مشرق وسطیٰ کا گُلو بٹ‘



تحریر: عثمان جامعی

شہزادے کئی قسم کے ہوتے ہیں، جیسے خوابوں کا شہزادہ، کہانیوں کا شہزادہ، تاریخ کا شہزادہ، روڈ کا شہزادہ، قطری شہزادہ اور سعودی شہزادہ۔

خوابوں کا شہزادہ گاوں کی گوری سے شہر کی چھوری تک ہر لڑکی کے سپنوں میں بسا ہوتا ہے۔ خوب صورتی، وجاہت، بانکا سجیلا اور چھیل چھبیلا ہونا تو اس کی ثانوی خصوصیات ہیں، اس کی اصل خاصیت تو شہزادگی ہے، جس کے ساتھ محل، خُدام اور کنیزیں خود ہی خواب میں چلی آتی ہیں۔ جب ہی تو اس کے سپنے دیکھے جاتے ہیں، ورنہ آپ نے کبھی خوابوں کا شاعر، خوابوں کا ادیب، خوابوں کا کلرک، خوابوں کا مکینک سُنا؟

ان ساروں کا کام خواب میں آنا نہیں، مستعار لی ہوئی سجی سجائی کار پر آکر خواب دیکھنے والی کو خواب سے نکال کر ساس نندوں بھری حقیقت میں لے جانا ہوتا ہے۔ شہزادے کا خواب دیکھتے دیکھتے بے چاری لڑکیاں پھوپھی کے بیٹے، خالہ کے نورِ نظر یا محلے کے کسی انور، اکبر، ظفر سے بیاہ دی جاتی ہیں۔

کہانیوں کا شہزادہ صرف اپنی جان جوکھم میں ڈال لیا کرتا تھا کہ بچوں کے لکھاری کو لکھنے کے لیے کوئی کہانی مل جائے۔ جب سے بچوں نے کہانیاں پڑھنی چھوڑی ہیں اس کی جان بھی چھوٹ گئی ہے۔

تاریخ کے شہزادوں کے دو ہی کام تھے، سلطنت کے کیش پر عیش اور باپ کی موت کا انتظار کرنا۔ ان میں بھائی چارہ ذرا بھی نہیں ہوتا تھا، کمزور شہزادہ طاقتور بھائی کا چارہ بن جایا کرتا تھا۔ ان کی آدھی زندگی کنیزوں کے پیچھے دوڑتے اور باقی کی زندگی بھائیوں کے آگے بھاگتے گزر جاتی تھی۔

’روڈ کا شہزادہ‘ آپ نے عموماً رکشوں کے پیچھے لکھا دیکھا ہوگا۔ یہ شہزادے سڑک کو اپنی سلطنت سمجھتے ہوئے جس شان سے چلتے ہیں اور ان کے رکشوں کی گرج دار بھراہٹ جس طرح للکارتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ شہزادے پھٹا ہوا طبلِ جنگ بجاتے کوئی ملک فتح کرنے یا بغاوت فرو کرنے جا رہے ہیں۔

قطری شہزادے کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ خطوط غالب کے بعد مشہور ترین خط ان ہی کا ہے۔

اور اب بات ہوجائے سعودی شہزادے کی۔ یوں تو سعودی عرب

ہر شاخ پہ ہے اک شہزادہ انجامِ گلستاں کیا ہوگا

کی عملی تفسیر ہے، لیکن شجرِ حکومت کی سب سے اونچی ٹہنی پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان براجمان ہیں۔ ان کے اوپر بس بادشاہ سلامت کی ڈالی جھول رہی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستانی تناظر میں سمجھنے کے لیے آسان ترین تعریف یہ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے گُلو بٹ ہیں۔ اپنی مملکت میں سرکار سے سماج تک اور ارضِ سعودیہ سے یمن تک انہوں نے ہمارے گُلوبٹ ہی کی طرح بڑی تیزی سے توڑ پھوڑ کی ہے۔

اِس معاملے میں ان کا جوش و جذبہ مجاز کی نظم آوارہ کا عکاس ہے۔ لگتا ہے وہ

اے غم دل کیا کروں،
اے وحشت دل کیا کروں

کہتے ہوئے عالمِ وحشت میں یا کسی دہشت میں کچھ سوچے سمجھے بغیر جو کرنا ہو کیے جارہے ہیں۔ ’جی میں آتا ہے یہ مُردہ چاند تارے نوچ لوں‘ کی پیروی کرتے ہوئے شہزادہ ولید بن طلال سمیت سعودی افق پر دمکتے بہت سے تارے نوچ کر سعودی کائنات کے اندھیرے خلا میں پھینک چکے ہیں اور اب

اس کا گلشن پھونک دوں، اس کا شبستاں پھونک دوں

کی فکر میں ہیں۔ اﷲ خیر کرے، کیوں کہ اس نظم کا اگلا مصرعہ ہے،

تخت سلطاں کیا، میں سارا قصرِ سلطاں پھونک دوں۔

شاہ سلمان کے اس بیٹے کی کارروائیاں اور کارستانیاں دیکھ کر کہنے کو دل چاہتا ہے کہ انوکھا لاڈلا، ’توڑن‘ کو مانگے چاند، لیکن وہ انوکھے اور لاڈلے ضرور ہیں مگر بالک نہیں، اِن ’حرکتوں‘ اور اُن کے لیے مجاز کی نظم کی تشبیہ سے یہ نہ سمجھیں کہ ولی عہد صاحب عہد کی طرح جو کچھ توڑ رہے ہیں یہ توڑ پھوڑ عہدِ طفلی کا تقاضا ہے یا حالت جُنوں میں ہورہی ہے، بھئی وہ کہہ چکے ہیں کہ میں سعودی عرب کو معتدل اسلام کی طرف لوٹانے اور اپنے ملک کو کھلے سماج میں بدلنے کی تگ ودو کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے لوٹ پوٹ اور اُلٹ پلٹ میں بہت کچھ تلپٹ ہوجاتا ہے۔

ویسے وہ سماج کو جس تیزی سے کھول رہے ہیں لگتا ہے کہ ان کوششوں سے سعودی معاشرہ یوں کھلے گا کہ موصوف کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور چونک کر مصاحب سے پوچھیں گے،’کس نے کھولا، کب کُھلا، کیوں کر کُھلا؟“

اپنی مملکت اور رعایا کو جدید بنانے اور سماج کو ’کھولنے‘ کے لیے شہزادے صاحب کتنے پاپڑ بیل رہے ہیں اس کا اندازہ اس خبر سے ہوا کہ یہ جناب شیخ لیونارڈو ڈاونچی کی تخلیق کردہ منہگی ترین پینٹنگ کے خریدار ہیں۔ 500 برس پرانی یہ پینٹنگ انہوں نے 45 کروڑ ڈالر ’ہدیہ‘ دے کر خریدی۔ کسی سعودی شہزادے کا پینٹنگ خریدنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی امریکی اداکار ’موت کا منظر‘ یا ’مرنے کے بعد کیا ہوگا‘ جیسی کتاب منہ مانگی قیمت دے کر حاصل کرے، مولانا فضل الرحمٰن مائیکل جیکسن کے گانوں کی سی ڈیز کے لیے رقم خرچ کریں، شیخ رشید ڈائپر اور نوازشریف دیوان غالب خرید لیں۔

ظاہر ہے ولی عہد نے یہ خریداری پینٹنگ پر تنقیدی مضمون لکھنے کے لیے نہیں کی، یہ ’جدید‘ ہونے کی طوفانی مہم کا حصہ ہے، وہ جدید ہی کیا جسے مصوری سے دل چسپی نہ ہو۔ ویسے اس کے آدھے پیسے وہ ہمیں دیتے تو ہم خود فریم میں تصویر بن کے کھڑے ہوجاتے، جو ’تصویر‘ کی تعریف کرتا اسے دیکھ کر ایک ادا سے مسکراتے اور جو تنقید کرتا اسے منہ چِڑاتے۔

سعودی عرب کو جدید بنانے کے لیے شہزادے کا دوسرا اہم ترین اقدام فرانس میں عظیم الشان محل کی خریداری ہے۔ پیرس کے مغرب میں واقع یہ محل دنیا کا منہگا ترین گھر قرار دیا گیا ہے۔ آپ یہ سُن کر مزید جلیے بُھنیے کہ اس محل میں سنیما اور زیرِ زمین نائٹ کلب بھی بنا ہوا ہے۔ ارے توبہ توبہ، محترم ولی عہد کے کردار، دیانت اور نیت پر ذرا بھی شبہہ مت کیجیے۔ ہمارے خیال میں یہ محل انہوں نے تربیت گاہ بنانے کے لیے خریدا ہے، جہاں سعودیوں کو غول درغول بھیجا جائے گا اور تربیت دے کر جدید بنایا جائے گا۔ اگر ایسا نہیں بھی ہے، تو کیا ہوا، بھئی توڑ پھوڑ اور اکھاڑ پچھاڑ سے تھک جانے والے نازک اندام شہزادے کو آرام کی بھی تو ضرورت ہے، سو جب توڑنے پھوڑنے سے نڈھال ہوجائیں گے تو فرانس پرواز کر جائیں گے، پھر تھکن مٹنے کے بعد اپنے والد بزرگوار کو فون کرکے پوچھیں گے، ’ابو ابو! مملکت بچ گئی ہو تو آجاوں؟‘ دیکھیں انہیں کیا جواب ملتا ہے، ملتا بھی ہے یا نہیں۔

ویسے محض یہ سمجھنا بھی غلط ہوگا کہ ولی عہد صاحب صرف توڑتے ہیں، نہیں نہیں وہ بناتے بھی ہیں، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے منہ سے دنیا کے ساتھ تعلقات تک صرف بگاڑنے میں ماہر ہیں، ان سے بھی محمد بن سلمان نے ایسے تعلقات بنائے ہیں کہ امریکی صدر ان پر صدقے واری ہوتے ہوئے کہتے ہیں،’جو چاہے سزا دے لو، تم اور بھی کُھل کھیلو، پر ہم سے قسم لے لو، کی ہو جو شکایت بھی۔‘ لیکن واضح رہے کہ سزا جزا اور کُھل کھیلنے کی اجازت اندرون سعودی عرب اور بیرون مملکت یمن سے شام تک ہے، اسرائیل کی سرحد شروع ہوتے ہی امریکی ’کفیل‘ اپنے سعودی ’رفیق‘ کا یہ اجازت نامہ یا اقامہ منسوخ کردے گا۔

دونوں شخصیات کا تعلق تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن یہ بات عقل میں نہیں سماتی کہ موصوف کی امریکی صدر کے داماد سے دوستی کس کھاتے میں ہے؟ خیر محبت میں تو لیلیٰ کا کُتا بھی پیارا ہوتا ہے، اور یہاں تو بہرحال معاملہ محبوب کے داماد کا ہے۔

معزز شہزادے نے جو دوسری چیز بنائی ہے وہ ’اسلامی فوجی اتحاد‘ ہے۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے، لیکن مخالفین یہ ماننے کو تیار نہیں، جن کا کہنا ہے کہ ولی عہد ہمیں بنا رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اتحاد یہ شعر سُن کر تشکیل دیا گیا ہے،

نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پُل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا

اب اتنا بڑا شہزادہ اور امیر ریاست کا ولی عہد نام بنانے کے لیے پُل، چاہ، مسجد اور تالاب جیسے چھوٹے چھوٹے فیض کے اسباب کیا بناتا، سو اُس نے بھان پتی کا کنبہ جوڑ کر فوج بنا ڈالی۔ اب پتا نہیں اس فوج سے فیض کسے حاصل ہوتا ہے۔

دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے پر لبنانی فوج کا حملہ

 

لبنانی فوج نے ایک بیان میں عرسال کے علاقے وادی العوینی میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے پر ہوائی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں دہشت گردوں کا بہت سا فوجی سازوسامان اور گولہ بارود تباہ ہو گیا جبکہ بہت سے دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

لبنانی فوج نے اس سے قبل عرسال کے علاقے میں داعش کے ایک سرغنہ فائز الشعلان کی کہ جو ابوالفوز کے نام سے مشہور تھا، ہلاکت کی خبر دی تھی۔

لبنان کا عرسال علاقہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور داعش اور جبہۃ النصرہ کے دہشت گرد اس علاقے کی سرحدی پٹی میں موجود ہی

امریکہ واپس جائوتحریر ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
   
یہ وہ نعرہ ہے جو دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں گونجتا رہتا ہے ۔امریکہ کا اپنا منصوبہ اپنی پالیسی ہے جو کسی دھرنے ، جلسے جلوس اور مظاہرے سے متاثر نہیں ہوتا ۔اس کا کاروبار چھوٹے ملکوں کو حفاظت فراہم کرنا  اور ہتھیار پیچنا ہے ۔یو این او سلامتی کونسل ، ریڈ کراس اور ہیومن رائٹ کے دفاتر امریکہ میں موجود ہیں ۔ یہ سب ایجنسیاں اپنا کام کرتی ہیں اور امریکہ اپنا ۔ دنیا میں امن قائم رہے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اس کے لئے امریکہ ہمیشہ تیار رہتا ہے اس کہاوت کے ساتھ کہتا ہے کہ اندحا بانٹے ریوڑی اپنے اپنے کو دے ۔

 تحریر: رشید احمد صدیقی
 یو ایس ایڈ کی پاکستان میں سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ مزید برآں اس کے ذیلی ادارے سیو دی چلڈرن جس کو اب ڈاکٹر شکیل آفریدی کا سرپرست ادارہ کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں حقیقت یہ ہے کہ یہ قبائلی علاقوں میں اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ بچوں کی مدد کے نام پر اس نے سینکڑوں ملازم رکھے ہوئے ہیں اور آگاہی کے نام پر عام لوگوں پر پیسہ پانی کی طرح خرچ کر رہا ہے۔ یہ لوگ پولیو کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں اور قبائلی علاقوں کے دور دراز دیہات میں بہت بڑی رقم خرچ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرات پلواتا ہے۔ شکیل آفریدی نے ان قطرات کی آڑ میں اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب آپریشن کے لیے امریکہ کی مدد کی تھی

خیبر پختونخوا میں غیر سرکاری عید کے دن یعنی 20 اگست کو آدھی رات کے وقت شدت پسندوں کا ایک گروہ جس کی تعداد میڈیا میں نو بتائی گئی، نے پاک فضائیہ کے کامرہ اڈے میں داخل ہو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی اور سب کے سب مارے گئے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں فضائیہ کے ایک اہلکار شہید ہوگئے۔ چند ہی روز بعد 31 اگست کو پشاور کے مضافاتی علاقہ متنی کے اطلس بازار میں ایک زور دار دھماکہ میں 12 افراد شہید ہوگئے۔ دھماکہ شمالی وزیرستان کے ایک پولیٹکل تحصیلدار ہاشم گل کی گاڑی میں نصب بم کی وجہ سے ہوا، جس میں وہ اپنے تین قریبی ساتھیوں سمیت جان بحق ہوگئے۔

اس کے بعد تین ستمبر کو پشاور کے پوش علاقہ یونیورسٹی ٹائون میں اقوام متحدہ کے شعبہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر کے سامنے ایک دھماکہ ہوا، جس میں چار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان میں دو امریکی اہلکار شامل تھے، جس کی اطلاع صوبائی وزیر اطلاعات نے میڈیا کے لوگوں کو دی، لیکن بعد میں امریکی سفارت خانہ کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری ہوا کہ ان کا کوئی بھی اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔

اس کے اگلے روز حکومت پاکستان نے امریکہ کی بین الاقوامی این جی او، یو ایس ایڈ کے ذیلی ادارے سیو دی چلڈرن کے چھ کارکنوں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا۔ ان پر الزام تھا کہ یہ امداد کی آڑ میں پاکستان میں سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ یہ وہی ایجنسی ہے جس کے ساتھ مشہور یا بدنام زمانہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا تعلق ہے، اور جو شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلق کے الزام میں ایف سی آر کے تحت 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ لیکن ان کا اصل کارنامہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی اطلاع امریکہ کو دینا ہے۔

ان کے اس کارنامہ کی بنیاد پر امریکہ نے کارروائی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب آپریشن کیا اور ڈاکٹر شکیل آفریدی اس انعام کے حق دار ٹھہرے جو امریکہ نے اسامہ بن لادن کے سر کی مقرر کرنے کی قیمت کی صورت میں مقرر کیا تھا، لیکن اپنا بہت بڑا انعام حاصل کرنے سے پہلے وہ پاکستانی حکام کے ہتھے چڑھ گئے۔ اب امریکہ ریمنڈ ڈیوس کی طرح ان کی رہائی اور امریکہ میں ان کے استقبال اور وہاں کے غالباً سب سے بڑے انعام سے نوازنے کی تیاری کر رہا ہے۔

درج بالا واقعات اگر نہ ہوئے ہوتے تو پاکستان کے سول حکمرانوں کے وہ دعوے درست ہوتے کہ پاکستان میں دھماکے کرنے والے عناصر کی ہم نے کمر توڑ دی ہے۔ یہ مٹھی بھر لوگ اب غاروں میں چھپ رہے ہیں اور بقول سینئیر صوبائی وزیر بشیر بلور وہ آگے اور ہم ان کے پیچھے ہیں۔ بلور صاحب کی بات درست، لیکن معکوس ہے، اس لیے کہ ہماری وہ سیاسی قیادت جو دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، اصل میں وہ آگے اور دہشت گرد ان کے پیچھے ہیں اور یہ بیرون ملک یا اسلام آباد کے ایوانوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

کامرہ کا واقعہ ماضی کے واقعات سے نسبتاً ہٹ کر تھا۔ ہم چونکہ حالت جنگ میں ہیں اور جنگ میں سچی خبریں حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں میدان جنگ سے خبریں جاری کرنے والے اداروں کی خبروں پر ہی انحصار کیا جاتا ہے چنانچہ سرکاری خبروں میں تمام حملہ آور دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر تھی۔ اگر تمام حملہ آوروں کے مارے جانے کی خبر درست ہے تو واقعی ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے، لیکن وہ ظالم کارروائی کے ساتھ ویڈیو بھی جاری کرتے ہیں، اگرچہ کافی بعد میں، جس میں ان خبروں کی قلعی کھل جاتی ہے، جو سرکاری ادارے جاری کرتے ہیں۔

کامرہ حملہ کی ویڈیو ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے اور شائد کبھی آئے بھی نہ، لیکن افغانستان کے اندر سے اس قسم کی ویڈیو کافی جاری ہوئی ہیں، جس کے بارے میں سرکاری خبر حملہ آوروں کے مارے جانے کی ہوتی ہے، لیکن ویڈیو میں جو تباہی دکھائی گئی ہوتی ہے، اس میں اتحادی افواج کا جانی و مالی نقصان کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر کامرہ حملہ کو بھی اس طرح محمول کیا جائے تو دہشت گردوں کی طاقت کے بارے میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی کمر ابھی نہیں ٹوٹی ہے اور وہ خاصے طاقتور ہیں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے ادارے ان کے منبع اور سرچشمے کیوں کر معلوم نہیں کر پا رہے ہیں۔

متنی دھماکہ میں شمالی وزیرستان کے پولیٹیکل تحصیلدار کا بمعہ اہل خانہ مارا جانا، اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہدف کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جہاں ان کے لیے ممکن ہو اپنی کارروائی کرتے ہیں۔ وہ اس بات کی ذرا بھر پروا نہیں کرتے کہ ان کے حملے میں ہدف کے علاوہ عام لوگ بالخصوص معصوم بچے بھی جان سے ہاتھ دھوتے ہیں۔ یونیورسٹی ٹائون کے دھماکے میں بھی یہ بات عیاں ہے کہ اس کا کامیاب نشانہ امریکی اہل کار تھے۔ پاکستان میں اکثر یہ لوگ مکمل حفاظت میں کام کرتے ہیں اور ان کا لباس اور گاڑیاں مکمل طور پر بم پروف اور بلٹ پرووف ہوتی ہیں، لیکن تین ستمبر کے دھماکہ میں بم اور بلٹ پروف گاڑی تباہی سے نہ بچ سکی۔ اس سے دہشت گردی کی قوت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

یو ایس ایڈ کی پاکستان میں سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ مزید برآں اس کے ذیلی ادارے سیو دی چلڈرن جس کو اب ڈاکٹر شکیل آفریدی کا سرپرست ادارہ کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں حقیقت یہ ہے کہ یہ قبائلی علاقوں میں اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ بچوں کی مدد کے نام پر اس نے سینکڑوں ملازم رکھے ہوئے ہیں اور آگاہی کے نام پر عام لوگوں پر پیسہ پانی کی طرح خرچ کر رہا ہے۔ یہ لوگ پولیو کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں اور قبائلی علاقوں کے دور دراز دیہات میں بہت بڑی رقم خرچ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرات پلواتا ہے۔ شکیل آفریدی نے ان قطرات کی آڑ میں اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب آپریشن کے لیے امریکہ کی مدد کی تھی۔

چھ ستمبر کو چھ امریکی اہلکاروں کے پاکستان بدر کیے جانے کے علاوہ ان لوگوں کو مکمل آزادی حاصل تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے یو ایس ایڈ اور سیو دی چلڈرن پر پابندی کافی پہلے لگوائی جاتی، لیکن معاملہ چونکہ امریکہ کا ہے اس لیے چھ ستمبر کی کارروائی کا دیر آید درست آید کے مصداق خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ ان حالات میں ہمارا مشورہ ہوگا کہ دہشت گردوں کو مٹھی بھر قرار دینے کی رٹ اب چھوڑ ہی دینی چاہیے اور ان کی کمر توڑ دی گئی ہے، کے اعلانات بھی چھوڑ دینے چاہیے اور سنجیدہ انداز میں ان کی قوت کا ادراک کرتے ہوئے، قومی مفاد میں فیصلے کئے جانے چاہیے اور پالیسیوں میں تبدیلی آنی چاہیے۔


 شامی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ترک حکومت نے دہشتگردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور انہیں اپنے فوجی اڈوں میں ٹریننگ دے کر شام کے اندر دراندازی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

 شام کی وزارت خارجہ نے ترکی کی جانب سے دمشق حکومت پر دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دینے کے الزام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان ایسے عالم میں حکومت دمشق پر الزام لگا رہے ہيں کہ وہ خود اور ان کی حکومت، شام کے عوام کے خلاف کھلے عام دہشتگردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترک حکومت نے دہشتگردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور انہیں اپنے فوجی اڈوں میں ٹریننگ دے کر شام کے اندر دراندازی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے رجب طیب اردوغان کو دمشق انقرہ تعلقات کے بحرانی ہونے کا سبب قرار دیا اور تاکید کی کہ وہ اپنے کینہ پر مبنی بیانات کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہيں کہ ابھی شام کو تباہ اور عوام کا خون بہانے سے سیراب نہيں ہوئے ہیں۔

عامرہ احسان (سابق ایم این اے)
کیا امریکی فوجی مشرقی سرحد پر بھارتی شرانگیزیوں کا جواب دینے کو بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہو گا۔ کیا بھارت کیخلاف کشمیر کی آزادی کیلئے بھی پیٹریاس بہادر اسی طرح ہمارا ساتھ دینگے جسے وہ قبائل کیخلاف جنگ میں ہمارے ساتھ ہیں اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ ہماری کامیابیوں کی تعریف فرما رہے ہیں۔ ہم سے مزید فوجی سازوسامان کے وعدے کر رہے ہیں‘ افواج پرائی جنگ میں جھونک کر ادھر ہم مائیں، بیٹیاں مارتے رہیں، گھر تباہ کرتے رہیں۔ طالبان القاعدہ کی پناہ گاہ کہہ کر کسی بھی گھر، مدرسے، مسجد کو گرایا جا سکتا ہے۔ شہروں میں انہی ناموں کی آڑ میں بہترین سیرت و کردار کے حامل نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کرکے معزز خاندانوں کو خوار و زار کرنے میں عار نہیں سمجھا جا رہا۔ ملک بحرانوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ سارا ملبہ ملک کے غریب عوام اور شرفا پر پڑ رہا ہے۔ ’’وار ٹیکس‘‘ کے نام سے ایک نئی چھری تیز کی جا رہی ہے۔ ہمارے ہی خلاف جنگ ہمارے ہی پیسے سے لڑی جائیگی؟

عامرہ احسان (سابق ایم این اے)
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر اسرائیل نے ببانگ دہل تشویش کا اظہار فرمایا ہے۔ ہمیں اس تشویش پر شدید تشویش ہونی چاہئے۔ اندازہ کیجئے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس مغربی ممالک (جن کی دہشت گردی کے چرکے سہتے مسلم دنیا کو آٹھ سال ہو گئے) کے ہوتے ہوئے نیز خود اسرائیل نے چیونٹی کی طرح اپنی مملکت کے وزن سے کئی گنا ایٹمی ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ ایسے میں کانفرنس منعقد کر کے پاکستان کے ہتھیاروں پر تفتیش و تشویش بھری ہرزہ سرائی کیا معنی رکھتی ہے۔ کانفرنس کا عنوان ملاحظہ فرمائیے۔ اسلامی ممالک میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش، مقبوضہ بیت المقدس میں منعقدہ اس کانفرنس میں اسرائیلی صدر فرماتے ہیں ’’غلبے کی خواہش اور ایٹمی ہتھیاروں کا ایک جگہ جمع ہونا خطرناک ہے‘‘ امریکہ کی کالونی بنا پاکستان اور غلبے کی خواہش؟ تسلی رکھیئے جناب! فی الوقت تو پاکستان ویلنٹائن ڈے منا کر فارغ ہوا ہے۔ بسنت کی تیاری میں ہے۔ اسلام آباد کو میوزیکل سٹی بنانے کی خواہش میں امریکی سفارتخانے کے تعاون سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو نیویارکی براڈوے تھیٹر (امریکی ہیرا منڈی) طرز کے مخلوط ناچ کی ’’شاندار پیش کش‘‘ کا خمار ابھی نہیں اترا۔

 "صیہونیزم" انیسویں صدی کے آخر میں "تھئوڈور ہرٹزل" نامی ایک یہودی مفکر کی جانب سے دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنے اور وہاں پر ان کیلئے ایک خودمختار ریاست قائم کرنے کے ہدف سے معرض وجود میں آیا۔ اس مکتب فکر کے مطابق ہدف وسیلے کو جائز بنا دیتا ہے باین معنا کہ ہر وہ فعل جو ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جائز ہے چاہے دینی اور عقلی حوالے سے قابل مذمت ہی کیوں نہ ہو۔ ہرٹسل پہلے اس مقصد کی خاطر عثمانی خلافت کے سربراہ سلطان عبدالحمید کے پاس گیا لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ عثمانی خلیفہ سے مایوسی کے بعد اس نے برطانیہ کا رخ کیا اور برطانوی حکومت کو یہودی ریاست کے قیام کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا۔ دوسری جنگ عظِم میں خلافت عثمانی کے خاتمے کے بعد ہرٹسل نے فلسطین میں ایک یہودی ایجنسی قائم کی جس کو برطانیہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ برطانیہ نے رسمی طور پر اس ایجنسی کو دنیا کے تمام یہودیوں کی نمائندہ جماعت قرار دیا جس کے نتیجے میں ساری دنیا کے یہودیوں نے اس ایجنسی کی مدد سے فلسطین کا رخ کیا۔ تھوڑی مدت کے بعد اس ایجنسی کی زیر نگرانی یہودیوں کی حفاظت کے بہانے مسلح گروپس بننا شروع ہو گئے۔ یہ گروپس فلسطین میں یہودی مہاجرین کی حفاظت کو اپنا فرض ظاہر کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان گروپس نے فلسطینی مسلمانوں پر حملے کرنا شروع کر دیئے۔ یہ گروپس نظریاتی حوالے سے ایکدوسرے سے اختلافات رکھتے تھے لیکن سب کا ہدف ایک تھا اور وہ یہودیوں کے مفادات کی حفاظت کرنا تھا۔