داعش کی ایران میں دہشتگردی اور مشرق وسطٰی کا منظر نامہ
داعش کی پیدائش میں سعودی عرب، قطر، ترکی کا کردار بنیادی ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل اس وحشت ناک تنظیم کے ’’گاڈ فادر‘‘ ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت بڑی دلچسپ ہے کہ داعش کی تخلیق میں جن علاقائی ممالک نے حصہ داری کی، داعش پلٹ کر انہی کے گلے پڑگئی۔ ترکی اور سعودی عرب میں داعش کارروائیاں کرچکی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری مفتی نے پہلے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ داعش کے مجاہدین کیساتھ ’’جہاد النکاح‘‘ کیا جائے۔ تیونس سے لڑکیوں کے غول نام نہاد مجاہدین کی جنسی تشفی کیلئے شام و عراق گئے۔ بعد میں فتویٰ آیا کہ داعش والے وحشی ہیں۔ دوسرے فتوے کی وجہ پہلے سے زیادہ دلچسپ۔
 

تحریر: طاہر یاسین طاہر

تحقیق کہ داعش ایک دہشت گرد تنظیم ہے، جس کا جنم اس سے قدرے کم متشدد مگر دہشت گرد تنظیم کے بطن سے ہوا۔ فکری اعتبار سے القاعدہ ہو یا جبھۃالنصرہ، احرار الشام ہو یا الشباب، طالبان ہوں یا جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی ہو یا کوئی اور نام، ہدف سب کا ایک ہی ہے۔ مسلم امہ کو عدم استحکام کا شکار کرنا اور اپنے فہمِ اسلام کو پوری دنیا پہ نافذ کرنا۔ اس نفاذ کی اصل، نام نہاد عالمی خلافت ہے۔ حیرت ہے کہ علمائے علم الرجال ابھی تک خاموش ہیں۔ خراسان، ہند، شام، یمن سے اٹھنے والے ’’دھویں اور کالے لشکروں‘‘ کی ہر ایک من مانی تشریح کر رہا ہے اور اس تشریح کی آڑ میں قتل و غارت گری۔ عالمِ اسلام ہی نہیں، عالم اِنسانیت بھی اس وقت دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ ہم برطانیہ کے دل لندن، کابل اور ایران کی پارلیمان و حرم امام خمینی پر ہونے والے حملوں کو علیحدہ علیحدہ کرکے دیکھیں گے تو تصویر واضح نہیں ہوسکے گی، بلکہ ہمیں تو قطر سے سعودی عرب کی قیادت میں چھ دیگر مسلم ممالک کی قطع تعلقی اور ترک پارلیمان کی جانب سے قطر میں فوج بھیجنے کی منظوری کو بھی، اس واقعاتی سلسلے کی کڑی کے طور دیکھنا چاہیے، جو ٹرمپ کے دورہ ’’ریاض‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔

دانشوارانہ رویوں کی کمزوری یہی ہے کہ اختلاف رائے اور سچ کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ ملکوں کے مفادات ہوتے ہیں اور انہی مفادات کے تابع ان ملکوں کے تعلقات۔ مسلکی تناظر میں گروہی مفادات تو پروان چڑھ سکتے ہیں مگر ملکی تعلقات نہیں۔ یہی ابدی سچائی ہے، جس سے عالمِ اسلام نظریں چرائے ہوئے ہے۔ ایران کی شام میں بشار الاسد حکومت کی داعش کے خلاف مدد، مسلکی رویوں سے ہٹ کر علاقائی بالادستی کی جنگ میں ایک فریق کی حیثیت سے شمولیت بھی ہے۔ ورنہ ایران کی شام میں مقامات مقدسہ کے علاوہ کیا دلچسپی ہے؟ علاقائی طاقت کا توازن اگرچہ درست نہیں، مگر پوری طرح بگڑ گیا تو مشرق وسطٰی کے نقشے پر چند نئے ملک جنم لیں گے، جن کی پیدائش مسلکی اور لسانی بنیادوں پر ہوگی اور یہی عالمی استبدادی قوتوں کا ہدف ہے۔ اس ہدف کے حصول میں علاقے کے مقدس شہزادے مددگار بنے ہوئے ہیں۔ داعش عالمی و مقامی استعمار کے مقاصد میں معاون ہے۔ داعش کی پیدائش میں سعودی عرب، قطر، ترکی کا کردار بنیادی ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل اس وحشت ناک تنظیم کے ’’گاڈ فادر‘‘ ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت بڑی دلچسپ ہے کہ داعش کی تخلیق میں جن علاقائی ممالک نے حصہ داری کی، داعش پلٹ کر انہی کے گلے پڑ گئی۔ ترکی اور سعودی عرب میں داعش کارروائیاں کرچکی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری مفتی نے پہلے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ داعش کے مجاہدین کے ساتھ ’’جہاد النکاح‘‘ کیا جائے۔ تیونس سے لڑکیوں کے غول نام نہاد مجاہدین کی جنسی تشفی کے لئے شام و عراق گئے۔ بعد میں فتویٰ آیا کہ داعش والے وحشی ہیں۔ دوسرے فتوے کی وجہ پہلے سے زیادہ دلچسپ۔

داعش کی جانب سے ایران میں دہشت گردی کی پہلی کارروائی دراصل ردعمل کی کارروائی بھی ہے۔ عراق اور شام میں داعش کو نہ صرف شدید مزاحمت کا سامنا ہے بلکہ اسے عراق اور شام میں شکست کا سامنا بھی ہے۔ کئی اہم علاقے داعش سے واپس لے لئے گئے ہیں۔ شامی فوج کو ایرانی اور روسی کمک نے توانائی دی۔ داعش شام و عراق سے پسپا ہو کر لیبیا اور افغانستان کی طرف اپنے ٹھکانے گہرے کر رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے یہ علاقائی تنظیمِ نو، شام و عراق میں داعش کی شکست پہ دال ہے۔ داعش کا اپنا ایک فہمِ اسلام و خلافت تو ہے ہی، اس کا اپنا ایک فہمِ ریاست بھی ہے۔ اس پہ کسی اور نشست میں بات ہوگی۔ ابھی کا منظر نامہ نہ صرف مشرقِ وسطٰی بلکہ عالم انسانیت کے لئے بھی زہر ناک ہے۔ افغانستان میں داعش کی موجودگی بالخصوص ایران اور پاکستان کے لئے تشویش ناک ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز پاکستان آرمی نے بلوچستان میں داعش کے بڑے ٹھکانے کو تباہ کرکے پاکستان میں قدم جمانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ اسی طرح ایران نے بھی داعش کے کئی گروہ حملہ کرنے سے پہلے ہی گرفتار کئے۔ مگر داعش کے ایرانی باشندے پارلیمان اور حرم امام خمینی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ عالمی میڈیا کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ اور آیت اللہ امام خمینی کے مزار پر حملہ کرنے والے ایرانی تھے، جنھوں نے دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ آخری تجزیے میں ٹرمپ نے ’’ریاض‘‘ میں ایران کو تنہا کرنے کی جو بات کی تھی، اس کا عجلت میں آغاز کر دیا گیا ہے۔ قطر سے سفارتی تعلقات کا منقطع کیا جانا اور ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ میں نے ہی عرب ممالک کو قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا کہا تھا اور پھر ٹرمپ کا امیر قطر اور سعودی شہنشاہ کو ثالثی کی پیشکش کرنا کوئی ایسی سائنس نہیں کہ جسے سمجھا نہ جا سکے۔

امریکہ افغانستان میں داعش کو قدم جمانے میں مدد دے گا۔ داعش ایران و پاکستان میں اپنے اہداف کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گی۔ ایرانی عوام اور سیاسی و مذہبی قیادت داعش کے خلاف صف آرا ہے۔ البتہ پاکستان میں داعش کے حق میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ مثلاً اسلام آباد کے ایک مدرسے کی طالبات کا داعش کے حق میں ویڈیو پیغام۔ اسلام آباد کی ایک خاتون صحافی کو انٹرویو میں لال مسجد والے مولانا عبد العزیز کا کہنا کہ ’’داعش کا جھنڈا دنیا پر لہرائے‘‘ گا۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں انتہا پسندانہ رویوں کی ترویج۔ کئی جزئیات مل کر پاکستان کے لئے تکلیف دہ صورتحال کا سبب بن رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے کامیاب جنگ لڑی اور آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ مگر انتہا پسندانہ فکری رویوں کو شکست دینا باقی ہے۔ یہ کام طویل اور صبر آزما ہے۔ پاک فورسز کو افغانستان والے بارڈر کے ذریعے مصروف رکھنے کی حکمت عملی کے مظاہر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ دنیا جن تبدیلیوں کی زد میں ہے، اب ان کا مرکز مشرقِ وسطٰی ہی ہوگا اور ان تبدیلیوں کی بنیاد دہشت گردانہ کارروائیاں اور دہشت گردوں کی سرکوبی ہوگی۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا داعش کی وہ سپلائی لائن کاٹ دی جائے گی، جس سے داعش کو افغانستان تک اسلحہ و رقم مل رہی ہے؟ جواب اس کا نہیں میں ہے۔ پاکستان، ایران اور چین کو اپنی سرحدوں کے اندر ہی نہیں ممکن ہے باہر جا کر بھی داعش کا خاتمہ کرنے میں ایک دوسرے کا معاون بننا پڑے اور روس بے شک اس بلاک کا سرکردہ ممبر ہی ہوگا۔ لیکن ہم جب سعودی قیادت میں چھ مسلم ممالک کا قطر سے سفارتی بائیکاٹ دیکھتے ہیں تو پاکستان ایک مشکل صورت میں نظر آتا ہے۔ مشرق وسطٰی میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ وہی جس کے بارے سطورِ بالا ذکر کیا جا چکا ہے۔