27 مارچ ۲۰۱5 کو ipc  گلتری  شعبہ قم کی نئی کابینہ کا اتخاب عمل میں آیا جس کےء مطابق جناب آقای محمد شریف راغب اکثریت راے کے ساتھ ایک سال کے لیے صدر اور حجت الاسلام و المسلمین علی محمد جوادی نایب صدر منتخب ہوءے

انہوں نے لبنان کے دار الحکومت بیروت میں مزاحمت کے شہید کمانڈروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد پروگرام سے خطاب میں کہا کہ داعش سے صرف صیہونی حکومت کو خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزاحمت کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شہیدوں کی یاد ہمیشہ زندہ رکھنی چاہئے اور ہر دن اور ہر گھنٹے ان سے وفاداری کا سبق سیکھنا چاہئے.

 


سید حسن نصر اللہ نے لیبیا میں داعش کے ہاتھوں مصر کے قبطی عسیائیوں کے سر قلم کئے جانے کے المیے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر انسانی قدم کسی بھی مذہب و منطق میں قابل قبول نہیں ہیں،ہم اس مصیب پر تمام افراد کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے شہدائے مزاحمت کی قربانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہداء ہماری استقامت و کامیابی کے مظہر ہیں۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے جد جہد میں قومی اسٹراٹیجی کا تقاضہ ہے کہ فوج، پولیس اور قانون فافذ کرنے والے ادارے شریک ہوں اور اس مسئلے کے بارے میں گفتگو بھی ہونی چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے جد جہد کا مسئلہ اگر چہ تاخیر سے تھا لیکن قابل قبول ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس شروعات میں دہشت گردوں نے لبنانی سرحدوں پر حملہ کیا تو بعض افراد کو یہ توقع تھی کہ حزب اللہ اور حرکت امل کے جوان میدان میں آ جائیں گے، ہم بقاع کے عوام سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ توقع صحیح نہیں ہے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہمیشہ فوج کو کرنا چاہئے۔
سید حسن نصر اللہ نے داعش کے خود ساختہ خلیفہ کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے لئے اپنے امیر کی تقریری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعش کا اصل ہدف، مکہ اور مدینہ ہے نہ کہ بیت المقدس۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب کے حکام کو اس بارے میں غور وفکر کرنا چاہئے، ابھی داعش نے مکہ اور مدینہ کے لئے اپنا امیر معین کیا ہے، یہ علاقے کی تمام حکومتوں اور قوموں کے لئے شدید خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے متحد ہونا بہت ضروری ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آج صیہونی حکومت کے علاوہ پوری دنیا داعش کے خطرے کو محسوس کر رہی ہے کیونکہ داعش جو بھی عمل انجام دیتا ہے وہ سب اسرائیل کے مفاد میں ہوتا ہے۔

 

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے ایک بیان میں پاکستان کے شہر پشاور میں فوجی اسکول پرطالبان کے بہیمانہ اور بزدلانہ حملہ میں بےگناہ بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئےاس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے اسلامی، انسانی اور اخلاقی اقدار کے خلاف قراردیا ہے۔ ترجمان نے غمزدہ اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار رکرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے موزیانہ اور گمراہ کن فکر ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ سے قبل اس فکر کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ ترجمان نے اس المناک سانحہ پر پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے اپنے دورۂ بیروت میں لبنان کے وزیراعظم تماّم سلام، پارلیمانی اسپیکر نبیہ بری، وزیرخارجہ جبران باسیل، سابق صدر میشل سلیمان سمیت مختلف دیگر حکام و اہم شخصیات سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔

حسین (ع) نے کمال ازلی اور حسن حقیقی کا نظارہ اپنے نانا کی گود میں بیٹھ کر کیا۔ وہ نانا جو اس کمال ازلی کا شاہد اور نمائندہ تھا۔ حسین (ع) بچپن سے ہی عاشق حسن حقیقی تھا۔ اپنے محبوب کی رضا کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ، اپنی کل متاع قربان کر دی، تاکہ اس کا محبوب اس سے راضی ہو جائے اور حسین (ع) کے ساتھی اس سفر میں پورے شعور کے ساتھ ان کے ہمراہ تھے۔ حسین (ع) اور ان کے ساتھی محبوب حقیقی کی رضا کے لئے عشق حقیقی کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ اب جب کوئی حسین (ع) سے محبت کرتا ہے تو وہ درحقیقت حسین (ع) سے نہیں بلکہ حسن حقیقی سے محبت کر رہا ہے۔ جی ہاں، حسین (ع) مکتب عشق کا سرخیل ہے۔ حسین (ع) آئینہ حق ہے۔ حسین (ع) کی جانب سفر کسی انسان کی جانب سفر نہیں بلکہ اس کی جانب سفر ہے، جس کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔


یہ سفر حسین (ع) نہیں بلکہ حسن ازلی کی جانب ہے، کمال کی جانب ہے۔ دوسرے سفروں اور اس سفر میں فرق یہ ہے کہ یہ شوق کا سفر ہے، اس میں ثواب کا لالچ یا عذاب کا خوف نہیں بلکہ عشق ہے۔ جنون ہے۔ تبھی تو دھماکے، دہشت گردی، سفری صعوبتیں معنی نہیں رکھتیں۔ یہ احساس ہر وقت انسان کو سرگرم رکھتا ہے کہ میری منزل حسین (ع) کا وصال یعنی حسن ازلی کا وصال ہے۔ اے اللہ! ہم سب کو اپنے محبوب بندے حسین (ع) کا عشق عنایت فرما۔ ہمیں سوئے حسین (ع) سفر کی توفیق عنایت فرما اور ہمیں ان کا وصال نصیب فرما۔ (آمین.سید اسد عباس تقوی) حسین (ع) نے کمال ازلی اور حسن حقیقی کا نظارہ اپنے نانا کی گود میں بیٹھ کر کیا۔ وہ نانا جو اس کمال ازلی کا شاہد اور نمائندہ تھا۔ حسین (ع) بچپن سے ہی عاشق حسن حقیقی تھا۔ اپنے محبوب کی رضا کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ، اپنی کل متاع قربان کر دی، تاکہ اس کا محبوب اس سے راضی ہو جائے اور حسین (ع) کے ساتھی اس سفر میں پورے شعور کے ساتھ ان کے ہمراہ تھے۔ حسین (ع) اور ان کے ساتھی محبوب حقیقی کی رضا کے لئے عشق حقیقی کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ اب جب کوئی حسین (ع) سے محبت کرتا ہے تو وہ درحقیقت حسین (ع) سے نہیں بلکہ حسن حقیقی سے محبت کر رہا ہے۔ جی ہاں، حسین (ع) مکتب عشق کا سرخیل ہے۔ حسین (ع) آئینہ حق ہے۔ حسین (ع) کی جانب سفر کسی انسان کی جانب سفر نہیں بلکہ اس کی جانب سفر ہے، جس کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔جب عشق سر چڑھ کر بولنے لگے تو پھر کمال کا یہ شیدائی اہل خرد کو اجنبی سا لگنے لگتا ہے۔ اس کے کام، اس کی حرکات سب عجیب سی لگتی ہیں۔ بھلا پیدل جانے کی کیا ضرورت ہے، جب گاڑیاں اور دیگر سفری سہولیات دستیاب ہیں۔ اربعین پر ہی کیوں، سال میں کسی ایسے وقت جاؤ جب وہاں رش نہ ہو۔ اگر جانا ہی ہے تو بچوں اور خواتین کو کیوں لے جاتے ہو؟ سیاہ لباس کیوں پہنتے ہو؟ دیوانوں سی حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ طرح طرح کے سوالات، طرح طرح کی باتیں۔ بابا تم حسین (ع) کو کیا سمجھتے ہو؟ کیا تم نے کبھی حسین (ع) کو حسن حقیقی کی جلوہ گاہ کے طور پر دیکھا ہے؟ حسین (ع) فقط ایک مذہبی راہنما یا سیاسی لیڈر ہوتا تو قطعاً وہ نہ کرتا جو اس نے کربلا میں کیا۔ ہر انسان کے پاس اس سفر کی اپنی وجہ ہوسکتی ہے، میری نظر میں اس سفر کا بنیادی سبب خود حسین علیہ السلام ہیں۔ قارئین کرام! بعض قلبی کیفیات کو بیان کرنا قلم کے بس میں نہیں ہوتا۔ ان کیفیات کو بیان کرنے کے لئے ہمیں مثالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، تاکہ ذہن کو اس قلبی واردات سے قریب تر کیا جاسکے، جس سے انسان گزر رہا ہوتا ہے۔ محبت اور عشق انسان کا خاصہ ہے اور نہایت فطری ہے۔ خدا نے انسان کو کمال کا شیدا پیدا کیا ہے۔ وہ جس شے میں بھی کمال دیکھتا ہے، اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خوبصورت پھول دیکھا تو اس کی جانب لپک گیا، خوبصورت منظر دیکھا تو گھنٹوں اس میں محو رہا، خوبصورت بات سنی تو ہمہ تن گوش ہوگیا۔ حسن و کمال اسے اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بعض اوقات یہ کشش اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ انسان اپنا وجود بھلا بیٹھتا ہے، اسے اپنے مطلوب جو حسن حقیقی کا مظہر بن کر اس کے قلب و ذہن میں جلوہ گر ہوچکا ہے، کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ بس اس کو پانے یا اس کا ہو جانے کی دھن۔  اسی کلو میٹر پیدل سفر کوئی عام بات نہیں ہے، ہم میں سے بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے ایک ہی دن میں تیس سے چالیس کلو میٹر کا سفر پیدل کیا ہو۔ اس سفر کے لئے گھنٹوں درکار ہیں، ایک دو مرتبہ مجھے تقریباً تیس کلو میٹر پیدل چلنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ سفر میں نے گرمی اور سردی دونوں موسموں میں کئے۔ گرمی میں اس سفر نے تو مجھے تقریباً ادھ موا کر دیا، تاہم سردی میں یہ سفر اتنا شدید نہ تھا، بہرحال آسان بھی نہ تھا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیسے مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے ایک سو بیس کلومیٹر پیدل چلتے ہوں گے۔ عراق میں تو روایت ہے کہ ہر سال اکثر عراقی اربعین کے موقع پر پیدل چل کر کربلا جاتے ہیں۔ گرمی، سردی، دھماکے، دہشت گردی کچھ بھی اس سفر کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ اتنے لوگ پیدل کربلا کیوں جاتے ہیں اور کروڑوں یہ آرزو دل میں کیوں بسائے ہوئے ہیں؟ کیا عراق اور وہاں موجود عتبات دیکھنے کا شوق انھیں کربلا لے جاتا ہے؟ کیا فقط ثواب؟ کیا جنت کا لالچ۔؟لاکھوں وہ ہیں جو نجف سے کربلا، بغداد سے کربلا، بصرہ سے کربلا، ایران سے کربلا، بحرین سے کربلا، لبنان سے کربلا، شام سے کربلا، پاکستان سے کربلا، افغانستان سے کربلا، آذربائیجان سے کربلا، یورپ سے کربلا، افریقا سے کربلا، آسٹریلیا سے کربلا، امریکا سے کربلا کی جانب گامزن ہیں اور کروڑوں وہ ہیں جو اس سفر کی آرزو دل میں بسائے غم زدہ ہیں۔ میری نظر میں یہ سفر درحقیقت سوئے کربلا نہیں بلکہ سوئے حسین (ع) سفر ہے۔ وہ لوگ جو یہ سفر کر رہے ہیں ان پر رشک آتا ہے۔ میرے کئی دوست گذشتہ چند دنوں میں مجھے خدا حافظ کہہ کر اس سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔ ہر دوست کی روانگی نے دل کو تڑپا دیا، رشک ہوا ان افراد کے نصیب پر کہ نواسہ رسول (ص) نے ان احباب کو اپنی زیارت کے لئے بلایا ہے۔ یہ سفر زیارت جو خصوصی طور پر اربعین حسینی کے موقع پر کیا جاتا ہے، صدیوں سے جاری ہے اور اب تو ایک باقاعدہ ثقافت کا رنگ اختیار کرچکا ہے۔ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے سرزمین عراق پر پہنچنے والے زائرین کربلا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نجف سے کربلا تک کا سفر جو تقریباً اسی کلومیٹر ہے، پیدل طے کریں۔ جی ہاں پاکستان، لبنان، بحرین، افغانستان، شام، امریکا، یورپ، افریقا اور آسٹریلیا سے آنے والے بہت سے زائرین نجف سے کربلا پیدل چل کر جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں پارلیمانی انتخابات کو ایک ہفتے سے بھی کم دن باقی بچے ہیں۔دھشتگرد ٹولے داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سید حکیم اور خز علی حادثے کے کچھ ہی دیر پہلے اجلاس سے نکلے تھے جبکہ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد واپس جا رہے تھے۔اس حملے میں دھشتگردوں نے شیعہ حزب ’’عصائب اھل الحق‘‘ کو نشانہ بنایا گیا اور اس پارٹی کے اعلی عہدہ داروں کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی لیکن شیخ قیس خز علی اور سید عمار حکیم حادثہ کے وقت اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ بغداد کے شمال مشرق میں الصناعہ اسٹیڈیم کلب میں انتخاباتی اجلاس کے اختتام پر تین بم دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم ۳۰ افراد شہید اور ۵۵ زخمی ہو گئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج، اسلام پسندی،وطن پرستی اور عوامی حکمرانی کا مظہر ہیں۔
صدر جمهوری اسلامی ایران نے یوم مسلح افواج کی مناسبت سے دارالحکومت تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی(رہ) کے مزار مقدس کے اطراف میں مسلح افواج کی فوجی پریڈ کے موقع پر اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سخت ترین ایام میں بھی اپنے نظام، وطن اور ملک کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور مسلط کردہ آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران سینہ سپر بنی رہی اور عزت و شرف اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فریضے پر مکمل عمل کیا۔

مغربی کنارے سے اسرائیل آنیوالے فلسطینیوں کا داخلہ بھی بند ہے۔ صرف وہ فلسطینی جو اسرائیل کی شہریت رکھتے ہیں سکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزر کر ہی اسرائیل میں داخل ہوسکتے ہیں۔


غاصب صیہونی حکومت نے 50 سال سے کم عمر فلسطینیوں کا مسجد اقصٰی میں داخلہ بند کر دیا ہے۔ اسرائیل میں آج مذہبی تہوار پاس اوور Passover منایا جا رہا ہے، اس موقع پر عبادت گاہوں میں لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے مذہبی مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مسجد اقصٰی میں 50 سال سے کم عمر فلسطینیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مغربی کنارے سے اسرائیل آنے والے فلسطینیوں کا داخلہ بھی بند ہے۔ صرف وہ فلسطینی جو اسرائیل کی شہریت رکھتے ہیں سکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزر کر ہی اسرائیل میں داخل ہوسکتے ہیں۔ 
دیگر ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت کی فلسطین میں ہٹ دھرمی جاری ہے اور صیہونیوں نے مسجد اقصٰی میں پچاس سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ عالمی برادری ایک طرف تو انسانی حقوق کی علم بردار ہے تو دوسری طرف اسرائیلی رویئے پر چپ کا شکار ہے۔ اب اسرائیل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصٰی میں پچاس سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے، جس کے بعد اسرائیلی شہرت کے حامل شہری سکیورٹی کلیئرنس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں داخل ہوسکتا ہیں۔

اسلام آباد سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے سربراہ اسلامی تحریک نے کہا کہ جبتک دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا جاتا، اسکے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے عوام کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جاتا، اسوقت تک ملک میں امن و استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

نو منتخب مرکزی صدر نے آن لائن تینوں شعبوں (قم،نجف، پاکستان) کے بردران سے اپنے ابتدائی صدارتی خطاب میں کہا کہ میں سب سے پہلے تمام شیعوں کے برادران کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے بندہ حقیر پر اعتماد کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو میرے کاندھوں پر رکھ دیا۔ اور انہوں ے کہا کہ صدر بننا ہمارا ہدف نہیں بلکہ ہمارا اصل ہدف دین مبین اسلام اور قوم و ملت کی صحیح معنوں میں خدمت ہے۔