پاکستان میں مذہبی اور لبرل بیانیوں کی کشمکش

Pakistan

اسلام ہی نہیں کسی بھی مذہب، اصولوں اور تہذیب سے کوسوں دور مٹھی بھرعناصر پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کےلیے تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی متحرک ہوگئے تھے لیکن چونکہ معاشرہ اور ریاست خالص اسلامی نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی، اس وجہ سے اب تک یہ طبقہ اشرافیہ اپنے بڑے چھوٹے مغربی اور ہندوستانی آقاؤں کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

خود کو روشن خیال اورلبرل کہنے والے اس قدر تنگ نظرہیں کہ وہ اپنے نظریات کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کے قائل ہی نہیں۔ ان کی نظر میں صرف وہ درست اور کامل ہیں؛ باقی تمام عناصر اس دنیا میں فضول تر ہیں۔ دوقومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا بیانیہ بھی یقینی طور پر مذہبی ہی ہونا چاہیے تھا اور قائداعظمؒ کی دلی خواہش بھی یہی تھی کہ اس ریاست کو مذہبی بیانیے کے تناظر میں ایک اسلامی وفلاحی ریاست بنایا جائے۔

بانی پاکستان محمدعلی جناحؒ کے مذہبی بیانیے کے حق میں نظریات کے باعث اس طبقہ اشرافیہ کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے اور ان کی شدید ترخواہ

وہری اور آغا خانی کون ہیں؟ ایک مختصر تعارف
 
ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور قزوین نامی شہر کا اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام "حسن علی ذکرہ السّلام" آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔

آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو "آغا خان" کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب "محلاّت" نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن جب اس کو شکست ہوئی تو بھاگ کر ہندوستان میں پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان ک

داعش کی ایران میں دہشتگردی اور مشرق وسطٰی کا منظر نامہ
داعش کی پیدائش میں سعودی عرب، قطر، ترکی کا کردار بنیادی ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل اس وحشت ناک تنظیم کے ’’گاڈ فادر‘‘ ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت بڑی دلچسپ ہے کہ داعش کی تخلیق میں جن علاقائی ممالک نے حصہ داری کی، داعش پلٹ کر انہی کے گلے پڑگئی۔ ترکی اور سعودی عرب میں داعش کارروائیاں کرچکی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری مفتی نے پہلے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ داعش کے مجاہدین کیساتھ ’’جہاد النکاح‘‘ کیا جائے۔ تیونس سے لڑکیوں کے غول نام نہاد مجاہدین کی جنسی تشفی کیلئے شام و عراق گئے۔ بعد میں فتویٰ آیا کہ داعش والے وحشی ہیں۔ دوسرے فتوے کی وجہ پہلے سے زیادہ دلچسپ۔

مدرک شهادت حضرت فاطمه زهرا (سلام الله علیها) در کتب اهل سنت

لگد عمر بر حضرت زهرا

ابن ابی دارم که ذهبی وی را (( الامام الحافظ الفاضل . . کان موصوفا بالحفظ و المعرفه )) خوانده، نقل کرده است:(( ان عمر رفس فاطمه حتی اسقطت بمحسن ))ترجمه: (( عمر لگدی بر حضرت زهرا زد تا محسن سقط گردید. ))و او این حدیث را مورد تقریر و تایید خود قرار داده است

 

حال ہی میں ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں ایک تاریخ اسلام سے ناواقف شخص نے «فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کا افسانہ شہادت» کے عنوان کے تحت ایک مضمون لکھا ہے۔ اس نے اپنے مضمون میں سیدہ سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے بعد آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا انکار کرکے آپ کی بے حرمتی کو چھپانے کی کوشش کی ہے.
چونکہ اس نے تاریخ اسلام کے ایک حصے کو جھٹلانے اور اس میں تحریف کرنے کی کوشش کی ہے لہذا ہم نے ان تحریفات کے بعض حصوں کی طرف اشارہ کرنے اور متعلقہ تاریخی حقائق بیان کرنے کا ارادہ کیا تا کہ ثابت کیا جائے کہ سیدہ عالمین کی شہادت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اگر مذکورہ شخص اس بحث کا آغاز نہ کرتا تو ہم بھی ان حالات میں اس بحث میں داخل نہ ہوتے.

مکتب کربلا کے دروس کلام امام حسین (ع) کی روشنی میں
 امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہوگئے ہیں، دین فقط ان کی زبان تک رہ گیا ہے۔ خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں، جبکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرا برابر بھی محبت نہیں تھی، اس لئے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا، اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آ جانا چونکہ دنیا خطرناک امتحان گاہ ہے۔

جواب: شیعوں کے مشہور علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے اور وہ قرآن جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے بعینہ وہی آسمانی کتاب ہے جو پیغمبر گرامی ۖ پر نازل ہوئی تھی اور اس میں کسی قسم کی زیادتی اور کمی نہیں ہوئی ہے اس بات کی وضاحت کے لئے ہم یہاںچند شواہد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 

 

 

 22 رجب کا دن مومنین کے لئے خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ لہذا 22 رجب کے دن نذر و نیاز کا اہتمام کرکے مومنین کو طعام دینا، ان کا منہ میٹھا کرانا، ان کی ضیافت کرنا، بدعت نہیں بلکہ انتھائی مطلوب اور مستحب عمل ہے،

 میں نے تحسین و تمجید کیساتھ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی توہین کی حرمت کے سلسلے میں حضرت امام علی الخامنہ ای کا مبارک فتویٰ وصول کیا، یہ ایسا فتویٰ ہے جو صحیح دانش اور اہل فتنہ کیطرف سے انجام پانیوالے اعمال کی خطر آفرینی

کعبے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے کسی بھی شخص کی تکفیر جائز نہیں، شیخ احمد طیب
 شیخ الازہر شیخ احمد طیب نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کو اسلام کا بازو اور ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ العہد ویب سائٹ کے مطابق شیخ الازہر شیخ احمد طیب نے کہا ہے