انقلاب تیونس اور فوکویاما کا پرندہ
تحریر: سید علی جوادہمدانی
14 جنوری کو 23 سالہ استبدادی دور گزار کر تیونس سے فرار ہونے والے ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کو 20 گھنٹے ہوا میں سرگردانی کے بعد عرب دنیا کے سب سے بڑے مستبد ملک کے حکمرانوں یعنی سعودی حکام نے ہی قبول کیا۔ اپنی افادیت کھونے کے بعد اسی ڈکٹیٹر کے ہمسائے میں آباد آقاؤں فرانس اور اٹلی نے اسے اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دیا۔ جس طرح ایرانی شاہ کو فرار کے بعد امریکہ نے اجازت نہیں دی تھی۔
یورپ سے نزدیک بحیرہ روم کے آر پار چند سو سمندری ناٹیکل میلوں کے فاصلے کی وجہ سے جہاں مادی ترقی میں یورپ کی ہمراہی میں اقتصادی ترقی کے لحاظ سے تیونس عرب دنیا میں پہلے نمبر پر تھا وہاں فکری اور نظریاتی سطح

اسلامی بیداری کی لہر، یہودی لابی کے خلاف تحریک ہے سید سمیع اللہ حسینی مرکزی سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ
سید سمیع اللہ حسینی اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ترکی میں منعقد ہونے والی عالمی اسلامی کانفرنس میں اسلامی جمعیت طلبہ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ حال ہی میں ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہونے والی اسلامی بیداری اور جوانان انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستانی وفد میں شامل تھے۔ اس بیداری کانفرنس سے مرتب ہونے والے عالمی اثرات پر سید سمیع اللہ حسینی سے اسلام ٹائمز نے بات چیت کی ہے، جس کا احوال قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


اسلام ٹائمز: حال ہی میں آپ نے اسلامی بیداری اور جوانان انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی ہے، اس طرح کی کانفرنسز کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: یہ بہت اچھی کاوش تھی جس میں ایرانی حکومت نے ہم تمام اسلامی ممالک کے نوجوانوں کو ایک جگہ مل کر بیٹھنے کا موقع فراہم کیا۔ پوری دنیا سے اسلامی تحریکوں، طلبہ یوننز، یوتھ آرگنائزیشنز کے نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے ہمیں ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا نادر موقع فراہم کیا۔ مختلف ممالک میں کام کرنے والی اسلامی تحریکوں کے مسائل و مشکلات سے آگاہی حاصل ہوئی۔

 

کانفرنس میں شامل اسلامی تحریکیں اسلام کو ایک سسٹم کے طور پر اپنے ممالک میں رائج کرنے کے لئے پرامن، آئینی اور قانونی طریقے سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ تو اس کانفرنس میں تمام مسلمان ممالک سے نوجوانوں کو اپنے اپنے مسائل ڈسکس کرنے اور ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے ایک دوسرے کے موقف کو سنا اور اس پر بحث و مباحثہ کیا۔ عرب دنیا کے اندر ایک تازہ اسلامی بیداری کی لہر اٹھی ہے جو تیونس، مصر، مراکش اور یمن تک گئی اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اسی مناسبت سے اس بیداری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میں سمحھتا ہوں کہ یہ کانفرنس ایک بہت اچھا اقدام تھا اور اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ 


اسلام ٹائمز: جس طرح کہ اس کانفرنس کا نام اسلامی بیداری تھا تو کیا آپ کو بیدار مغز لوگ دیکھنے کو ملے، اور اس موقع پر نوجوانوں کے جذبات کیا تھے۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: بالکل جی تیونس، مصر، مراکش، یمن، فلسطین، پاکستان، تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک سے لوگ وہاں موجود تھے۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو اپنے ممالک میں اسلامی بیداری و انقلاب کے روح رواں تھے، وہ نوجوان تھے جو اس تبدیلی کے پیچھے تھے بلکہ اسکا ہراول دستہ تھے۔ ان کے اندر ایک جوش و ولولہ، ایک عزم اور جذبہ ہمیں دکھائی دیا۔ ہمیں ان کے اندر یہ بات بھی دکھائی دی کہ وہ نوجوان اس کو مکمل انقلاب نہیں سمجھتے، ان کی منزل کہیں اور آگے ہے، یعنی وہ اہنے ممالک میں ایک مکمل اسلامک سسٹم چاہتے ہیں۔


جو مسائل ان ممالک کو درپیش ہیں ان میں معیشت، امن و امان، لاقانونیت، بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت کا قیام ان سب مسائل کے حل تک ان کے اندر یہ جذبہ موجود ہے کہ وہ اپنے ممالک کو انقلاب کی منزل تک پہنچائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے یہ جذبہ ان کے اندر پایا بلکہ ہمیں یہ حوصلہ و تقویت ملی بلکہ ان تمام لوگوں کو تقویت حاصل ہوئی جو اسلامی انقلاب کی کاز کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسلامی بیداری و انقلاب سے بھی ہمیں حوصلہ ملا، لیکن اس انقلاب کو برپا کرنے والے نوجوانوں کو اپنے درمیان پاکر، ان سے گفت و شنید کر کے بہت تقویت حاصل ہوئی اور ہمارے اسلامی انقلاب کے جذبے میں گئی گنا اضافہ ہوا۔ انشاءاللہ ایک دن آئے گا جب لوگ سمجھیں گے کہ تمام مسائل کا حل اسلامی انقلاب میں مضمر ہے۔


اسلام ٹائمز: آپ نے اس کانفرنس میں اسلامی بیداری برپا کرنے والے بیدار مغز لوگوں سے استفادہ کیا، اس تناظر میں پاکستان کے اندر انقلاب کے لئے آپ کیا روش اپنا سکتے ہیں۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: پاکستان میں کام کرنے والی اسلامی تحریک جماعت اسلامی میں کسی قسم کی مسلکی تفریق نہیں ہے، اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ ایک مختلف تنظیم ہے اور ایک مختلف حیثیت رکھتی ہے، جو کسی فرقے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ہماری تنظیم لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں سے پاک ہے اور ہماری دعوت، امت و وحدت کی دعوت ہے۔ ہم کلمے کی بنیاد پر اور اسلام کی مشترکات پر وحدت چاہتے ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ چھوٹے چھوٹے فروعی تضادات کو بھلا کر، ایک ہو جائیں۔


الحمد اللہ اسلامی جمعیت طلبہ ایک ایسا گلدستہ ہے جسمیں ملک  کے گوشے گوشے سے اور ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی موجود ہے اور یہی وہ پیغام تھا جو ہمیں نوجوانوں کی انٹرنیشنل کانفرنس سے ملا ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیے، مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے تمام اختلافات کو بھلا کر مسلمانوں کو ایک ہونا چاہیے۔ ہم جس ہدف کے لئے کام کر رہے ہیں اس کو ایک نئی تازگی ملی ہے، اس پر ایمان بڑھا ہے اور انقلاب کے حصول کے لئے مزید جوش و ولولہ پیدا ہوا ہے اور اللہ رب العالمین پر توکل بڑھا کہ وہ ہمیں بھی یہ دن دکھائے گا۔


اسلام ٹائمز: کیا حالیہ دورہ ایران کے موقع پر آپ کی ملاقات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ہوئی۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: ہماری ان سے ایک اجتماعی ملاقات ہوئی ہے، ان کی گفتگو سے استفادے کے لئے کانفرنس کے شرکاء کو وہاں لے جایا گیا تھا، ان کی گفتگو بہت اچھی تھی۔ دو نکات میں نے ان کی گفتگو سے اخذ کئے ہیں جو بہت اہم اور بنیادی ہیں، جس سے ہم اتفاق بھی کرتے ہیں۔ ایک تو انہوں نے مسلم ممالک اور مسلم قومیتوں اور تنظیموں کے درمیان اتحاد کی بات کی۔ دوسرا ان کے نزدیک ایران مسلم ممالک کے لئے رول ماڈل ہے لیکن ایسا رول ماڈل نہیں جو تمام ممالک میں نافذ کیا جا سکے۔ باقی اسلامی ممالک کے مسائل، ثقافت، سماج، لوگوں کا مزاج مختلف ہیں۔

 

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلانے چاہییں۔ ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے، ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے۔ ایران کے اندر امام خمینی رہ کی قیادت میں 1979ء میں انقلاب آیا، جس میں ایرانی قوم نے ان کا ساتھ دیا۔ آج کے اسلامی جمہوری ایران میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کو دیگر انقلاب ایک سٹڈی کیس کے طور پر لے سکتے ہیں۔ یہ دو انتہائی اہم نکات تھے، جو خامنہ ای صاحب نے ایک میسیج کے طور پر کانفرنس کے شرکاء کو بیان کئے، جو قابل استفادہ ہیں۔


اسلام ٹائمز: نوجوانوں کی اس بیداری کانفرنس کی روشنی میں پاکستانی نوجوانوں کے لئے کیا پیغام ہے۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: پاکستانی نوجوانوں کے لئے یہی پیغام ہے جس پر پہلے سے ہم پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ دیکھیے پوری دنیا میں اس وقت بیداری کی ایک لہر ہے۔ اللہ رب العالمین نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، جس قوم میں اپنی حالت کو بدلنے کا احساس نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی انقلابات آئے ہیں وہاں عوام نے اور خصوصاً نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ نوجوانوں نے کہا ہے کہہ یہ ظالمانہ، ڈکٹیٹرانہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، جسمیں عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں، غریب پر ظلم کیا جاتا ہے، اس آواز کو اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اور ان کے غریبوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جاتا ہے۔ جہاں پر لوگوں کی نہیں سنی جاتی، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ جہاں ڈکٹیٹرشپ نے سیکولر ایجنڈے کے تحت تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ نصاب سے اسلام کو نام نشان مٹا دیا گیا ہے۔


سامراج امریکہ اور مغربی طاقتوں نے مسلم ممالک میں سیاسی نظام کو بریاد کر رکھا ہے، جس کے خلاف بیداری کی لہر اٹھی ہے۔ یہودی لابی، Zionist لابی نے پوری دنیا میں پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور پوری دنیا کے وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ اس سامراج کے خلاف لوگوں میں ایک بیداری، ایک تڑپ اور ایک جذبہ پیدا ہوا ہے اور ان جذبات نے ایک حقیقت کا روپ دھارا ہے، عملی تفسیر دھاری ہے اور لوگ مشرق وسطٰی میں استعماری نظام کے خلاف اٹھے ہیں، بیدار ہوئے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ کسی ایسے انقلاب کو تقویت نہ دیں جو لوگوں کے دکھوں کا مداوہ نہیں کر سکتا اور جو دیرپا نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی انقلاب کے لئے جدوجہد کریں کہ جو ایک ایسا نظام ہے جسمیں تمام دکھوں کا مداوہ موجود ہے اور جو ساری دنیا کی فلاح کا ضامن ہے۔


بطور قوم 64 سالوں میں ہم کئی دھوکے کھا چکے ہیں اب ہمیں ہوشیاری کا ثبوت دینا ہو گا اور ایسے انقلاب کا ساتھ نہ دیں جو سوائے دھوکے کے کچھ نہیں ہے۔ ہمیں دنیا میں اٹھنے والی اس بیداری کی لہر کو جاننا چاہیے۔ ہمارے ملک کو جس سیکولر سسٹم کی طرف آج لے جایا جا رہا ہے، ایک لبرل نظام کی طرف، ایک آزاد اور مادہ پرستانہ نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ اس نظام کی طرف مشرق وسطٰی اور خصوصاً ترکی اور مصر اس نظام کی انتہا کو پہنچ چکے تھے جو اس سیکولر نظام کا مزا چکھ کر واپس آ رہے ہیں۔

 

ہمیں دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس وقت سامراج اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے، میری پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں سے اپیل ہے کہ حالات کا بغور مطالعہ کریں اور صحیح سمت میں فیصلہ کریں اور یاد رکھیں کہ اس ملک کے اندر ایک سطحی نظام جسکی بنیادیں نہ ہوں، وہ اس کے مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتا۔ وہی لوگ جو امانت دار ہیں، دیانتدار ہیں، اسلام کا فہم رکھتے ہیں، وہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ عوام اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

 

اسلام ٹائمز: اس عالمی کانفرنس میں کون سی چیز آپکو سب سے زیادہ دلچسب لگی۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: یہ ایک حسن اتفاق تھا، ہمیں بتایا گیا کہ اس کانفرنس میں ستر مسلم ممالک سے مندوبین شریک تھے۔ میڈیا کے پراپنگنڈے اور سازشوں کے باوجود تمام اسلامی ممالک کے نوجوان اتنے بڑے پیمانے پر یکجا ہوئے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سنا۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا۔ یہ ایک بہت فائدے مند موقع تھا ہم نے اس چیز کا اظہار وہاں بھی کیا کہ اس کانفرنس کی خوبیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔ دوسری چیز یہ کہ ہمیں پوری دنیا سے اسلام کے ماننے والوں کا گلدستہ ملا ہے، جس میں مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافت کے لوگ ایک جگہ اکھٹے ہوئے اور انہوں نے دنیا میں اسلام کے غلبے کی بات کی۔


اسلام ٹائمز: پنجاب یونیورسٹی میں پچھلے دنوں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، تو ایسے معاملات میں آپ کی گرفت کیوں کمزور ہے۔؟

سید سمیع اللہ حسینی: جب آپ کے ساتھ چلنے والے کچے ذہن کے نوجوان ہوں اور سوسائٹی کے اندر انتشار پیدا کرنے والے ادارے بھی موجود ہوں تو طلبہ کو منظم رکھنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ بہرحال ہم ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے اور اپنے آئین، دستور اور روایات کے تحت جائزہ لیکر اس کی تادیب بھی کرتے ہیں۔


 


عشرہ فجر اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کی تیتیسویں برسی کی آمد کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی  حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں نماز جمعہ کے خطبوں میں انقلاب اسلامی کے اہم نتائج ، اندرونی اہم مسائل، دشمنوں کی دھمکیوں، عالمی اور علاقائی حالات اور اسی طرح پارلیمنٹ کے نویں مرحلے کے انتخابات کے بارے میں جامع تحلیل اور تجزیہ پیش کیا۔

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے پہلے خطبہ میں عشرہ فجر اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کی برسی پر مبارک باد پیش کی اور اللہ تعالی کی اس عظیم نعمت پر شکر کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: ان ایام میں ایرانی قوم کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے گذشتہ 33 برسوں میں اپنی وفاداری، ایثار، شجاعت، پائمردی  ، بصیرت اور میدان میں موجودگی کا شاندار ثبوت پیش کیا ہے۔

 

تحریر: سید اسد عباس تقوی
گزشتہ دنوں امریکا کے ایک نامعروف ڈائریکٹر جس نے اپنا نام Sam Bacile ظاہر کیا ہے، نے مسلمانوں کے عقیدہ رسالت کی تضحیک پر مبنی فلم کا ٹریلر یوٹیوب پر جاری کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس فلم کو جون کے آخر میں امریکا کے کسی چھوٹے سے سینما گھر میں دکھایا بھی گیا۔ مسلمانوں کے عقیدہ رسالت کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا، کیونکہ جس ہستی کی توہین کی باتیں کی جا رہی ہیں، اس کی عزت و مقام انبیائے ماسبق کی مانند انسانوں کی پہنچ اور فہم سے نہ صرف بلند ہے، بلکہ ارفع و اعلٰی بھی ہے۔ جس کے بارے میں خالق ارض و سماء کا خطاب ہے کہ ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا۔۔۔ اور جس کے دشمنوں کے بارے میں رب کائنات کا واضح اعلان ہے کہ وہ بے نام نشان ہو جائیں گے۔۔ کی توہین کے بارے میں سوچنا بھی انسان کی بساط سے باہر ہے۔ میری حقیر رائے میں یہ حملہ رسالت مآب پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدہ رسالت پر حملہ ہے، جو اتنا ہی قبیح ہے جتنا کسی انسان کا قتل۔ اخبارات میڈیا اور یوٹیوب پر اس فلم کے متعدد نام سامنے آ رہے ہیں، جن میں The Real life of Muhammad, The Innocece of Muslims وغیرہ شامل ہیں۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی نے اس قبیح حرکت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس شرانگیز حرکت کے پس پردہ، صہیونیت، امریکہ اور عالمی استکبار کے دوسرے سرغنوں کی معاندانہ پالیسیاں کار فرما ہیں، جو اپنے باطل، وہم و خیال میں اسلامی دنیا کی نوجوان نسلوں کی نظروں میں اسلامی مقدسات کو ان کے بلند مقام سے نیچے گرا کر ان کے دینی و مذہبی جذبات و احساسات کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اس پلید زنجیر کے سابقہ حلقوں یعنی سلمان رشدی، ڈنمارکی کارٹونسٹ اور قرآن جلانے والے امریکی پادری کی حمایت نہ کرتے اور صہیونی سرمایہ داروں سے وابستہ فرموں میں اسلام دشمنی پر مبنی درجنوں فلمیں تیار کرنے کی سفارش نہ دیتے، تو آج نوبت اس عظیم اور ناقابل بخشش گناہ تک نہ پہنچتی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس سنگین اور ناقابل معافی جرم کی پہلی ملزم صہیونیت اور امریکی انتظامیہ ہے۔ امریکی سیاستدان اگر اپنے اس دعوے میں سچے ہیں کہ وہ اس جرم میں ملوث نہیں ہیں تو اس قبیح اور کریہ جرم میں ملوث افراد اور ان کے مالی سرپرستوں کو ان کے جرم کی سنگینی کے تناسب سے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں میرے بھائیوں اور بہنوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ اسلامی بیداری کے سامنے دشمنوں کی یہ ناکام حرکتیں، اس تحریک کی عظمت و اہمیت کی علامت اور اس کے روز افزوں فروغ اور ہمہ گیری کی نوید ہیں۔ اسی طرح شیخ الازھر نے بھی اس قبیح فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فعل کے پس پردہ کام کرنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دے۔

اس فلم کے بارے میں امریکی حکومت اور اس کے عہدیداروں کا موقف ہے کہ یہ واقعہ ایک شخص کا ذاتی فعل ہے اور اس سے حکومت امریکا کا کوئی تعلق نہیں، پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کہتے ہیں: اسلام کا غلط تاثر دکھانا ایک شخص کا ذاتی فعل ہے، یہ سارے امریکہ کی رائے نہیں۔ ہیلری کلنٹن فرماتی ہیں کہ اس فلم کو امریکی حکومت کی تائید حاصل نہیں تھی۔

اس سلسلے میں روزنامہ جنگ کے معروف کالم نویس ارشاد احمد عارف لکھتے ہیں:
دوسروں کا تو علم نہیں، مگر مجھے امریکی حکمرانوں کی اس منطق سے اتفاق نہیں کہ ٹیری جونز اور سام بیسائل نے جو کیا وہ ان کا ذاتی فعل ہے، گستاخ رسول سلمان رشدی کی شیطانی خرافات منظر عام پر آئیں تو اس مجہول شخص کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے مدعو کیا، سرکاری پذیرائی کی اور اس کے ذہنی افلاس کی داد دی، ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کے آقا و مولا اور محسن انسانیت کی گستاخی کے سوا سلمان رشدی نے کونسا ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا تھا، جس کی وجہ سے امریکی صدر نے اس کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی اور برطانیہ سمیت ہر یورپی ملک نے امریکہ کی تقلید کی۔

ڈنمارک کے ایک وحشی، پاگل اور جاہل شخص نے خاکے بنائے تو اس کے گھٹیا اقدام کے حق میں دلائل کس نے دیئے؟ امریکی اور یورپی حکمرانوں اور مسلمانوں کو برداشت اور تحمل کرنے کی تلقین کی گئی، گویا مسلمانوں کی دلآزاری اور محسن انسانیت کی توہین بھی امریکی، اسرائیل اور یورپی باشندوں کا بنیادی اور پیدائشی حق ہے، جس کا احترام مسلمانوں کو بہرصورت کرنا چاہئے۔

فلم میں کام کرنے والے اداکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں فلم Warrior of the desert کے لیے کاسٹ کیا گیا اور ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اس فلم کا مقصد مسلمانوں کے عقیدہ رسالت کی تضحیک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ فلم ایک مصری ڈائریکٹر بنا رہا ہے۔ یہ ڈائریکٹر ہمارے سامنے اکثر عربی زبان میں بات کیا کرتا تھا۔ فلم کی ڈبنگ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فلم میں سنائی دینے والے الفاظ بعد میں ڈب کیے گئے۔ بی بی سی کے مطابق سیم بیسائل نے مغربی میڈیا کے چند اداروں کو فون کرکے بتایا کہ یہ فلم انھوں نے بنائی اور اس کے لیے انھوں نے امریکہ میں آباد چند یہودی سرمایہ کاروں سے پیسہ لیا۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ سیم بیسائل ایک فرضی نام ہے، جس کا اس فلم سے قبل کوئی وجود نہیں تھا اور ہم ہالی ووڈ میں اس نام سے واقف نہ تھے۔

اس فلم میں توہین آمیز تصاویر کو دیکھ کر مسلم امہ کے کسی بھی فرد کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ممکن نہیں تھا اور وہی ہوا۔ لیبیا، مصر، سوڈان، یمن، سعودیہ، ایران، انڈونیشیا، پاکستان غرض کہ دنیا کے سبھی ممالک جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، نے اس توہین پر صدائے احتجاج بلند کی۔ حتٰی کہ بعض ممالک میں تو امریکی سفارت خانوں اور کونصلیٹ کو آگ لگا دی گئی۔ لیبیا میں تعینات امریکی سفیر اسی احتجاج کے نتیجے میں لقمہ اجل بنا۔ اس احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

فلم بنانے کا عمل، اس سے متعلق واقعات اور اس کے پس پردہ افراد چاہے کوئی بھی ہوں، سوال یہ ہے کہ آخر کار اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ کسی کے عقیدہ و ایمان پر اس قسم کے حملے کو روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ میری نظر میں اس کے دو طرح کے حل ہیں۔ ایک حل طویل المیعاد ہے اور وہ یہ کہ ہم مسلمان اس ناقابل برداشت زخم کو مثبت موقع میں تبدیل کریں اور غربت، پستی اور کاسہ لیسی کی زندگی کو ترک کرکے عزت سے جینے کا عزم کریں۔ اگر ہم اپنی اور اپنے مقدسات کی عزت کو عزیز رکھتے ہیں تو ہمیں علم، سائنس اور فنون کی میدان میں ترقی کرنا ہوگی اور دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ہمارے بغیر اس دنیا کا وجود نامکمل ہے۔

فوری حل یہ ہے کہ ہم اپنے دستیاب وسائل اور اختیارات کو استعمال کریں اور اس واقع کو قانونی چھتری فراہم کرنے والی حکومتوں کو اس سلسلہ میں قانونی اقدام کرنے پر مجبور کریں۔ تاکہ اس قسم کے واقعات آئندہ وقوع پذیر نہ ہوں۔ ہمارے بہت سے ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اگر عقیدہ اور ایمان پر لگنے والا یہ زخم حقیقتاً اتنا ہی جانکاہ ہے جتنا ان ممالک کے عوام کے عمل سے ظاہر ہے، تو ہمیں اس احتجاج کو اس زبان میں مغربی ممالک کی حکومتوں اور عوام تک پہنچانا ہوگا جو انھیں سنائی دیتا ہے، یہ زبان منافع میں کمی اور وسائل کی عدم ترسیل کی زبان ہے۔ اگر اب بھی مسلمان ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتی تو ہم اس تنظیم کا نام Organization of Islamic countries سے بدل کر Organization of illegal culprits رکھنے میں حق بجانب ہیں۔

میانمر کے مسلمانوں کے قتل عام کے دلخراش تصاویر شائع ہونے پر جہاں عالم اسلام تڑپ اٹھا مسلمانوں کے اس وسیع قتل عام پر کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ دنیا کے اس خطے میں مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اس صورت حال میں بین الاقوامی ادارے اور حقوق بشر کے جھوٹے دعویدار اپنی شرمناک خاموشی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کی طرف سے محض مذمت بھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔بعض غیر رسمی اعدادو شمار کے مطابق بدھ مت لوگوں کے حملوں کے دوران 50  ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے ' ہزاروں گھر برباد اور لاکھوں لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جو ہر وقت دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں اس قتل عام پر خاموش ہیں ۔ دنیا کب تک اس جانبدارنہ قتل عام کو دیکھتی رہے گی کہ اقلیت ہونے کے جرم میں پچاس ہزار نہتے مسلمانوں کا قتل عام کافی نہیں ہے کہ حقوق بشر کے نام نہاد اداروں کے ضمیر بیدار ہوں کہ وہ اس پرعکس عمل کو دیکھیں۔
میانمر میں مسلمانوں کے قتل عام ایک منظم پروگرام کے تحت ان حالات میں ہورہا ہے جب مغرب اس ملک کے فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھارہے ہیں۔ مسلمان جو اس ملک میں ہزاروں سال سے مقیم ہیں میانمر حکومت کو چاہیے تھا کہ ان کی حمایت کرے مگر ایک  خاص سازش کے تحت شدت پسند بدھ مت کی حمایت کرکے مسلمانوں کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ ظالم قوم انتہائی بے شرمی کے ساتھ غیر ملکی قوم کے طور پر تعارف کروارہی ہے
یہ قتل عام اس وقت شروع ہوا جب شدت پسند بدھ مت کے لوگوں کے راخین صوبہ میںایک بس پر جس میں مسلمان سوار تھے حملہ کرکے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اس کے جواب میں بدھ مدت کا ایک شخص قتل ہوگیا اس بنا پر تمام مسلمان نشین علاقوں میں وحشیانہ اور انسانیت سوز مظالم جاری ہیں میانمر کی حکومت ان جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے مسلمان علاقوں میں میڈیا کے نمائندگان کو نہیں جانے دیتی ' ان علاقوں کے ساتھ رابطے کا ذریعہ صرف ٹیلی فون رہ گیا ہے ۔ معتبر ذرائع کے مطابق اب تک 50  مسلمانوں کے گائوں مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور کم از کم 26 مساجد جلائی جاچکی ہیں۔ اس قتل عام کے علاوہ مسلمان ناموس سے تجاوز ' زندہ جلانا ' غذائی قلت' وبائی امراض ' بے گھر ہونا اور دیگر ظلم ستم اس علاقے میں بڑھ چکے ہیں جہاں 6  ملین مسلمان رہائش پزیر ہیں۔ اب تک لاکھوں مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر کسمپرسی کی حالت میں اپنا گھر بار چھوڑ کر بارڈر کراس کرکے بنگلہ دیش داخل ہورہے ہیں اور وہاں زندگی گزارنے کے معمولی وسائل حتی کہ دوائیوں اور ڈاکٹروں سے بھی محروم ہیں۔
ظلم کی حد یہ ہے کہ میانمر فوج کے ہیلی کاپٹر مسلمان نشین علاقوں میں اس نسل کشی کے لئے بلوائیوں کو سپورٹ کررہے ہیں ۔ حقوق انسانی کے اداروں او ر تنظیموں کی مکمل خاموشی اور بے پرواہی ان کی پیشانی پر بدنما داغ ہے اب یہ مسلم ہوچکا ہے کہ ان تنظیموں کی اس ظلم و ستم پر مداخلت اس وقت ہوتی ہے جب استعماری اور سامراجی حکومتیں اپنے مفادات کے لئے ان کو اجازت دیں اور یہ حکومتیں بھی اس وقت مداخلت کرتی ہیں جب ان کے مفادات ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی حکومتوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں گی ایک خام خیالی ہے چونکہ کوسوو ' بوسنیا ' افغانستان' عراق' فلسطین' کشمیر اور چیچنیا میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مغربی طاقتیں اس نسل کشی میں خو د ملوث ہیں ان سنگین حالات میں مسلمانوں ' اسلامی حکومتوں اور مسلمان اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ میانمر حکومت پر سیاسی دبائو ڈالنے کے علاوہ وہاں کے مسلمانوں کی امداد کے لئے آگے بڑھیں امت مسلمہ خصوصا مسلمان حکمران اپنے وسائل کو برئوے کار لاتے ہوئے میانمر کی ظالم حکومت پر دبائو ڈال سکتے ہیں کہ وہ قوم پرست ' انسانیت دشمن سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرے اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے
میانمر کی فوجی حکومت کا یہ اعلان کہ ہمارے ملک کے بحران کے خاتمے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آٹھ لاکھ مسلمان یہ علاقہ چھوڑ دیں یہ بیان درحقیقت ایک سازش ہے تاکہ مسلمانوں کی نسل کشی کو اس انداز میں جاری رکھا جائے اور عالم اسلام کی خاموشی اور بے پرواہی بھی جرم شمار ہوگی بلکہ ہماری خاموشی ظالم بلوائیوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں میانمر کے ہولناک مناظر عالم اسلام کے لئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہیں۔