ادھار مانگ کر ملک کا دفاع کیسے ہوگا؟ادھار مانگ کر ملک کا دفاع کیسے ہوگا؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آج جائینٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران  چیئرمین جائینٹ چیفس آف اسٹاف جنرل زبیر محمود کو یقین دلایا ہے کہ قوم مسلح افواج کی تمام مالی ضروریات پوری کرے گی۔   اس موقع پر انہیں ملک کو لاحق  ہونے والے کسی خطرہ کی صورت میں فوج کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس پر وزیر اعظم نے اطمینان کا اظہار کیا۔  مسلح افواج کو وزیر اعظم کی یہ یقین دہانی ایک ایسے وقت میں کروائی گئی ہے جب ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران روپے کی قدر میں دس فیصد تک کمی آچکی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران روپے کی قدر میں چار سے پانچ فیصد تک  کمی، آئی ایم ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کی گئی ہے تاکہ ادائیگیوں میں عدم توازن پورا کرنے کے لئے مزید قرضہ لیا جاسکے۔

 

یوں تو ملک میں جس قسم کی جمہوری حکومت برسر اقتدار ہے، اس کا سربراہ فوج کی مالی  ضرورتیں پوری کرنے کی حامی بھرنے کے سوا کر بھی کیا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جس میں  اہم ترین فیصلے فوج کی صوابدید سے ہوتے ہیں اور وزیر خارجہ کے ہوتے ہوئے بھی اہم خارجی معاملات آرمی چیف کے دوروں میں طے پاتے ہیں۔  حکومت اپنی ’مدت‘ پوری کرنے کے شوق میں فوج کی  مالی ہی نہیں تمام سیاسی اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کو بھی قبول کرتی ہے اور ان کے مطابق ہی فیصلے کرنے یا کئے گئے فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ گو کہ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ فوج  ملک میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ان کے ہوتے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ  جمہوری نظام کے تسلسل کی ضمانت دیتے ہیں۔ تاہم جس قسم کے جمہوری اختیار کے ساتھ شاہد خاقان عباسی وزارت عظمی کے ’مزے‘ لے رہے ہیں ، اس میں یقین دہانیاں کروانے اور فوجی افسروں کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ یوں تو ان کے پیش رو اور بقول شاہد خاقان عباسی اس ملک کے اصل وزیر اعظم ، نواز شریف بھی فوج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے  قومی بجٹ آنے سے پہلے اپنے وزیر خزانہ کو  جی ایچ کیو بھیج کر مطالبات اور ضرورتوں کی فہرست منگوایا کرتے تھے تاکہ شکایت کی گنجائش نہ رہے۔ لیکن  پھر بھی وہ سب کو خوش نہ رکھ سکے اور بالآخر انہیں گھر سدھارنا پڑا اور اب وہ ہر کسی سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ ’مجھے کیوں نکالا‘۔

 

پاکستان میں جمہوریت کے نام پر  عام لوگوں سے جو بھونڈا مذاق کیا جارہا ہے ، ا س میں  یہ طے کرلیا گیا ہے کہ عام آدمی کی ضرورتیں  ۔۔۔ جن میں صاف پانی، علاج اور تعلیم جیسی  بنیادی ضرورتیں شامل ہیں ۔۔۔ پورا کرنے سے پہلے ان کی حفاظت کا انتظام کیا جائے  یعنی فوج کو مضبوط کیاجائے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھا  جائے۔  اسی شوق میں ایٹمی دھماکے کرکے قوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے اور اسی مقصد کو پانے کے لئے سات لاکھ جوانوں پر مشتمل فوج کو مسلسل پالنے اور پلوسنے کے لئے قوم کو پیٹ کاٹ کر وسائل فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شاید اس کا مقصد یہی ہوگا کہ اگر لوگ محفوظ  ہی نہیں ہوں گے تو پیٹ کس کا پالا جائے گا اور علاج کس کا کیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو حفاظت ضروری ہے۔ اس حفاظت کے لئے مضبوط فوج درکار ہے  جسے مستحکم رکھنے اور اس کی تمام ضرورتیں پوری کرنے  کی یقین دہانی آج وزیر اعظم نے ایک بار  پھر قوم کی جانب سے افواج کے سربراہ سے ملاقات کے دوران کروائی ہے۔ ایسے میں صرف یہ پوچھا جا سکتا  ہے کہ  جس بھوکی ننگی قوم کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی جارہی ہے ، کیا کبھی اس سے بھی استفسار کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔  عام آدمی تو شاید اس قدر کم فہم ہے کہ  اس کے بارے میں باور کرلیا جاتا ہے کہ وہ ان معاملات کو کیا سمجھ سکے گا لیکن ملک میں جمہوریت کی بنیاد پر عوام کی حکمرانی قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی کہ وہ فوج کی مالی ضروریات کے بارے میں  ’وعدہ‘ کرنے سے پہلے  انہی ووٹوں  کی بنیاد پر  منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی سے ہی پوچھ لے اور انہیں ڈیفنس بجٹ کے سب پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرے۔

 

خبر ہے کہ پاکستان کی برآمدات  محدود ہیں، بیرون ملک سے ترسیل زر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، قوم کی آمدنی اس کے اخراجات سے بہت کم ہے، ادائیگیوں کا عدم توازن دو کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جس میں روپے کی قدر میں کمی کرکے مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔   حکومت نے آئی ایم ایف سے 6.7 ارب   ڈالر  قرض لے کر قومی معیشت کو چار چاند لگانے کا جو منصوبہ بنایا تھا اور جسے خوش دلی سے 2016 میں مکمل کیا گیا تھا اب اس کی قسطیں دینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جو آئی ایم ایف  قرض دینے کے پروگرام پر عمل کے دوران  پاکستانی معیشت کے مثبت اشاریوں کے گن گاتی تھی، اب اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستانی معیشت کو لاحق خطرات کی تفصیل بتا رہی ہے۔ اور پاکستانی وزارت خزانہ کے بزرجمہر اسی آئی ایم ایف کے پاس دست سوال دراز کرنے کی تیاری  کررہے ہیں۔ کیوں کہ اب چین بھی  بنکوں کے ذریعے کمرشل قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس لئے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ اپریل کے دوران پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض  کی درخواست لے کر جانا پڑے گا۔  یہ درخواست دائر کرنے کی پیش بندی کے طور پر  روپے کی قدر میں کمی کی جارہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کو یقین دلایا جاسکے کہ حکومت معیشت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ جون تک روپے کی قدر میں مزید پانچ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

 

مسلح افواج کی مالی ضرورتیں پوری کرنے والی حکومت کے سربراہ کو خبر ہوگی کہ ان کے عہدے کی مدت مئی کے آخر تک ہے۔ اس  کے بعد عبوری حکومت انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ لیکن معیشت کے بارے میں پے در پے بری خبریں سامنے آنے کے بعد اور روپے کی مالیت میں کثیر کمی کے نتیجے میں عام آدمی کے بجٹ پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے، اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہو سکتا ہے عبوری حکومت کو تین ماہ سے زیادہ مدت درکار ہو۔ عین ممکن ہے کہ ملک میں سیاست دانوں  کے بارے میں جو بھیانک تصویر بنا دی گئی ہے اور جمہوریت کو جس طرح چند سیاست دانوں کی ناکامیوں یا بدعنوانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کرنے کے جس منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، اس کی روشنی میں عبوری حکومت کو تین ماہ کی مدت میں توسیع کی ’درخواست‘ دائر کرنا پڑے ۔ اس درخواست کو بادل ناخواستہ  قبول کرتے ہوئے ہوسکتا ہے سپریم کورٹ وہی فیصلہ کرنے پر ’مجبور‘ ہوجائے جس کی وارننگ جاوید ہاشمی تین سال سے دے رہے ہیں اور اب شیخ رشید نے اسے جوڈیشل مارشل لا کا نام دے کر اس کی ضرورت کے لئے ’مضبوط‘ دلائل بھی دیئے ہیں۔ ایسی کسی مجبوری کی صورت میں  نادیدہ اسکرپٹ کے بارے میں وہ کہانیاں سچ ثابت ہو سکتی ہیں جو مختلف طریقوں سے قوم کو سنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ کہ ایک طویل المدت ٹیکنوکریٹ اور ایماندارعبوری حکومت کے بغیر  نہ یہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی یہاں جمہوریت پنپ سکتی  ہے۔  جمہوریت  کے ضامن چونکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس ہیں لہذا اس کی حفاظت کے لئے کوئی بھی کڑوا فیصلہ ممکن ہو سکتا ہے۔

 

یوں بھی ملک میں اس وقت اٹھارویں ترمیم کے تحت مرکز کو کمزور اور صوبوں کو مضبوط بنانے کے ’نامناسب‘ فیصلے پر بحث زوروں پر ہے۔ اسی بحث میں ایک نکتہ یہ  بھی نکالا جارہا ہے کہ اس ترمیم کی وجہ سے ساٹھ فیصد وسائل صوبوں کو مل جاتے ہیں جو اتنے وسائل کو استعمال کرنے کے ’اہل‘ نہیں۔ گویا اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی تقسیم اصل مسئلہ نہیں بلکہ اس وجہ سے مرکز کا تہی دست ہوجانا  درد سر ہے۔  عارضہ لاحق ہو تو اس کا علاج تو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اب مرکز کے اختیارات، مالی معاملات،  معیشت کی خرابی، قرضوں کا بوجھ، آمدنی میں کمی، صوبوں  کی بد انتظامی اور فوج کی ضرورتوں کو ملاکر پڑھیں تو ایک غیر واضح تصویر ابھرنے لگتی ہے۔  اس تصویر میں رنگ بھرنے کا کام شاید عبوری حکومت کو ہی کرنا پڑے۔

 

سوال تو بہرصورت صرف اتنا ہے کہ  اگر ملک کو مالی خسارے کا سامنا ہے تو اسے پورا کرنے کے لئے سب شعبوں کو مل کر  بوجھ برداشت کرنا چاہئے یا  معاشرے کے کمزور ترین حصے یعنی عوام پر بوجھ میں اضافہ کرکے فوج کو مضبوط و توانا کرنا چاہئے۔ جو ملک قرضوں پر چلایا جارہا ہو ، اس کی فوج کب تک مضبوط رہ سکتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب آج تلاش نہ کیا گیا تو کل  تک یہ سوال مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

 حلقہ 2سکردو کے مسائل گھمبیر ہوچکے ،فوری ضلع بنایا جائے ،شیخ علی کریمی
 امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گمبہ سکردو وایم ڈبلیو ایم کے سکریٹری تبلیغات شیخ محمد علی کریمی نے کہا ہے کہ سکردو حلقہ نمبر2 گلگت بلتستان کے تمام حلقوں سے بہت بڑا ہے اس کی آبادی پورے دیا مر کی آبادی سے کئ گنا زیادہ ہے لہذا ہم یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ سکردو حلقہ نمبر2 اور روندوکو الگ الگ ضلع بنایا جائے ضلع کے قیام کی تحریک کیلئے عنقریب حلقہ نمبر2میں کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے گی کانفرنس میں اضلاع کے حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے ہم نہیں چاہتےہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کی جائے اگر دار یل تا نگیر کے عوام کی ضرورت ہے تو وہاں بھی ضلع بنایا جائے ہماری ضرورت کے مطابق حلقہ نمبر 2 اور روند کو ضلع بنایا جائے نامور سماجی وسیاسی شخصیت چیئرمین اپوعلی مرحوم کی یاد میں گمبہ سکردو میں منعقد تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ حلقہ نمبر 2کے مسائل بہت سنگین ہوگئے ہیں اس علاقے کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کو ضلع بنانا ناگزیر ہوگیا ہے مارچ یا اپریل میں حلقہ نمبر 2 کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کو تیز کرنے کی غرض سے آل پارٹیزکا نفرنس بلائی جائے گی جس سے تمام سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا متوقع آل پارٹیز کانفرنس میں حلقے کے مسائل پر گفت شنید کی جائے گی اور متفقہ طور پر سکردو حلقہ نمبر 2اور روندوکو ضلع بنانے کا مطالبہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جو شخص انسانیت کی خدمت کرتا ہے اس کولوگ مدتوں یاد رکھتے ہیں اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں تو اس کو دنیا میں نیک اعمال بجا لانا ہوں گے ،انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا شیوہ بنانا ہوگا جب تک ایسا نہیں کریں گے تب تک کامیاب نہیں ہوں گے ۔

 ڈی آئی خان،اہدافی قاتل،بہیمانہ قتل،بے جرم مقتول



  ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم تکفیری دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے دن دیہاڑے امام بارگاہ حضرت غازی عباس علمدار (ع) کے متولی مطیع اللہ کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق شہید کو پیچھے سے چھ گولیاں ماری گئیں، جو کہ مہلک ثابت ہوئیں۔ ملزمان کی فائرنگ سے ایک راہگیر محمد جان ولد کریم بخش قوم سپل سکنہ نواب پائوں پر گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ قتل کی بہیمانہ واردات کے جائے وقوعہ پہ پہنچ کر پولیس نے ہمیشہ کی طرح شواہد اکٹھے کئے اور اس مرتبہ بھی اہدافی قاتلوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پہ آچکی ہے، جس میں دو موٹر سائیکل پہ سوار چار افراد نے مطیع اللہ کو پیچھے سے فائرنگ کرکے شہید کیا اور ایک حملہ آور نے انتہائی دیدہ دلیری سے شہید کی جیبوں میں سے قیمتی سامان بھی نکالا۔ پولیس کے مطابق محلہ شاہین میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نظر آ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو ٹریس کر لیا گیا ہے، جنہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

 معصوم اور بے گناہ بچے گولیوں سے چھلنی

قوام متحدہ میں بچوں کی تنظیم یونی سیف کا کہنا ہے کہ جنوری کے مہینے میں مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں میں تراسی بچے جاں بحق ہوئے۔یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ کے مطابق بچوں کی اموات عراق، لیبیا، فلسطین، شام اور یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ہوئیں، صرف شام میں انسٹھ بچے جاں بحق ہوئے۔یونیسیف کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ جنوری خونی مہینہ رہا، جنگ زدہ علاقوں میں مسلسل بچوں کی اموات ناقابل قبول ہیں، ان علاقوں میں لاکھوں بچے اپنے بچپن سے محروم ہو رہے ہیں، ہم سب ان جنگوں کو رکوانے میں اجتماعی ناکام ہو رہے ہیں۔یونیسیف کے ڈائریکٹر نے صرف ایک مہینے میں اتنے بچوں کی ہلاکت کی خبر ایسے میں دی کہ گزشتہ 3 سال سے سعودی عرب کی یمن پر جارحیت جاری ہے اوراس دوران ہزاروں بے گناہ بچے شہید اور زخمی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے نہ فقط جنگ بند نہیں کی بلکہ یمن کا محاصرہ کر کے اس غریب عرب ملک کو انسانی المیے سے دوچار کردیا ہے اور عالمی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مسجد نبوی و جنت البقیعختم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس ہائے عزا برآمد کیے جا رہے ہیں۔

علامہ امین شہیدیرکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رہنما ملی یکجہتی کونسل نے تاکید کی ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان مشترکات بے انتہا زیادہ جبکہ اختلافات نہایت کم ہیں۔ اگر ہم فقہی اور تاریخی مشترکات کو جمع کرنا شروع کر دیں تو نوے پچانوے فیصد مشترکات ہیں جن میں اہل بیت علیھم السلام سے عشق سرفہرست ہے اور اس بارے میں کسی مسلک میں فرق نہیں پایا جاتا۔

خبررساں ادارے تسنیم کو دئے گئے رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رہنما ملی یکجہتی کونسل علامہ امین شہیدی کے انٹرویو کا متن درج ذیل ہے۔

تسنیم نیوز: مظلوم یمنی عوام کے خلاف آل سعود جھوٹا اور گھناؤنا پروپیگنڈا کر ر ہے ہیں، اس سلسلہ میں دفاع حرمین کی آڑ میں مسلمانوں کا خون بہانے کی کھلی چھوٹ لینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے، کیا کہیں گے؟

علامہ امین شہیدی: سعودیوں نے گزشتہ ڈیڑھ سالوں کے دوران جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہا، حریت پسند عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، دفاع حرمین کے نام پر لوگوں کے پاکیزہ جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ سعودیوں کے اپنے مقاصد اور اہداف پورے ہو سکیں۔ جس کے لئے آل سعود نے ہمیشہ حرم خدا اور حرم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو استعمال کیا، اب اس کی انتہاء ہو گئی ہے، کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ کی طرف جنگ کے دوران جب ایک دو راکٹ برسائے گئے، اب ظاہر ہے اس جنگ میں سعودی عرب نے یمن کا تیا پانچہ کر دیا ہے، اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے، بےگناہ انسانوں کے خون کی نہریں بہا دی ہیں۔ ایسے میں اگر کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ کی جانب دو چار راکٹ فائر ہوتے ہیں، تو پھر اس کو حرم پر حملے کا نام دیکر استحصال کرنا اور امت مسلمہ کے جذبات کو یمنی مسلمانوں کے خلاف ابھارنا، یہ اس جرم سے بھی بڑا جرم ہے جس کا سعودی اس وقت ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس لئے امت مسلمہ تک یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ سعودی یہودیوں کا تسلسل ہیں

نائیجیریا میں فوج کی بربریت، 100 سے زیادہ عزاداران حسینی شہید، ایران کیجانب سے قتل عام کی شدید مذمت
نائیجیریا میں فوج کی بربریت، 100 سے زیادہ عزاداران حسینی شہید، ایران کیجانب سے قتل عام کی شدید مذمت
  اسلام ٹائمز: نائیجیریا کی اسلامی تحریک کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے شیعہ، امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عراق میں پیدل چل کر کربلا جانے کی سنت حسنہ کی یاد میں کانو سے کادونا تک پیدل چل کر جا رہے تھے کہ اس دوران نائیجیریائی فوجیوں نے امام حسین (ع) کے عزاداروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
 

اسلام ٹائمز۔ نائیجیریا کے کانو شہر میں شیعہ مسلمانوں پر فوج کی فائرنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ نائیجیریا کی اسلامی تحریک کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے شیعہ، امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عراق میں پیدل چل کر کربلا جانے کی سنت حسنہ کی یاد میں کانو سے کادونا تک پیدل چل کر جا رہے تھے کہ اس دوران نائیجیریائی فوجیوں نے امام حسین (ع) کے عزاداروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پیر کو ہونے والے فوج کے اس وحشیانہ حملے میں کم از کم سو شہید اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے نائیجیریا حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عزاداروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

عرب ممالک میں قائم ملوکیت کو بچانے کیلئے پاکستان میں ایران کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، قاری عبدالرحمان
قاری عبدالرحمان کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ جامعہ مسجد کوئٹہ کے خطیب ہیں، آپ صوبہ بلوچستان میں ایک جانی پہنچانی شخصیت اور اتحاد امت کے داعی ہیں۔ دار الامور اسلامی کوئٹہ کے سیکرٹری جنرل کے بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 

جے یو پی پنجاب کے ترجمان کا  کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی فوج کا اگر اُمہ کیلئے کردار بنتا ہے تو بہت اچھا ہے لیکن کسی ملک کے داخلی مسائل میں مداخلت کرنا غلط ہوگا، اسی لئے فوج پر تنقید ہوتی ہے جس میں اور اضافہ ہو جائیگا۔ ضرب عضب کی بدولت پاک فوج کی تعریف ہو رہی ہے اگر حکوت کے کہنے پر فوج سعودی خوشنودی کیلئے استعمال ہوتی ہے تو اس سے مزید مسائل میں اضافہ ہوگا۔ مسلمانوں کا خون بہانے کیلئے سعودی سمیت کوئی بھی ملک کہے فوج کو نہیں جانا چاہیئے۔

امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر پانچ عالمی طاقتوں نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے وہ ایک معاہدے فریم ورک پر متفق ہوگئے ہیں۔


لوزان میں 26 مارچ سے جاری آٹھ روزہ مذاکرات کے بعد جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا۔ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فریڈریکا مغیرینی کا کہنا تھا کہ معاہدے کے اہم نکات پر تمام فریقین کا اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کم کر دی جائے گی جبکہ پہلے سے افزودہ کی گئی یورینیم کی طاقت میں بھی کمی لائی جائے گی۔ معاہدے حتمی متن تیس جون تک مکمل کر لیا جائے گا اور اسے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ضمانت حاصل ہوگی۔ معاہدےکے تحت ایران کی جوہری تنصیبات اور یورینیم کی افزودگی کے عمل کی نگرانی آئی اے ای اے سے کرائی جائے گی۔ معاہدے کی پاسداری اور آئی اے ای اے کی جانب سے تصدیق پر ایران پر سے امریکی اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھالی جائیںگی۔لوزان میں ایران کیجانب سے مذاکرات میں شریک وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ جامع معاہدے کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی تمام قراردادیں کالعدم قرار دی جائیں گی، جبکہ ایران ایک جوہری پلانٹ پر یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھے گا۔

دھما کے کے بعد پمز اور پولی کلینک ہسپتال سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکہ خود کش تھا، جس کے نتیجے میں ۸ افراد کے زخمی ہوئے ہیں


جنہیں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق حمہ آور نے روکے جانے کی کوشش پر بم پھینکا اور فائرنگ کی، جبکہ علاقے میں بعض مقامات پر ابھی بھی فائرنگ کی آوازیں سنی جارہی ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سرچ آپریشن میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق امام بارگاہ کے قریب فائرنگ شروع ہوئی جس کے تھوڑی دیر بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق امام بارگاہ قصر سکینہ پر پہلے بھی حملے کی کوشش کی جا چکی تھی، تاہم اس بار دہشت گرد دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع کری روڈ پر واقع جامع مسجد و امام بارگاہ قصر سکینہ میں دھماکے کے نتیجے میں ۲ افراد شہید جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے میں مزید شہادتوں کا خدشہ ہے۔  عینی شاہدین کے مطابق مسلح حملہ آوروں کی تعداد ۷ کے قریب تھی، جو امام بارگاہ کے قریبی علاقوں میں چھپ گئے ہیں۔ جب کہ کچھ حملہ آوروں نے امام بارگاہ میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بھی ممکنہ حملہ آوروں کے قریبی علاقوں میں چھپنے کی تصدیق کی ہے اور ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔ فائرنگ کے بعد زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ۲ افراد شہید ہو گئے، جبکہ ۸ افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے آپس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ ریسکیو ٹیمیں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں۔ جن میں سے ۲ افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں، جبکہ مزید زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بیان کی جا رہی ہے۔

امریکی جریدے فارن افیئر کیساتھ انٹرویو میں شامی صدر کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل شام میں باغیوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے، جب بھی ہم کسی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہیں تو اسرائیل ہماری فوج کو کمزور کرنے کیلئے اس پر فضائی حملے شروع کر دیتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو طلباء نے پہلے کالج کی کینٹین میں کشمیری طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا پھر باہر سے مزید مسلح ہندو بلا لیے۔ کشمیری طلبا جان بچانے کیلئے بھاگے تو انتہا پسند ہندؤں طلباء نے انہیں راستہ میں پکڑ کر مارا۔

 صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے انتباہ کے جواب میں محمود عباس کے ترجمان نبیل دائنے نے کہا ہے کہ فلسطینی اتحاد ایک اندرونی معاملہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے فلسطینی عوام کیلئے امن اور اتحاد کا راستہ چنا ہے۔
غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر فلسطین کے صدر محمود عباس امن چاہتے ہیں تو ان کی تنظیم الفتح کو حماس سے معاہدہ توڑنا ہوگا۔ نیتن ياہو نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ محمود عباس یا تو اسرائیل کے ساتھ امن قائم رکھ سکتے ہیں یا حماس سے معاہدہ کرسکتے ہیں، دونوں نہیں۔

 65سالوں سے حقوق سے محروم خطے کے عوام تین روز سے بارش کے باوجود سڑکوں پر موجود ہیں۔ چهار روز سے کاروبار زندگی معطل ہے۔ تجارتی مراکز، بینک اور اہم شاہراہیں بند ہیں۔ بلتستان میں یادگار شہداء اسکردو پہ جاری دھرنے میں نواحی علاقے سے عوامی قافلوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر امڈ کے آ رہا ہے۔ دوسری طرف گذشتہ شب عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر ہوئے۔

جمہوری اسلامی ایران کے شہر رویان میں ہزاروں افراد کے سامنے ایک مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے لئے تمام تیاریاں مکمل تھیں اور منظر دیکھنے والے دل تھام کر اگلے لمحے کے منتطر تھے۔ اِسی دوران ایک خاتون نے آکر قاتل کے چہرے پر ایک طمانچہ رسید کیا اور اعلان کر دیا،

 

ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ یہ میزائل ساحل سے سمندر میں بھی فائر کئے جاسکتے ہیں۔ ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ غدیر کروز میزائل بحریہ کی تحویل میں دے دئے گئے اور یہ میزائل جہازوں سے ساحل اور ساحل سے سمندر میں مار کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غدیر میزائل بھی نور، اور قادر میزائلوں کی طرح ہی اعلی توانائیوں کاحامل ہے۔
وزارت دفاع میں ایرو اسپیس شعبے کے سربراہ اور نائب وزیر سید مہدی فرحی نے بھی فارس نیوز سے گفتگو میں غدیر کروز میزائل کے بارے میں کہا کہ یہ میزائل مختلف بحری جہازوں اور بوٹس سے فائر کئےجاسکتےہیں۔

 ایٹمی ٹیکنالوجی کے قومی دن کی مناسبت سے ہونیوالی ملاقات مِیں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ایٹمی پروگرام کیوجہ سے ہی ایران پر پابندیاں لگی ہيں اور دباو ڈالے جا رہے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر ایٹمی مسئلہ نہ بھی ہوتا تو مغربی ممالک کوئی اور بہانہ بنا لیتے۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور سبی واقعے کے بعد دہشتگردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا، پاک فوج کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدنام کیا جا رہا ہے، جو محب وطن پاکستانیوں کیلئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت عملی حکومت دہشت گردوں کی ہی ہے، دہشت گردوں کیلئے ہر قسم کا تحفظ اور عوام کے لئے یہ ملک مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے، موجودہ حکمران انہی دہشت گردوں ہی کی مدد سے برسر اقتدار آئے تھے، اسلام آباد اور سبی کے واقعے کے بعد دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا، پاک فوج کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدنام کیا جا رہا ہے، جو محب وطن پاکستانیوں کے لئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

4 اپریل 2014 کو اسلامی تبلیغاتی مرکز گلتری کے مرکزی صدر کیلئے شعبہ قم المقدسہ ،شعبہ نجف اشرف اور شعبہ پاکستان میں ایک ساتھ ایک ہی وقت میں آن لائن انتخابات منعقد ہوئے جس میں تمام شعبوں سے علماء و طلاب کرام نے بھر پور شرکت کی۔ ان انتخابات کیلئے تین رکنی مرکزی الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جو درج ذیل افرادپر مشتمل تھی:


حسینیہ امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای ، بعض اعلی سول و فوجی حکام  اور عوام کے مختلف طبقات کی موجودگی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کی  نور چشم ،لخت جگر ،صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی دردناک شہادت کی مناسبت سے آخری مجلس منعقد ہوئی۔
آخری مجلس میں  حجۃ الاسلام والمسلمین پناہیان  اور جناب سعید حدادیان نے پیغمبر اسلام (ص) کی نور نظر اور ام الآئمہ حضرت صدیقہ کبری سلام اللہ علیھا  کے فضائل و مصائب  بیان کئے ۔
واضح رہے کہ حسینیہ امام خمینی (رہ) میں حضرت فاطمہ (س)کی شہادت کے سلسلے میں پیر کے دن مطابق 11 فروردین سے مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ 

اسلامی تبلیغاتی مرکز گلتری کے مرکزی صدر کیلئے انتخابات 28 مارچ 2014 کو ہونے والے تھے لیکن کچھ وجوہات کی بناپر ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردیا گیا ہےاور اب یہ انتخابات 4اپریل 2014کو ہونگے اور ذیل افراد صدارتی امیدوار ہیں:
١۔شیخ شکور علی حافظی (نجف اشرف)
٢۔ شیخ محمد شریف جوادی(نجف اشرف)
٣۔ شیخ علی محمد جوادی(قم المقدسہ)
٤۔ شیخ محمد الیاس(قم المقدسہ)
٥۔شیخ محمد حسین شریفی(اسلام آباد)
لہذا تمام برادارن الیکشن میں بھر پور شرکت کریں۔