یکم فروری بانی انقلاب اسلامی کی وطن واپسی کا دن

تحریر: نوید حیدر تقوی

حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا فیصلہ کرلیا اور ایرانی قوم کے نام اپنے پیغامات میں فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان تقدیر ساز اور فیصلہ کن ایام میں اپنے عوام کے درمیان رہیں ۔

 بختیار کی حکومت نے جنرل ہایزر کی ہم آہنگی سے ملک کے تمام ہوائی اڈوں کو غیر ملکی پروازوں کے لئے بند کردیا تھا ۔

 مگر بختیار کی حکومت نے بہت جلد پسپائی اختیار کرلی اور عوام کے مطالبات کے سامنے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا۔

 بالآخر امام خمینی (رح)12بہمن1357ہجری شمسی مطابق یکم فروری1979 کو14چودہ برسوں کی جلا وطنی کے بعد فاتحانہ انداز میں ایران واپس تشریف لائے۔

 ایرانی عوام نے آپ کا ایسا عدیم المثال اور شاندار تاریخی استقبال کیا کہ مغربی خبر رساں ایجنسیاں بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکیں اور خود مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ تہران میں چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد نے امام خمینی (رح) کا والہانہ استقبال کیا ۔

عشرۂ فجر کے پہلے دن یعنی یکم فروری سن 1979 مطابق 12 بہمن 1357 ھ ش کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی وطن واپسی متعدد برکات کا موجب بنی جن میں سے ایک یہ ہےکہ اسلامی بیداری  میں فروغ  آیا۔

حضرت امام خمینی (رح) کی تعلیمات کے نتیجے میں اسلامی بیداری میں تیزی پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ اس کا دائرہ عالمی سطح تک پھیل گیا ۔

 قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سمیت بہت سے مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ عصر حاضر میں دینی حیات کی تجدید کا آغاز ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے ہوا ہے ۔

 آسٹریا میں رہائش پذیر مسلمان دانشور محمد حسین کہتے ہیں کہ اگر عصر حاضر میں دینی تشخص کے احیاء کے لئے کوئی تاریخ مقرر کی جائے تو وہ 1979 کا سال ہوگا ۔ یعنی جس سال ایران میں انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور تمام ادیان کی تعلیمات کے سلسلے میں عظیم تحریکوں کا باعث بنا انقلاب اسلامی نے دنیا میں دینی فکر کا احیاء کیا ہے ۔

ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے  نے اکیسویں صدی کے آغاز کی مناسبت سے ایک ڈاکومنٹری نشر کی جس میں دینی فکر کے احیاء کے سلسلے میں حضرت امام خمینی (رح) کے عظیم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گيا کہ اسلامی انقلاب صرف ایرانی عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ادیان کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ساری دنیا میں کروڑوں لوگوں میں مذہب کا رجحان پیدا ہوا دنیا بھر کے عیسائیوں ، یہودیوں اور حتی ہندوؤں نے اپنے اپنے دین و مذہب کا رخ کیا ۔

امریکی مسلمان دانشور پروفیسر حمید مولانا ،حضرت امام خمینی (رح) کے اس کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یورپ میں حالیہ صدیوں میں عالم اسلام میں صدر اسلام کے بعد حضرت امام خمینی (رح) کی طرح کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی ہے ۔ جس کی تحریک ، افکار، کارکردگی اور تعلیمات عالمی سطح پر مؤثر ہوئی ہوں ۔

امام خمینی (رح) نے اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ روشنی پھیلائي ۔آپ کسی بھی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوئے آپ نے اپنی سادہ زندگی اور تقوی و اخلاق کے ساتھ عالمی سطح پر طاقت کا مفہوم ہی بدل دیا اور طاقت کے مادی اور ظاہری پہلوؤں کو کوئی اہمیت نہ دی ۔

حضرت امام خمینی (رح) کو عالمی سطح پر مقبولیت حاصل تھی ۔

جبکہ گذشتہ چھ سات صدیوں میں کوئی ایک بھی دینی و علمی شخصیت ایسی نظر نہیں آتی جس نے انقلاب برپا کیا ہو اوراس کو اس کے مخالفین نے بھی سراہا ہو ۔امام خمینی (رح) کی دینی و سیاسی قیادت کو عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا اور حالیہ صدیوں میں آپ کی قیادت کی کوئی مثال بھی نہیں ملتی ہے ۔

پروفیسر حمید مولانا امت اسلامیہ خصوصا" مستضعفین کے ساتھ حضرت امام خمینی (رح) کے تعلق کو مسلم اقوام کی بیداری کے سلسلے میں امام خمینی (رح) کی ایک اور بے مثال صلاحیت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گذشتہ دو صدیوں کے دوران کوئي بھی انقلابی لیڈر لوگوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم نہیں کرسکا ۔

حضرت امام خمینی (رح) نے قرآنی تعلیمات کو انتہائی عام فہم زبان میں لوگوں تک پہنچا دیا اور یہ خود انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سبب تھا ۔اقوام کو اپنی طرف مائل کرنے کے سلسلے میں دوسری تہذیبوں اور قوموں کے ساتھ آپ کا طرز گفتگو بھی مؤثر تھا ۔

حضرت امام خمینی (رح) نے سابق سوویت یونین کے آخری رہنما گورباچوف کے نام خط اور ویٹکن کو اپنا پیغام بھیج کر اسلامی نظام کے سادہ اورانسانی رابطے کی عملی مثالیں پیش کیں ۔ حضرت امام خمینی (رح) ایسے واحد مفکر تھے جو نہ صرف نظریات پیش کرتے تھے بلکہ اپنے نظریات کو عملی جامہ بھی پہناتے تھے ۔آپ نے اپنے زمانے کی بڑی سیاسی ، سماجی اور اقتصادی طاقتوں کی بنیادیں ہلا دیں اور عالمی سطح پر مسلمانوں اور مستضعفین کو موضوع  بنا دیا ۔

آج افریقہ کے دور دراز علاقوں میں بھی حضرت امام خمینی (رح) کے اس کردار کا ذکر کیا جاتا ہے جو آپ نے اسلامی بیداری کے سلسلے میں ادا کیا ہے۔

 

تحریر: ساجد حسین

انقلاب اسلامی کے اوائل ہی میں جب امریکہ نے عراق میں بٹھائے اپنے پٹھو اور درجنوں اتحادی ممالک کے ذریعے ایران پر حملہ کیا تو یہی مقصد تھا کہ اس انقلاب کا ابتداء ہی میں گلا دبایا جائے، لیکن جب ایران کے عوام نے دس سالہ مسلط جنگ میں عظیم الشان دفاع مقدس کا فریضہ سرانجام دیا تو امریکہ نے نیا حربہ یعنی پابندیاں عائد کرنا اپنایا جو اب تک جاری ہے۔ اس وقت پابندیوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی ملک ایران کو خاردار تار تک دینے پر آمادہ نہ تھا۔ لیکن بانی انقلاب اسلامی نے ان پابندیوں کو ایرانی قوم کے لئے نعمت سے تعبیر کر دیا اور فرمایا کہ اس طرح ایرانی قوم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خودکفیل ہو جائے گی۔
انقلاب اسلامی، زمین سے خلاء تک کامیابیوں کا سفر
تحریر: ساجد حسین

فروری 1979ء میں برپا ہونے والے انقلاب اسلامی نے اپنے عزم و استقلال سے جدید شعبوں سائنس و ٹیکنالوجی جیسے خلاء میں جاندار بھیجنا اور سائبر جنگ میں امریکی ڈرون طیارے کو زمین پر اتارنا حتیٰ کہ امریکہ کی طرف سے سرکاری طور پر یہ بات قبول بھی کرنا، جیسے اقدامات نے دنیا کو انگشت بادندان کر رکھا ہے۔۔۔ لیکن خود ایران کی انقلابی قوم اور قرآن و اہلبیت (ع) بالخصوص مدینۃ العلم (ص) اور باب العلم (ع) کو اپنا آئیڈیل بنانے والے ایرانی جوانوں کے لئے کوئی انہونی بات نہیں۔ علاوہ ازیں عرب ممالک و مشرق وسطیٰ میں ڈکٹیٹرز کے خلاف عوامی بیداری اور ڈکٹیٹرز کے خلاف قیام کے بعد امریکہ اور یورپ میں سودی و سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف وال سٹریٹ تحریک انقلاب اسلامی و فکر امام خمینی (رہ) کی کامیابی اور بیسویں صدی کے انقلاب اسلامی کے عظیم نعمت سے سبق لینے کا نتیجہ ہے۔

انقلاب اسلامی کے اوائل ہی میں جب امریکہ نے عراق میں بٹھائے اپنے پٹھو اور درجنوں اتحادی ممالک کے ذریعے ایران پر حملہ کیا تو یہی مقصد تھا کہ اس انقلاب کا ابتداء ہی میں گلا دبایا جائے، لیکن جب ایران کے عوام نے دس سالہ مسلط جنگ میں عظیم الشان دفاع مقدس کا فریضہ سر انجام دیا تو امریکہ نے نیا حربہ یعنی پابندیاں عائد کرنا اپنایا جو اب تک جاری ہے۔ اس وقت پابندیوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی ملک ایران کو خاردار تار تک دینے پر آمادہ نہ تھا۔ لیکن بانی انقلاب اسلامی نے ان پابندیوں کو ایرانی قوم کے لئے نعمت سے تعبیر کر دیا اور فرمایا کہ اس طرح ایرانی قوم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خود کفیل ہو جائے گی۔ امام خمینی (رہ) کا گوربا چوف کی طرف خط اور  سویت یونین متحدہ روس کے ٹکڑے ٹکڑے، اسی طرح 1981ء میں ایک پیغام کے ذریعے مصر کے عوام کو ایک دن مطلق العنان حکمران کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے جیسے درجنوں حقیقی پیشن گوئیوں کی طرح دنیا نے دیکھا کہ الحمداللہ آج اس عظیم ملت نے اپنے قائدین و رہبران بانی انقلاب طاغوت شکن امام خمینی (رہ) اور رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای کی بابصیرت قیادت میں خاردار تار تو کیا زمین سے لے کر خلاء تک کو مسخر کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام ہر زمانے کے مسائل کا حل ہے، چاہے وہ پہلی صدی ہجری ہو یا اکیسیویں صدی، کیونکہ یہ امام خمینی (رہ) ہی کے جملے ہیں کہ
لاشرقیہ لا غربیہ
اسلامیہ اسلامیہ

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امام خمینی (رہ) کی فکر ناب محمدی (ص) اسلام اور عالمی بیداری سے استعماری قوتیں بالخصوص امریکہ اتنا خوفزدہ تھا اور اب بھی ہے کہ امریکہ نے ناب محمدی (ص) اسلام اور امام خمینی (رہ) کے فکر کے مقابلے میں اپنے زرخریدوں القاعدہ و طالبان کا امریکائی اسلام پروان چڑھا کر دنیا بھر میں اسلام جیسے پرامن و مکمل ضابطہ حیات دین کو بدنام کیا۔ جس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی برملا کیا کہ ہم نے وہابی نظریئے کے شدت پسند القاعدہ و طالبان کی بنیاد رکھی۔ خوارج نما درندوں القاعدہ و طالبان کے بنانے کے امریکہ کے دو مقاصد تھے۔ پہلا مقصد ’’افغانستان پر قابض روس کو افغانستان سے شکست دے کر دنیا پر امریکی اجارہ داری‘‘ اور دوسرا مقصد ’’عالمی اسلامی بیداری بالخصوص فکر امام خمینی (رہ) اور ناب محمدی (ص) اسلام کے مقابلے میں خوارج نما درندوں القاعدہ و طالبان کا امریکائی اسلام پروان چڑھا کر دنیا بھر میں اسلام جیسے پرامن و مکمل ضابطہ حیات دین کو بدنام کرنا۔

یعنی اگر مسلم دنیا حتیٰ کہ افریقہ کے بعض غیر مسلم مظلومین امام خمینی (رہ) اور ناب محمدی (ص) اسلام کو آئیڈیل سمجھ کر بیدار ہونے لگے تو انہیں امام خمینی (رہ) کو شیعہ قرار دے کر امام خمینی (رہ) کے مقابلے میں اسامہ بن لادن جیسے کاغذی ہیرو و قیادت کی پیروی کر کے اسامہ کو ایک آئیڈیل کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ حالانکہ امام خمینی (رہ) نے لاشرقیہ و لاغربیہ، اسلامیہ اسلامیہ۔۔۔ اور امام علی (ع) کی وصیت کے مطابق کہ ’’ہر ظالم کے مخالف اور ہر مظلوم کے مددگار بن جاؤ‘‘ کے مصداق دنیا بھر کے مظلومین بالخصوص فلسطین (یاد رہے فلسطین میں کوئی بھی شیعہ مسلمان آبادی نہیں) کے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنا دیا۔ امریکی عوام ہوں یا دنیا بھر کے عوام جو القاعد و طالبان کو امریکہ کا دشمن سمجھتے ہیں وہ حقائق کو نظر انداز کرکے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

یہ امریکی سی آئی اے کی مدد سے القاعدہ و طالبان کا وحشی و غیر انسانی وہابی طرز فکر ہی تھا جس نے امریکہ کو عراق و افغانستان پر قبضے کا جواز فراہم کیا اور اب اسی ذریعے سے پاکستان پر قبضے کا سوچ رہا ہے۔ زیادہ دور اور تاریخی مثال چھوڑیئے حالات حاضرہ کی مثال لیجیے کہ ایک طرف امریکہ القاعدہ و طالبان کو میڈیا کے ذریعے اپنا دشمن قرار دیتا ہے اور دوسری طرف سوریہ دمشق میں دنیا بھر سے یمن، سعودی عرب، عراق، پاکستان وزیرستان اور افغانستان سے القاعدہ و طالبان جنگجووں کو اسلحہ و پیسہ دے کر دمشق میں قتل و غارت اور خودکش حملے کرکے اسرائیل مخالف دمشق کی حکومت کا تختہ الٹنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل کر رقص ابلیس برپا کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ دمشق اور حلب کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے دنیا کے پرامن ترین شہر قرار دے کر ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا، لیکن جس طرح سے القاعدہ و طالبان نے عراق افغانستان و پاکستان کے امن اور ثقافتی ورثے و مقدس مقامات کو تباہ و برباد کرکے خودکش حملے کئے آج دمشق میں بھی یہی ناٹک جاری ہے، کیونکہ دمشق کی حکومت عرب ممالک میں وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل مخالف اور فلسطین قبلہ اول مزاحمت و انتفاضہ یعنی حماس و حزب اللہ کی کھلم کھلا حمایت کرتی ہے۔ لگے رہو القاعدہ و طالبان اپنے آقا امریکہ و اسرائیل کی حمایت میں، اگر پھر بھی کسی کو شک ہے تو یہاں سوشل میڈیا سے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی اس ویڈیو کلپ کا لنک قارئین کے لئے دیا جا رہا ہے جس میں ہلیری کلنٹن نے اقرار جرم کر لیا ہے کہ القاعدہ و طالبان کا وحشی و غیر انسانی وہابی طرز اسلام بنانے کا خالق کوئی اور نہیں امریکہ (سب سے بڑا شیطان) ہی ہے۔

 تحریر: ملیحہ سجاد عاسل
 یہ ٹھیک ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ کُفر اور باطل جتنی مرضی شکلیں بدل کر آئیں، حق ہمیشہ غالب آکے ہی رہتا ہے۔ مگر خود کو اِس طرح ظالموں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ہم کب تک اپنے اپنے نظریات کی بنیاد پر اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہیں گے؟ آخر کیوں ہمارے لوگ دُشمن کی سازشوں سے بے بہرہ ہوکر من مانیاں کرتے جا رہے ہیں؟ ہر کسی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ایک الگ مسجد بنا رکھی ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو مذہبِ حق کا علمبردار سمجھتا ہے۔ دُشمن اِسی اُلجھاؤ اور ٹکراؤ کا فائدہ اُٹھا کر ہمارے لوگوں کو درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے۔

حرفِ آغاز کوئی نہیں ہے۔ نہ قلم میں اتنی ہمت ہے کہ کچھ زیبِ قرطاس ہو پائے۔ نہ ہی دل میں اتنا حوصلہ کہ اظہارِ خیال کی جرات کرسکے اور نہ دماغ میں اتنی طاقت بچی ہے کہ وہ حساب لگا سکے کہ محبت آلِ محمد (ع) کی پاداش میں ستم کی حد کہاں تک ہے۔ کوئٹہ، کراچی اور گلگت بلتستان کے نہتے بے گُناہ شیعہ مسلمان مسلسل ٹارگٹ کلنگ اور نسل کُشی کا شکار ہیں۔ فقط اِن شہروں میں بسنے والے شیعہ عوام ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر میں شیعہ کمیونٹی عدم تحفظ کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور اِس سازش سے ملک کے نامی گرامی لوگ بھی محفوظ نہیں ہیں۔

پچھلی دو تین دہائیوں سے تو پاکستان، مسلکِ تشیع سے وابستہ ملک کے مایہ ناز ڈاکٹروں، انجنیئروں، وکلاء، صحافی، ماہرینِ تعلیم، تجار، حتیٰ کہ فورسز میں خدمات دینے والے جاں نثاروں کی بھی ایک بڑی تعداد سے محروم ہوچُکا ہے۔ کبھی اُنہیں اُن کے گلی محلے میں ہی گولی مار دی جاتی ہے۔ کبھی کسی چوک، بازار یا چوراہے پر چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی اجتماعِ عام میں، مسجدوں، امام بارگاہوں، حتیٰ کہ جنازہ گاہوں کو بھی مقتل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی کُچھ گنے چُنے افراد کسی نہ کسی حادثے کے ذریعے ملکِ عدم سدھار دیئے جاتے ہیں اور یہ سب عمل ایک بے حد منظم اور پُر سکون طریقے سے بہت فول پروف انداز میں جاری و ساری ہے۔

یزیدی پیرو کار ہمیشہ، حسینیوں پر ظلم و ستم کے نئے نئے باب رقم کرتے رہے ہیں۔ رواں ہفتے راولپنڈی سے گلگت جانے والی 3 بسوں کے مسافروں کو جس بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا اُس پر یقیناً خود موت کو بھی غش آ گیا ہوگا۔ تقریباً 4 ماہ قبل بھی اِسی علاقے میں شیعیانِ علی (ع) کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا تھا۔ ابھی تو اُسی چوٹ کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ظالموں نے دوبارہ اُسی طرز پر وحشت کی انتہا کر دی ہے۔ ستم کی حد تو یہ ہے کہ اُنہیں باقاعدہ شناخت کے بعد اذیت دی جاتی ہے اور پھر نعرۂ تکبیر کی نام نہاد صداؤں میں سر تن سے جُدا کئے جاتے ہیں اور گولیوں کی بوچھاڑ سے خون میں غلطاں کر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کی قتل و غارت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اپنے ہی گھر میں بے سروساماں، مدد اور انصاف کے منتظر اہل تشیع عوام روز ہی ان گنت رشتہ داروں کے لاشے اُٹھاتے ہیں، اُن کے ذہنوں میں بھی یقیناً یہ بات ضرور گُونجتی ہوگی کہ ہمارے جنازے تو کسی کو نظر نہیں آتے مگر میڈیا جو باقی ہر بات بلا چون چراں نشر کرتا ہے۔ حتیٰ کہ فحاشی اور عریانت سے بھرپور خبریں میڈیا کی نشر و اشاعت کا لازمی حصہ ہیں، مگر یہ خون ریزی ایک چند لمحے کی بریکنگ نیوز کے بعد چینلز سکرین سے یوں غائب ہوتی ہے کہ جیسے اسے مزید چلانے پر توہین عدالت کا نوٹس مل جائے گا اور ہماری عدالتیں!!! خود ایک سوالیہ نشان ہیں۔
 
سوال یہ اٹھتا ہے کہ خود کو آزاد اور واقعی قدرے آزاد سمجھنے والا ہمارا میڈیا کہاں کی ڈکٹیشن کا پابند ہے؟ اِن نام نہاد چینلز کی کٹھ پتلیوں کی ڈور کن خفیہ ہاتھوں میں ہے؟ کون ہے جو اہل تشیع کو تباہ و برباد کر رہا ہے اور اپنے اِس ناپاک عمل کو دیگر اقوامِ عالم بالعموم اور پاکستانی عوام سے بالخصوص مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ کون ہے جو ہزارہ شیعہ کمیونٹی کی نسل کُشی کو فرقہ ورایت سے ہٹ کر گروہی تعصب کا شاخسانہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

کراچی کے شیعہ عوام کی آئے دن کی ہلاکتوں اور ٹارگٹ کلنگ کو سیاسی دشمنی سے تعبیر کرتا ہے اور گلگت بلتستان کے شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو شاہرائے ریشم پر بدامنی پھیلانے اور چین کو اضطراب میں مبتلا کرنے سے متصل کر رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ پُرامن احتجاجی ریلیوں میں شریک افراد کو بھی مسلسل جارحیت کا سامنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِن تمام طرح کے واقعات میں صرف اور صرف اہل تشیع مسلمان ہی کیوں نشانہ بنتے ہیں؟ اور مسلسل تین دہائیوں سے اِس ظلم کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اگر یہ سب فرقہ واریت نہیں ہے تو پھر اِس بربریت کا دوسرا نام کیا ہے؟

فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھنے والے یہ بے گُناہ مظلوم خاندان سب سے سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنی نسلوں کی بربادی کا ذمہ دار کسے ٹھہرائیں، کس کو الزام دیں۔ اپنی نااہل حکومت کو جو ہزار دعوؤں کے باوجود دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے میں قطعی ناکام رہی ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں مگر دہشتگردوں کی کاروائیاں آج تک ماند نہیں پڑیں۔ یا اپنی باقی ساری عوام کو جو گھروں میں پڑی خوابِ غفلت کا مزہ لے رہی ہے اور دشمن ایک ایک کرکے اُس کا نشان بھی صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے۔

جو خود کو تو محفوظ سمجھتی ہے مگر اِس بات سے قطعی بے خبر ہے کہ اگر جنگل میں چند درختوں میں لگی آگ پر جلدی قابو نہ پایا جائے تو وہ جلد یا بدیر سارے جنگل کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور لمحوں میں ہرا بھرا جنگل راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یا اپنی بے بس مذہبی اور سیاسی قیادت کو جو حکومتِ وقت کے ساتھ ساتھ اِن بُزدلانہ واقعات کے خلاف بیان بازی تو ضرور کرتی ہے، احتجاجی ریلیاں بھی نکالتی ہے مگر اِس سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتی، ایسی بربریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہیں کرتی۔
 
یہ بے بسی کی انتہاؤں پہ رہنے والے مظلومین سوال کرتے ہیں کہ آخر کون ہے جو اِس ظلم کا حساب مانگے گا؟ کون ہے جو دورِ حاضر کے یزیدوں کو للکارے گا؟ کوئی ہے جو آئے اور آج کے میثم تمار، اکبر و عباس، اور علی اصغر کے خون کا بدلہ لے۔ کوئی ہے جو ملت کی بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کو خوف و ہراس کے اُس چُنگل سے نجات دے جو رات دن اُن کی نیندیں حرام کئے ہوئے ہے کہ آج باہر جانے والا باپ، بیٹا، بھائی جانے زندہ سلامت واپس آئے گا یا نہیں۔ کون جانتا ہے کہ اس انتظار کی اذیت موت سے بھی زیادہ دہشت ناک ہوتی ہے۔ اپنی زندگی میں اپنے پیاروں سے بچھڑ جانا کس قدر دل گداز ہے یہ وہی جانتے ہیں جن کے دنیاوی آسرے بلا جُرم و بے خطا موت کی وادیوں میں دھکیل دیئے جائیں۔
 
اسلام روزِ اول سے ہی کُفر کی ریشہ دوانیوں میں گھرا رہا ہے۔ شہادتِ علی مرتضی (ع) سے لے کر آج تک اسلام کے نام پر ٹھیکداری کرنے والوں نے مذہب کی شکل مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب سے باطل نے حق کا لبادہ اوڑھ کر دین کی صفوں میں جگہ بنائی ہے، عام مسلمان کے لئے سچے اور جھوٹے میں فرق کرنا دشوار تر ہو گیا ہے۔ مگر حسینیت کا پرچار کرنے والی قوم اِس قدر کم مایہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ اِن سازشوں کا قلع قمع نہ کر سکے، جو یزیدیت اور صیہونیت کے بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

کالموں پہ کالم لکھنا، بحث مباحثے، ریلیاں، احتجاج، جلاؤ، گھیراؤ، پتھراؤ کوئی بھی ایسا عمل اِس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ فقط اتحادِ امت ہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہر فرد کو اِس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بنیادی طور پر آج ہم ملتِ تشیع کے افراد پاکستان کے اندر جس گروہی تعصب کا شکار ہیں یہ سب اُسی کا نتیجہ ہے جو دُشمن کو ہم پر حملہ کرنے میں اِس قدر قوت اور آسانی حاصل ہے کہ وہ جب، جس وقت، جہاں چاہے ہماری عید گاہیں کربلا میں تبدیل کرکے خوشی کے شادیانے بجائے۔ کیا ہم نے کبھی ملت کے اندر انتشار کو ختم کرنے کی بھرپور سعی کی ہے؟
 
یہ ٹھیک ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ کُفر اور باطل جتنی مرضی شکلیں بدل کر آئیں، حق ہمیشہ غالب آکے ہی رہتا ہے۔ مگر خود کو اِس طرح ظالموں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ہم کب تک اپنے اپنے نظریات کی بنیاد پر اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہیں گے؟ آخر کیوں ہمارے لوگ دُشمن کی سازشوں سے بے بہرہ ہوکر من مانیاں کرتے جا رہے ہیں؟ ہر کسی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ایک الگ مسجد بنا رکھی ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو مذہبِ حق کا علمبردار سمجھتا ہے۔ دُشمن اِسی اُلجھاؤ اور ٹکراؤ کا فائدہ اُٹھا کر ہمارے لوگوں کو درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے۔

وہ بات تو آپ سب کو یاد ہوگی کہ ایک باپ نے اپنے چند بیٹوں کو لکڑیوں کا ایک گٹھا دیا اور کہا اسے توڑ کے دکھاؤ۔ لڑکے کافی دیر تک اُسے توڑنے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ آخر اُن میں سے ایک بھائی نے کہا کہ ہمیں اِس گٹھے کو کھول کے کوشش کرنی چاہیے۔ سو جب اُنھوں نے گٹھے کو کھول دیا تو سب لکڑیاں بکھر گئیں اور آسانی سے ایک ایک کرکے ٹوٹ گئیں۔ آپ بتائیں کہ کیا ہمیں لکڑیوں کے اُس ناقابلِ شکست گٹھے کی مانند رہنا ہے یا ایک ایک کرکے بکھر بکھر کے ٹوٹ جانا ہے؟ اپنی بقاء کے لیے فیصلہ آپ خود کیجیے۔ بقول اقبال
منزلِ رہرواں دُور بھی دُشوار بھی ہے                   کوئی اِس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہے؟
بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکہء دین و وطن          اِس زمانے میں کوئی حیدرِ کرار (ع) بھی ہے؟

خبرکا کوڈ : 188321

عرض ادب و احترام! حالیہ سیلاب کی زد میں آنے والے لاکھوں بے گھر افراد اور ہزاروں جان بحق ہونے والے با پاکستانی ایمان بہن بھائیوں کی موت، غم و اندوہ کا باعث بنی۔ اس مصیبت عظمی میں جان دینے والوں کے بازماندگان، حکومت پاکستان اور ملت پاکستان کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔ خداوند متعال سے دعا گو ہیں کہ اس حادثے میں جان بحق ہونے والوں کی مغفرت اور اپنی رحمت بیکراں سے بھرہ مند فرمائے۔ بازماندگان کو صبر جمیل اور اس مجروہین کو شفا کامل عنایت فرمائے۔

علی رضا اعرافی/ وائس چانسلر آف المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی قم

 11 فروری ، 2010 ڈاکٹر آفتاب اصغر
ہمارے دیوار بدیوار ہمسایہ اور برادر ملک، ایران کے جشن دہۂ فجریا جشن عشرۂ انقلاب سے مراد 12بہمن (یکم فروری) اور 22 بہمن(10فروری) 1979ء کے درمیان وہ دس روز ہیں جب ایران کے جمہوریت پسند عوام روز بروز پیشقدمی کرتے اور امریکی ایجنٹ شہنشاہ آریا مہر (ایرانیوں کے بقول شہنشاہِ بے مہر) پہلوی کی عساکرِ قاہرہ کے زر خرید جنرل پسپا ہوتے رہے۔ یکم فروری 1979ء وہ دن تھا جس کی صبح کو ایران میں اسلامی انقلاب کے رہبر عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ، امام خمینیؒ، نے پندرہ سالہ جلاوطنی کے بعد ایران کے پایۂ تخت تہران کے فرود گاہ مہر آباد (مہر آباد ایئرپورٹ) پر قدم رکھا تھا۔

 11 فروری ، 2010 پاکستا ن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ماشاء اللہ شاکری کا پیغام
ملت شریف پاکستان‘ اسلام علیکم!
خداوند قادر متعال کا شکر گزار ہوں کہ انقلاب اسلامی ایران کی اکتیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک بار پھر پاکستان کے عزیز عوام سے گفتگو کا فخر حاصل ہو رہا ہے۔ ایرانیوں کیلئے پاکستان دوسرے گھر کی مانند ہے۔ پاکستان کی ترقی‘ سلامتی اور استحکام ایرانی حکومت اور عوام کی دلی خواہش ہے۔ آج کی نشیب و فراز سے بھرپور تاریخ گواہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے دل اور مقاصد ایک ہیں۔ دونوں اقوام کے مشترکہ ثقافتی‘ مذہبی‘ تہذیبی اقدار اور خواہشات لازوال ہیں اور دونوں ممالک کے گہرے تعلقات پر مہر ثبت ہے۔