فلسطینی جوان اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید ہوتے جا رہے ہیں۔ [ خطبہ نماز جمعہ امام خامنہ ای]
تہران کی مرکزی نماز جمعہ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی۔ ولی امر مسلمین نے لاکھوں کی تعداد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب نے گھٹن ذدہ ماحول اور ملت ایران پر مسلط کی گئی تاریخی تحقیر آمیز صورتحال کو ختم کرکے اسے قومی لحاظ سے عزت اور آزادی عطا کی ہے۔ رہبرِ انقلاب انے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی اور پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ گذشتہ تین دھائیوں میں ملت ایران نے آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ، پابندیوں اور اپنے خلاف دہشتگردی سمیت تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیلنج اسلامی انقلاب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر سکا۔

 

 

امام خمینی (رح) نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے فرمایا تھا کہ'' یوم القدس یوم اﷲ، یوم     رسول اﷲ اور یوم اسلام ہے جو اس دن کو نہیں مانتا وہ استعمار کی خدمت کرتا ہے۔'' 25 رمضان المبارک بمطابق 26 اگست جو کہ ماہ مبارک رمضان کا آخری جمعہ ہے اس دن کو عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔ اسی لئے امام راحل  نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دن کو ہر سال نہایت عقیدت و احترام سے مناکر اس زندہ رکھنے کی کوشش کریں چونکہ فلسطین کی مقدس سرزمین پر نہ صرف اسلام کا قبلہ اول ہے یہ سرزمین مرکز وحی الہیٰ پیغمبران توحید کی آروزوں کا محور اور رسولۖ اسلام کا مقام معراج بھی ہے اسی لئے القدس کا اسلام اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی عزت و بزرگی کے ساتھ ایک ایسا ربط اور تعلق ہے جو کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا اور امام خمینی  نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ ( جمعتہ الودع ) کو اگر یوم القدس کے طور پر منتخب کیا گیا ہے تو شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ چاہتے تھے کی پوری دنیا کے مسلمان القدس اور فلسطین کو جو کہ تاریخ کا ایک خونین باب ہے اسے ایک ساتھ یاد کریں اور اسے غاصب صہیونیوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے مشترکہ طور پر کوشش کو آگے جاری رکھیں۔ القدس کی سرزمین جو کہ خون اور آگ کی سرزمین ہے اسے اپنے اسارت کے پہلے دن سے لیکر آج تک نہایت ہی مظلومانہ انداز سے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ ( قبلہ اول) کو نذر آتش کرنے اور اسلامی آثار کو نیست و نابود کرنے کے اندوہناک مناظر دیکھنے پڑ رہے ہیں ۔ فلسطین جس سے پوری دنیا کے مستضعفین کی رگوں میں انقلابی خون گردش کرہا ہے اسے طویل برسوں سے دشمنان اسلام کی طرف سے اپنے جسم پر بیشمار ذخم اور اذیتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہے ۔ فلسطین جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے جسم کا ایک حصہ ہے اسے ایک لمبے عرصے سے یعنی جب سے صہیونیوں نے اسے اپنا غاصبانہ قبضہ میں لیا ہے مسلسل صہیونی  اسرائیلی افواج کی وحشیانہ حملہ او ر تشدد و بمباری کے نتیجہ میں اپنے عوام کے گھروں کو ویران ہوتے اور ارض مقدس کے مکینوں کو جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے شامل ہے اپنے وطن سے محروم ہوکر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ القدس جو کہ عزت و بزرگی اور جرات و مقاومت ہے پر جس قدر بھی اندوہناک مظالم ڈھائے گئے ہیں ۔ ان کے پیش نظر وہ اسی امر کو بہتر سمجھتا ہے کہ اس کے ان پرانے زخموں کی مرہم کا سامان نہ تو وہ بین الاقوامی لٹیرے کریں جو انسانی حقوق کا بظاہر دم بھرنے والے ہیں اور نہ ہی وہ مسلمان جو عالمی سامرجیت کے کٹھ پتلی عناصر ہے بلکہ القدس کی یہی تمنا اور آرزو ہے کہ اسے ان غیرت مند اور بہادر مسلمانوں کے ہاتھوں نجات اور آزادی میسر ہو جو اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ یہ محلات میں بسنے والے عالمی خونخوار ( شیطان بزرگ امریکہ) ہی تو ہے جو پوری تاریخ اسلام کے دوران فلسطین اور فلسطینی مظلوم عوام کو طرح طرح کی بندشوں میں جکڑنے کا باعث بنتے رہے ہیںمظلوم انسانیت کا سراپا  القدس اپنی مظلوم نگاہیں پوری دنیا کے خدا پرست مسلمانوں پر مرکوز کئے ہوئے  ہیں تاکہ فرزندان اسلام کے ہاتھوں اس کت تمما ذخموں کا مرہم ہوسکے۔ دنیائے اسلام کا ذخمی دل فلسطین ایک لمبے عرصے سے اس انتظار میں ہے کہ اسے صہیونیوں کے غاصبانہ چنگل سے ہمیشہ  کیلئے آزادی نصیب ہو تا کہ ایک بار پھر وہی یاد تازہ ہو جو 1187 میں لشکر اسلام کے سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کے زرئعے صلیبیوں سے القدس کو دوبارہ واپس لینے کے بعد مسجداقصیٰ کی دوبارہ تعمیر اور اس کی نقاشی کے زرئعے مسلمانوں کے اذہان میں نقش کی تھی۔
بہر حال بیت المقدس جو کہ ارض موعود کا حصہ ہے اور صہیونیوں کی ناپاک سازش محض اسلامی مقدسات اور مسلمانوں کی مذہبی عمارتوں کی تحقیر و اہانت پر ہی ختم ہونے والی نہیں بلکہ اس کے بعد صہیونی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے دیگر اسلامی ممالک کو بھی اپنی سازشوں کا نشانہ بنانے کیلئے سر توڑ جدوجہد کریں گے۔رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای نے القدس کے بارے میں فرمایا کہ'' فلسطین ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے اور اسے دشمنوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔'' اب فلسطین کے لئے تمام     مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ بیت المقدس کی آزادی کے لئے دعا کرے ۔ ہماری دعا ہے کہ جلد ہی وہ دن آئے جب پوری دنیا کے مسلمان اسلام اور قرآن پاک کی تعلیمات کے زیر سایہ مکمل وحدت و اتحاد کے زرئعے مسلمانوں کے قبلہ اول کو غاصب صہیونیوں کے چنگل سے مکمل طور پر آزاد اور نجات دلانے کے ساتھ ساتھ سہیونیوں کو ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیں کیونکہ امام خمینی(رح) نے فرمایا تھا کہ اگر تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اگر اسرائیل کے اوپر ڈال دیا جائے تو ملیامیٹ ہوجائے گا۔
 

مسئلہ فلسطین کا، جھوٹے اور بے بنیادطریقوں پر نہیں ہوسکتا بلکہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف یہ ہے کہ فلسطین کے حقیقی مالک " نہ باہر سے آنے والےغاصب اور قابض مہاجرین" جو فلسطین کے اندر موجود ہیں اور جو فلسطین کے باہر ہیں وہ اپنے ملک کا حکومتی نظام تشکیل دیں۔ اگر دنیا میں ڈیموکریسی کا دعوی کرنے والوں کی یہ بات درست ہےکہ ہر قوم کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ہے تو فلسطینی قوم بھی ایک قوم ہےاور اس کو بھی فیصلہ کرنا چاہیے۔ مقبوضہ فلسطین پر آج جو غاصب حکومت قائم ہے اس کا فلسطین کی سرزمین پر کوئی حق نہیں ہے؛ وہ ایک جعلی ، جھوٹ پر مبنی اور ظالم طاقتوں کی بنائی ہوئی حکومت ہے؛لہذا فلسطینی عوام سے غاصب حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔اگر عالم اسلام میں کوئی اس غلطی کا ارتکاب کرےگااور اس ظالم حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرے گا تو گویا وہ اپنے لئے ذلت و رسوائی کا سامان فراہم کرے گا اور کام بھی بیہودہ اور بے فائدہ کرےگا؛کیونکہ یہ حکومت دائمی نہیں ہے۔ صہیونیوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ وہ فلسطین پر قابض ہوگئے ہیں اور فلسطین ہمیشہ ان کی ملکیت بن گیا ہے ؛ نہیں، ایسا نہیں ہے ۔ فلسطین کا فیصلہ یہ ہے کہ حتمی طور پر ایک دن فلسطینی ملک وجود میں آئے گا۔فلسطینی عوام نے اس سلسلے میں قیام کیا ہے۔ مسلمان حکومتوں اور عوام کا فرض ہے کہ وہ اس فاصلے کو زیادہ سے زیادہ کم کریں اور ایسا کام کریں کہ فلسطینی عوام اس دن تک جلد پہنچ جائیں۔ [امام خمینی (رہ)کے حرم میں زائرین کے اجتماع سے خطاب، 14/3/1381۔]

یوم قدس منانے کی ضرورت:

عالمی یوم قدس نزدیک آکر دنیا کے غیور مسلمانوں کو مظلوم فلسطینی قوم کے دفاع و حمایت کی سنگین ذمہ داری کی، پہلے سے زیادہ تاکید کے ساتھ، یاد دہانی کراتا ہے۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس دن کا اعلان کرکے انسانی ضمیروں کی سطح پر مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا اور