ایرانی حکام اور اسلامی ملکوں کے سفراء کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

 

عید مبعث رسول اکرم(ص) کی مناسبت سے ایرانی حکام اور عہدیداروں اور اسلامی ملکوں کے سفراء نیز مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کی ایک بڑی تعداد نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔

عید مبعث کے مبارک موقع پر رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے انجام پانے والی اس ملاقات میں سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے عید بعثت رسول اکرم(ص) کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی۔

رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کے بارے میں اس خبر کی مزید تفصیلات سے آپ کو جلد ہی باخبر کیا جائے گا۔ انتظار کرنے کا بہت شکریہ

 


امام خمینی (رہ) نے فرمایا : " آقای خامنہ ای اسلام کے سچے وفادار اور خدمتگذار ہیں اسلام کی خدمت ان کی دلی تمنا اور آرزو ہے وہ اس سلسلے میں بے مثل اورمنفرد شخصیت کے حامل ہیں میں ان کو عرصہ دراز سے اچھی طرح جانتا ہوں "

ولادت سے مدرسہ تک

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے ، آپ اپنے والدین کی دوسری اولاد ہیں ، آپ کے والد سید جواد خامنہ ای اکثر علماءاور دینی مدرسین کی طرح قناعت پسنداور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے، انکی سادہ زندگی کے مثبت اثرات ان کے اہل و عیال پر بھی مرتب ہوئے اور وہ بھی ان کی طرح قناعت پسنداور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوگئے
رہبر عظیم الشان اپنی زندگی کی پہلی یاد داشت بیان کرتے ہوئے اپنی اور گھر والوں کی زندگی کے حالات کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" میرے والد ، مشہورو معروف عالم دین اور بہت ہی متقی و پرہیزگارتھے وہ اکثرخلوت پسند اور گوشہ نشیں رہتے تھے ہماری زندگی بہت سخت گزرتی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بعض اوقات ہمارے گھر رات کا کھانا نہیں بنتا تھا ! میری والدہ بڑی مشقت سے ہمارے لئے رات کا کھانا مہیا کرتیں اور یہ رات کا کھانا” روٹی اور کشمش “ہوتا تھا "
لیکن وہ گھر کہ جس میں آقای سید جواد کے اہل و عیال زندگی بسر کرتےتھے ، اس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی اس طرح بیان فرماتے ہیں :
” میرے والد کا مکان جہاں میں پیدا ہوا اور میری زندگی کے ابتدائی چار، پانچ سال وہیں گزرے وہ ساٹھ یا ستر میٹر مربع جگہ پر مشتمل تھاجو مشہد کے ایک ایسے محلہ میں واقع تھا ، جہاں غریب لوگ رہتے تھے ، اس مکان میں صرف ایک کمرہ اور ایک تاریک تہہ خانہ تھا ، جس میں گھٹن محسوس ہوتی تھی !
والد بزرگوار کے پاس اکثرمہمان (ایک عالم دین کی حیثیت سے ملاقات اور مسائل پوچھنے کے لئے) آتے جاتےتھےاور جب تک مہمان ان کے پاس رہتے تھے اس وقت تک ہم سب اس تاریک تہہ خانے میں چلے جاتے تھے بعدمیں میرے والد کے کچھ عقیدتمندوں نےہمارے مکان سے ملحقہ چھوٹا سا زمین کا قطعہ خرید کر ہمارے مکان میں اضافہ کردیااور اس طرح ہمارے مکان میں تین کمرے ہوگئے “
رہبر معظم انقلاب اسلامی کا بچپن ایک غریب لیکن روحانی اور معنوی خاندان اور صاف و ستھرے ماحول میں گزرا ، قرآن مجید کی تعلیم کے لئے آپ چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائی سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دئیے گئے ، اس کے بعد ان دونوں بھائیوں کے داخلے ایک ایسے اسلامی مدرسہ ” دارالتعلیم دیانتی “میں کرائے گئے جو نیا تاسیس ہوا تھا ، اور ان دونوں بھائیوں نے ابتدائی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی.

حوزہ علمیہ میں

آپ نے انٹر کالج میں تعلیم کے ساتھ ہی ( عربی گرائمر پر مشتمل کتاب جامع المقدمات ) اور صرف و نحو کی تعلیم کا آغاز کردیا تھا ، اس کے بعد آپ حوزہ علمیہ میں وارد ہوئے اور اپنے والد محترم اور دیگر اساتذہ سے ادبیات اور مقدمات کی تعلیم حاصل کی ، آپ حوزہ علمیہ میں داخلے اور روحانیت کے راستے کو انتخاب کرنے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" اس معنوی اورنورانی راستے کو انتخاب کرنے کا اصلی سبب میرے والد ماجد تھے اورمیری والدہ ماجدہ بھی اس سلسلہ میں میری بہت تشویق کیا کرتی تھیں اور یہ راستہ انھیں بہت پسند تھا "
آپ نے”جامع المقدمات “ ” سیوطی “ ” مغنی“ جیسی(عربی ) ادبیات کی کتابوں کومدرسہ " سلیمان خان " اور " نواب " کے مدرسین کے پاس حاصل کیا ، آپ کے والد ماجد بھی اپنے بیٹوں کے دروس پر نظارت کیا کرتے تھے آپ نے” کتاب معالم “بھی اسی دور میں تمام کرلی تھی ، اس کے بعد ”شرائع الاسلام “اور ” شرح لمعہ“ کو اپنے والد ماجد سے اور ان کا کچھ حصہ ” مرحوم آقای میرزا مدرس یزدی“ سے حاصل کیا ، رسائل و مکاسب کو مرحوم حاج شیخ ہاشم قزوینی کے پاس پڑھا اور سطح میں فقہ و اصول کے باقی دروس اپنے والد ماجد کے پاس تمام کئے اور اس طرح آپ نےمقدمات اور سطح کے دروس کوحیرت انگیز طور پر ساڑھے پانچ سال کی مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا
آپ کے والد ماجد مرحوم سید جواد نے ان تمام مرحلوں میں اپنے بیٹے کی ترقی اور پیش رفت میں اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ، رہبر عظیم الشان نے منطق و فلسفہ کے موضوع پر کتاب ” منظومہ سبزواری“ کوپہلے مرحوم آیت اﷲ میرزا جواد آقا تہرانی اور اس کے بعد ” شیخ رضا ایسی“ کے پاس حاصل کیا

حوزہ علمیہ نجف اشرف میں

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای (مدظلہ)نے مشہد مقدس میں عظیم مرجع آیت اﷲ العظمیٰ میلانی کے پاس ۱۸ سال کی عمر سے فقہ و اصول کے دروس خارج کا آغاز کردیا تھا ، آپ ۱۳۳۶ھ ش میں عتبات عالیات کی زیارت کی غرض سے نجف اشرف پہنچ گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے عظیم مجتہدین جیسے سید محمد محسن حکیم ، سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحییٰ یزدی اور میرزا حسن بجنوردی کے دروس خارج سے کسب فیض کیا آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے درس و تدریس اور تحقیق کے ماحول کوبہت پسند کیا لیکن آپ کے والد ماجد آپ کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہوئے جس کی بنا پرآپ نجف اشرف سےکچھ ہی عرصے کےبعد اپنے والد کی مرضی کےمطابق انکے پاس مشہد واپس تشریف لے آئے

حوزہ علمیہ قم میں

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای فقہ و اصول اور فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ۱۳۳۷ ھ ش سے ۱۳۴۳ ھ ش تک حوزہ علمیہ قم میں مشغول رہے اور آیت اﷲ العظمیٰ بروجردی (رہ) ، امام خمینی(رہ) ، شیخ مرتضیٰ حائری یزدی (رہ) اور علامہ طباطبائی(رہ) جیسے بزرگ علماء کے محضر سےکسب فیض کیا
۱۳۴۳ھ ش میں رہبر انقلاب کو اپنے والد ماجد کے خط کے ذریعہ معلوم ہوا کہ آپ کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی ” موتیا بندھ“ کی وجہ سے زائل ہوگئی ہے آپ اس خبر سے بہت افسردہ اورغمگین ہوئے اور ”قم میں تعلیم جاری رکھنے یا مشہد واپس جا کر والد ماجد کی خدمت کرنے “ کے درمیان پس و پیش میں پڑ گئے ، غور و فکر کرنے کے بعدآپ اس نتیجے پر پہنچے گئےکہ خدا کی خاطر قم سے مشہد کے لئے ہجرت اختیارکریں اور اپنے والد ماجد کی وہاں جاکر خدمت اوردیکھ بھال کریں ، آپ اس بارے میں فرماتے ہیں :
” میں باپ کی خدمت کرنےمشہد چلا گیا اور خدا وند عالم نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عطا فرمائیں ، بہرحال میں اپنا فریضہ اور ذمہ داری ادا کرنے میں مشغول ہوگیا ، اگر میں زندگی میں کامیاب ہوا ہوں اور مجھے توفیق حاصل ہوئی ہے تواس بارے میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ اسی نیکی کی وجہ سے ہے کہ جو میں نے اپنے والد ماجد ، بلکہ ماں باپ دونوں کے ساتھ کی تھی “
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای نے ان دو راستوں ( ١- قم میں تحصیل علم ، ٢- مشہد میں والدین کی خدمت ) میں صحیح راستے (مشہد میں والدین کی خدمت ) کو انتخاب کیا ، بعض اساتذہ اور ملنے جلنے والوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آپ نے اتنی جلدی قم کیوں چھوڑ دیا ، اگر رہ جاتے تو مستقبل میں ایسے بن جاتے اور ویسے ہوجاتے لیکن آپ کے تابناک اور روشن مستقبل نے بتادیا کہ آپ کا انتخاب صحیح تھا اور تقدیر الٰہی نےآپ کے لئے بہترین انجام رقم کردیا تھا ، کیا اس وقت کوئی تصور کرسکتا تھا کہ ایک ۲۵ سالہ بااستعداد جوان عالم کہ جو خدا کی رضا اور والدین کی خدمت کی خاطر قم سے مشہد روانہ گیا ، ۲۵ سال بعد مسلمانوں کے رہبر اور ولی امر ایسے بلند مقام اور منزلت پر فائز ہوجائےگا ؟ !
آپ نے مشہد مقدس میں درس سے ہاتھ نہیں کھینچا اورتعطیلات کے ایام یا سیاسی جد و جہدو فعالیت ، جیل اور سفر کے علاوہ اپنی فقہ واصول کی تعلیم کو ۱۳۴۷ ھ ش تک مشہد کے بزرگ علماء بالخصوص آیت اللہ العظمی میلانی کے محضر میں پابندی کے ساتھ جاری رکھا ، اسی طرح آپ جب ۱۳۴۳ ھ ش میں مشہد میں مقیم ہوگئے تو آپ نے تحصیل علم اورضعیف و بیمار باپ کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول اور دینی تعلیم سے جوان طالب علموں اور اسٹوڈینٹس کو آگاہ اور روشناس کرانا شروع کردیا تھا

سیاسی جد و جہد

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای خود فرماتے ہیں کہ " میں امام خمینی (رہ) کا فقہی ، اصولی ، سیاسی اور انقلابی شاگرد ہوں " لیکن مجاہد اعظم اور شہید راہ خدا ” سید مجتبیٰ نواب صفوی “ کے ذریعہ آپ کے پہلے سیاسی ، جہادی مرحلےاور طاغوتی طاقت کے ساتھ مقابلہ اور جد وجہد کا آغاز ہوا ، جس وقت نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ہمراہ ۱۳۳۱ھ ش میں مشہد گئے اور مدرسہ سلیمان خان میں اسلام کے احیاء و بقا اور الٰہی احکام کی حاکمیت “ کے موضوع پر ولولہ انگیز اور پرجوش تقریر کی جس میں ایرانی عوام کو برطانوی سامراج کے مکر وفریب اورشاہ کی خیانتوں سے آگاہ کیا اس وقت آیت اﷲ خامنہ ای جو مدرسہ سلیمان خان کے جوان طالب علم تھے ، نواب کی شعلہ بیانی سے بہت متاثرہوئے ، آپ فرماتے ہیں :
”اسی وقت انقلاب اسلامی کی چنگاری نواب صفوی کی شعلہ بیانی کے ذریعہ میرے وجود میں آگئی تھی اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ میرے دل میں پہلی آگ مرحوم صفوی نے روشن کی تھی “

امام خمینی (رہ) کی تحریک کے ہمراہ

آیت اﷲ خامنہ ای نے ۱۳۴۱ھ ش میں اس وقت میدان سیاست میں قدم رکھا کہ جب آپ قم میں مقیم تھے اور محمدرضا شاہ پہلوی کی اسلام دشمن پالیسی اور امریکہ نواز سیاست کے خلاف امام خمینی (رہ) کی انقلابی تحریک کاآغاز ہوا آپ اس وقت سیاسی جدو جہد کے میدان میں وارد ہوگئے اور پورے سولہ سال تک بہت سے نشیب و فراز ، شکنجے ، شہر بدری اور جیل جانے کے باوجود آپ نے جد و جہد کا سفر جاری رکھا اور اس راستے میں پیش آنے والے کسی بھی خطرے سے آپ ہراساں نہیں ہوئے آپ پہلی بار محرم ۱۳۸۳ھ ق میں امام خمینی(رہ) کی جانب سے آیت اﷲ میلانی اور خراسان کے دیگر علماءتک پیغام پہنچانے پر مامور ہوئے
اس پیغام میں علماءکے لئے محرم الحرام میں تبلیغ کرنے کا طریقہ کار ، شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں کو فاش کرنا ، ایران کے حالات اور قم میں رونما ہونے والے حوادث جیسے اہم موضوعات شامل تھے
آپ نے اس ماموریت کو بحسن و خوبی انجام دیا اور خود بھی تبلیغ کے لئے شہر ” بیرجند“ کی جانب روانہ ہوگئے اور امام خمینی (رہ) کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ، تبلیغ اور شاہ کی امریکہ نوازپالیسیوں کو فاش کرنا شروع کردیا ، لہٰذا ۹ محرم مطابق ۱۲ خرداد۱۳۴۲ ھ ش کو آپ گرفتار کر لئے گئے اور ایک رات قید میں رہنے کے بعد اگلے روز مجلس نہ پڑھنے ، تقریر نہ کرنے اور زیرنظر رہنے کی شرط پر رہا کر دئیے گئے ، ۱۵ خرداد کا حادثہ پیش آنے پر آپ کودوبارہ بیر جند سے مشہد لاکر فوجی قید خانہ میں بند کردیا گیا اور یہاں پر آپ نے دس دن شکنجہ اور آزار کے ساتھ قید با مشقت میں گزارے

دوسری گرفتاری

بہمن ۱۳۴۲ھ ش مطابق رمضان المبارک ۱۳۸۳ ھ ق میں آیت اﷲ خامنہ ای اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک منظم پروگرام کے تحت ( شہر) کرمان کی جانب روانہ ہوئے ، کرمان میں دوتین دن قیام کے دوران تقریریں کیں ، شہر کے علماءاورطلاب سے ملاقات کی ، اس کے بعد آپ زاہدان کے لئے روانہ ہوگئے ، یہاں پر آپ نےعوامی اجتماعات میں پُر جوش تقریریں کیں اور ( شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں ) کو برملا کرنےاور بالخصوص شاہ کے ذریعہ چھٹی بہمن کومنعقد کیئے جانے والے جعلی ریفرنڈم کے سلسلے میں کی جانے والی تقریروں کولوگوں نے بہت پسند کیا ، پندرہ رمضان المبارک ، امام حسن مجتبیٰ کی تاریخ ولادت کے موقع پر پہلوی شہنشاہی حکومت کی شیطانی اور امریکہ نواز سیاست کےمتعلق آپ کی بے باک انداز میں تقریریں اورآپ کی شجاعت و انقلابی جوش و ولولہ اپنے عروج کو پہنچ گیا لہذا ساواک ( شاہ کی خفیہ ایجنسی) نے آپ کو گرفتار کرکے ہوائی جہاز کے ذریعہ تہران روانہ کردیا ، رہبر عظیم الشان تقریباً دو مہینے تک ( تنہائی کے عالم میں ) ” قزل قلعہ “ نامی جیل میں قیدی بناکر رکھے گئے اور آپ نے اس جیل میں انواع و اقسام کی توہین اور شکنجے برداشت کئے

تیسری اور چوتھی گرفتاری

مشہد اور تہران میں انقلابی اور پر جوش جوانوں کے درمیان آپ کی تفسیر و حدیث اور اسلامی تفکر پر مبنی مذہبی کلاسیں بہت مقبول ہوئیں آپ کی یہ مذہبی سرگرمیاں ساواک کے غم وغصہ کا باعث بنیں اورساواک نے آپ کا پیچھا کرنا شروع کردیا ، اسی وجہ سے آپ نے ۱۳۴۵ ھ ش کا سال تہران میں مخفی طور پر گزارااور ایک سال بعد ( ۱۳۴۶ھ ش ) آپ گرفتار کرکے جیل بھیج دئے گئے ،آپ کی انھیں علمی سرگرمیوں ، جلسے اور کلاسیں منعقد کرنے ، عالمانہ اور مصلحانہ انداز میں عوام کے سامنے بیان کرنے کی بنا پرآپ کودوبارہ پہلوی ساواک نے ۱۳۴۹ ھ ش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا

پانچویں گرفتاری

حضرت آیت اﷲ خامنہ ای (مدظلہ)ساواک کے ذریعہ اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :
” ۱۳۴۸ ھ ش سے ایران میں مسلح تحریک کا احساس ہو گياتھا ، میرے بارے میں اُس وقت کی حکومتی کی ایجنسیوں کی حساسیت اور شدت عمل میں اضافہ ہوگیاتھا ، کیوں کہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسی تحریکوں سے میرے جیسے افراد کا منسلک ہونا ناگزیر ہے لہٰذا ۱۳۵۰ ھ ش میں مجھے پانچویں مرتبہ جیل ڈال دیا گیا ،جیل میں ساواک کا تشدد آمیز سلوک آشکارا طور پر بتارہا تھا کہ یہ ایجنسی ،اسلامی فکر رکھنے والےمراکز کے مسلح تحریک سے ملحق ہونے پر کس قدر فکر مند ہے اور یہ ایجنسی اس بات سے بھی خوب واقف تھی کہ مشہد اور تہران میں میری تبلیغاتی سرگرمیاں ، ان مسلح تحریکوں سے علیحدہ نہیں ہیں لہذا آزادی کے بعد تفسیر کے عمومی دروس اور آئیڈیالوجک مخفی کلاسوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا “

چھٹی گرفتاری

۱۳۵۰ ھ ش سے ۱۳۵۳ ھ ش کے درمیان آیت اﷲ خامنہ ای کے تفسیر اور اسلامی و انقلابی آئیڈیالوجک پر مشتمل دروس مشہد مقدس کی تین مسجدوں ” مسجد کرامت “ ” مسجد امام حسین (ع) “ اور” مسجد میرزا جعفر “ میں تشکیل پاتے اور ہزاروں مشتاق افراد آپ کے ان دروس میں شرکت کرکے فیض یاب ہوتے تھے بالخصوص ان تین مرکزوں پر اسلام اور انقلاب کے معتقد طالب علم اور آگاہ و روشن خیال جوان آپ کے دروس میں شرکت کرکے خالص اسلامی نظریات سے آشنا ہوتے تھے
آپ کا نہج البلاغہ کا درس ایک نئے جوش و ولولے کے ساتھ برقرارہوتا تھا فوٹو کاپی کئے ہوئے کتابچے” پرتوی از نہج البلاغہ “ کے عنوان سےایک دوسرے کے ہاتھوں میں رہتے ،وہ انقلابی نوجوان طالب علم کہ جنھوں نے جد و جہد اور حقیقت کا درس آپ سے سیکھا تھا ، ایران کے دور و نزدیک شہروں میں جاتے اور وہاں کے لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کے لئے زمینہ ہموار کرتے تھے، ان سرگرمیوں کی وجہ سے بے رحم ساواک نے ”دی ماہ “ ۱۳۵۳ ھ ش میں آیت اﷲ خامنہ ای کے مشہد میں واقع مکان پر حملہ کرکے آپ کوگرفتار کرلیااور آپ کی بہت سی یادداشتوں اور تحریروں کو ضبط کرلیا
آپ کی یہ چھٹی اور شدید ترین گرفتاری تھی اور ۱۳۵۴ھ ش کے موسم خزاں تک سول پولیس کی ایک مشترک کمیٹی کی قید میں رہے ، اس مدت میں آپ ایسے وارڈ میں رکھےگئے جس میں سخت اذیت و آزار دیا جاتا تھا ، آپ نے اس گرفتاری میں سخت تکلیفیں برداشت کیں ،خود آپ کے بقول : " ان تکالیف کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے برداشت کی ہیں "
جیل سے رہا ہونے کے بعد آپ مشہد مقدس تشریف لے گئے اور پھر انقلابی کوششوں اور علمی و تحقیقاتی پروگرام کوجاری رکھا ، لیکن اس بار آپ کو سابقہ طریقے پر کلاسیں تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی گئی

شہر بدری

ظالم پہلوی حکومت نے آیت اﷲ خامنہ ای کو ۱۳۵۶ھ ش کے آخر میں گرفتار کرنے کے بعد شہر بدر کرکے تین سال کی مدت کے لئے ” ایران شہر “ بھیج دیا ، ۱۳۵۷ ھ ش کے وسط میں ایران کے انقلابی مسلمانوں کی جدو جہد جب عروج کو پہنچی تو آپ ” ایران شہر “ سے آزاد ہوکر مشہد مقدس واپس تشریف لے آئے اور پہلوی سفاک حکومت کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والی جد و جہد میں لوگوں کے ساتھ اگلی صفوں میں شامل ہوگئے اور آپ نے پندرہ سال تک ، راہ خدا میں مردانہ اور دلیرانہ جد و جہد ، قیام و پائداری اورتمام سختیوں اور تلخیوں کو برداشت کرنے کے بعد انقلاب اسلامی کی شاندار کامیابی اور شاہی حکومت کے ظالمانہ نظام کے ذلت آمیز زوال اور ایران کی سرزمین پر اسلام کی حاکمیت کے شیریں پھل کو مثمر ثمر ہوتے دیکھا

کامیابی کے نزدیک

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نزدیک ، امام خمینی (رہ) کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے امام خمینی(رہ) کی جانب سے ایران میں شہید مطہری ، شہید بہشتی ، ہاشمی رفسنجانی جیسی مجاہد شخصیتوں کی شرکت سے ” شورای انقلاب اسلامی “ تشکیل پائی اور آیت اﷲ خامنہ ای بھی امام خمینی(رہ) کے حکم سے اس شورایٰ کے ممبر بنائے گئے ، امام خمینی (رہ) کا پیغام شہید مطہری کے ذریعہ آپ تک پہنچا ، رہبر کبیر انقلاب کا پیغام دریافت کرتے ہی آپ مشہد سے تہران تشریف لے آئے

کامیابی کے بعد

آیت اﷲ خامنہ ای ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اسی طرح جوش و ولولے کے ساتھ گرانقدر اسلامی فعالیت اور انقلاب اسلامی کے مقاصد سے نزدیک تر ہونے کے لئے کوششیں کرتے رہے جو سب کی سب اپنی نوع اور حالات کے اعتبارسے بے نظیر اور بہت ہی اہم تھیں ، یہاں پر ہم صرف اہم سرگرمیوں کا ذکر کررہے ہیں:
٭ آپ نے شہید بہشتی ، شہید باہنر اورہاشمی رفسنجانی جیسے ہم خیال اور ہمفکر اور مجاہد علماء کی مدد سے ۱۳۵۷ھ ش میں اسفند کے مہینے میں حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھی
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں وزارت دفاع میں معاونت کے عہدے پر فائز ہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سرپرست مقررہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں تہران کے امام جمعہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں اعلی دفاعی کونسل میں حضرت امام خمینی (رہ) کے نمائندہ مقرر ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں عراق کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کےشروع ہونے اور امریکہ اور سابق روس جیسی شیطانی قوتوں کے اشاروں پر صدام کی ظالم فوج کے ہاتھوں ایرانی سرحدوں پر عام تباہی مچانےکے ساتھ ، آپ نے لباس جنگ پہن لیا اور مخلصانہ طور پر میدان جنگ میں پہنچ کر اسلامی انقلاب کے دفاع اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے دفاعی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے
٭ ۱۳۶۰ ھ ش میں تیر مہینے کی چھٹی تاریخ میں تہران کی مسجد ابوذر میں منافقین نےآپ پر ناکام قاتلانہ حملہ کیا جس میں آپ زخمی ہوگئے
٭ صدارت : ایران کے دوسرے صدر ، محمد علی رجائی کی شہادت کے بعد آیت اﷲ خامنہ ای ۱۳۶۰ ھ ش میں مہر کے مہینے میں ۱۶ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے امام خمینی (رہ) کے حکم پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۰ھ ش میں انقلاب کی ثقافتی کونسل کے سربراہ منتخب ہوئے
٭۱۳۶۶ ھ ش میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۸ ھ ش میں بنیادی آئین میں تجدید نظر کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مقررہوئے
٭ امت کی رہبری اور ولایت : ۱۳۶۸ ھ ش میں خرداد مہینےکی 14 تاریخ کو رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد ، مجلس خبرگان رہبری نے آپ کوامت کی رہبری اور ولایت کے عظیم منصب اور ذمہ داری کے لئے منتخب کیا اور یہ انتخاب کتنااچھا اور مبارک انتخاب تھا کہ امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد آپ ایرانی عوام بلکہ امت اسلامیہ کی رہبری کی ذمہ داری بڑی خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ نبھارہے ہیں ۔

قلمی آثار

اس مختصر تحریر کے آخر میں بہتر ہے کہ رہبر عظیم الشان کے قلمی آثار پر نگاہ ڈالتے چلیں :

 

تالیف و تحقیق :

٭ طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
٭ از ژرفای نماز
٭ گفتار ی در باب صبر
٭ چہار کتاب اصلی علم رجال
٭ ولایت
٭ گزارش از سابقہ تاریخی و او ضا ع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
٭ زندگی نامہ آئمہ تشیع ( غیر مطبوعہ )
٭ پیشوای صادق
٭ وحدت و تحزب
٭ ہنر از دیدگاہ آیت اﷲ خامنہ ای
٭ درست فہمیدن دین
٭ حدیث ولایت ( آپ کے پیغامات اور گفتگو کا مجموعہ ہے کہ جو اب تک ٩ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے و۔۔۔
ترجمے
٭ صلح امام حسن ، تالیف راضی آل یاسین
٭ آئندہ در قلمرو اسلام ، تالیف سید قطب
٭ مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان ، تالیف عب

حضرت آیۃ اللہ العظمی مرعشی نجفی قدس سرہ: خدا کا سلام ہو روح خدا پر جس نے اسلامی دشمنوں کے ساتھ جنگ و پیکار کر کے ان کے سیاسی تعادل کو بگاڑ کر رکھ دیا اور دنیا کی تمام استعماری سپر طاقتوں پر فتح اور کامیابی حاصل کر لی

آیۃ اللہ شہید سید محمد باقر الصدر
تاریخ کی چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے پیروکاروں میں ایسی شخصیتیں بہت کم نظر آتی ہیں جنہوں نے امت پر آپ کی طرح ہماگیر اثرات باقی چھوڑے ہوں۔(۱)
اس عظیم الشان امام کے اخلاص اور فداکاری نے اس قدر اس خدا طلب اور مجاہد امت کو اپنا شیفتہ بنا لیا کہ یہ امت عاشقانہ اور صمیم قلب سے یہ نعرہ لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ " خمینی میں اسی طرح جذب ہو جاو جس طرح وہ اسلام میں جذب ہوئے ہیں" ۔
"ان کی اطاعت امام زمانہ(ع) کی اطاعت اور ان کی مخالفت امام زمانہ(ع) کی مخالت ہے"
" جب تک میرے بدن میں جان ہے صرف آیت اللہ خمینی (رہ) کے بارے میں کہوں گا"
" میرا دین مجھ سے کہتا ہے کہ آج خود کو امام خمینی(رہ) کے قدموں کے نیچے قرار دوں تاکہ ایک قدم اوپر آ سکوں"۔(۲)

حضرت آیۃ اللہ بہاء الدینی قدس سرہ
درود و سلام ہو مسلمانوں کے امام (رہ) پر کہ جن کے مقصد و ہدف کی راہ میں پائیداری، ظلم و ستم کے مقابلہ میں استقامت اور خدا و رسول کی راہ میں امت کو دعوت دے کر  کفر و شرک کو اپنے جگہ سے ہلنے پر مجبور کر دیا۔ اسی وجہ سے تمام متکبر اور مغرور طاقتیں اپنی تمام قدرتوں اور طاقتوں کے ساتھ آپ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔(۳)

حضرت آیۃ اللہ العظمی مرعشی نجفی قدس سرہ
خدا کا سلام ہو روح خدا پر جس نے اسلامی دشمنوں کے ساتھ جنگ و پیکار کر کے ان کے سیاسی تعادل کو بگاڑ کر رکھ دیا اور دنیا کی تمام استعماری سپر طاقتوں پر فتح اور کامیابی حاصل کر لی۔(۴)

حضرت آیۃ اللہ العظمی گلپائگانی قدس سرہ
خدا کا درود و سلام ہو اس شخص کی روح پر جس نے مسلسل کوششوں، فداکاریوں اور اپنی قاطع رہنمائیوں سے دین اسلام کو تمام عالم اسلام میں دوبارہ زندہ کیا۔ اور توحید اور تکبیر کی آواز کو تمام عالم بشریت تک پہنچایا۔ اور مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمت اور ان کے وقار کو انہیں واپس لٹایا۔ جس کی محکم اور قوی آواز نے متکبرین اور سپر طاقتوں کو لرزہ بر اندام کر دیا اور ان کے دلوں کو ہلا کر دکھ دیا۔(۵)

حضرت آیۃ اللہ العظمی اراکی قدس سرہ
خمینی کبیر پر سلام
سلام ہو اس بلند اور عالَمِ ملکوت کو چھونے والی روح پر، سلام ہو رسول خدا (ص) کی اس نسل مطھر پر اور آئمہ معصومین(ع) کے خلف صالح پر  جس نے اپنی گرانقدر عمر کو اسلامی معاشرے کی بیداری، دین اسلام کی عظمت اور آسمانی شریعت کی سربلندی کے لیے صرف کر دیا۔(۶)

حضرت آیۃ اللہ شہید اشرفی اصفہانی قدس سرہ
امام (رہ) علم، ایمان، اخلاص، صداقت، شجاعت، غیرت، عظمت، نورانیت وغیرہ میں انفرادی حیثیت کے حامل تھے۔ آپ نے سب کو یہ یقین دلا دیا کہ دوسروں کا آپ کے ساتھ مقایسہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی ہماگیر شخصیت کے سلسلہ میں اس بات کا اعتراف کرنا ضروری  ہے کہ امام علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں کسی کو بھی آپ کی طرح امت کا رہبر نہیں پایا۔(۷)

آیۃ اللہ فاضل لنکرانی قدس سرہ
امام (رہ) حقیقی معنی میں انسان کامل کا مصداق تھے۔ شیعت اور جہان اسلام کی پوری تاریخ میں شاید ہی آپ کی نظیر مل سکے۔(۸)

حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی
حقیقت میں امام خمینی(رہ) امام معصومین(ع) کے عظیم نائبین میں سے تھے۔(۹)
حقیقت میں ہمارے اس عظیم الشان رہبر نے اپنے الہی قیام سے جانوں کو حیات بخشی اور اس حیات کے سائے میں علوم اسلامی کو زندہ کیا اور خداوند سبحان نے بھی اپنی غیبی امداد سے ان کی تائید کی۔ امام راحل نے قرآن مہجور کو قرآن مشہور، سنت مستور کو سنت ظاہر، اور دین مہجور کو دین مانوس بنا دیا۔(۱۰)
ہاں، امام رضوان اللہ علیہ ہمیشہ تاریخ کی ایک زندہ حقیقت ہیں آپ مکتب اہلبیت اور عصمت و طہار علیہم السلام کے لیے ایک شائستہ شاگرد اور ایک ایسے امام زادہ ہیں کہ جن کے زمانے میں حق باطل کے اوپر جلوہ گر ہوا۔ لہذا بغیر کسی تردید کے آپ کے مرقد کے پاس ان نورانی فقروں کو پڑھا جا سکتا ہے۔
اشھد انک قد اقمت الحج و اتیت الزکاۃ و امرت بالمعروف و نھیت عن المنکر و جاھدت فی اللہ حق جھادہ حتی اتیک الیقین۔(۱۱)

آیۃ اللہ شہید صدوقی
اس عبد صالح نے امت اسلامیہ کے درمیان جو تبدیلیاں ایجاد کیں وہ اس قدر عمیق اور وسیع ہیں کہ صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اسی شریف اور صالح شخص کا دیا ہوا ہے اور وہ وہی ہے جس نے ہمیں معنوی زندگی عنایت کی۔(۱۲)

شہید مطہری
وہ شخص جو دن میں بیٹھ کر اس طرح کے شعلہ ور بیان دیتا تھا وہی سحر کو کم از کم ایک گھنٹہ اپنے خدا سے راز و نیاز کرتا تھا، آپ اس طرح گریہ و زاری کرتے تھے کہ جس کا یقین کرنا مشکل ہے۔  حقیقت میں یہ شخص حضرت علی علیہ السلام کا نمونہ معلوم ہوتا تھا۔(۱۳)

آیۃ اللہ علامہ محمد تقی جعفری
امام (رہ) ان لوگوں میں سے تھے جو اس حدیث مبارک کے واضح مصادیق  تھے۔ یحزنون لحزننا و یفرحون لفرحنا۔(۱۴)

آیۃ اللہ مظاہری
بنیادی طور پر امام(رہ) اسلامی اخلاق کا مجسمہ تھے۔ آپ کی واضح خصوصیات محرمات سے دوری تھی، یہاں تک کہ ایک مکروہ عمل بھی آپ سے سرزد نہیں ہوتا تھا۔ حتی اگر شبہ گناہ جیسی کوئی بات پیش آ جاتی تو آپ پر پریشانی کے آثار نمایاں ہو جاتے تھے۔(۱۵)

حضرت آیۃ اللہ مصباح یزدی
امام خمینی (رہ) انبیاء کی دعوت کو آگے بڑھانے، پیغمبر اسلام (ص) کے وجود کو جاویدانی عطا کرنے اور حکومت الہی کو زمین پر قائم کرنے والی عظیم شخصیت تھیں۔(۱۶)

آیۃ اللہ مکارم شیرازی
امام خمینی آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں بلکہ وہ کل سے زیادہ زندہ ہیں۔ " کس طرح اس بات کا یقین کریں کہ وہ انسان جو اس سارے جوش و ولولہ اور تحریک کا سبب تھا اور اس قدر صاحب عظمت اور قدرت تھا آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہے؟ کس طرح وہ شخص جس کے وجودی آثار نے ہماری اجتماعی مجالس کو پرنور کیا اور جہاں بھی ہم قدم رکھتے ہیں اس کے ایک نئے اثر کو ملاحظہ کرتے ہیں، دنیا کا کونہ کونہ ابھی تک جس کی باتیں کرتا ہے اسے مردوں کی صف میں قراردیں؟(۱۷)

رہبر انقلاب حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای دام ظلہ
عصر حاضر کی نامور شخصیت امام روح اللہ خمینی (رہ) پارسا، دانشور، صاحب عقل و خرد، متقی، سیاست مدار، حکیم، متفکر اور دور اندیش، مومن، شجاع، عاقل، عارف، عادل حکمران، اور فداکار مجاہد تھے۔ وہ فقیہ، اصولی، فلسفی، عارف، معلم اخلاق، ادیب اور شاعر تھے۔ آپ کے اندر خدادادی برجستہ اور شاندار صلاحیتیں پائی جاتی تھی، جنہیں انہوں نے قرآن و معارف اسلامی سے حاصل اور اپنے دل و جان سے آراستہ و پیراستہ کیا تھا۔ اور ایک ایسی عظیم اور جاذبِ نظر اور موثر شخصیت وجود میں لائے تھے کہ اس آخری صدی کے تمام برجستہ چہرے آپ کے روشن اور تابناک چہرہ کے سامنے ماند پڑ جاتے تھے۔ اور اس صدی کی تمام بڑی اجتماعی، سیاسی، دینی شخصیتیں آپ کی عظیم شخصیت کے مقابلے میں چھوٹی نظر آتی تھیں۔ جس عظیم کام کے لیے انہوں نے ہمت اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا ایمان، توکل، تدبر اور صبر و شکیبائی سے اس تک رسائی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جس قدر وہ کام عظیم تھا اسی قدر آپ کی شخصیت بھی عظیم، تعجب آور اور ناقابل یقین تھی۔ آپ کی ممتاز اور عالمتاب شخصیت، آپ کے تمام سیاسی دور میں حیرت میں ڈالنے والی تھی۔ خلاصہ یہ کہ آپ کی شخصیت انفرادی حیثیت کی مالک تھی۔(۱۸)
امام خمینی(رہ) کی شخصیت اس قدر عظیم تھی کہ تاریخ اور دنیا کے تمام بزرگوں، رہبروں کے درمیان صرف آئمہ معصومین علیھم السلام کے علاوہ ایسی شخصیت کا ان صفات اور کمالات کے ساتھ پایا جانا دشوار ہے۔(۱۹)
امام(رہ) نے اسلام کے سیاسی مکتب ہونے کے نظریہ کو پیش کرکے دشمنوں کی گزشتہ ایک صدی کے درمیان تمام سیاسی ثقافتی کوششوں کو خاک میں ملا دیا۔ خاص طور پر وہ دشمنان اسلام جنہوں نے اپنی تمامتر کوششوں سے اسلام کو انسانی زندگی سے مکمل طور پر نکال کر باہر پھینک دیا تھا۔(۲۰)
حقیقت میں تقوی، پرہیزگاری اور اخلاق کے اس اعلی نمونہ اور آئیڈیل نے ہم سب کو سمجھایا ہے کہ انسان کامل بننا اور علی علیہ السلام کی طرح زندگی گزارنا، اور عظمت و طہارت کی سرحدوں تک پہنچنا کوئی افسانہ نہیں ہے۔
آپ اہل خلوت، اہل عبادت، اہل دعا، اہل تضرع، شب زندہ دار، خدا سے رابطہ رکھنے والے، اہل عرفان اور معنویت اور صاحبان ذوق میں سے تھے۔ وہ مرد جس کے چہرے سے ایرانی قوم کے دشمن خوف زدہ ہو جاتے تھے اور لرزنے لگتے تھے۔ وہ مستحکم دیوار، وہ مضبوط پہاڑ، جس وقت انسانی اور عاطفی مسائل آپ کے سامنے آتے تھے، اس وقت ایک لطیف مہربان اور کامل انسان ہوتے تھے۔
امام بزرگوار ایک حاکم کی صورت میں ایک ذمہ دار سر پرست ایک ہوشیار رہبر، با تدبیر اور دریا دل انسان تھے خوف زدہ کرنے والی موجیں ان کے سامنے ناچیز تھیں اور ان کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ سخت سے سخت حادثات بھی آپ کو شکست نہ دے پائے بلکہ وہ ان تمام حوادث سے زیادہ قوی اور مستحکم تھے۔(۲۱)

حجۃ الاسلام و المسلمین علی دوانی
آپ کا نورانی اور ہمیشہ مطمئن رہنے والا چہرہ اور عمیق نگاہیں ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف جذب کر لیتی تھیں ۔ آپ کی مطمئن اور آراستہ و پیراستہ صورت، مناسب اور موزوں حرکات و سکنات، منظم اور نافذ نگاہیں، نشست و برخست کے وقت ہاتھوں اور گردن کی موزوں حرکات، ٹھری ٹھری اور آہستہ گفتگو، چلتے وقت عظیم وقار کے ساتھ قدم بڑھانا یہ سب آپ کی بلند مرتبہ روح کی علامت اور دلیل تھی اور آپ کی بے مثال جاذبیت میں اور بھی اضافہ کر دیتی تھی۔(۲۲)

حوالہ جات
(۱)رسالہ معرفت، ش ۳۱، بہار۱۳۷۸
(۲)کتاب عصر امام خمینی ص۲۴
(۳)نیوز پیپر''رسالت'' ۱۲،۳،۱۳۷۸با نقل کتاب عصر امام خمینی ص۲۱
(۴)وہی حوالہ
(۵)وہی حوالہ ص۲۰
(۶)وہی حوالہ
(۷)نیوز پیپر رسالت،۱۲،۳ ۱۳۷۸
(۸)وہی حوالہ
(۹)کتاب؛ بنیان مرصوص امام خمینی ص۶
(۱۰)وہی حوالہ،ص۳۱
(۱۱)کتاب عصر امام خمینی ص۲۵
(۱۲)نیوز پیپر رسالت،۱۲،۳ ۱۳۷۸
(۱۳)پیرامون انقلاب اسلامی،ص۲۳
(۱۴)نیوز پیپر رسالت،۱۲،۳ ۱۳۷۸
(۱۵)وہی حوالہ
(۱۶)رسالہ معرفت، ش ۳۱، بہار ۱۳۷۸
(۱۷)کتاب عصر امام خمینی ص۲۴
(۱۸)امام راحل کی سویں سالگرد ولادت کے موقع پر رہبر معظم کے پیغام کا ایک اقتباس
(۱۹)بہمن ماہ ۱۳۷۷ شمسی میں انقلاب اسلامی کی سالگردکی مناسبت سے رہبر کے پیغام کا ایک حصہ
(۲۰)امام راحل کی ایک برسی کی مناسبت سے اخبار "قدس" میں آپ کا پیغام۔ مہر ماہ، ۱۳۷۸
(۲۱)نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران، ۱۴،۳،۱۳۷۸
(۲۲)امام در آئینہ خاطرہ ھا

میں تمام ملت اور پوری انتظامیہ کو یہ اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر اسلامی حکومت ولایت فقیہ کی نگرانی میں رہی تو اس ملک اور مملکت کو کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ اہل قلم اور اہل بیان اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ سے نہ ڈریں ۔ولایت فقیہ کو جیسے اسلام نے مقرر فرمایا ہے، جیسے آئمہ معصومین [ع] نے اسے عملی جامعہ پہنایا ہے وہ کسی کو صدمہ نہیں پہنچا سکتی۔ وہ دکٹیٹر شپ وجود میں نہیں لاسکتی، جو کام قوم کے مفاد کے خلاف ہو اسے انجام نہیں دے سکتی۔ وہ کام جو حکومت یا صدر جمہوریہ یا کوئی دوسرا شخص ملک اور قوم کے مفاد کے خلاف انجام دینے کی کوشش کرے گا ولایت فقیہ اس پر کنٹرول کرے گی، اسے روکے گی۔ آپ اسلام سے نہ ڈریں فقیہ سے نہ ڈریں، ولایت فقیہ سے خوف نہ کھائیں۔ آپ بھی اسی قوم کے راستے پر چلیں اور اس قوم کے ساتھ ہو جائیں اپنا حساب و کتاب اس قوم سے الگ نہ کریں خود اکیلے بیٹھ کر پروگرام طے نہ کریں اپنے طور پر بیٹھ کر پروگرام نہ بنائیں۔ آپ کو قوم کے ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔ قوم کی لاج رکھنا چاہیے۔ آپ کو اس قدر اسلامی حکومت پر اشکال نہیں کرنا چاہیے۔ آپ اگر چہ اہل اسلام ہیں لیکن آپ کو اسلام کی نسبت صحیح معلومات نہیں ہیں۔ آپ مسلمان ہیں لیکن اسلامی احکام سے مطلع نہیں ہیں۔ شیعہ ہیں لیکن آئمہ معصومین(ع) کی سیرت سے آگاہ نہیں ہیں۔ آپ اس قدر مخالفت نہ کریں۔ لوگوں نے اسلامی جمہوریت کو ووٹ دیا ہے آپ کو پیروی کرنا چاہیے اگر پیروی نہیں کی نابود ہو جائیں گے۔ قوم کے راستے کے بر خلاف، اسلامی راستے کے برخلاف کوئی راستہ انتخاب نہ کریں۔ یہ گمان نہ کریں کہ جو پروگرام اسلام نے پیش کیا ہے وہ اسلام کی بدنامی کا سبب ہے۔ یہ منطق جاہل اور ناآشنا لوگوں کی منطق ہے۔ یہ نہ کہیں کہ ہم ولایت فقیہ کو قبول رکھتے ہیں لیکن ولایت فقیہ کے ساتھ اسلام خراب ہو جائے گا۔ اس کا مطلب آئمہ(ع) کو جھٹلانا ہے۔ آپ بغیر شعور کے یہ بات کہہ رہے ہیں آئیں قوم کے شانہ بشانہ ہو جائیں جس نے اسلامی جمہوریت کو ووٹ دیا ہے۔ اس قوم کے مقابلہ میں آپ کے اس چھوٹے سے گروہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے آپ بھی اکثریت کی اتباع کریں اور اسلام کے تابع ہو جائیں قرآن کی پیروی کریں، پیغمبر اسلام(ص) کی اطاعت کریں۔ اس قدر مخالفت نہ کریں اور مجلس خبرگان سے کنارہ کشی نہ کریں یہ کنارہ کشی قوم سے کنارہ کشی ہے اسلام سے کنارہ کشی ہے مجلس خبرگان کی مخالفت قوم کی  مخالفت ہے اسلامی راستے کے خلاف ہے اپنے آپ کو قوم کے سامنے ذلیل نہ کرو آپ سے صحیح کاموں کی توقع ہے۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں اور سوچ سمجھ کر بولیں۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔(۱) ۔
ولایت فقیہ نظام آمریت کا سد باب
یہ ولایت فقیہ ہے کہ جو ڈکٹیٹر شپ کو روکتی ہے۔ اگر ولایت فقیہ نہ ہو تو نظام، نظام آمریت ہو جائےگا۔ یہ جو چیز رکاوٹ بنتی ہے کہ صدر جمہوریہ ڈکٹیٹر نہ ہو جائے، یہ جو چیز مانع ہے کہ فوجی کمانڈر ڈکٹیٹر نہ ہو جائے، وزیر اعظم ڈکٹیٹر نہ ہو جائے یہ ولایت فقیہ ہے۔
فقیہ کہ جسے قوم کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور جسے امت کا امام قرار دیا گیا ہے وہ ہے جو اس آمریت کو ختم کرنا چاہتا ہے اور سب کو پرچم اسلام اور اسلامی قانون کے سائے میں لانا چاہتا ہے۔ اسلام کی حکومت قانون کی حکومت ہے۔ یعنی الہی قانون، قرآنی قانون اور نبوی(ص) قانون۔ (اسلامی) حکومت قانون کی تابع ہے۔ یعنی خود پیغمبر اسلام (ص) بھی قانون کے تابع تھے، خود امیر المومنین (ع) بھی قانون کے تابع تھے قانون سے ہٹ کر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ اور نہ ہی اٹھا سکتے تھے۔(۲)
ولی فقیہ قوانین کو اجرا کرنے کا ذمہ دار
آپ ولایت فقیہ سے نہ ڈریں۔ فقیہ لوگوں پر زور و زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔ اگر ایک فقیہ ڈکٹیٹر شپ چلانے کی کوشش کرے گا تو اس فقیہ کی اسلام میں کوئی ولایت نہیں مانی جائے گی (یعنی وہ مقام ولایت کا حقدار نہیں ہو گا)۔ اسلام میں قانون حکومت کرتا ہے ۔ پیغمبر اکرم(ص) بھی قانون کے تابع تھے الہی قانون کے تابع تھے۔ قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے تھے۔ خداوند عالم فرماتا ہے کہ اگر چنانچہ ایک بات جو میں کہتا ہوں اس کے خلاف کہو گے میں تمہیں عذاب کروں گا۔ اگر پیغمبر ایک ڈکٹیٹر آدمی ہوتے ایسا شخص ہوتے جن سے سب ڈرتے کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ جب سب حکومتیں اور طاقتیں ان کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ ڈکٹیٹر شپ چلانے لگیں،(تو اسلام نہ پھیلتا)، اگر پیغمبر ڈکٹیٹر ہوتے اس صورت میں فقیہ بھی ڈکٹیٹر ہوتا، اگر امیر المومنین [ع] ڈکٹیٹر ہوتے تو اس وقت فقیہ بھی ڈکٹیٹر ہوتا۔ ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کا کوئی سوال نہیں ہے۔ ہم تو آمریت کو روکنا چاہتے ہیں۔ ولایت فقیہ جملہ امور پر سرپرستی کا نام ہے تاکہ ان امور کو ان کی صحیح ڈگر سے خارج نہ ہونے دے۔ پارلیمنٹ اور مجلس پر نظارت رکھے۔ صدر جمہوریہ پر نظارت رکھے، تاکہ اس کے قدموں کو غلط راستے کی طرف بڑھنے سے روک سکے۔ وزیر اعظم پر نظارت رکھے تاکہ اس سے کوئی لغزش سرزد نہ ہو۔ دوسرے مقامات پر نظارت رکھے فوجی کمانڈروں پر نظارت رکھے کہ وہ ملک کے خلاف کوئی کام انجام نہ دیں۔ ہم ڈکٹیٹر شپ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ہم نظام آمریت نہیں قائم کرنا چاہتے۔ ولایت فقیہ آمریت کے خلاف ہے نہ کہ آمریت ہے۔(۳)
ولی فقیہ کا فریضہ، قانون کا نفاذ اور آمریت سے اجتناب
تمام ملت ایران متحد اور یکجا ہو جائیں جیسا کہ ابتدا  میں یہ نعرہ لگاتے تھے آزادی، استقلال، اسلامی جمہوریت، آج بھی اسی نعرہ کے سائے میں آگے بڑھیں۔ اسلامی جمہوریہ، یعنی اسلامی احکام۔ اسلامی احکام نافذ ہونا چاہیے۔ یہ جو باتیں کرتے ہیں کہ اگر ولایت فقیہ وجود پا گئی تو ڈکٹیٹر شپ ہو جائے گی، یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ولایت فقیہ کو نہیں سمجھا کہ یہ کیا ہے؟ اگر ملک میں ولایت، فقیہ کی ولایت نہ ہو بلکہ پھر کسی کی ولایت ہو؟  یہ لوگ ولایت فقیہ کے بارے میں ذرہ برابر اطلاع نہیں رکھتے۔ ولایت فقیہ تو ڈکٹیٹر شپ کا سد باب کرنے کے لیے ہے۔ نہ اس لیے کہ خود ڈکٹیٹر شپ بن جائے۔ یہ لوگ اس سے ڈرتے ہیں کہ ان کا راستہ نہ  روکا جائے۔ اگر صدر جمہوریہ فقیہ کی رائے سے منتخب ہو  ایک ایسے شخص کے دستخط سے تائید ہو جو اسلام میں تبحر اور مہارت رکھتا ہے اسلام کا درد سینے میں رکھتا ہے تو ایسا صدر، اسلام کے خلاف قدم نہیں اٹھائے گا، خطا کی طرف نہیں بڑھے گا۔ ہم اس چیز کو چاہتے ہیں۔ اگر ایک مغربی ملک میں ایک صدر جمہوریہ کو منتخب کر کے تمام تر اختیارات اس کے ہاتھ میں دے دیں تو اس پر کوئی اشکال نہیں کریں گے۔ لیکن اگر ایک فقیہ کہ جس نے اپنی ساری زندگی اسلامی کی خدمت میں صرف کر دی ہو وہ ان شرائط کے ساتھ جو اسلام نے معین کئے ہیں ذرہ بھی مخالفت نہیں کر سکتا بر سر اقتدار آجائے تو ںظام، نظام آمریت ہو جائے گا؟ اسلام قانون کا دین ہے۔ پیغمبر خدا بھی قانون کے خلاف حرکت نہیں کر سکتے؟
خدا کہتا ہے اگر ایک کلمہ بھی قانون کے خلاف کہو گے تمہاری رگ حیات کاٹ دوں گا۔ حکم قانون ہے۔ قانون الہی کے علاوہ کوئی حکومت کرنے کا حقدار نہیں ہے نہ فقیہ نہ غیر فقیہ۔ سب قانون کے دائرہ میں رہ کر عمل کرتے ہیں سب قانون کا اجرا اور نفاذ کرنے والے ہیں فقیہ اور غیر فقیہ سب۔ فقیہ اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ دیگر افراد قانون کی رعایت کریں قانون کے  خلاف عمل نہ کریں۔ نہ یہ کہ خود حکومت کرنا چاہتا ہے ۔ فقیہ یہ چاہتا ہے کہ یہ جو حکومتیں ہیں یہ کبھی کچھ دنوں کے بعد طاغوتی حکومتیں نہ ہو جائیں ۔ فقیہ یہ چاہتا ہے کہ یہ حکومت اسلام کی خدمت میں باقی رہے۔ اس لیے کہ آپ کے جوانوں کا خون اسلام کی راہ میں بہا ہے ۔ اب ہم چھوڑ دیں وہ بنیاد جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے جو امیر المومنین(ع) کے زمانے میں قائم رہی جو رسول خدا(ص) کے زمانے میں قائم رہی، اس بنیاد کو چند لوگ مل کر منہدم کر دیں۔ چار آدمیوں کے لیے جو جمع ہو کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں چائے اور قہوہ پینے میں مشغول رہتے ہیں ہم اپنا سب کچھ چھوڑ دیں! ہم اجازت دے دیں اتنے شہیدوں کا خون جو اسلام کی راہ میں بہا ہے سب بیکار ہو جائے؟! سب ضائع ہو جائے؟۔ کہتے ہیں ہمیں ایسی ولایت فقیہ نہیں چاہیے۔ ٹھیک ہے۔ تمہیں پتا ہی کیا ہے ولایت فقیہ کیسے کہتے ہیں؟ ولایت فقیہ روز اول سے اب تک رہی ہے۔ رسول خدا [ص] کے زمانے میں رہی ہے۔ یہ لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں انہیں فقہ اسلامی سے آشنائی نہیں ہے۔ کیسی باتیں کرتے ہیں اور عوام کے ذہنوں کو مشوش کرتے ہیں۔(۴)
ولایت فقیہ کی مخالفت در حقیقت اسلام کی مخالفت
ان لوگوں کی باتوں کو نہ سننا جو اسلامی طریقہ کار کے مخالف ہیں اور اپنے آپ کو روشن فکر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ولایت فقیہ کو قبول نہ کریں۔ اگر فقیہ بیچ میں نہ ہو اور ولایت فقیہ کی دخالت نہ ہو تو طاغوت کی دخالت ہو گی۔ یا خدا ہے یا طاغوت۔ یا طاغوت ہے یا خدا۔ اگر خدا کا حکم مد نظر نہ رکھا جائے اگر صدر جمہوریہ کو ولایت فقیہ کے بغیر منصوب کیا جائے تو وہ غیر شرعی ہو گا اور جب غیر شرعی ہو گا تو اس نظام میں خدا نہیں ہو گا طاغوت ہو گا۔ اس کی اطاعت، طاغوت کی اطاعت ہو گی۔ اس کی حکومت میں زندگی گزارنا طاغوت کے زیر سایہ زندگی گزارنا ہو گا۔ طاغوت اس وقت نابود ہو گا جب ہم خدا کے حکم سے کسی کو نصب کریں گے۔ آپ نہ ڈریں ان چار لوگوں سے جو خود نہیں جانتے اسلام کیا ہے؟ نہیں جانتے فقیہ کیا ہے؟ انہیں کیا معلوم ولایت فقیہ کیا ہوتی ہے؟ وہ یہ سوچتے ہیں ولایت فقیہ سماج کے لیے ایک طوفان ہے۔ وہ اسلام کو سماج کے لیے طوفان سمجھتے ہیں ولایت فقیہ کو سماج کے لیے مصیبت سمجھتے ہیں ولایت فقیہ مصیبت نہیں ہے رحمت ہے ولایت فقیہ اسلام کی لازمہ میں ہے۔(۵)
حوالہ جات
(۱): صحیفہ نور ج ۹
(۲): اخلاق کارگزاران در کلام و پیام امام خمینی [رہ] ص۲۹۱
(۳): اخلاق کارگزاران در کلام و پیام امام خمینی [رہ] ص ۲۹۴
(۴): صحیفہ نور ج ۹
(۵): صحیفہ نور ج

ہندوستانی قانون دانوں کا 110 رکنی وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچ گیاہے۔  یہ وفد پاکستان میں دس روز قیام کے دوران اسلام آباد کا دورہ بھی کرے گا۔ ہندوستانی کی مختلفبار کونسلز کے وکلا واہگہ بارڈر کے راستے لاہور پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیاگیا۔

ایران کیخلاف جارحیت سے تیسری عالمی جنگ کا امکان، حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائینگے، ایرانی کمانڈر
العالم ٹی چینل سے گفتگو میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سینئیر کمانڈر کا کہنا تھا کہ علاقے میں موجود امریکی اڈوں کو ہم قطر، بحرین یا افغانستان کی سرزمین نہیں بلکہ امریکی سرزمین تصور کرتے ہیں اور بلاشبہ ہم انہیں اپنے فوجی حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔
ایران کیخلاف جارحیت سے تیسری عالمی جنگ کا امکان، حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائینگے، ایرانی کمانڈر
فارس نیوز کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سینئیر کمانڈر امیر علی حاجی زادے کا دشمن کی طرف سے ایران کے خلاف حملے کی دھمکیوں پر اپنے رد عمل میں کہنا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل سے کوئی بھی تنہا یا مستقل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ بلکہ ان میں سے جو بھی جنگ کا آغاز کرے گا تو دوسرا خود بخود اس جنگ میں شامل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی وی چینل العالم سے گفتگو سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ اور اسرائیل کو ایک ساتھ ہی تصور کرتے ہیں، اور ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت اور پشتیبانی کے بغیر جنگ کا آغاز کرے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر جنگ شروع ہونے کی صورت میں ہم بھی دونوں ملکوں کے ساتھ جنگ میں وارد ہو جائیں گے، اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔

حاجی زادے کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایسے حادثات رونما ہوں گے کہ جن کی مدیریت اور کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے، کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کچھ ممالک ایران کی حمایت اور کچھ دوسرے ممالک ایران کے دشمنوں کی حمایت میں اس جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ ایرانی کمانڈر کا امکانی جنگ کی ناقابل تصور صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں اپنے اطراف اور ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں پر حملے کریں گے اور یہ بھی امکان موجود ہے ان ممالک کے عوام بھی ان امریکی ٹھکانوں پر حملہ آور ہو جائیں۔

سپاہ پاسداران کے کمانڈر کا گذشتہ ہفتے اس خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے اور چھ طیاروں کے تباہ ہونے یا نیٹو کے آئل ٹینکرز پر حملوں اور اس خطے کے عوام کی طرف سے امریکی فوجیوں کے قتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ تمام اتفاقات ایسی صورت میں رونما ہوئے ہیں کہ ابھی ہم نے کسی کے ساتھ جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے اور امریکہ اس کا ساتھ نہ دے، یا یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے جنگ کی صورت میں اس خطے کے عوام امریکہ کے ساتھ مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے اور اس صورت میں یہ جنگ تیزی کے ساتھ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

حاجی زادے کا تاکید کرتے ہوئے یہ کہنا تھا کہ یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں خطے کے ممالک غیر جانبداری کا اعلان کر دیں گے۔ ایرانی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں موجود امریکہ اڈوں کو ہم قطر، بحرین یا افغانستان کی سرزمین نہیں بلکہ امریکی سرزمین تصور کرتے ہیں اور بلاشبہ ہم انہیں اپنے فوجی حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق ایران نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے سینئر کمانڈر جنرل امیر علی حاجی زادے کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ایران کا نیوکلئیر پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور اسرائیل کبھی بھی امریکی حمایت کے بغیر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جہاں کہیں بھی امریکی اڈے ہوں گے ان کو امریکی سرزمین سمجھتے ہوئے، انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز سے مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی بھی بند کر دی جائے گی۔

جعفریہ نیوز نیٹورک کو موصول ہونے والی اطلاعات کےمطاق رہبر  معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کل پانچ گھنٹے سے زیادہ عرصہ تک مؤثر وپیشرفتہ ٹیکنالوجی کی نمائشگاہ کے مختلف شعبوں کا قریب سے مشاہدہ کیا  رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پانچ گھنٹے سے زیادہ عرصہ تک مؤثر وپیشرفتہ ٹیکنالوجی کی نمائشگاہ کا قریب سے مشاہدہ کیا اور متعلقہ حکام کی راہنمائی میں ایران کے ممتاز محققین اور سائنسدانوں کی علمی و ٹیکنالوجی شعبہ میں کاوشوں اور تحقیقی کوششوں کے نتائج کا مختلف اطاقوں میں قریب سے مشاہدہ کیا اور ملک کے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سرگرم سائنسدانوں کی کاوشوں کے بارے میں مزید آگاہی حاصل کی۔  رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مؤثرو اسٹراٹیجک  ٹیکنالوجی کی نمائشگاہ میں پہنچنے کے بعد شہید علی محمدی اور شہید شہریاری کے مزار پر حاضر ہو کر سورہ فاتحہ کی تلاوت کی  اور علم و ایمان کے میدان کے شہداءکی بلندی درجات کے لئے دعا کی۔  سائنس و ٹیکنالوجی کی اس نمائشگاہ میں  ایرانی محققین و سائنسدانوں  کی ہوا و فضا، مائیکروالیکٹرانک ، جدید انرجی ، نانو ٹیکنالوجی، سٹیم سیلز ٹیکنالوجی، انفارمیشن اور ارتباطات پر مبنی ٹیکنالوجی، ماحولیات پر مبنی ٹیکنالوجی ، ایرانی طب ، اور میڈیکل پرمبنی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں اختراعات، ایجادات اور تخلیقات کو نمائش کے لئے پیش کیا گيا تھا۔  قومی منصوبہ کی روشنی میں” مقناطیسی روش کے محور پر ایٹمی ری ایکٹر کے حرارتی مادہ کی آزمائشی ٹیکنالوجی کی ڈیزائن وتعمیر”  منجملہ ایسے علمی نتائج تھے جنھیں جدید ٹیکنالوجی کے شعبہ پیش کیا گیا تھا،ایٹمی گداخت بجلی کی پیداوار میں جدید ترین اور پیشرفتہ ترین روش ہے جو آئندہ چند برسوں میں موجودہ روش ایٹمی شکافت کی جگہ لے لےگی، اسلامی جمہوریہ ایران کی اس منصوبہ پر اس وقت تحقیقات اور ریسرچ جاری ہے اور مستقبل قریب میں اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی گداخت بجلی پلانٹ کی تعمیر کا کام شروع کردےگا۔  امیر کبیر یونیورسٹی میں سپرقومی کمپیوٹر کی ڈیزائن اور تعمیرمنجملہ بڑے قومی منصوبے میں شامل ہے جسے اس نمائشگاہ میں پیش کیا گیا تھا۔ اور کلی طور پر اس کمپیوٹرکا ڈیزائن، نقشہ اور ساخت کے تمام مراحل ملک کے اندر اور امیر کبیر صنعتی یونیورسٹی میں انجام پائے ہیں، سپر کمپیوٹر کو بنانے کی ٹیکنالوجی صرف دس ممالک کے پاس ہے سرعت اور سپیڈ کے لحاظ سے سپرکمپیوٹر ایک ثانیہ میں 89 ہزار ارب عملیات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔   امیر کبیر صنعتی سیٹلائٹ منجملہ امیر کبیر صنعتی یوینورسٹی کے ماہرین اور سائنسدانوں کی توانائیوں کا مظہر ہے جسے اس نمائشگاہ میں پیش کیا گيا تھا۔   میڈيکل شعبہ میں کینسر کے غدد کے علاج کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی، ریڈيو ایزوٹوپ مشین، کنویں کے اندر کھدائی کے عمل کی ہدایت کرنے والا مقناطیسی آلہ ،پرواز کے دوران فضا میں معلق ہوکر فوٹو گرافری ، فلمبرداری اور سرعت کے ساتھ ان کی ترسیل میں مددگار زحل ہوائی طشتری، 2 سے 40 گیگا ہرٹز فریکنوینسیوںپر راڈار سے متعلق انفارمیشن اور اٹومیٹیک سسٹم ، راڈار کا اٹو میٹیک سسٹم ، موسمیاتی اطلاعات کے مقامی اٹومیٹک سسٹم کی تعمیر، ایرانی سائنسدانوں کی دیگر کاوشوں کا حصہ تھا جسے اسٹراٹیجک نمائشگاہ میں پیش کیا گيا تھا۔   اسی طرح مقامی طور پر بنائے گئے نوید اورظفر سیٹلائٹ کو بھی اس نمائشگاہ میں پیش کیا گيا تھا یہ دونوں سیٹلائٹ جلد ہی فضا میں روانہ کئے جائیں گے۔  فضائی شعبہ سے متعلق ٹیکنالوجی میں بائیو لوجیکل سلینڈر کو پیش کیا گيا ہےاس سلینڈر کے ذریعہ  زندہ موجودات بالخصوص انسان کو فضا میں بھیجا جائے گا بایو لوجیکل سلینڈر کو بھی اس نمائشگاہ میں پیش کیا گیا تھا، پروگرام کے مطابق عنقریب اس بائیو لوجیکل سلینڈر کے ذریعہ کسی زندہ جانور کو 120 کلو میٹر کی بلندی پر فضا میں روانہ کیا جائے گا اور صحیح و سالم اور بحفاظت واپس لایا جائے گا۔ خلائی سفر میں ریسرچ و تحقیقات کے ضروری شرائط کے لئے کم وزن اہم مشین کو بھی اس نمائشگا میں پیش کیا گیا تھا جو فضا میں زندہ موجود کی تمام بائیولوجیکل تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے ۔  اسٹراٹیجک و مؤثر ٹیکنالوجی کی اس نمائشگاہ میں اسپورٹ طیارے کو بھی پیش کیا گیا ہے جو تھری کلاس پائلٹوں کی توانائی رکھتا ہے یہ ٹو سیٹر طیارہ  کلی طور پر کمپوزیٹ ہے جس کے ماڈل اور تیاری کے تمام مراحل ملک کے اندر انجام پائے ہیں کئی شعبوں میں کام آنے والا طیارہ مائیکروجیٹ بھی اس نمائشگاہ میں پیش کیا گیا ہے۔  مؤثر و اسٹراٹیجک نمائشگاہ کا دوسرا شعبہ رویان ریسرچ سینٹر کے سائنسدانوں کی تحقیقات پر مشتمل تھا جو اسٹیم سیلزاور کلوننگ بینک پر مشتمل تھا اس شعبہ میں ماہرین اور محققین نےسٹیم سیلزاور کلوننگ کے مختلف اور گوناگوں شعبوں میں ہونے والی پیشرفت سے رہبر معظم انقلاب اسلامی  کو آگاہ کیا۔ اسٹراٹیجک نمائشگاہ میں نانو ٹیکنالوجی میں ہونے والی نمایاں  پیشرفت و ترقی کے وسائل کو بھی پیش کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پیشرفتہ میڈيکل دواؤں ، نانو دواؤں کے ذریعہ کینسر اور قلبی بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کو بھی نمائشگاہ میں پیش کیاگيا تھا۔  میڈيکل شعبہ سے متعلق ایجادات میں سینہ کے کینسر کی بروقت تشخیص کے لئے  ڈیجیٹل میموگرافی مشین ، گردے کی پتھری کے علاج کے لئے یورو لوجی لیزر مشین ، قلبی بیماریوں کی تشخیص کے لئے اسمارٹ مشین، خون کے ٹیسٹ کے بغیر خزن کے اندرشگر کی تشخیص کی مشین اورجدید ٹیکنالوجی پر مشتمل  ایم آر آئی کی مشین کو بھی نمائشگاہ میں پیش کیا گیا تھا۔  میڈيکل ایکسرے کی جدید ترین مشین جسے ملک کے اندر ماہرین نے تیار کیا ہے وہ بھی اس نمائشگاہ میں پیش کی گئی تھی۔  اسٹراٹجیک و مؤثر ٹیکنالوجی کی نمائشگاہ میں بائیو ایمپلٹز کو بھی پیش کیا گیا تھا اور بائیو ایپیلٹ کے جدید ترین نمونوں کو پیش کیا گیا تھا۔  متبادل انرجی کے شعبہ میں پانی کے اندر نوری شعائیں، کوئلے کے بغیر چلنے والےدنیا کے جدید ترین الیکٹرانک انجن کی ساخت، سولر ڈش جس سے حرارتی سسٹم میں استفادہ کیا جاتا ہے  ، اس کے علاوہ  پہلی ہائبریڈ بس کی ساخت ، انجن کی ساخت ، گئربکس اوربادی بجلی پلانٹ کو بھی نمائشگاہ میں پیش کیا گیا تھا۔  اس نمائشگاہ کا ایک حصہ سنتی ، جڑی بوٹیوں اور دیسی دواؤں سے مخصوص تھا اس شعبہ میں بھی  ایرانی ماہرین کی تحقیقات پر مبنی آخری ایجادات کو پیش کیا گیا تھا۔  اس نمائشگاہ میں 18 گیگا ہرٹز بینڈ پر سیٹلائٹ کو سگنل بھیجنے اوراطلاعات دریافت کرنے والے انٹینا کا منصوبہ  اور اس کے ساتھ  سیٹلائٹ ارسال کرنے کا متحرک اسٹیشن یاایس، این، جی ، ڈیجیٹل تصاویر حاصل کرنےکا ڈیزائننگ پروجیکٹ کوبھی نمائشگاہ میں پیش کیا گيا تھا.  

حضرت علی (ع)اور سیاست
[علامہ تقی جعفری (رہ)]
تاریخی واقعات کی تحلیل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ھے:
(1)۔واقعات کے بعض اجزاء کی ایسی تحلیل، جنکی اھمیت فقط شخصی معلومات میں اضافے کا باعث ھو۔ اس طرح انکا صحیح یا غلط ھو نا معاشر ے کیلئے منفعت بخش یا ضرر رسا ں نھیں ھو تا اور واقعہ کی حقیقت یا عدم حقیقت سے زیادہ اس کی اھمیت نھیں ھوتی۔

خدائے رحمن و رحيم سے دعا کرتا ہوں کہ اگر خدمت کرنے ميں کوئي کمي يا قصور و تقصير رہ گئي ہو تو مجھے معاف کر دے اور قوم سے بھي يہي اميد کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے ميں کوتاہي اور کمي کو معاف کرے گي اور پوري قوت، اور عزم و ارادے کے ساتھ آگے کي سمت قدم بڑھائے گي ۔
حيرت کي بات يہ ہے کہ حضرت امام خميني رحمۃ اللہ عليہ نے اپني ايک غزل ميں اپني رحلت سے کئي سال قبل يہ شعر کہا تھا :

  سالہا مي گذرد حادثہ ہا مي آيد
انتظار فرج از نيمہ  خرداد  کشم