)۔
روح قیام
    بعد قیام و ظہور جن اوامر کا نفاذ آپ (ع) فرمائیں گے وہی تو آپ کے قیام کی روح ہے ظلم وجور کے خاتمہ کا تعین اور قسط وعدل کی بحالی کی پہچان بھی انہیں قوانین پر منحصرہو گی جن کو آپ (ع) نافذ کریں گے۔ اسی ذیل میں کتاب مذکور میں نقل کیا گیا سید برزنجی کا یہ بیان بھی دیکھئے۔
    ہم اس بیان کو خط کشیدہ نقل کریں گے درمیان کے جملے ہمارے ہیں۔
     امام مہدی (عج) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کریں گے،
    گویا قانون مہدی (ع) سنت رسول (ص) کا واضح تعین کرے گا، تو آج بھی یہ پیمانہ ہاتھ سے گیا تو نہیں۔
    کسی سوئے ہوئے شخص کی نیند خراب کرکے اسے جگائیں گے نہیں ، ناحق خون نہیں بہائیں گے۔، ہاں البتہ سنت کے خلاف کام کرنے والے سے جہاد کریں گے۔تمام سنتوں کو زندہ کردیں گے اور ہر قسم کی بدعت کو ختم کئے بغیر چین نہ لیں گے،آخر زمانے میں ہونے کے باوجود دین پر اسی طرح قائم ہونگے جیسے حضور قائم تھے۔
    جب اول بھی قائم ہے اور آخر بھی قائم تو درمیان میں گیارہ ہادیوں کی فہرست کا تعین انکے قائم ہونے کی خصوصیت سے کیا جاسکتا ہے۔
    ذوالقرنین سکندر اور حضرت سلیمان (ع) کی طرح پوری دنیا کے فرمانروا ہوں گے۔
    یعنی نیابت رسول(ص)میں سارے عالم کی فرمانروائی ہے تو پھر اگر سقیفہ کو نیابت حاصل تھی تو ان کی فرمانروائی مکہ اور مدینے ہی میں کیوں رہی۔ ؟
    صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے۔(عیسائیت کو مٹادیں گے ) زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔لوگوں کو بے حسب لپ بھر بھر کر مال دیں گے۔
     اس کا مطلب ہے کسی سخی اور کریم کا لہو رگوں میں گردش کررہا ہوگا۔ہاں تو ''ھل اتی ٰ '' کا تسلسل ختم کیسے ہوسکتا ہے۔
    مسلمانوں میں الفت ، پیار و محبت اور نعمتوں کو لوٹا دیں گے اور تقسیم بالکل ٹھیک ٹھیک کریں گے ۔
    کیوں نہ ہو قسیم النار والجنۃ کے لال جو ٹھہرے۔
    آسمان میں رہنے والے ملائکہ بھی ان سے راضی ہوں گے اور زمین پر بسنے والے جاندار بھی ان سے خوش ہوں گے۔پرندے فضاؤ ں میں، وحشی جانور جنگلات میں اور مچھلیاں سمندروں میں ان سے خوش ہوں گی۔
    تو اگر بارہ میں کا آخری امام کائنات ہے تو باقی گیارہ بھی امام کائنات ہی ہونے چاہئے۔
    امت محمدیہ کے دلوں کو غنا سے بھر دیں گے حتی کہ ایک منادی آواز دے گا کہ جس کو مال کی ضرورت ہو وہ آکر لے جائے تو اس کے پاس صرف ایک آدمی آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے،منادی اس سے کہے گا کہ تم خزانچی کے پاس جاکر کہو کے مہدی (ع) نے مجھے مال دینے کا حکم دیا ہے چناچہ وہ شخص خزانچی کے پاس جاکر اسے پیغام پہنچا دے گا تو وہ کہے گا کہ تم حسب منشاء جتنا چاہو لے لو،وہ شخص اپنی گود میں بھر بھر کر مال جمع کرنا شروع کردے گاکہ اچانک اسے شرم سی محسوس ہوگی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ تو امت محمدیہ (ص) کاسب سے زیادہ لالچی انسان ہے، یہ سوچ کر وہ شخص اس مال کو واپس کرنا چاہئے گا تو اس سے وہ مال واپس نہیں لیا جائے گااور اس سے یہ کہا جائے گا کہ ہم لوگ کچھ دے کر واپس لینے والوں میں سے نہیں ہیں۔
    کاش یہ آواز امت نے گیارہ آئمہعلیہم السلام کے زمانے بھی سن لی ہوتی۔
    ان کے زمانے میں تمام لوگ ایسی نعمتوں میں ہوں گے کہ اس سے پہلے اس کی مثال لوگوں نے سنی تک نہ ہوگی۔
    ہاں وہی اکملت لکم نعمتی کا وارث اور انعمت علیہم کا آخری مصداق ہو گا۔تو مصداق اوّل سے روگردانی کیا معنی رکھتی ہے۔؟
    بارشیں اس کثرت سے ہوںگی کہ آسمان اپنا کوئی قطرہ پس اندوختہ نہیں چھوڑے گا، اور زمین اتنی پیداوراگائے گی کہ ایک بیج بھی ذخیرہ نہیں کرے گی۔ ان کے زمانے میں جنگیں ہونگیں وہ زمین کے نیچے سے اس کے خزانوں کو نکال لےںگے۔
    کیا ابوتراب(ع) کے بیٹے کے علاوہ بھی زمین کسی کو اپنے خزانے دے سکتی ہے۔؟
    اور شہروں کے شہر فتح کرلیں گے۔
    واہ رے فاتح بدر وحنین (ع) کے پسر ،لاریب آپ ہی اپنے اجداد کی قولی وفعلی تصدیق کریں گے۔
    ہندوستان کے بادشاہ انکے سامنے پابند سلاسل پیش کئے جائیں گے اور ہندوستان کے خزانوں کو بیت المقدس کی آرائش اور تزئین کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ لوگ ان کے پاس اس طرح آئیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ اور سردار کے پاس آتی ہیں۔
یعسوب(ع) المومنین کے پوتے کو سلام
    حتی کہ لوگ اپنی سابقہ نیک حالت پر واپس آجائیں گے۔اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے۔ جو انکے مخالفین کے چہروں اور کولہوں پہ مارتے ہونگے۔
    ''تنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر'' کی ظاہری تفسیر ہوگی تو باطنی تفسیر بھی ڈھونڈو کہ نزول آیت سے اب تک فرشتے کس کے پاس آتے رہے۔؟
    ان کے لشکر کے سب سے آگے جبرئیل علیہ السلام اور حفاظت کی خاطر سب سے پیچھے میکائیل علیہ السلام ہوںگے۔ان کے زمانے میں بھیڑیئے اور بکریاںایک جگہ چریں گے۔ بچے سانپ اور بچھؤوں سے کھیلیں گے اور وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔
حافظ اگر ہو عدل جناب امیر (ع) کا
شعلہ پہن لے جسم پہ کرتا حریر کا
(میر انیسؔ)
     انسان ایک مُد( خاص مقدار) بوئے گا ور اس سے سات سو( مد) کی پیداوار ہوگی۔سود خوری ،وباؤں کا نزول،زنا اور شراب نوشی ختم ہوجائے گی۔ لوگوں کی عمریں لمبی ہونگی۔ امانتوں کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے گا، شریر اور بدکار لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ حضور (ص) کی اولاد و اہلبیت (ع) سے بغض رکھنے والا کوئی نہ رہے گا ۔
    گویا روح قیام خاتمہ ئ بغض ِ اہلبیت (ع) ہے تو اسی معیار پر آج بھی امت میں حق وباطل کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
    نیز انبیاء کرام علیہم السلام کے اسفار میں لکھا ہے کہ امام مہدی (عج) کے فیصلوں میں ظلم و نانصافی کا شائبہ تک نہیں ہو گا۔
     اگرآخری جانشین رسول (ص) کا ذکر اسفار انبیاء علیہم السلام میں ہے تو پہلے جانشین کا بھی ذکر ہو گا ۔وہیں سے دیکھ کر آج فیصلہ کر لیا جائے اور اگر انبیا علیہم السلام کے اسفار میں ذکر ہے تو قرآن اس پر کیوں چپ رہے گا۔
    سادہ سا مضمون کہیں مقالہ نہ بن جائے اس لئے ہم انہیں مطالب پر اکتفا کرتے ہوئے اس سلسلے کی آخری بات نقل کرتے ہیں۔ ہمارے قارئین نے جان لیا ہوگا کہ ہمارا یہ مضمون ظہور مہدی (عجل اللہ فرجہ شریف)کے تناظر میں کون سے پس منظر سے پردہ ہٹاتا ہے۔
    اس کتاب کے صفحہ ۵۱ کی سرخی ہے کہ:
امام مہدی افضل ہیں کہ شیخین ؟
    اس مبحث میں مؤلف نے ((کتاب الفتن۔۔( ص۲۵۰ )، اور الحاوی للفتاوی ۔ سیوطی ۔۔(ج ۲۔۔ص۹۲ ) سے ضمرہ اور ابن ابی شیبہ ، انھوں نے ابن سیرین سے ، القول المختصر فی علامات مھدی المنتظر۔۔ابن حجر مکی۔(ص۷۱) سے اور الاشاعۃ ۔۔برزنجی (ص۲۳۸) نے المشرب الوردی فی مذہب المہدی ۔۔ملاعلی قاری ))
سے جو قول نقل کئے ہیں ہم انہیںیکجا تحریر کرتے ہیں۔
    ''عن ابن سیرین قیل لہ المھدی خیر او ابو بکروعمر ؟ قال ھو اخیر منھما ویعدل بنبی۔''
    '' لوگوں نے پوچھا کیا ابوبکر وہ عمر سے افضل بھی کوئی شخص ہوگا؟ فرمایا کہ وہ تو بعض انبیا ء پر فضیلت رکھتا ہوگا۔ ۔ بسند ضمرہ ''
    ''یکون فی ھذہ الامۃ خلیفۃ لایفضل علیہ ابوبکر ولا عمر۔الحاوی ۔ج۲۔ص۹۳''
    ''امام مہدی (عج) کی افضلیت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خلیفتہ اللّٰہ فرمایا ہے اور حضرت ابوبکر کو زیادہ سے زیادہ خلیفہ رسول (ص) کہا جاتا ہے''
    جو خلف سے افضل نہ ہو وہ اسی کے سلف سے کیسے افضل ہوسکتا ہے۔
    یہ سب لکھ کر بھی اگر آخر میں یہ لکھ دیا جائے کہ یہ مہدی (ع) ہمارا والا ہے روافض یا شیعوں والا نہیں تو چلئے آپ ہی کو مبارک ۔ آنے تو دیجئے۔
    بہر الحال مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کسی کے بھی ہوں ایسی کتابیں یقینا ً امت کے فکری جمود میں ایک تحرک کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

  
موضوع : امریکہ کی گلگت بلتستان میں پراسرار سرگرمیاں
  نویسنده : اجمل حسین قاسمی
خیبر پختونخواہ میں ایک عشرہ قبل امریکہ کی جانب سے یو ایس ایڈ کے نام پر اپنی مخصوص کرم نوازی کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان کی تشکیل، فرقہ وارانہ کشیدگیوں میں اضافے، جگہ جگہ بم دھماکوں، خودکش حملوں اور انفرادی و شخصی آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی کے مراکز کے قیام و فروغ جیسے مقاصد کی تکمیل کے بعد اب امریکہ کی نظر کرم چین اور بھارت سے متصل نئے تشکیل شدہ غیر آئینی صوبہ گلگت بلتستان پر جمنا شروع ہوگئی ہیں۔

گلگت بلتستان بے انتہا قدرتی و معدنی وسائل سے مالامال ہے، وہاں تین ایٹمی ممالک کے نقطہ اتصال پر ہونے کے باعث امریکی نظر میں روز بروز اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک عشرہ قبل گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو جب اچانک اور بڑے منظم انداز میں فروغ ملنے لگا تو بہت سارے صاحبان فہم و ادراک ان سارے واقعات کے پس پردہ امریکی ہاتھ قرار دیتے رہے تھے۔ لیکن حکومتی ارباب اقتدار اور متعدد روشن خیال لیکن کور چشم دانشور ان تجزیوں اور خدشات کو مسلسل یہ کہہ کر رد کرتے چلے آئے کہ یہ صرف ایک طبقے کا وہم ہے۔

اب جبکہ سانحہ کوہستان اور سانحہ چلاس جیسے واقعات میں امریکی و اسرائیلی ساختہ تنظیم جنداللہ اور اس کے مربی قسم کی کالعدم تنظیموں کے اعترافات کھل کر سامنے آئے، تو یہ طبقہ اب شاید کچھ پس و پیش کے بعد تسلیم کرلے کہ ہاں یہ کھیل واقعاً ڈالروں کے ذریعے ہی کھیلا جارہا ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں کہ جب گلگت بلتستان کے علاقے میں کام کرنے والی متعدد غیر سرکاری تنظیمیں اپنے کاموں کی تکمیل کے لیے

 

 



 

شام کے شہر عفرین پر ترکی کی فوجی جارحیت کے بعد بہت سے تجزیے پیش کئے گئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں امریکی حکمت عملی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکہ آج ایسے مقام پر کھڑا ہے کہ اس کے دو انتہائی قریبی اتحادی آپس میں ہی لڑائی کر رہے ہیں۔ اگرچہ ترکی اور کردوں کے درمیان مسلح جھڑپیں مغربی ایشیائی خطے کی تاریخ کا مستقل حصہ رہی ہیں لیکن موجودہ دور اس خاطر خطے کیلئے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کہ اس وقت خطے میں امریکہ کا کوئی قابل اعتماد اتحادی موجود نہیں۔ حتی بعض سیاسی ماہرین کی نظر میں خطہ امریکی طاقت کے زوال کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال اور شمال مشرقی حصوں میں جہاں زیادہ تر کرد باشندے بستے ہیں، تیس ہزار فوجی تعینات کرنے کا عندیہ دے رکھا تھا لیکن آج وہ ایسی جنگ کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو کم از کم ظاہری طور پر ان کی اور ان کے دیگر ہم فکر سیاستدانوں کی مرضی کے خلاف ہے۔

ایک طرف امریکہ کرد باشندوں ک

125899ہر حکومت کے قيام کے بعد اس کي تشويش ، عوام کے درميان اس کي مقبوليت کے بارے ميں ہوتي ہے - اس لحاظ سے کہ عام انسانوں کي حکومتيں ، صرف فرد يا کسي خاص گروہ کے مفادات کو مد نظر قرار ديتي ہيں اور عوام کي حقيقي مصلحت اور فائدے کو سمجھنے ميں ناتوان ہوتي ہيں اس لئے خطا اور غلطي سے محفوظ نہيں

 

 

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے کہا: ظلم و ستم کے ذریعہ پوسٹ و مقام کی حفاظت نیز غبن اور بیت ‌المال کی بربادی ضلالت و گمراہی ہے ۔

صرف فوجی آپریشن تمام مسائل کا حل نہیں ہے

 

 

ماہِ فروری میں پورے ملک میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد ملک سے دہشتگردی کا صفایا کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز غالباً ایک دوسرے آپریشن کا آغاز کر چکی ہیں، جس میں چاروں میں سے ایک بھی صوبے کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔ تازہ ترین آپریشن میں فوج کے ماتحت، نیم عسکری ادارے رینجرز کو پنجاب بھر میں کارروائیاں کرنے کے بھی اختیارات دیے گئے ہیں؛ دیگر صوبوں میں رینجرز کے جارحانہ کردار کے برعکس یہ صوبہ گزشتہ کافی عرصے سے نیم عسکری فورسز کی کارروائیوں سے محفوظ تھا۔

ایسا مانا جا سکتا ہے کہ چوںکہ آئندہ سال عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں، لہٰذا مسلم لیگ ن کو خدشات لاحق تھے کہ کہیں رینجرز اس کے ممبران یا شدت پسند مذہبی جماعتوں میں موجود اتحادیوں کو نشانہ نہ بنا دیں، جن کی حمایت نہایت اہم، اور انتخابی حلقوں کے حساب سے سب سے زیادہ اکثریت رکھنے والے صوبہ پنجاب میں فتح دلوانے کے لیے اشد ضروری محسوس ہوتی ہے۔ مگر حالیہ بم دھماکوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال نے حکومت کو متحرک کرنے پر مجبور کر دیا کیوں کہ اب زیادہ خاموش رہنے کا کوئی آپشن نہ تھا۔ حکومت کو اس بات کی تسلی ہوگئی کہ اب فوج کی کمان ایک غیر سیاسی شخص کے ہاتھوں میں ہے، سو اس نے کارروائی کی اجازت دے دی۔

ایسے ہر آپریشن کا آغاز امیدیں پیدا کرتا ہے کہ آپریشن کے ختم ہونے کے ساتھ اس ملک میں موجود وحشیانہ دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ آپ کسی بھی سیکیورٹی ماہر سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ایسی توقعات، خاص طور پر ملک کو درپیش کثیر الجہتی دہشتگردی کو دیکھا جائے تو حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔ بہتر عمل یہ ہوگا کہ پہلے سے بہتر انٹیلیجنس اور بہتر تربیت رکھنے والی انسداد دہشتگردی فورسز سے کسی حد تک دہشتگردی پر قابو پا لیا جائے اور دہشگردی واقعات اور ان میں ہونے والی اموات میں کمی واقع ہو جائے، مگر اس مقام پر پہنچنے میں ابھی کافی سال ہیں۔

راحیل شریف کی سربراہی میں شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی، اس آپریشن نے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور ان کے منصوبہ کاروں اور گروہوں کو پاکستان کی سر زمین پر قائم ان کی آخری پناہ گاہ سے دھکیل دیا۔ یوں لگتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ قانونی رٹ سے عاری ایک بڑے علاقے میں نئے ٹھکانے بنا کر دہشتگرد اپنی مرضی سے ہمارے ملک کے ہر علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں موجود ان کے نظریاتی اتحادی یا پھر ان کے اس جبر و بربریت میں شراکت دار یا تو ان سے رابطے میں ہوتے ہیں یا پھر خود کو دوبارہ پیدا کر چکے ہیں۔

اس چیلنج کی سنگینی کا اندازہ سیکیورٹی حکام کی جانب سے بتائی گئی دہشتگردوں کے کامیاب حملوں کی تعداد اور ناکام بنا دیے جانے والے حملوں کی تعداد کا موازنہ کر کے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کوئی مخصوص تعداد تو نہیں بتائی، مگر افسران کا کہنا ہے کہ درجنوں دہشتگرد حملے ناکام بنائے جاتے ہیں تو ہی کوئی ایک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اور اگر یقینی طور پر ہماری مخالف بیرونی طاقتیں بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہیں اور کشمیر جیسے اہم معاملات پر راولپنڈی و اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو پھر یہ مسئلہ اور بھی بڑی نوعیت کا ہے۔

ایسی صورتحال میں بھی، ہماری اپنے ہاتھ سے بنائی گئی فالٹ لائنز کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے جن پر ہماری توجہ نہ ہونے کے باعث وہ ہر دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہیں، اور جو کسی بھی آپریشن کی وجہ سے سیکیورٹی صورتحال میں ہونے والی بہتری کو ختم کرتے ہوئے ممکنہ طور پر بڑی تباہی لا سکتی ہیں۔ جی ہاں موجودہ سیکیورٹی آپریشن ایک حد تک واضح طور پر اور درست طور پر ان گروہوں کے خلاف ہیں، جو ایمان کے نام پر قتل کرتے ہیں اور یہاں تک کہ خود سے مختلف کسی بھی عقیدے کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کو موت کا حقدار سمجھتے ہیں۔

دیکھا جائے تو یہ نظریہ اس اسلام کی روح کے خلاف ہے جس پر ملک میں موجود ایک بڑی اور پر امن اکثریت یقین رکھتی ہے۔ اگر اس سوچ کے نمائندہ طالبان اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جائے تو کیا پھر یہ حکومت، سیکیورٹی فورسز اور معاشرے کو مطمئن ہو کر بیٹھنے کے لیے کافی ہوگا؟ میرے نزدیک ایک بڑی جنگ کا تعلق اس معاشرے کو موجودہ عدم برداشت اور شدید متعصب ماحول سے نکال کر کسی طرح ’جیو اور جینے دو’ کی حالت میں لانے سے ہے۔ مجھے یہاں پانچ سوشل میڈیا کارکنان کی حالیہ خوفناک جبری گمشدگی یاد آتی ہے (جن میں سے ایک اب بھی غائب ہے)۔

انہیں بدنام کرنے والوں نے عوامی حلقوں میں ایک دو باتیں گھڑ دیں کہ گمشدہ افراد توہینِ مذہب کے مرتکب تھے، بس پھر کیا تھا، دین کے خود ساختہ محافظ ان کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ کیا ان میں سے ایک نے بھی خود سے اس بات کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا کی — جس طرح کسی بھی مہذب معاشرے، قانون اور تمام مذاہب کا یہ تقاضا ہوتا ہے — کہ آیا ’گمشدگان’ پر لگائے جانے والے الزمات حقائق کی بنیاد پر ہیں بھی یا نہیں؟ نہیں۔ جناب ٹھہر کر اور حقائق کا جائزہ لینے سے زیادہ آسان تو بے لگام پاگل دوڑتے جانوروں کے کسی جھنڈ میں شامل ہونا ہے۔

میں نے ان چند مذہبی رہنماؤں کے حالیہ خوفناک خطبات دیکھے جنہوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری (جنہیں بعد میں پھانسی دی گئی) کو انتہا پسندی کی جانب مائل کیا تھا۔ وہ اب بھی اس سلسلے کو زبردست انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خیر اب تو ان کے پاس مارکیٹنگ کے لیے اپنا ہیرو بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے سیہون میں لال شہباز قلندر کی مزار پر ہونے والے حملے کے بعد ایک اہم مذہبی رہنما اور روہت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے خودکش بم حملے کی مذمت تو کی تھی مگر ان کے دیگر ریمارکس اتنے ہی یا اس سے بھی زیادہ اہم تھے۔

حیدرآباد میں اس ہفتے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ دھمال اور مزار پر گھنٹی بجانا بزرگان کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے رائے دی کہ مزار پر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کیا جائے، جس میں ہفتے کے دوران ایک دن ’صرف خواتین’ کے لیے مختص ہو۔ بلاشبہ ایک بڑے مفتی کے احترام میں کسی صحافی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ اپریل 2006 میں کراچی میں منعقد بریلوی اور سنی تحریک کے علما کے اجتماع میں دھماکہ کیوں ہوا حالانکہ اس میں صرف مرد ہی موجود تھے، یا پورے ملک میں نماز کے صرف مردوں والے اجتماعات یا شیعہ مجالس پر حملے کیوں ہوئے۔

آپ ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتے ہیں۔ اس بات کا کوئی مطلب نہیں۔ مفتی منیب الرحمان جن لوگوں کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس کی نمائندگی میں کرتا ہوں۔ آپ ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں۔ مفتی منیب الرحمان جن لوگوں کی سوچ کو نمائندگی کرتے ہیں، وہ تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس کی نمائندگی میں کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ بارہا انتخابات بھی یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ پاکستانی مذہبی جماعتوں کو بڑی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا منتخب ہونے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قدم بڑھائیں اور یقینی بنائیں کہ قائد اعظم کا تکثیری پاکستان ایک حقیقت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو اپنے متبادل، غیر ریاستی عناصر کو ترک کرنا ہوگا۔ کوئی فوجی آپریشن یہ ہدف پورا نہیں کر سکتا۔

Abbas Nasir

تحریر: عباس ناصر