لبنان میں روس کے سفیر نے اعلان کیا ہے حزب اللہ کی حمایت جاری رکھی جائے

 

لبنان میں روس کے سفیر نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کی حمایت کے سلسلے میں ماسکو کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
لبنان میں روس کے سفیر الگزینڈر زاسپکین نے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس بعض ملکوں کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے مخاصمانہ اقدامات کا مخالف ہے۔

انھوں نے کہا کہ تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ جنگ ماسکو کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے شام کی حمایت کے پیش نظر شامی فوج کے ایک اتحادی کی حیثیت سے حزب اللہ کے بارے میں ماسکو کا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔

اس سے قبل بھی روس نے ایک پیغام ارسال کر کے حزب اللہ لبنان کی حمایت کا اعلان کیا تھ

لبنان میں روس کے سفیر نے اعلان کیا ہے حزب اللہ کی حمایت جاری رکھی جائے

 

لبنان میں روس کے سفیر نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کی حمایت کے سلسلے میں ماسکو کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
لبنان میں روس کے سفیر الگزینڈر زاسپکین نے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس بعض ملکوں کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے مخاصمانہ اقدامات کا مخالف ہے۔

انھوں نے کہا کہ تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ جنگ ماسکو کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے شام کی حمایت کے پیش نظر شامی فوج کے ایک اتحادی کی حیثیت سے حزب اللہ کے بارے میں ماسکو کا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔

اس سے قبل بھی روس نے ایک پیغام ارسال کر کے حزب اللہ لبنان کی حمایت کا اعلان کیا تھ

تحریر: علی ناصر الحسینی
دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے اس پاک سرزمین پر پیروان حیدر کرار(ع) کا خون بہایا جارہا ہے اور ہر حکومت اس قتل عام میں شریکِ جرم رہی ہے مگر علی (ع) کے ماننے والوں کو جھکایا جا سکا ہے نہ دبایا جا سکا ہے۔ طاغوت کے پیروکاران ان کے راستے کی دیوار بن سکے ہیں نہ حوصلوں کو پست کیا جا سکا ہے۔ یہ شہادتیں، اغواء، ذبح کرنا، آگ و خون، بم دھماکے، خودکش حملے ہمارے لئے قطعاً نئے نہیں۔ ہر دور اور زمانے میں ہم ان آزمائشوں سے گزرتے آئے ہیں، دشمن کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیئے کہ ہم۔۔۔۔۔۔جھکنے والے نہیں، ہم دبنے والے نہیں، ہم ڈرنے والے اور گھبرانے والے نہیں، ہم سرجھکانے والے نہیں ۔۔۔۔۔۔ہم کربلا والے ہیں۔ ہمیں جھکانے کی سوچ لیکر نہ جانے کتنے اموی، عباسی، نجدی اور یزیدی یہ آرزو اپنے من لئے ایسے گئے کہ ان کا نام لیوا کوئی نہیں، انشاءاللہ آخری فتح حسینیوں کی ہو گی۔
آخری فتح ہماری ہوگی
تحریر: علی ناصر الحسینی

قارئین کو یاد ہو گا کہ نوے کی دہائی میں عالمی طاقتوں نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی فضا کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ نے زہر آلود کر دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے قیمتی سرمایہ کو جاہل گروہ کے ذریعے منظم طریقہ سے ختم کروا رہا تھا۔ یہ تجربہ پاکستان سمیت لبنان، ایران، عراق اور کئی دیگر مسلم ممالک میں بھی دہرایا گیا کہ ان ممالک کے سائنسدانوں، اعلیٰ دماغوں اور کسی بھی طرح مسلم اُمہ کی خدمت کرنے کی صلاحیتوں کے حاملان کو منظم دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ سے ہلاک کیا گیا۔ آج اگر ہم اپنے ملک پر نظر دوڑائیں ایک بار پھر نوے کی دہائی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عروج کی تصویر پیش کر رہا ہے.

اگر ہم اس حوالے سے پاکستان کا جائزہ لیں تو ماضی میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، شورکوٹ اور ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں فرقہ پرست دہشت گردوں کے ذریعہ ایسی کارروائیاں سامنے آتی رہیں۔ دہشت گرد ملکی فضا کو اپنی کارروائیوں سے مکدر کرتے رہے اور سرمایہ کاروں کو بددل کرکے بھگاتے رہے جس کا واحد مقصد اس ملک کی اقتصادی ناکہ بندی کے سوا کچھ نہیں لگتا تھا اور اب ایک بار پھر یہ سلسلہ پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت اگر ہم کوئٹہ کے بڑے سانحات کو ایک طرف رکھ دیں تو بھی کراچی، پشاور، بہاولپور، گلگت، ڈیرہ اسماعیل خان، لاہور، فیصل آباد اور کئی دیگر اضلاع دہشت گردوں کے نشانہ پر ہیں جہاں آئے روز ان کی کارروائیوں کے نتیجہ میں کسی اعلیٰ دماغ پاکستانی کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔
ہر لحظہ ہے قتل عام مگر کہتے ہیں کہ قاتل کوئی نہیں

حالیہ دنوں میں یکم فروری کو ہنگو کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے والے نمازیوں کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دھماکے میں 25 سے زائد نمازی خالقِ حقیقی سے جا ملے اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی طرح پشاور میں بھی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ یہاں مذہبی و سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ انتہائی قابل وکلاء اور ڈاکٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے تو 9 جنوری کو ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کو ڈبگری پشاور میں نشانہ بنایا گیا، شہید ڈاکٹر ریاض حسین شاہ پی پی پی کرم ایجنسی کے صدر اور امیدوار قومی اسمبلی تھے، ان پر اس سے پہلے بھی خودکش حملے کیے گئے تھے۔ ان کے بعد 22 جنوری کو ایک اور شیعہ ڈاکٹر شاہ نواز جو آئی اسپیشلسٹ تھے کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا۔ صدر کے علاقے میں ان کے کلینک میں گھس کر نشانہ بنایا گیا۔ 8 فروری کو جمعہ کی صبح گلبہار کے علاقے میں ہائیکورٹ کے سینئر وکیل ملک جرار حسین کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام ہائیکورٹ کے نئے ججز کی فہرست میں شامل تھا جس کا اعلان ہونا باقی تھا۔

لاہور جہاں کے حکمران بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے ہیں کہ ان کا صوبہ ان فسادات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی سے پاک ہے، میں بھی منظم طریقہ سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ملک کے اعلیٰ دماغوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ 18 فروری کو ظہور الٰہی روڈ پر اس ملک اور یہاں کی عوام کے دشمنوں نے وطن کا ایک عظیم سپوت ہم سے چھین لیا۔ ڈاکٹر علی حیدر جو پاکستان کے مایہ ناز آئی سرجن تھے جن کا کوئی متبادل اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہے کو ان کے 11 سالہ فرزند مرتضیٰ علی کے ہمراہ دہشت گرد ملک دشمن عناصر نے نشانہ بنا کر شہید کیا۔ مریضوں سے محبت کرنے والے اس مسیحا کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ عقیدہ کے لحاظ سے شیعہ تھا اور ملک کے ہر طبقہ امیر و غریب کے کام آ رہا تھا، ان کے دکھوں اور غموں کو کم کر رہا تھا۔ ڈاکٹر علی حیدر ایک ایسے استاد و پروفیسر تھے جنہوں نے اپنی مہارت و قابلیت کا لوہا عالمی سطح پر منوایا تھا اور ان کی یہ بہت بڑی خدمت تھی کہ اپنے ہنر کو اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کر رہے تھے۔ پتہ چلا ہے کہ اب تک انہوں نے 4 ایسے ڈاکٹرز شاگرد تیار کر لیے تھے جو آنکھ کے پچھلے پتلے کا آپریشن کر سکتے ہیں، ان کے والد بھی پروفیسر ڈاکٹر اور کئی نسلوں کے استاد ہیں۔ اس سے پہلے اس لاہور میں ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر سید شبیہ الحسن ہاشمی، شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ اور وقار شاہ بنک آفیسرز کو بھی دہشت گردوں نے چھین لیا تھا۔ ڈاکٹر علی حیدر کے والد نے تو اس دہشت گردی پر خفیہ اداروں سے سوال کیا ہے کہ جو افغانستان فتح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایک گروہ کو کیوں قابو نہیں کر سکتے؟

کراچی میں بھی کوئی دن خالی نہیں جاتا ،جب کسی شخصیت کو نشانہ نہ بنایا جاتا ہو، کراچی میں علماء، اسکالرز، ڈاکٹر، پروفیسرز، ایجوکیشنسٹ اور عام شیعیان علی کو تسلسل سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ اب کراچی سمیت کئی ایک شہروں میں شہداء کے الگ قبرستان سج چکے ہیں جہاں قبروں میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ جگہیں ناپید ہو رہی ہیں، ملک میں جاری اس مسلسل و منظم دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟ کون اس کے پس پردہ کارفرما ہے؟ کون پاکستان کو غیر مستحکم رکھنا چاہتا ہے ؟ کس کا پیسہ اور کس کا نظریہ فروغ دیا جا رہا ہے، اس بارے ملکی خفیہ ادارے و حکمران خوب واقف ہیں، ان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں، مکمل معلومات ہیں مگر کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔

خفیہ ادارے اور حکمران کمزوروں پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات اور تازہ واقعہ ہے جہاں ایک مومن نوجوان سید یونس کاظمی جو گذشتہ 2 برس سے خفیہ اداروں کی تحویل میں تھے، لاپتہ افراد کمیشن کے ذریعے ان کی گمشدگی کی FIR بھکر میں درج کی گئی تھی۔ 13فروری کو اس سید یونس کاظمی کی تشدد زدہ لاش ملی، شہید سابق UCناظم بھی تھے۔ یاد رہے اس سے قبل بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں ظفر حسین اور نوید کو خفیہ اداروں نے تشدد کے بعد کئی کئی ماہ اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد شہید کرکے پھینک دیا تھا۔ یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس وقت بھی ڈیرہ اسماعیل خان کے آٹھ نوجوان خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان سے ملاقات تو نہیں کروائی جاتی مگر کئی ایک بار خیریت کی اطلاع گھر والوں کو دی جاتی ہے۔ خدشہ ہے کہ ان کو بھی ایسے ہی انجام سے دوچار نہ کر دیا جائے۔ اس حوالے ارباب اقتدار، عدلیہ اور مقامی و قومی شیعہ قیادتوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

بدقسمتی سے اس ملک میں جنگل کا قانون راج کر رہا ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق آج ہم ریاستی اداروں، ان کے زیر نگین طاقتور مسلح گروہوں، غافل حکمرانوں اور مفاد پرست مذہبی و دینی جماعتوں کی موجودگی میں جبر کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اس ملک کے حقیقی وارث، اعلیٰ دماغ اور اصل خدمتگاروں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ذمہ دار اداروں اور ملکی نگہبانوں کی یہ روش اور ملت تشیع سے تعصب، تنگ نظری و سردمہری کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔ یہ روش اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، یہ روش ناامیدیوں کے سائے طویل کر رہی ہے، ایسی نا اُمیدیاں جو بغاوتوں کو جنم دیتی ہیں، جو کسی" تنگ آمد بہ جنگ آمد" قوم کو پیدا کرسکتی ہیں، جس کے پاس تمام راستے مسدود کر دیئے گئے ہوں، جس کا واحد اور آخری راستہ میدان عمل میں نکل آنا رہ گیا ہو۔

میں سوچتا ہوں کہ کہیں یہ ملک اپنے منطقی انجام کی طرف تو نہیں جا پہنچا ایسا انجام جس کا خواب ہم نے نہیں دیکھا بلکہ ایسا انجام جس کا ڈیزائن اس ملک کے دشمنوں نے تیار کر رکھا ہے اور اکثر اوقات میڈیا میں اپنے تیار کردہ پاکستان کے نقشے بھی شائع کرتے رہتے ہیں، اور یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ کربلا سے درس حریت، شہادت و قربانی لیتے ہوئے ملت تشیع دنیا میں جہاں بھی آباد ہو، یزیدیت کے اوچھے اور گھٹیا ہتھکنڈوں اور ریاستی دہشتگردی سے گھبرانے والے نہیں، عزاداری امام مظلوم (ع) کیلئے ان کی رگ رگ میں یہ پیغام راسخ ہو کر دوڑ رہا ہوتا ہے کہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا، اس مقصد کیلئے قتل ہوں یا قتل کریں ان کیلئے عجیب نہیں۔

دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے اس پاک سرزمین پر پیروان حیدر کرار(ع) کا خون بہایا جارہا ہے اور ہر حکومت اس قتل عام میں شریکِ جرم رہی ہے مگر علی (ع) کے ماننے والوں کو جھکایا جا سکا ہے نہ دبایا جا سکا ہے۔ طاغوت کے پیروکاران ان کے راستے کی دیوار بن سکے ہیں نہ حوصلوں کو پست کیا جا سکا ہے۔ یہ شہادتیں، اغواء، ذبح کرنا، آگ و خون، بم دھماکے، خودکش حملے ہمارے لئے قطعاً نئے نہیں۔ ہر دور اور زمانے میں ہم ان آزمائشوں سے گزرتے آئے ہیں، دشمن کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیئے کہ ہم۔۔۔۔۔۔جھکنے والے نہیں، ہم دبنے والے نہیں، ہم ڈرنے والے اور گھبرانے والے نہیں، ہم سرجھکانے والے نہیں ۔۔۔۔۔۔ہم کربلا والے ہیں۔ ہمیں جھکانے کی سوچ لیکر نہ جانے کتنے اموی، عباسی، نجدی اور یزیدی یہ آرزو اپنے من

شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے زیراہتمام حمایت مسلمین علماء کانفرنس کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی جس میں شہر بھر کے علماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  کانفرنس سے علامہ سید ساجد علی نقوی کے علاوہ ناصر مہدوی، علامہ شبیر حسین میثمی، علامہ عباس کمیلی، علامہ مرزا یوسف حسین،  علامہ جعفر سبحانی، علامہ شہنشاہ حسین نقوی، علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ علی محمد نقوی،  علامہ عباس مہدی ترابی، منظور حسین سمیت دیگر علماء نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والی عوامی بیداری کی لہر کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جبکہ وہاں کے عوام اور بالخصوص بحرینی عوام کے قتل و غارتگری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بحرین کے عوام آزادانہ انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کے استعمال کےخواہاں ہیں اور یہ کوئی بہت بڑا مطالبہ نہیں ہے۔ بحرین کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ عوام کو ان کے جائز حقوق سے روکنے کے لیے پڑوسی ممالک کی مداخلت نے وہاں کی صورتحال کو تشدد میں تبدیل کردیا ہے۔  بچوں، عورتوں اور اسپتالوں پر گولہ باری کرنا، عوام پر گولیاں برسانا قابل مذمت عمل ہے جس کے دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس عمل سے مسلمان ممالک میں اخوت اور یکجہتی کی فضا متاثر ہوسکتی ہے اور اس کے منفی اثرات نئے شاخسانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ایک تسلسل کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے مگر اقوام متحدہ، عالمی حقوق کے علمبرداروں، عرب لیگ اور او آئی سی کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

 

 پاکستان کے شیعہ ملی تنظیموں کے سربراہان نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ بحرین میں انقلابی بیداری کی تحریک کو سعودی وہابی سلفی افواج کے ہاتھوں معصوم اور پر امن بحرینیوں کے قتل عام کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ شیعت نیوز کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق جعفریہ الائنس پاکستان،مجلس وحدت مسلمین پاکستان ،شیعہ علماء کونسل پاکستان،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان،اور دیگر ملی تنظیموں نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کا اظہار کیاہے کہ جمعہ 18مارچ کو بحرین میں سعودی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والے سفاکانہ قتےل عام کے خلاف یوم احتجاج منایا جا ئیے گا اور ملک بھر کی تمام جامعہ مساجد کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما مولانا شبیر بخاری،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رہنما عامر طوری اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے رہنما مولانا ناظر عباس نے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں کی جانب سے بحرین میں انقلابی تحریک کو کچلنے اور پر امن بحرینیوں کی قتل و غارت کے لئے بھیجی جانے والی افواج کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستیں گھناؤنے کاموں سے پرہیز کریں ۔ رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ بحرین میں اسلامی بیداری کی تحریک کو کچلنے کے لئے پاکستانی اداروں کی جانب سے بھی بحرین بھیجے جانے والے افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے اور اس گھناؤنے جرم سے اجتناب کیا جائے ،رہنماؤںنے واضح کیا کہ پاکستان کے غیور مسلمان اپنے بحرینی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ ہیں اور ان کے قتل و غارت کی گھناؤنی سعودی سازش میں کسی طور شریک نہیں ہوں گے۔انہوںنے حکومت سے سختی سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کے خلاف کاروائی کرے اور پاکستانیوں کے بحرین جانے کے اقدامات کو روکے۔