تاسیس پاکستان اور اقبال ۔

 اقبال جنگ جہانی [ورلڈ وار]کے زمانے میں "تحریک خلافت" میں حصہ دار تھے کہ جو برطانوی استعمار کے خلاف تھی  اور "محمد علی جناح" کے بھی قریبی ساتھی تھے ۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال لاہوری ایک عظیم دانشمند اور بزرگ عارف انسان ہیں اور انہوں نے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کی تحریک استقلال  میں بنیادی کردار ادا کیا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای "مدظلہ العالی" کی تعبیر کے مطابق جو آپ نے اپنی کتاب "ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمان" میں بیان کی ہے ؛  "اقبال استقلال پاکستان کے ہراول دستہ اور صف اول کے رہنما تھے " اور کسی شک کی گنجائش نہیں کہ جب تک پاکستان کا نام "تاریخ بشریت " میں باقی رہے گا "اقبال" کا نام بھی اسکے ساتھ لیا جاتا رہے گا ۔
اور بقول پروفیسر ڈاکٹر "ارشاد طاہر اعوان" رئیس شعبہ اردو جامعہ ہزارہ  : اقبال وحدت و اتحاد بین مسلمین کو  "فقہ اسلامی " کی نئی تدوین  کے دریچہ سے دیکھتے تھے اور اسلامی ملک کے استقلال کو ایک منتخب مسلمان پارلیمنٹ کے وجود میں سمجھتے تھے ۔
ڈاکٹر "اعوان" کہتے ہیں  : آپ معتقد تھے کہ اتحاد بین مسلمین ایک آدمی کا کام نہیں ہے  بلکہ اس کام کیلئے ایک گروہ اور ایک جماعت کی ضرورت ہے  کہ جو آزاد اسلامی ملک میں ایک  منتخب پارلیمنٹ کو تشکیل دیں اور راہ نجات بھی اسی میں منحصر ہے  ۔اقبال اور حسینی تحریک  ۔
 امام حسین [ع] اقبال کی نگاہ میں ایک کامل انسان ہیں  جو مسلمان سوئی ہوئی ملتوں کو بیدار کرنے  کیلئے کافی ہیں اور ان کا موثر جہاد اور فداکارانہ شہادت ، قرآن کے پنہان رازوں کی مفسر ہے  :


خون او تفسیر این اسرار کرد        ملت خوابیدہ را بیدار کرد
رمز قرآن از حسین آموختیم           زآتش اوشعلہ براندوختیم

آپ اسی طرح ماوں سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو حسینی اندا ز  میں تربیت کریں :


ہوشیار از دستبرد روزگار        گیر فررزندان خود را در کنار
تاحسین [ع] شاخ تو بارآورد            موسم پیشین بہ گلزار آورد


اقبال لاہوری  ، مسلمانوں کی بیداری کے راز کو حسینی تحریک اور حسینی تفکر کی پیروی میں جانتے ہیں اور مسلمانوں کو آپ کی سیرت پر عمل کرنے کی نصیحت فرماتے ہیں ۔
اقبال ، استاد مطہری کی نگاہ میں :
شہید مطہری نے اپنی کتب میں تقریبا ستر  مختلف مقامات پر  اقبال کے کلام ، فن اور شخصیت کے بارے میں بات کی ہے اور علامہ کے انقلابی تفکر کو سراہا ہے  ۔
استاد مطہری کی نگاہ سے ، اقبال ایک ایسا روشن اور درخشان چہرہ ہے جس نے  اسلامی گرانقدر ثقافت کو اسلامی معاشرہ کیلئے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔
استاد مطہری کے ہاں ، اقبال کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ وہ فقط "اندیشہ اور فکر" کا باسی نہ تھا بلکہ مرد عمل و جہاد تھا  اور عملا استعمار کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا  اور اسلامی ملک پاکستان کے بانیوں میں سے ایک تھا ۔
مطہری اقبال کی تعریف کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں : یہ اقبال کی آہ و فغاں کی تاثیر تھی  کہ جس نے مسلمانوں کے سوئے ہوئے  دلوں اور منتشر ذہنوں کو نسیم صبحگاہی کی مانند بیدار کیا ۔
شہید مطہری معتقد ہیں کہ اقبال کی شاعری حتی عربی یا فارسی زبان میں ترجمہ ہونے کے بعد بھی  اپنی تاثیر اور "حماسہ آفرینی" کو باقی رکھتی ہے ۔
اقبال اور اقوام متحدہ ۔
 اگرچہ اقبال کے زمانے میں "اقوام متحدہ" اپنی موجودہ شکل میں موجودنہ تھی  لیکن اقبال اس کے ابتدائی آغاز سے ہی اس کی شکست تک رہے تھے اور اپنے اشعار میں اس کی "مرگ قریب الوقوع" کی پیش بینی کرتے ہیں ۔
جنگ جہانی کے بعد بین الاقوامی اداکار "اقوام متحدہ" کو اپنے کنٹرول میں لے کر اس کے پورے نظام کو تبدیل کر دیتے ہیں اور ۵ ممالک پوری دنیا کے آقاوں کی حیثیت سے منتخب ہو جاتے ہیں ، اگر ان میں سے کوئی ایک ملک "اقوام متحدہ" کے تصویب شدہ  قانون کو قبول نہ کرے تو یہ قانون قابل اجرا نہ ہو گا ۔
یہ موضوع اقبال کی نگاہ سے پنہان  نہ رہا  اور اس شعر میں جو کتاب "پیام مشرق" میں بیان ہوا ہے ، دنیا کے لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :


تا برفتدروش رزم  درین بزم کھن                                 دردمندان جھان طرح نو انداختہ اند
من از این پیش ندانم کہ کفن دزدی چند                    بھر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند


اقبال کی نگاہ میں مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کے نام سے  "جینوا" کے شہر میں ایک جال کی بنیاد رکھی ہے کہ مشرق زمین کے لوگ نہ صرف یہ کہ اس سے توقعات نہ لگائیں بلکہ ایک اور شہر کو اپنے فیصلوں کا مرکز قرار دیں اور ایسی  "اقوام متحدہ" کی بنیاد رکھیں کہ جسکا ہدف انسانوں کی برابری ہو  ۔

[دیکھا تھا افرنگ نے اک خواب جینیوا
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے ]

پاکستانی [قومی]شاعر  اور دانشمند اقبال لاہوری  اپنی پوری  زندگی یہ کوشش کرتے رہے کہ  اپنی اسلامی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کریں اور ان کو  اپنی حقیقت کی طرف رجوع اور مغرب کی ثقافتی یلغار سے مقابلہ کی دعوت دیں ، اسی وجہ سے  "علامہ اقبال لاہوری" کو بر صغیر [پاک و ہند] میں "اسلامی بیداری " کا سر دار و راہبر کہا جاسکتا ہے ۔

 ترجمہ : سید میثم ہمدانی

    ہماری آزادی کی تاریخ بڑی طویل،صبرآزمااورعظیم جدوجہدسے عبارت ہے ،ہمیں یہ آزادی نہ توانگریزنے طشتری میں سجاکرتحفہ میں دی تھی اور نہ ہی ہندوستان میں بسنے والے غیرمسلم اقوام نے ہمیں بخشش کے طور پرعنایت کی ،یہ آزادی برصغیر کے مسلمانوں نے بڑی تک ودو،بڑی کاوش،بڑی ہمت،بڑے حوصلے ،بڑے عزم اور انتہائی جدوجہدکے بعدحاصل کی ہے۔ہماراقافلہ حریت بڑی کٹھن منزلوں سے گزرکر اورآگ وخون کے دریاپارکرکے منزل مرادتک پہنچاہے۔ہمارے اس قافلہ حریت کے سفرکی داستاں جب بھی رقم کی جاتی ہے تو ہرلفظ،ہرحرف اورہرجملے سے خون ٹپکتاہے، تحریک آزادی میں ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کی خونچکاں داستان تحریرہے۔ اس آزادی کی شمع پرلاکھوں پروانوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیاہے،تب آزادی کی مشعل مسلسل روشن رہی ہے اوراس کی روشنی سے آزادی کے قافلے کواپناراستہ ملاہے۔
درحقیقت آزادی کی قدروقیمت وہی جان سکتے ہیں کہ جنہوں نے غلامی کی گٹھاٹوپ اندھیرے اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہوں،جنہوں نے ظلم وستم کے پہاڑکاٹے ہوں،جنہوں نے آزادی کی جستجومیں آگ وخون کے سمندرعبورکئے ہوں،جنہوں نے آزادی کے چراغ روشن کرنے کے لئے اپناخون دیاہو،جن کے جسموں پرمصائب و الائم کے گہرے زخم ہوں،وہی جان سکتے ہیں ،وہی سمجھ سکتے ہیں،وہی محسوس کرسکتے ہیں کہ آزادی کیا ہے؟!!!
ہم دنیامیں ایک نئی مملکت قائم کرنے میں توکامیاب ہوگئے اوریہ عظیم کامیابی اورکامرانی تمام مسلمانوں کی ہمت،جرات،قربانی،ایثار،مسلم زعماء کی سیاسی حکمت عملی،علماء دین کی فہم وفراست،قائداعظم کی دانش وبصیرت،علامہ اقبال کاتفکراورمسلم قوم کانصب العین پرمحکم یقین سے حاصل ہوئی ہے۔مسلمانوں کے قافلہ حریت میں ایسے ایسے عظیم انسان تھے جن کی انتھک اورمسلسل محنت ومشقت اورجذبہ ایثار سے ہمارا آزادی کاکارواں منزل مقصودتک پہنچا۔ہم نے یہ منزل مرادایک مخصوص نظریہ ،ایک خاص نصب العین ،ایک خاص مقصد کے لئے حاصل کی اوروہ یہ تھی کہ مسلمان قوم دیگر غیر مسلم اقوام سے بالکل الگ مستقل قوم ہے ۔ہمارامذہب ،ہماری تہذیب، ہماراتمدن، ہماری زبان،ہمارالباس،ہمارااخلاق،ہمارارسم ورواج،ہمارے اسلاف دوسری قوموں سے جداہیں۔ لہذا مسلمان کبھی بھی نہ تو غیرمسلم اقوام کے ساتھ رہ سکتے ہیں اورنہ ہی ان میں مدغم ہوسکتے ہیں ،اس لئے ہندوستان کے مسلمانوں کوایک علیحدہ وطن چاہئے جہاں وہ اسلامی ضابطہ حیات کے تحت زندگی گزارسکیں اوران پرکسی کی بالادستی نہ ہو۔
آج جب پاکستان آزادی کی تمام نعمتوں سے مالامال ہے،ہرسودولت کی ریل پیل ہے،کاریں ہیں، کوٹھیاں ہیں اور سرفلک عمارتیں ہیں،کارخانے ہیں ،کاروبارکے بڑے بڑے مراکزہیں،زرخیززمینیں ہیں ، ہری بھری فصلیں ہیں،کیاکچھ نہیں ہے؟۔
ہاں اگرنہیں ہے تووہ روح نہیں ہے ،وہ جذبہ نہیں ہے،وہ مروت اوراحساس انسانیت نہیں ہے جوپاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت ہمارا امتیازتھا۔
ہمارے اکابرین اورہماری مخلص قیادت نے جوخواب دیکھاتھاکہ پاکستان کواسلام کاگہوارہ بنائیں گے ۔ایک اللہ،ایک رسول اور ایک قرآن کے نام پرپاکستان کواسلام کاایک مضبوط قلعہ بنائیں گے لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے چندسال بعدہی یہاں فرقہ واریت سرایت کرنے لگا،سیاسی جماعتوں کے علاوہ انتہاپسندجماعتیں منظرعام پرآنے لگیں۔ اقتدارکے نشے میں غرق ہمارے حکمرانوں کاسلسلہ لڑو،لڑائو،حکومت کروکاراستہ اپناتے ہوئے تمام ترسیاسی حدودکومجروح کرتاچلاگیااگران حادثات کے کسی ایک واقعہ کو بطور مثال پیش کیاجائے تو لکھنے اور پڑھنے والاشرم محسوس کرے گامگرہمارے صاحب اقتدار... !!!۔
اس سلسلہ میں اسلام آبادکے خواہش مندنام نہادلیڈروں نے اسلام پھیلانے کے بجائے اسلام کو بطورہتھیار استعمال کیا۔نتیجہ میں اسلام کے نام پرہی اسلام کے خلاف کام ہونے لگا۔اسلام کے نام پر مسلمہ اسلامی فرقوں کوبرابھلاکہاجانے لگا۔اسلام کے نام پرہی غلیظ اور گندے نعروں سے پاکستان کی دیواروں کوسجایاجانے لگا۔ اسلام کے نام پرہی مسلمانوں کونشانہ بنایاجانے لگا۔اسلام کے نام پرہی مساجد، امام بارگاہیں،درگاہیں اور مقدس کتاب قرآن مجیدکی بے احترامی کی جانے لگی ۔اللہ اکبرکے نعروں کے ساتھ مسلمانوں کاگلاکاٹنافخر محسوس کیاجانے لگا۔اسلام کے نام پرفرقہ وارانہ دہشت گردی کو رواج دیاجانے لگااورآج یہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کانہ رکنے والا سلسلہ پاکستان کی سالمیت کے لئے ایک بھیانک دلدل کی صورت اختیارکرتا چلا جارہاہے مگرہمارے حکمران اقتدارکے نشے میں اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ انہیں اس دلدل میں اپنے ڈوبنے کااحساس تک نہیں۔
حالات ا س طرح  پیداکئے گئے کہ اگرکسی پاکستانی باشندہ کا تعلق امیرگھرانے سے ہے تووہ امیرسے امیرتر ہوتا چلاگیااور اگرغریب ہے ،غریب ترہوتاچلاگیانتیجہ میں امیرکا پاکستان اورہے جبکہ غریب کاپاکستان اور ہے، افسرکاپاکستان اورہے جبکہ کلرک کاپاکستان اورہے،امیرکے بچوں کانظام تعلیم اورہے جبکہ غریب کے بچے کا نظام تعلیم اورہے ۔
غریب پچاس سال کی عمربھرمحنت کے باوجوداپنامکان بنانے مین ناکام رہتاہے،جبکہ سرمایہ داروں کی ہرصوبے میں الگ الگ کوٹھی ہے۔غریب محنت کرتاہے مگراس کی محنت کاپھل سرمایہ دارکھاجاتاہے۔
قائداعظم  نے قیام پاکستان کی تحریک کے دوران مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع شدہ مسلمانوں کے درمیاں اتحادویکجہتی قائم رکھ کرہی پاکستان حاصل کیاتھا،قائداعظم کاکہناتھا''میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد ویکجہتی پیداکروں اورمجھے امیدہے کہ پاکستان کی تعمیروترقی اوراسے عظیم وشاندار مملکت بنانے کاجوبہت بڑاکام ہمیں درپیش ہے،اس کے پیش نظرہمیں اتحادویکجہتی قائم رکھنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، ہم مسلمانوں کاایمان ہے کہ اللہ ایک ہے،رسول ایک ہے،قرآن مجیدایک ہے،اس لئے ہمیں ایک ملت بن کرمتحدرہناچاہئے''۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانان پاکستان اپنے عظیم قائدکی تلقین کے باوجودان کی اس تمناکوبھی عملی شکل دینے میں ناکام رہے۔آزادی حاصل کرنے کے بعدجلدہی ہم نے اپنی قیادت اورکروڑوں مسلمانوں سے کئے ہوئے عہدسے بدعہدی شروع کردی۔ ایک قوم کی حیثیت سے حاصل کئے ہوئے ملک میں مختلف قومیتوں کاپرچارشروع ہوگیا۔ سندھی، پنجابی،بنگالی،بلوچی، پٹھان،اور مہاجر کواپنی پہچان قراردے دیا۔جمہوریت سے حاصل شدہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری اداروں کوتباہ کیاجانے لگا۔ظلم،ناانصافی،رشوت،بداخلاقی اورجھوٹ ہماری زندگی کاجزوبن گیا۔نتیجتاً قیام پاکستان کے پچیس سال بعد ہی سانحہ مشرقی پاکستان رونماہوالیکن یہ سانحہ بھی ہمیں نہ جھنجھوڑسکا۔اس کے بعد پاکستان میں افغانستان کے بہانے دہشت گردی کی ایسی جنگ پھیلائی گئی کہ جس نے ہمارے وطن عزیز کے تمام بڑے شہروں کواپنی لپیٹ میں لے لیااورتمام اہم کاروباری اورتجارتی شہرآگ میں سلگنے لگے۔آج عروس البلادکراچی جیساصنعتی شہراورملک کی ریڑھ کی ہڈی بدامنی،ٹارگٹ کلنگ اورجلاؤ گھیراؤ کی کیفیت سے دوچارہے اوریہ آگ مزیدبھڑکائی جارہی ہے ۔ہماری تمام سیاسی جماعتوں اوران کی قیادتیں اس وقت لاتعلقی ،بے بسی اوربے حسی کامظاہرہ کررہی ہیں اوراس بھڑکتی آگ کوٹھنڈاکرنے کے بجائے مزیدتیزکرنے کی مشن پرلگی ہوئی ہیں ۔ایک دوسرے پرالزام تراشی ان کا وطیرہ بن گیاہے اوراتحادواتفاق اوریکجہتی عنقاہوگئے ہیں۔معلوم نہیں انکے خفیہ مقاصداورمذموم عزائم کیاہیں،یہ کسی اجنبی  اورکسی غیرقوم کے نمائندے لگتے ہیں۔
بانی پاکستان قائداعظم  اپنی ذات میں ایک تاریخ تھے۔آپ نے ہمیں اخوت،محبت،امن بھائی چارے اورنظم وضبط کادرس دیاتھالیکن شومئی قسمت سے ہم ان کایہ درس بھلاچکے ہیں۔ہماری دعاہے کہ یوم آزادی کے اس مبارک اورپرمسرت دن پربحیثیت مسلمان قوم اللہ تعالی ٰ سے اپنی کوتاہیوں کی معافی کے طلب گارہوں اورآئندہ کے لئے ہرقسم کی برائیوں ،تعصبات اورنفرتوں سے پرہیزکریں ۔ایک ملت کی حیثیت سے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کرپاکستان کی بقاء وسلامتی کے لئے ہمہ تن مصروف ہوجائیں۔اسی میں ہماری اورہماری آئندہ نسلوں کی بقاء ہے۔
 

 تحریر:  محمد عمران ہمدانی
بلاشبہ 23 مارچ 1940 کو مینار پاکستان پر ہونے والا عظیم الشان جلسہ قیام پاکستان کی تحریک میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ مسلمانان ہندوستان کو علیحدہ مملکت کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کا موثر پلیٹ فارم حاصل ہوا اور تحریک پاکستان کی لہر میں نئی تازگی آئی اور پھر مسلم لیگ کے اکابرین اور عوام الناس کی مسلسل کوششوں اور قربانیوں کی بدولت وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔ دنیا کی پہلی اسلامی ریاست جو کہ خالصتاً اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ تشیع کے حوالے سے جن نامور شخصیات نے اس مملکت کے قیام کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دی تھیں آج ان کی نسلوں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی۔ آج وطن عزیز پاکستان میں فرقہ واریت کی بدولت لوگوں سے محض مذہب کے نام پر ان سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ جن شیعہ شخصیات نے تمام تر مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر قیام پاکستان کی جدوجہد میں موثر اور جاندار کردار ادا کیا آج انہی کے بچوں کو شیعہ ہونے کے جرم میں زبردستی موت کی وادی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ قیام پاکستان کی تحریک میں سب سے سنہرا کردار اہل تشیع کا تھا اور اکابرین اہل تشیع سے لے کر ایک عام کارکن تک کسی نے بھی کسی سطح پر قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔ یہ فخر ملت جعفریہ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاریخ کے ان سنہرے اوراق سے چند اقتباسات پیش کیے جار ہے ہیں۔
 
محمد علی جناح:۔
    برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے جس شخصیت کو اپنا رہبر و راہنما قبول کیا اور جو بے مثال شخصیت مسلمانان برصغیر کے لیے نوید سحر ثابت ہوئی وہ اہل تشیع کی ہی فراہم کردہ تھی۔ محمد علی جناح سے قائداعظم تک کا سفر قیام پاکستان کا سنہرا باب قرار دیا جاتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی مدابرانہ قیادت ہی قیام پاکستان کی کامیابی کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔
 
راجہ صاحب محمود آباد:۔
   آپ ریاست محمود آباد کے والی تھے جوکہ لکھنو سے 30 میل دور شیعہ اکثریت ریاست تھی۔ آپ کے والد گرامی سرمحمد علی خان مایہ ناز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ نے اپنے دور میں مسلمانوں کو مضبوط پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ قیام پاکستان کی تحریک میں آپ کی خدمات جلی حروف میں درج ہیں۔ آپ قائد اعظم کے دست راست شمار ہوتے تھے۔ آپ نے قیام پاکستان کے سلسلہ میں مالی، اخلاقی مدد فراہم کرنے میں بہت زیادہ مثبت کردار ادا کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح متعدد مواقع پر آپ کے وجود کو باعث افتخار قرار دیا۔ 
سرآغا خان سوئم:۔
   آپ آغا خان فیملی سے تعلق رکھنے والے نہایت ہی پڑھے لکھے اور امیر افراد میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے قیام پاکستان کے سلسلہ میں بہت زیادہ مالی مدد فراہم کی۔ آپ تحریک پاکستان میں قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے۔
 مرزا ابوالحسن اصفہانی:۔
    آپ قائداعظم کے نہایت ہی قریبی دوست شمار ہوتے تھے۔ آپ نے مسلم لیگ کو فعال اور مضبوط بنانے میں بہت اہم کردارادا کیا۔ آپ نے قائداعظم کی خواہش پر انگریزی اخبار ڈان کا اجراء کیا۔ 1945ء کے مسلم لیگ کے اسمبلی کے الیکشن مہم کے انچارج تھے۔ آپ اعلیٰ تعلی یافتہ اور معاشرے میں بہت بلند مقام کی حامل شخصیت شمار ہوتے تھے۔
 راجہ غضنفر علی خان:۔
    آپ قائداعظم کے دیرینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے قیام پاکستان کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ آپ قائداعظم کے ہر اول دستہ کے اہم رکن شمار ہوتے تھے۔ آج بھی اہل علاقہ بھی آپ کی خدمات پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
 مرزا احمد اصفہانی:۔
    مرزا حمد اصفہانی نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم بینکاری کا آغاز کیا اور مسلم کمرشل بینک کی بنیاد رکھی۔ آپ نے ہر مشکل موقع پر مسلم لیگ کے فنڈ میں خطیر رقم بطور چندہ دیا۔ قائداعظم اکثر و بیشتر مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لیے آپ کے ساتھ مشاورت کیا کرتے تھے۔
 سرآدم جی داﺅد:۔
      مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر آپ کی شاندار خدمات کا اعتراف متعدد مواقع پر قائداعظم نے اپنی تحریروں میں فرمایا۔ آپ کا شمار سرکردہ افراد میں ہوتا تھا۔ آپ نے قائداعظم اور مسلم لیگ کو پھیلانے اور اس کی مضبوطی
کیلئے اہم کردار ادا کیا۔
 نواب فتح علی خان قزلباش:۔
      آپ لاہور کے اس وقت سب سے بڑے نواب شمار ہوتے تھے۔ نواب پیلس آج بھی شہرت رکھتا ہے۔ آپ نے پنجاب کے دل لاہور میں قیام پاکستان کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ لاہور میں مسلم لیگ اور قائداعظم کی تنظیمی
سرگرمیوں کا سب سے مضبوط ترین مرکز قزلباش ہاﺅس ہی ہوا کرتا تھا۔
 سید محمد دہلوی:۔
     سید محمد دہلوی اپنے دور کے شیعہ مکتب کے بڑے رہنماوں میں سےایک شمار ہوتے تھے۔ علم و حکمت کے بہار چمن میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ نے قیام پاکستان کی تحریک میں بہت ہی مثبت اور جاندار کردار ادا کیا۔
 علامہ ابن حسن جاچوروی:۔
     علامہ ابن حسن جاچوروی کا شمار نامور عالم دین میں ہوتا تھا۔ آپ نے قیام پاکستان کی تحریک میں بہت شاندار کردار ادا کیا۔ قائداعظم آپ کی صلاحیات کے بہت زیادہ معترف تھے۔ آپ نے شیعہ قوم کے شعور کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔
 مولانا حسین بلگرامی آف اودھ پورہ:۔
     آپ اہل تشیع کے ممتاز عالم دین تھے اور قیام پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ حصہ لیا۔
 سید وزیر حسن آغا:۔
     آپ پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی جائنٹ سیکرٹری تھے اور قیام پاکستان کی تحریک میں بہت سے مواقع پر انتہائی خدمات سرانجام دیتے تھے۔ آپ مسلم لیگ کے اہم مرکزی راہنما تھے اور قائداعظم کے معتمد خاص شمار ہوتے تھے۔
 سید علی امام آف پٹنہ:۔
     آپ کا نام تحریک پاکستان کے اہم ترین اکابرین میں شمار ہوتا ہے۔
 سید حسن امام آف پٹنہ:۔ آپ کا شمار بھی تحریک پاکستان کے اہم ترین اکابرین میں ہوتا ہے۔
 
سیٹھ محمد علی حبیب (حبیب بینک والے) آپ قیام پاکستان کی تحریک میں بڑے فعال رہے، متعدد مواقع پر قائداعظم اور مسلم لیگ کی مالی معاونت کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے بجٹ کے لیے قائداعظم کی انتہائی خطیر رقم سے معاونت کی۔ 

جسٹس سید امیر علی (لاہور)، خان بہادر سیدآل نبی (یوپی)، ابراہیم رحمت اللہ (بمبئی)، مولانا نجم الحسن کراروی (پشاور)، علامہ رشید ترابی(کراچی)، مولانا اظہر حسن زیدی(لاہور)، مولانا مرزایوسف حسین لکھنوی (لکھنو)، سید رضا علی (یوپی)، سید سلطان احمد(بہار)، غلام علی چھاگلہ(سندھ)، سید مرتضیٰ (مدارس)، سید محمد محسن (ڈھاکہ)، نواب سید محمد اسماعیل(بہار)، راجہ آف سلیم پور (یوپی) ، سید محمد مہدی پیر
پور(یوپی)، سید جعفر امام (بہار)، سید آل نبی، سید مقبول حسین گویال(بہار)، مولانا مرزا احمد علی(لاہور)، علامہ حسین الوری، مولانا دلدار علی رضوی لکھنو، سید ذیشان حسین شاہ کرنال، سید مہدی علی(علی گڑھ)، پروفیسر اجمل رضوی (راولپنڈی)، خواتین میں مس فاطمہ جناح، بیگم مرزا محمد اصفہانی، بیگم علی امام، بیگم ہارون، بیگم قزلباش، بیگم وزیر حسن آغا کا کردار تحریک پاکستان میں خواتین کے حوالے سے نمایاں مقام
رکھتا ہے۔
   صوبہ سرحد میں شیعہ بنگش سادات ، طوری اوربلوچستان ہزارہ جات، چنگیزی شیعہ بلوچ ، سندھ میں تالپور خاندان،سادات، بلوچ، مہر، پنجاب میں بلوچ، سادات اور دیگر تمام اہم علاقوں سے ہر اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد تحریک پاکستان میں سرفہرست رہے۔
 
  اس کے علاوہ آغا محمد اشرف قزلباش، سید مراتب علی شاہ، میجر حسن بلگرامی، سرہارون، نواب فتح علی سیال، علامہ ترابی سمیت سینکڑوں دیگر شیعہ شخصیات نے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ قربانیاں دینا شیعہ قوم کا خصوصی طرہ امتیاز رہا ہے۔ آج قیام پاکستان کی جدوجہد میں روز و شب صرف کرنے والے افراد کی نسلوں کو کبھی مسجد بم دھماکوں کی نظر کر دیا جاتا ہے تو کبھی مومن پورہ کے قبرستان میں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے، کبھی جلوسوں پر فائرنگ ہوتی ہے تو کبھی خواتین کو بم سے اڑا دیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں نماز جمعہ میں شہید ہونے والے ایک بزرگ کے گھر میں اس شہید کی قائداعظم کے ساتھ چاق و چوبند تصویر دیکھ کر دلی افسوس ہوا کہ اس بزرگ سے شیعہ ہونے کے جرم میں زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا۔ سانحہ ٹھیری میرواہ سندھ، سانحہ مومن پورہ لاہور، سانحہ میلسی، سانحہ گلگت، سانحہ کرم داد قریشاں، سانحہ ہنگو، سانحہ پارہ چنار، سانحہ پشاور، سانحہ راولپنڈی، سانحہ کراچی، سانحہ کوئٹہ، سانحہ ملہو والی،سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان، سانحہ بھکر، سانحہ سیالکوٹ سمیت 1800 سے زائد علمائے کرام، انجینئرز، ڈاکٹر، پروفیسرز اور بے گناہ مومنین شہید ہوئے اور ابھی تک کسی بھی دہشت گرد کو عبرتناک سزا نہیں دی جا سکی۔ قاتل اکثر گرفتار ہوئے، قبال جرم ہوا مگر مجرمان باعزت بری ہو گئے۔ شیعہ کے قتل پر حکومتی اداروں کی بے حسی اور دیگر افراد کے قتل میں بے گناہ شیعہ کو ملوث کرنے کی سازشیں استحکام پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ آج فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ملک کی سا لمیت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ آج بلوچستان کے غیور ہزارہ جات، چنگیزی اور سادات خاندان کے افراد یہ سوچتے ہیں کہ قیام پاکستان کی جدوجہد اسلامی ریاست کے لیے تھی یا محض فرقہ واریت، انتہا پسندی کے فروغ کے لیے تھی۔ آج شمالی علاقہ جات، اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی کے شہداءکے ورثاءضرور سوچتے ہوں گے کہ شاید ہمیں قیام پاکستان کی تحریک میں شاندار کردار اور بے لوث قربانیاں دینے کے جرم میں بے گناہ شہید کر دیا جاتا ہے۔ آج کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کے شیعیان حیدرکرار ضرور سوچتے ہوں گے۔ شیعہ قوم کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا، اربوں ڈالرز کی شیعہ املاک کو تباہ برباد کیا گیا۔ کیا صرف شیعہ ہونے کے جرم میں ہمارے ساتھ اتنا امتیازی سلوک؟ یہ سب کچھ نظریہ قیام پاکستان کے وقت تو نہ تھا۔ 

 مگر آج تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک میں شاندار کردار ادا کرنے والی قوم عصر حاضر میں وطن عزیز پاکستان کے استحکام سا لمیت اور بقاءکی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمارے آباﺅ اجداد نے قیام پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور آج ہم استحکام پاکستان کے لیے قربانیاں دیں گے۔ حکومتی اداروں کی بے حسی اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود وطن عزیز پاکستان ہمیں آج بھی سب سے زیادہ عزیز ہے۔  شاید آنے والا دور مسجدوں میں بم دھماکوں، امام بارگاہوں میں فائرنگ سے شیعہ قوم کو نجات دلا سکے۔   شاید شیعہ قوم کی مجالس اور عزاداری دہشت گردی سے محفوظ قرار پائے۔ شاید آنے والے دنوں میں گلستان حیدریہ کے قیمتی ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز، آفیسرز مذہب کے نام پر قربانی چڑھنے کی بجائے ملک و قوم کی بہتر خدمت سرانجام دے سکیں۔  

ہم نے پاکستان کو کیا دیا!
 
  آج کل یہ کہنا فیشن بن گیا ہے کے” ہمیں اس ملک نے کیا دیا ہے جو ہم اس کو کچھ دیں” ۔ آئیے زرا اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں کے پاکستان کو کچھ دینا اور اس کے لیئے کچھ کرنا محض قومی فریضہ ہی نہیں بحثیت مسلمان ہم پر لازم بھی ہے۔

نظریاتی حصار کی حفاظت کیجئے!

محمد حسین چودھری
کسی بھی قوم کا مضبوط ترین دفاعی حصار اس کے نظریات ہوتے ہیں۔ نظریات کا حصار اگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اس کی دیواروں کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی رہے تو قومیں اپنے دفاع کو موثر اور پائدار بنا سکتی ہیں۔ مگر نظریات کے معیار کو قائم اور مضبوط رکھنے کیلئے خود اس حصار کی دیکھ بھال کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھارت سے علیحدہ مملکت دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا، کیونکہ مسلمانوں کا طرز زندگی ہندوؤں کے طرز زندگی سے قطعی طور پر مختلف ہے اور جمہوری نظام کے تحت ان دونوں قوموں کا اکھٹے رہنا کسی طور پر ممکن نہ تھا چنانچہ بانیان پاکستان نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا، اور اس کے حصول کیلئے دن رات ایک کر‌دیا۔

رانا عبدالباقی (اسلام آباد)
دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے عوام الناس کو نہ صرف فکری اور عملی جد و جہد کی یکجہتی و یکسوئی کے ناطے اسلامی طرز فکر ، ریاست مدینہ کے قیام اور فتح مکہ کے حوالے سے پیغمبر اسلام کی عظیم تعلیمات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے بلکہ اُنہیں ہندوستان میں آنیوالے مسلم اثرات کے محرکات کے نشیب و فراز سے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو اسلامی تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اُن کا ٹکرائو ہندوستان میں آریا ہندو سماج سے ہو ا۔ حقیقت یہی ہے کہ بّرصغیر ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے قبل آریا ہندو سماج کے پیروکار بھی ایک فاتح قوم کی حیثیت سے ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے اور مقامی ہندی دڑاوری تہذیب کو شکست دیکر اقتدار کی غلام گرشوں پر قابض ہوئے تھے لیکن ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد آریا ہندو سماج نے منافقانہ حکمت عملی کے تحت ذات پات کے معاشرتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کمال خوبی سے ہندوستان کے اصلی باشندوں کا روپ دھار لیا تھا ۔

 کے ایم اعظم ۔۔۔
جب ہم اس حالت کو پا لیں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہمیں صحیح راستہ بتائے گا اور جہاں کہیں بھی ہم غلطی کرینگے وہ ہماری اصلاح کریگا۔ اول الذکر رویہ کیساتھ منسلک رہتے ہوئے ہمارے دینی زعماء اپنے اپنے نظریاتی ڈھانچے کیمطابق لائحہ عمل مجوز کر کے ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہوتے رہتے ہیں۔ انکو دین کا صحیح فہم نصیب ہوتا ہے نہ کوئی دیرپا اتحاد۔ اس طرح دشمنانِ اسلام کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجائے وہ آپس میں باہم متصادم رہتے ہیں اور دشمن کے سامنے انکی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اسلام کی سرفرازی تو درکنار وہ اپنے دنیاوی وقار کو بھی کھو دیتے ہیں۔ ان کو نہ ہی اللہ کی حمایت و نصرت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دنیاوی منفعت۔
قرآن کی متعدد آیات یہ بات واضح کرتی ہیں کہ جب بھی کوئی دینی رہنما یا سیاسی لیڈر دوسرے درجہ کے ایمان کیساتھ نفاذ اسلام کی کوشش کریگا تو ناکام ہو گا۔ بے شک جب ان کا فہم قرآن ہی ناقص ہو گا اور انکے کارکن ناپختہ مسلمان ہوں گے تو وہ اسلام کی ایک مسخ شدہ صورت ہی رائج کر کے اللہ جل جلالہ کے غضب کو دعوت دینگے۔ ہمارے دینی زعماء کو نہ تو صحیح اسلامی نظام کا شعور ہے اور نہ ہی اس نظام کو قائم کرنے کا صحیح لائحہ عمل انکے پاس ہے۔ ان کا دین فی سبیل اللہ فساد کے علاوہ کچھ نہیں حالانکہ ان اکابرین کو میدان قیادت میں قدم رکھنے سے پہلے ہر چیز سے تعلق توڑ کر صرف اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لینا چاہئے اور ہر نوع کی ذاتی خواہشات اور گروہی مفادات کو خیرباد کہہ کے کلی طور پر اللہ کا ہو جانا چاہئے‘ اسی کے رنگ میں رنگے جانا چاہئے اور ہر قدم صرف اللہ کی رضا کیمطابق ہی اٹھانا چاہئے۔ جب وہ اس مقام کو پا لیں گے تو اللہ کی مدد براہ راست ان کو ملے گی اور کامیابی انکے قدم چومے گی۔

ـ 2 اپریل ، 2010 کے ایم اعظم ۔۔۔
پاکستان میں اسلام فلاح و بہبود کا منبع بننے کی بجائے عوام کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ اسکی بڑی وجہ دینی اکابرین اور علماء کا ناقص فہم دین اور ان کا مفاد پرستانہ اور منافقانہ رویہ ہے۔ پاکستان میں اسلام کے مستقبل کے ناطے سے جو شے اس مولف کو پریشان کئے ہوئے ہے‘ وہ ہے ہمارے فکر اسلامی میں انحطاط۔ اسلام کے 1200 سالہ عروج کے دوران میں جس شے نے مرکزی کردار ادا کیا وہ فکر اسلامی ہی تھا۔ حیرت ہے کہ اس دور میں فکر اسلامی اور قانون اسلامی کا تقریباً کلی دارومدار اسلامی معاشرہ (سول سوسائٹی) پر تھا نہ کہ ریاست پر۔ بلکہ اسلامی معاشرہ نے ریاست کو اس دائرہ میں دخل اندازی کا کبھی حق نہ دیا۔


علامہ اقبال کے نزدیک ایک اہم سوال یہ ہے کہ قدامت پسند علماء کو روشن خیال کیسے بنایا جائے‘ جو جدید تقاضوں کی مطابق اسلام کی تعبیر کر سکیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مسائل کا اصل سبب اپنے دین سے دوری ہے یا اپنے اپنے مسلک سے شدید لگائو؟ ہم قرآنی برکات کے حصول میں سرگرداں رہتے ہیں‘ جبکہ ہماری منافقت ہمیں کتاب اللہ تک پہنچنے نہیں دیتی۔ منافق نہ سچائی کی کھلی تردید کرتے ہیں اور نہ ہی سچائی کو پوری طرح مان لینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ وسوسہ ڈالنا‘ شوشہ چھوڑنا‘ حق و باطل کو خلط ملط کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔