دین اسلام نے نہ صرف خوش رہنے کے لئے منع نہیں کیا بلکہ آیات اور روایات میں زندگی کو خوشی کے ساتھ گزارنے کی بہت زیادہ تأکید کی گئی ہے۔

عید غدیر…۔۔ تمدنی پہلو
 مقام خم میں اگلوں کو پیچھے جبکہ پچھلوں کا انتظار کرنا، کیا یہ سب اتفاقی تھا؟ پھر ایک بڑے انتظام کے بعد گرمی کی اس شدت میں، پہلے اپنی ولایت کا اقرار لینا اور پھر علی ؑ کو بلند کرکے لوگوں کے سامنے لانا، کیا یہ سب فقط اسلئے تھا کہ رسول خدا (ص) فقط یہ بتانا چاہتے تھے کہ "جس جس کا میں دوست ہوں، آج سے علی ؑ بھی اسکے دوست ہیں؟ اور پھر موقع پر تمام صحابہ اکرام (رض) کا علیؑ کو مبارک دینا، کیا دوستی کے سبب تھا؟ لمحہ فکریہ ہے کہ انتے سال گزرنے کے باوجود بھی امت مسلمہ نے غدیر کو اس زاویے سے کیوں نہ سوچا۔ اس کے دو سبب ہوسکتے ہیں یا تو واقعہ غدیر امت مسلمہ کی نظر مورد اہمیت ہی نہیں یا پھر آج تک غدیر کے معاملے میں خیانت سے کام لیا گیا ہے۔ آخر مین یہ کہتا چلو کہ یاد رکھو کہ امت اسلامیہ کی تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف غدیر میں ہی ہے۔
 

تحریر: اشرف سراج گلتری
این آدرس ایمیل توسط spambots حفاظت می شود. برای دیدن شما نیاز به جاوا اسکریپت دارید


تمدن یعنی مل جل کر رہنا، تعلقات انسانی کو نبھانا۔ تخلیق کائنات سے ہی اللہ تعالٰی نے کائنات کی تمام مخلوقات کو جوڑا جوڑا خلق فرما کر ایک تمدنی مرکز قائم کیا اور آدم (ع) کو اسی کی مرکزیت عطا کی۔ لہذا ایک مسلمان اپنے تمدں و فرھنگ میں مطلق العنان نہیں ہے بلکہ وہ اپنے خالق کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ اسی لئے خداوند متعال نے اپنے خاص لطف سے انسان کی عملی رہنمائی کے لئے حضرت آدم (ع) کو تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ ابتداء انسان سے لے کر ہر دور میں چاہے ایک مختصر سا گروہ ہی سہی، مگر اس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے خدا نے ایک نمونہ عمل خلق کیا ہے۔ یاد رہے کہ خدا کی یہی سنت حضرت آدم (ع) سے لے کر حضرت خاتم (ص) کے نظام ہدایت میں جاری و ساری رہی۔ حتٰی کہ ہر زمانے میں خداوند متعال نے جو بھی نبی مبعوث کیا، حتماً اسکے کے بعد اس کے لئے اس کا جانشین بھی قرار دیا، تاکہ اس نبی کے بعد اسکی امت بے وارث و بے یار ومددگار نہ رہے۔ خداوند متعال کی یہ روش فقط سابقہ  ادیان کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ اس کی یہ سنت اسلام میں بھی کارفرما ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی یہ سنت باقی ادیان میں تو ہو، مگر دین اسلام میں یہ سنت باقی نہ رہی ہو، بلکہ جانشین و رہبر کی جتنی ضرورت حضرت خاتم (ص) کے بعد کے زمانے کو تھی، شاہد ہی ایسی ضرورت کسی اور زمانے میں پیش آئی ہو، کیونکہ حضرت خاتم (ص) کے بعد دین کے اکمال کا مرحلہ تھا۔ کیونکہ اسلام ایک کامل ضابطہ حیات ہونے کے ناطے عالمگیر حاکمیت کا بھی خواہاں ہے اور جب اسلام نے انسان کی رہبری کی ذمہ داری اٹھائی ہے تو ضروری ہے کہ اسلام کے قوائد و ضوابط کے نفوذ کے لئے ایک مرد کامل موجود ہو۔

اب یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایک ناقص کسی کامل کا انتخاب نہیں کرسکتا تو پھر یہ کسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کہ جو خود ہدایت و رہنمائی کے محتاج ہیں، وہ اپنے لئے کسی مناسب ہادی و رہنما کا انتخاب کریں اور اگر ایسا ہوتا بھی تو یہ ہرگز ممکن نہیں تھا کہ چند افراد کے انتخاب پر تمام امت کا اتفاق ہوتا، کیونکہ فطرتاً ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ لہذا اس بناٗ پر امت میں بعد از رسول (ص) رہبر و جانشین کے انتخاب کی ذمہ داری یا تو خود رسول اکرم (ص) کے ذمہ تھی یا پھر حاکم شارع خود خداوند متعال کے ذمہ۔ جبکہ صاحبان قرآن اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ رسول خدا (ص) نے اپنی پوری زندگی میں اپنی مرضی سے نہ ہی کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی کبھی اپنی مرضی سے کوئی کلام کیا۔ لہذا اس بنا پر فقط ایک ذات یعنی ذات خدا وندی ہی ہے کہ جو بعد از رسول خدا (ص) انسانوں کے لئے مناسب رہنما کا انتخاب کرے۔ تاریخ سے آشنائی رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں یہ کام خود خدا وند متعال نے ہی اپنے رسول (ص) کے توسط سے مقام غدیر خم میں انجام دیا کہ جس پر اکثر علماء اسلام کا اتفاق ہے۔ اس پر قرآن کی صریح آیت (یاایھا الرسول بلغ ما انزل۔۔۔۔۔۔) دلالت کر رہی ہے اور وہ مسئلہ، مسئلہ رہبر و امامت ہی تھا کہ جس کی خاطر خداوند متعال نے اپنے حبیب سے اس لہجے مین بات کی کہ اے رسول (ص) اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا اپنی تمام رسالت کو انجام نہیں دیا اور یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کو پہچاننے و سمجھنے میں امت مسلمہ نے خطا کی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تمام واقعہ کہ جو مقام خم میں رونما ہوا، آیا کیا وہ تمام کا تمام اتفاقی تھا؟ اور اس  واقعہ سے پہلے رسول خدا (ص) کا تمام علاقائی و قبائلی سرداروں کو خطوط لکھ کر اس سال حج کی دعوت دینا، آیہ غدیر کا نازل کا ہونا، مقام خم میں اگلوں کو پیچھے جبکہ پچھلوں کا انتظار کرنا، کیا یہ سب اتفاقی تھا؟ پھر ایک بڑے انتظام کے بعد گرمی کی اس شدت میں، پہلے اپنی ولایت کا اقرار لینا اور پھر علی ؑ کو بلند کرکے لوگوں کے سامنے لانا، کیا یہ سب فقط اسلئے تھا کہ رسول خدا (ص) فقط یہ بتانا چاہتے تھے کہ "جس جس کا میں دوست ہوں، آج سے علی ؑ بھی اسکے دوست ہیں؟ اور پھر موقع پر تمام صحابہ اکرام (رض) کا علیؑ کو مبارک دینا، کیا دوستی کے سبب تھا؟ لمحہ فکریہ ہے کہ انتے سال گزرنے کے باوجود بھی امت مسلمہ نے غدیر کو اس زاویے سے کیوں نہ سوچا۔ اس کے دو سبب ہوسکتے ہیں یا تو واقعہ غدیر امت مسلمہ کی نظر مورد اہمیت ہی نہیں یا پھر آج تک غدیر کے معاملے میں خیانت سے کام لیا گیا ہے۔ آخر مین یہ کہتا چلو کہ یاد رکھو کہ امت اسلامیہ کی تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف غدیر میں ہی ہے۔

امام جواد (ع) کا زمانہ، امامت کا سخت اور کٹھن دور
  امام (ع) کا مسکن مدینہ تھا لیکن دو خلفاء کے کہنے پر بغداد کے سفر پر گئے اور معتصم کے دور میں آپ (ع) کا سفر بغداد آپ (ع) کی شہادت پر تمام ہوا۔ آپ (ع) ایک دفعہ مامون کی درخواست پر سنہ 214 (یا 215) ہجری میں بغداد گئے اور وہاں مختصر سا قیام کرنے اور بعض مشہور علماء اور فقہاء کے ساتھ ایک علمی مناظرے میں شرکت اور مامون کی بیٹی سے شادی کرنے کے بعد حج کے ایام میں مدینہ واپس چلے گئے؛ لیکن معتصم عباسی کے دور میں جب بغداد گئے تو کچھ عرصے تک وہیں قیام کیا اور دربار میں علماء و فقہاء و دیگر کے ساتھ مختلف موضوعات پر مناظرے کئے۔ امام محمد تقی علیہ السلام کا دور تاریخ امامت کے سخت اور دشوار ترین ادوار میں سے ایک ہے، لیکن آپ نے تمام تر سیاسی، علمی اور فکری میدانوں میں مقابلہ کیا اور دشمن کو شکست فاش دینے کے ساتھ مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت کی۔
 

تحریر: محمد جان حیدری

امام رضا (ع) سنہ 203 ہجری میں شہید ہوئے، اس موقع پر آپ (ع) کے فرزند امام محمد تقی (ع) کی عمر آٹھ سال سے زیادہ نہ تھی، آپ منصب امامت کے عہدے دار ہوئے۔ امام تقی (ع) کی کمسنی، شیعیان آل رسول (ص) کے درمیان اختلافات کا سبب بنی اور کچھ لوگ امام رضا (ع) کے بھائی عبداللہ ابن موسٰی بن جعفر کی طرف گئے، لیکن چونکہ وہ کسی دلیل کے بغیر کسی کی امامت قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے، چنانچہ انھوں نے عبداللہ سے بعض سوالات پوچھے اور جب انہیں جواب دینے میں عاجز اور بے بس پایا تو انہیں چھوڑ گئے۔ کچھ افراد واقفیوں سے جا ملے۔ نوبختی کے بقول اس اختلاف کا سبب یہ تھا کہ وہ بلوغ (بالغ ہونا) کو شرط امامت سمجھتے تھے۔[1)] تاہم زیادہ تر شیعہ کم سنی کے باوجود امام محمد تقی علیہ السلام کی امامت کے قائل ہوئے، اگرچہ بعض افراد امام (ع) کی کم سنی کو زیر بحث بھی لاتے تھے اور امام (ع) ان کا جواب دیتے ہوئے بچپن میں ہی جناب سلیمان کی جانشینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت "داؤد" نے سلیمان کو اپنا جانشین مقرر کیا جبکہ سلیمان ابھی طفل ہی تھے اور بھیڑ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے۔[2)]

امام جواد (ع) بچپنے میں منصب امامت پر فائز ہوئے تو بغداد اور دوسرے شہروں سے ایک جماعت نے موسم حج میں امام جواد (ع) کا دیدار کرنے کی غرض سے مدینہ کا رخ کیا اور امام صادق (ع) کے گھر میں (جو خالی تھا) جاکر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر امام (ع) کے چچا عبداللہ ابن موسٰی ابن جعفر داخل ہوئے اور حاضرین نے ان سے بعض سوالات پوچھے اور عبداللہ صحیح جواب دینے سے عاجز رہے، چنانچہ سب حیران اور مغموم ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد امام جواد (ع) تشریف لائے اور انھوں نے وہی سوالات امام (ع) سے پوچھے تو آپ (ع) نے مکمل اور صحیح جوابات دیئے۔ حاضرین جوابات سننے کے بعد مسرور ہوئے، امام (ع) کو دعائیں دیں اور آپ (ع) کی تعریف و تمجید کی۔(3)] آپ (ع) کا دور امامت دو عباسی خلفاء کے ہم عصر تھا۔ پہلا خلیفہ مامون (حکومت:193 تا 218 ہجری) تھا اور امام (ع) کی عمر کے 23 سال اسی کے دور میں گذرے؛ دوسرا عباسی خلیفہ معتصم تھا اور امام (ع) کے عمر کے آخر دو برس اس کے دور میں گذرے۔

امام (ع) کا مسکن مدینہ تھا لیکن دو خلفاء کے کہنے پر بغداد کے سفر پر گئے اور معتصم کے دور میں آپ (ع) کا سفر بغداد آپ (ع) کی شہادت پر تمام ہوا۔ آپ (ع) ایک دفعہ مامون کی درخواست پر سنہ 214 (یا 215) ہجری میں بغداد گئے اور وہاں مختصر سا قیام کرنے اور بعض مشہور علماء اور فقہاء کے ساتھ ایک علمی مناظرے میں شرکت اور مامون کی بیٹی سے شادی کرنے کے بعد حج کے ایام میں مدینہ واپس چلے گئے؛ لیکن معتصم عباسی کے دور میں جب بغداد گئے تو کچھ عرصے تک وہیں قیام کیا اور دربار میں علماء و فقہاء و دیگر کے ساتھ مختلف موضوعات پر مناظرے کئے۔ امام محمد تقی علیہ السلام کا دور تاریخ امامت کے سخت اور دشوار ترین ادوار میں سے ایک ہے، لیکن آپ نے تمام تر سیاسی، علمی اور فکری میدانوں میں مقابلہ کیا اور دشمن کو شکست فاش دینے کے ساتھ مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت کی۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
(1) : طبری، دلائل الامامة، ص204 تا 206۔
(2) : ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص380
(3) : مجلسی، بحار الانوار، ج50، ص98 تا 100۔
(4): شیعہ ویکی پیڈیا

 

سیاست علوی (ع) نھج البلاغہ کے آئینہ میں

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیاست  عدالت ، حریت وآزادی اور ہدایت بشریت کے کلیدی اور ٹھوس اصولوں پر مبنی تھی ہم ذیل میں سیاست علوی کے تین بنیادی اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں

 

فلسفہ معراج رسول اعظم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

قرآن اور فلسفہ معراج:
قرآن حکیم کی متعدد آیات  میں فلسفہ معراج کی طرف اشارہ کیا ہے  پہلی سورۃ بنی اسرائیل ہے اس میں اس سفر کے ابتدائی حصے کا تذکرہ ہے ۔ یعنی مکہ کی مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجدِ الاقصیٰ تک کا سفر۔

 

بعثت پیامبر ص کے اھداف ومقاصد

 ۱۔ انسان سازی :
بعثت پیمبر ص کا بنیادی ھدف انسان کی انفرادی زندگی میں انقلاب اور تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ اس بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سورہ آل عمران کی آیہ 164 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے

مغربی نظریہ، تاریخ کا اختتام اور نظریہ مہدویت
یہودی تہذیب اور عیسائی تہذیب ہمیشہ ایک دوسرے کے مد مقابل رہے، یہ سلسلہ جاری رہا اور یہاں تک کہ ایک دور ایسا آیا جب اللہ نے اپنے آخری بنی