پاکستان میں مذہبی اور لبرل بیانیوں کی کشمکش

Pakistan

اسلام ہی نہیں کسی بھی مذہب، اصولوں اور تہذیب سے کوسوں دور مٹھی بھرعناصر پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کےلیے تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی متحرک ہوگئے تھے لیکن چونکہ معاشرہ اور ریاست خالص اسلامی نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی، اس وجہ سے اب تک یہ طبقہ اشرافیہ اپنے بڑے چھوٹے مغربی اور ہندوستانی آقاؤں کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

خود کو روشن خیال اورلبرل کہنے والے اس قدر تنگ نظرہیں کہ وہ اپنے نظریات کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کے قائل ہی نہیں۔ ان کی نظر میں صرف وہ درست اور کامل ہیں؛ باقی تمام عناصر اس دنیا میں فضول تر ہیں۔ دوقومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا بیانیہ بھی یقینی طور پر مذہبی ہی ہونا چاہیے تھا اور قائداعظمؒ کی دلی خواہش بھی یہی تھی کہ اس ریاست کو مذہبی بیانیے کے تناظر میں ایک اسلامی وفلاحی ریاست بنایا جائے۔

بانی پاکستان محمدعلی جناحؒ کے مذہبی بیانیے کے حق میں نظریات کے باعث اس طبقہ اشرافیہ کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے اور ان کی شدید ترخواہ

ش تھی کہ کسی بھی طور قائد کو راستے سے ہٹا کر اسلامی ریاست کو ایک سیکولر اور لبرل ریاست بنایا جائے۔ قائد کے بقول ان کی جیب کے کھوٹے سکے، جو پاکستان کی اساس کے دشمن تھے، بالآخر اس حد تک کامیاب ہوئے کہ انہوں نے قائداعظمؒ کو جنگل میں ایک خراب ایمبولینس کے سپرد کردیا جس میں پیٹرول بھی اتنا ڈالا گیا کہ وہ صرف چارمیل ہی طے کرپائی اور پھر وہ عظیم قائد جس نے اہل پاکستان پر کروڑوں احسانات کرکے انہیں آزاد فضاؤں میں سانس لینے کےلیے ایک سمت متعین کرکے منزل پر پہنچایا تھا، ایک ویران سڑک پر شدید گرمی اور حبس میں اپنی لاڈلی بہن فاطمی (محترمہ فاطمہ جناح) کے ساتھ بے بس پڑا تھا، اور… پھر… مذہبی بیانیi کا موجد ’’کشمیر… انہیں فیصلہ کرنے کا حق دو… آئین… میں اسے بہت جلد مکمل کروں گا…‘‘ کے آخری الفاظ ادا کرکے ہمیشہ کےلیے اہل پاکستان سے روٹھ گیا۔
قائدؒ کی رحلت کے بعد کرپٹ اشرافیہ کی تو امیدیں بر آئیں کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں۔ اب ہم اس ملک میں مذہبی بیانیہ دفن کرکے لبرل اور لادین بیانیے کو فروغ دیں گے اور قرارداد پاکستان کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں گے۔ لیکن ان کی بدقسمتی ایسی کہ ان کے یہ خواب مذہبی طبقات اور اسلام پسندوں نے ناکام بنا دیئے۔ ان کے ہر وار کو ناکام بناتے ہوئے محمد عربیﷺ کے غلام، مدینہ جیسی اسلامی ریاست کو اسی انداز میں ڈھالنے کےلیے پرعزم رہے، بارہا ان کی جدوجہد کے مقابلے میں جیل، مقدمات، لاٹھیاں اورگولیاں آئیں۔

ستمبر 1948 میں قائد کی وفات ہوئی اور اس کے صرف ایک ماہ بعد اکتوبر 1948 میں سید ابوالاعلی مودودیؒ کو محض اس جرم کی پاداش میں گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا گیا کہ انہوں نے اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ گرفتاری سے قبل جماعت اسلامی کے اخبارات ’’کوثر،‘‘ ’’جہانِ نو‘‘ اور ’’روزنامہ تسنیم‘‘ بھی بند کردیئے گئے۔ لیکن طاغوت کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود یہ جدوجہد ماند نہ پڑی اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو 12 مارچ 1949 کے روز ’’قراردادِ مقاصد ‘‘ منظور کرنا پڑی۔ اس قرارداد کی وجہ سے لبرلز آج بھی شدید تر جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں اور اپنے بال نوچنے پر مجبورہیں۔ آج بھی ان کا ہدف ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے کیونکہ اس قرارداد نے واضح کردیا کہ پاکستان کے ’’آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا قطعی نہیں ہوگا بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر ہوگی۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ لبرل بیانیے کے حمایتی طبقات، اہل اسلام کے خلاف بے بنیاد گرد اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے تو کبھی کسی حجام کا الزام ایک عالم دین پر لگا کرمولوی کو ایک گالی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ان کی سازشیں ہمیشہ سے ان پر ہی الٹ رہی ہیں۔ جو تدبیر وہ کرتے ہیں، وہ ان ہی کے مخالف ہوجاتی ہے اور رسوائی و ہزیمت ان کے حصے میں آتی ہے۔ عالمی سطح پر مسلح دہشت گردوں کو پروان چڑھانے کی کوشش لبرلز کے آقاؤں کومہنگی پڑگئی۔ جس آگ سے مغربی الحاد، امت مسلمہ کو جلا کر راکھ کرنے کی سازش کررہا تھا، آج وہ سازش الٹی ہوئی اور وہ آگ دھیرے دھیرے اس کے اپنے گھروں کو جلا رہی ہے۔
پاکستانی اسلام پسند عوام اس ضمن میں بالکل یکسو ہیں کہ یہاں اسلامی نظام کے قیام کےلیے مسلح جدوجہد ملک میں خانہ جنگی اور تفرقہ بازی کا باعث بنے گی؛ اس لیے محب وطن اسلام پسند، پاکستان میں جمہوریت اور بیلٹ کے ذریعے تبدیلی لاکراس مملکت خداداد میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ، وہ وقت دورنہیں کہ جب یہ ریاست قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیرمیں حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنے گی۔