ارشاد حسین ناصر

میں ایک تنظیمی کارکن ہوں۔۔۔ میں نے ساری عمر ایک اسلامی تنظیم میں گذاری ہے۔۔۔ ایسی تنظیم جس کے کارکنان کو ہمیشہ اور ہر حال میں اسلام حقیقی سے گہری محبت کا درس دیا جاتا ہے ۔۔۔ اسلام شناس بنایا جاتا ہے۔۔۔ اسلام کو جہانِ اسلام پر عملی طور پر نافذ کرنے کی جدوجہد کا حصہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ اسلام کے عملی نفاذ کیلئے پوری دنیا میں پرامن طریقہ سے کوششیں کرنے والی اسلامی تنظیموں سے نہ صرف متعارف کروایا جاتا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً ان اسلامی تنظیموں کی طرف سے کئے جانے والے امت کی بھلائی و بہتری کے اقدامات اور کاوشوں کو تحسین و تفاخر سے بھی دیکھا جاتا ہے، اگر دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والی اسلامی تنظیم کو کوئی کامیابی ملتی ہے تو اس پر شاد و مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔۔۔ میں ایسی ہی ایک تنظیم کا کارکن ہوں ۔۔۔ ادنٰی کارکن!

میں ایک اسلامی تنظیم کا کارکن ہوں ۔۔۔ میری تربیت جس ماحول میں ہوئی ہے اس میں ہمیں یہ درس ملا ہے کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ظالم کے خلاف ہیں، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔ ہم نے یہ درس سیکھا ہے کہ دنیا بھر میں مظلوم، ستم رسیدہ، مجبور، مستضعف اور کمزور قرار دیئے گئے انسانوں کو ایک دن نجات ملے گی، ظالم نابود ہو جائیں گے، عدل کا قیام ہو جائے گا، مگر اس مقصد کیلئے ظالموں، جابروں، مستکبروں اور آمروں کیخلاف مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس جدوجہد میں قوموں کو بیشمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں، ایثار گری کے نمونے پیش کرنا پڑتے ہیں۔ چونکہ دنیا کا کوئی بھی مستکبر، جابر، ظالم یا بااختیار شخص نہیں چاہتا کہ اس کے اختیارات کو محدود کیا جائے اور طاقت کے منبع کو اس سے چھین لیا جائے اور اس کے زیرِ نگیں اور رعایا منہ زور ہوجائیں اور اس کی حکومت و سلطنت کو زوال آ جائے۔۔۔ لہذا وہ ظلم کرتا ہے ۔۔ بیگناہوں کو خون سے ہاتھ رنگتا ہے۔۔۔ اس کے باوجود اسے جانا ہوتا ہے۔۔۔!

میں ایک اسلامی و تحریکی کارکن ہوں۔۔ جسے پاکستان کے ہمسائے میں امام خمینی (رہ) کی قیادت میں آنے والے اسلامی انقلاب نے اپنے سحر میں مبتلا کیا ہوا ہے اور اس انقلاب کے اثرات کو دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں پر پڑتا دیکھ رہا ہوں، میں اس انقلاب اور اس کی قیادت کو دنیا بھر کے اسلام پسندوں کیلئے آئیڈیل و نمونہ سمجھتا ہوں۔ میں ایک اسلامی تحریک کا کارکن ہوں ۔۔۔ میرا دل دنیا بھر میں فعال اسلامی تحریکوں کے لئے دھڑکتا ہے۔۔ میری آنکھوں میں دنیا بھر میں اسلام کے عملی نفاذ کیلئے پرامن جدوجہد کرنے والی اسلامی تحریکوں کی کامرانی و کامیابی کیلئے دھڑکتا ہے، میری آنکھوں میں ہمیشہ ہی ان کی کامیابی و سرفرازی کے سپنے سجے رہتے ہیں ۔۔۔ میں نے فلسطین کے مظلوم، ستم رسیدہ اور برسوں سے اپنوں و غیروں کی سازشوں کے شکار آزادی پسندوں کی جدوجہد کا ساتھ دیا ہے، تاکہ مدتوں سے دربدری کی زندگی گذارنے والے ان بھائیوں کو اپنا وطن اور اپنی سرزمین مل سکے۔۔۔ اور یہ عزت مند و سرخرو ہو سکیں۔۔۔

میں نے الجزائر میں عوامی جمہوریت کے ذریعے طاقت میں آنے والے اقتدار سے محروم کر دیئے جانے والے اسلام پسندوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا ہے۔۔۔ میں نے افغانستان میں غیر ملکی تسلط کے خلاف بر سرپیکار افغان عوام کی جدوجہد آذادی کو ہمیشہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کیا ہے اور ان کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا ہے، ان کے مسائل کو اپنے مسائل جانا ہے۔۔ ان پر آنے والی آفات کو اپنے اوپر آفت محسوس کیا ہے۔۔ میں کشمیر میں پینسٹھ برسوں سے جاری ہندوستانی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے استقامت کے نشانوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، ان کی بے پناہ قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور یہ امید لئے جی رہا ہوں کہ ایک دن یہ جنت نظیر وادی اپنے حقیقی حسن کی رعنائیوں سے جلوہ افروز ہوگی۔۔

میرے قلب و نظر میں لبنان کی مزاحمت اسلامی کے نوجوانوں کی تصویریں سجی ہوئی ہیں، جنہوں نے اسرائیل جیسی سفاک آرمی کیخلاف اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور 33 روز تک اس کے گھمنڈ اور غرور، نیز تکبر و ناقابل شکست ہونے کے فریب کو دنیا کے ہر آزادی پسند و آزاد فرد پر واضح و آشکار کر دیا ہے۔۔۔ اور میں ہمیشہ سلام پیش کرتا ہوں غزہ کے ان محروموں، بے دست و پا، وسائل سے بے نیاز، استقامت و مزاحمت کے سرخیلوں کو جو اپنی مادر وطن، اپنی مٹی اور سرزمین کو اسرائیل کے نجس پنجوں سے آزاد کروانے کیلئے سرگرمِ عمل رہتے ہیں اور دنیا کے آزادی پسندوں کے لئے راہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔۔۔

میں بحرین کے مظلوم و حقوق سے محروم عوام کی پرامن جدوجہد پر شاداں ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ پرامن تحریک بدترین آمریت و شہنشاہیت کے مقابل ایک روز کامیابی سے سرافراز ہوگی اور ملت بحرین جو اس ملک کی حقیقی وارث ہے، اپنے حقوق حاصل کرکے ملکی و غیر ملکی شہنشاہیت و آمریت کا جنازہ نکال دے گی۔۔۔ میں حجاز مقدس پر قابض شاہان وقت کے امت اسلامی سے غدارانہ رویئے اور مقدس سرزمین کو اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کے مرکز میں تبدیل ہونے پر مغموم ہوں، میں یمن کے اسلام پسندوں کی جدوجہد انقلاب کی کامیابی کیلئے دعا گو رہتا ہوں، مجھے تیونس، مصر اور لیبیا میں آنے والی تبدیلیوں نے متاثر کیا ہے اور میں ان علاقوں کے عوام کی طویل عرصہ تک جدوجہد اور قربانیوں کو رائیگاں ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔!

میں ایک اسلامی تحریک کا کارکن ہوں۔۔ مگر۔۔ نہ جانے کیوں مجھے الجھایا جا رہا ہے۔۔ رستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔۔۔ میرے ماحول میں کچھ ایسازہر گھولا جا رہا ہے کہ ۔۔۔ میں اسلام کے عملی نفاذ میں مشغول پرامن جدوجہد کرنے والوں کیلئے آواز نہ بلند کرسکوں۔۔۔ مجھے ایسی سازش کی بو آ رہی ہے کہ میرا دل فلسطین کے مظلوموں کیلئے دھڑکنا بند ہو جائے۔۔۔ میں لبنان کی مقاومت اسلامی کا توانا بازو نہ بن سکوں۔۔۔ مجھے اس طرف دھکیلا جا رہا ہے کہ میں کشمیر کے بچوں، بوڑھوں،اور خواتین کے مغموم چہروں کو نہ دیکھ پاؤں۔۔۔ مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ میں اسلام کے عملی نفاذ کے سپنے دیکھنا بند کر دوں اور مجھے اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں افغانستان، غزہ،یمن، مصر، تیونس، بحرین و لبنان کے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصاویر کی تشہیر نہ کروں بلکہ اپنے شہر اور ملک میں جاری فرقہ وارانہ فسادات میں مارے جانے والے اپنوں کے خون آلود چہروں کی تشہیر کروں۔۔۔

مسجد اقصٰی میں عبادت کیلئے جانے والے مسلمان بھائیوں کو روکنے اور انہیں زندگیوں سے محروم کر دیئے جانے کی ویڈیوز کو نہ دیکھوں بلکہ اپنے ہی وطن میں اپنے ملک کے اسلام پسندوں کے ہاتھوں نماز جمعہ کی ادائیگی میں مشغول چیتھڑوں میں بدل جانے والوں کو دیکھ کر آنسو بہاؤں۔۔۔ مجھے مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں امت اسلامی کے ایک غیرت مند اور توانا ملک پر اسرائیلی یلغار کی مذمت کے بجائے اپنے ہی ملک میں نماز جنازہ میں شریک مسلمان بھائیوں کے خون آلود لاشوں کو اٹھا کر اپنی ہی شاہراہوں کو بلاک کر دوں اور اپنے ہی لوگوں کی بسوں، گاڑیوں اور مارکیٹوں کو جلا کر راکھ کر دوں۔۔۔ مجھے اس طرف دھکیلا جا رہا ہے کہ میں فلسطینی بھائیوں کا دکھ بھول جاؤں، غزہ کے مظلوموں کی آہ و بکا پر خاموش ہو جاؤں، بحرین کی معصوم دختران کے زخموں پر چپ سادھ لوں، افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں عالمی طاقتوں کی یلغار کے شکار اپنے ہمسائے اور مسلمان بھائیوں کی درد کہانیوں کو بھول جاؤں۔۔۔

میں ایک تنظیمی و تحریکی کارکن ہوں۔۔۔۔ بھلا میں ایسا کیونکر کرسکتا ہوں، میرے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں کہ۔۔ میں اسلامی تحریکوں کی جدوجہد کو فراموش کر دوں اور ان سپنوں کو بھول جاؤں، جو بچپن سے اپنی آنکھوں میں سجائے عمر کے اس حصہ تک آیا ہوں۔۔۔ میں ایسا نہیں کرسکتا کہ اپنے حقیقی دشمنوں کو بھول کر مزدوروں کے پیچھے پڑ جاؤں۔۔۔ میں خون میں نہا سکتا ہوں۔۔ چیتھڑوں میں بدل سکتا ہوں۔۔ مگر جابروں، ظالموں، مستکبروں اور آمروں کے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔۔ میں ایک اسلامی تحریک کا کارکن ہوں ۔۔۔ امت اسلامی کے سارے دکھ میرے ہیں۔۔ چاہے وہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں، بحرین میں ہوں یا یمن میں، مصر میں ہوں یا افغانستان میں، غزہ میں ہوں یا بیروت میں ۔۔۔ میں اسلامی تحریک کا ایک کارکن ہوں۔۔۔اسلامی تحریک کے کارکن وہ ہوتے ہیں جن کی خواہش، تڑپ، اور جدوجہد کلمۃ اللہ العلیا کی سربلندی اور نظام اسلام کا عملی نفاذ ہو، انہیں اس سے غرض نہیں کہ الٰہی نظام کون سا گروہ اور جماعت نافذ کرتا ہے۔ ۔ ہدف کا حصول مقصد ہوتا ہے، جس کے ہاتھوں ہی حاصل ہو جائے، مسرت و شادمانی ہوتی ہے۔۔ چونکہ۔۔ میں ایک اسلامی تحریک کا کارکن ہوں!


اسلامی بیداری اور استعماری سازشیں، ایک پس منظر
تحریر:ثاقب اکبر
یسویں صدی عیسوی کے اوائل میں عالم اسلام میں چند ایسی بڑی شخصیات نے ظہور کیا کہ جنھوں نے خواب غفلت میں پڑے مسلمانوں کو بیداری کا پیغام دیا۔ انھوں نے مسلمانوں کو مذہبی اور سیاسی وحدت کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا۔ ان میں سے اہل قلم اور علماء نے ایسی کتب لکھیں جنھوں نے مسلمانوں میں بیداری کی ایک لہر دوڑا دی۔ سید جمال الدین اسد آبادی اور علامہ اقبال کا نام اس سلسلے میں خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ سید جمال الدین کا پان اسلامزم کا نظریہ اور علامہ اقبال کی انقلابی شاعری نے پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔ مصر اور ایران سے ایسے عظیم مسلمان قائدین اور علماء اٹھے جنھوں نے مذہبی ہم آہنگی کے لیے نہایت موثر اور مثبت کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے آیة اللہ سید بروجردی اور شیخ الازہر شیخ محمود شلتوت کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ایسے قائدین مشرق بعید اور افریقہ میں بھی اٹھے۔ ان قائدین اور راہنماﺅں کی مساعی سے مغربی استعمار کے سیاسی اور فوجی چنگل میں پھنسے ہوئے مسلمانوں نے آزادی کی تحریکیں برپا کیں۔ قربانیوں اور استقامت کے نتیجے میں بہت سے مسلمان ممالک آزاد ہوئے۔ اگرچہ بہت سے مسلمان اور غیر مسلمان ملک بظاہر بلا واسطہ استعماری چنگل سے آزاد ہو گئے لیکن ان قوتوں نے انھیں نئی طرح کی غلامی کی زنجیریں پہنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نئی طرح کو جدید کالونیت (Neo Colonialism) کہتے ہیں۔ اس کے مطابق تیسری دنیا کے ممالک کو ظاہراً آزاد رکھ کر اُن پر ایسے حاکموں کو مسلط کرنا تھا جو اُن استعماری طاقتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی کی یہ صورت پہلی سے بھی زیادہ بھیانک اور پرفریب تھی۔ ان طاقتوں نے ان ایجنٹوں کے ذریعے تیسری دنیا کے عوام کا لہو پینا شروع کیا۔ انھیں اقتصادی اور فوجی زنجیروں میں جکڑنا شروع کر دیا۔
عالمی سطح پر ایسے ادارے اور قوانین بنائے گئے جو ان استعماری قوتوں کی گرفت کو مضبوط سے مضبوط رکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی باور کروایا جانے لگا کہ دنیا کی غالب تہذیب مغربی تہذیب ہے جو مادی تصور کائنات پر مبنی ہے۔ مغربی سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں پہلا بھرپور ردعمل اشتراکیت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اشتراکیت نے آدھی دنیا کو اپنے دام فریب میں جکڑ لیا۔ یہ نظریہ بظاہر غریب پرور تھا لیکن یہ بھی مادی تصور کائنات پر مبنی تھا۔ سرمایہ داری نظام کا سرغنہ امریکہ تھا جبکہ اشتراکیت کا سردار سوویت یونین تھا۔ دونوں نے سرمائے اور فوجی طاقت سے اپنا حلقہ اثر بڑھانا شروع کیا۔ دنیا یہ سمجھنے لگی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی سرپرستی قبول کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس دو قطبی دنیا کا خدا کوئی نہ تھا۔ دونوں نے دین کو معاشرتی قوت کی حیثیت سے بے دخل کر دیا۔
جدید کالونیت اور مادیت کے اس چنگل سے نکلنے کے لیے بہت سے راہنماﺅں نے جدوجہد کی، سیاسی طور پر غیر جانبدار تحریک استعماری گرفت سے آزاد ہونے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔ عالم اسلام میں بھی بہت سے راہنما سامنے آئے، لیکن بیسویں صدی کے آخری رُبع میں امام خمینی رہ کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب نے جرات مندی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی نے پسے ہوئے محروم انسانوں کو امیداور ہمت کا پیغام دیا۔ اس انقلاب نے ثابت کر دیا کہ اگر کسی ملک کے عوام اٹھ کھڑے ہوں تو نیوکالونیلزم کے بٹھائے ہوئے مہروں اور استعماری گماشتوں سے گلو خلاصی حاصل کی جاسکتی ہے۔
امام خمینی رہ کے انقلاب نے مادی تصور کائنات کو بھی شکست فاش دی، یہ انقلاب اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور خدا پرستوں کا انقلاب تھا۔ اس کے اثرات ویسے تو ساری دنیا پر مرتب ہوئے، لیکن عالم اسلام پر اس کے اثرات بہت نمایاں رہے۔ اس انقلاب کو ابھی چند ہی برس گزرے تھے کہ سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا اور دنیا یک قطبی ہو گئی۔ امریکہ نے ”اناولا غیری“ کا رویہ اختیار کر لیا۔ امریکہ اور مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے دیگر وڈیروں نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو انقلاب کا راستہ اختیار کرنے سے روکا جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے سب سے زیادہ ضروری یہی سمجھا کہ ایران کو سر جھکانے پرمجبور کر دیا جائے، لیکن اپنی تمام تر کوششوں اور حیلوں کے باوجود وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
امام خمینی رہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد لاشرقیہ ولا غربیہ کے نظریے پر تھی۔ انھوں نے عالم اسلام اور خطے کے سب سے اہم مسئلے یعنی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ اسرائیل ایک غیر قانونی قابض اور غاصب ریاست ہے، جسے عالمی استعمار نے علاقے کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے قائم کیا ہے اور وہی اس کی بقا اپنے ذمے لیے ہوئے ہے۔ امام خمینی رہ نے اسرائیل کو ایک خطے میں سرطانی پھوڑا قرار دیا، جس کا علاج ضروری ہے۔ ان کی کوششوں نے فلسطین کی تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ دیگر اسلامی سرزمینوں میں بھی بیداری کی تحریک نے سر اٹھانا شروع کیا۔ پہلے سے موجود تحریکوں میں نیا اعتماد پیدا ہو گیا۔ الجزائر، ترکی، عراق، لبنان، پاکستان مقبوضہ کشمیر وغیرہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
دوسری طرف اس بیداری کا راستہ روکنے کے لیے استعماری طاقتوں نے طرح طرح کی تدابیر اختیار کیں۔ ان میں سے آٹھ سالہ ایران، عراق جنگ ان کی پہلی بڑی تدبیر تھی۔ 9/11 کے واقعے کو بہانہ بنا کر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر عالم اسلام کے مختلف ملکوں پر فوجی جارحیت اُن کی دوسری بڑی تدبیر تھی، لیکن دوسری طرف مسلمانوں کے اندر بیداری کی تحریک بھی آگے بڑھتی رہی۔ 2006ء میں اسرائیل کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے مسلمان گروہ حزب اللہ کی کامیابی نے مسلمانوں کو پھر سے ایک نئی ہمت اور ولولے سے سرشار کر دیا۔ اس کے اثرات خاص طور پر عرب دنیا میں بہت زیادہ ہوئے۔ 2011ء کے آغاز میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب اسلامی دنیا کی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس کا یہ پس منظر جاننا نہایت ضروری ہے۔

تحریر: ندیم عباس
پی ایچ ڈی سکالر، نمل یونیورسٹی اسلام آباد
این آدرس ایمیل توسط spambots حفاظت می شود. برای دیدن شما نیاز به جاوا اسکریپت دارید

رحمت دو عالم سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ صفا پر کھڑے تھے، ابو جہل آپ (ص) کے پاس آیا اور آپ (ص) کو تنگ کرنے لگا اور آپ (ص) کی شان میں گستاخی کرنے لگا، سرور کائنات (ص) نے اس کی اس گستاخی پر اسے کوئی جواب نہ دیا، اس کے باوجود اس کا غصہ بڑھتا گیا، یہاں تک کہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور حضور نبی رحمت (ص) کے سر مبارک پر دے مارا۔ پتھر اس زور سے لگا کہ آپ (ص) کے سر مبارک سے خون بہنے لگا۔ یہ دشمن رسول خدا (ص) یہاں سے چلا اور خانہ کعبہ میں سرداران قریش کی مجلس میں جا کر بیٹھ گیا۔

عبداللہ بن جدعان کی لونڈی اپنے گھر سے یہ سارا واقعہ دیکھ رہی تھی، تھوری دیر کے بعد حضرت حمزہ علیہ السلام اسی راستہ سے شکار کرکے واپس آرہے تھے، کمان کندھے پر حمائل کیے ہوئے تھے، جوانی کا عالم تھا، اکیلے شیر کا شکار کیا کرتے تھے، پورے اہل مکہ پر آپ کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لونڈی نے حضرت حمزہ  (ع) کو تمام واقعہ من و عن بیان کیا۔ یہ سنتے ہی حضرت حمزہ (ع) کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی، کسی کی یہ جرأت کہ ان کے یتیم بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک کرے۔

گھر جانے کے بجائے سیدھا سرداران قریش کی مجلس میں گئے، بھری محفل میں کمان ابو جہل کے سر پر ماری، جس سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا اور فرمایا: اے سر پر خوشبو لگانے والے بزدل، میرے بھتیجے کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ ابو جہل کے قبیلے والے درمیان میں آئے تو بنی ہاشم کی تلواریں بھی گستاخان رسول (ص) پر بے نیام ہو گئیں۔ یہ دیکھ کر ابو جہل نے کہا: ابو عمارہ (حضرت حمزہ) کو جانے دو، آج واقعاً میں نے ان کے بھتیجے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

راج پال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ایک کتاب لکھتا ہے، انگریز سرکار اس کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے، مسلمان شدید احتجاج کرتے مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسے میں ایک عاشق رسول (ص) جو بڑھئی کا کام کرتا ہے، زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں ہے، مگر منزل عشق رسول (ص) میں اتنے عالی مرتبے پر فائز ہے کہ اس گستاخ رسول (ص) کو واصل جہنم کر دیتا ہے اور جب وکیل یہ کہتا ہے کہ علم دین اگر عدالت میں یہ کہہ دو کہ راج پال کو میں نے قتل نہیں کیا تو تمہاری زندگی بچ سکتی ہے۔ تو وہ مسکرا کے جواب دیتا ہے گستاخ رسول (ص) کو مارا ہو اور کہہ دوں کہ نہیں مارا، میرے پاس تو بخشش کا فقط یہی سامان ہے کہ آقا (ص) کے گستاخ کو مارا ہے، علامہ اقبال نے غازی علم دین کے متعلق فرمایا تھا: ہم دیکھتے رہے گئے اور ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا۔

سرزمین ھند سے سلمان رشدی نامی بدبخت شان رسول (ص) میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے۔ مسلمان زبردست احتجاج کرتے ہوئے رسول (ص) سے اپنے تعلق اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس وقت سرزمین ایران پر اسلامی انقلاب آچکا تھا، جب امام خمینی (رہ) کو اس گستاخ کی گستاخی بتائی جاتی ہے تو آپ اس کے قتل کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے اس کے سر کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ پوری دنیا مخالفت کرتی ہے، مگر یہ سید اپنے موقف پر قائم رہتا ہے، صرف اسی تک محدود نہیں رہتے بلکہ میں یہ جملے پڑھ کر حیران رہ گیا کہ امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں کہ غیرت اسلامی کہاں گئی۔؟ اے کاش آج میں جوان ہوتا خود برطانیہ جاتا اور اس گستاخ رسول (ص) کو واصل جہنم کرتا۔

قارئین کرام، یہ گستاخیوں کا ایک سلسلہ ہے جو ابو جہل، ابولہب سے شروع ہوتا ہے اور آج تک جاری ہے۔ حزب الشیطان کے کارندے بدلتے رہتے ہیں، کبھی ابو جہل اور ابولہب کی صورت میں، کبھی راج پال، کبھی سلمان رشدی اور کبھی ٹیری جونز کی صورت میں اپنا شیطانی کام انجام دیتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے سلسلے میں ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارا کردار کیا ہے۔؟ کیا رسول (ص) کی شان میں گستاخی کا سن کر کسی ابو جہل کا سر پھاڑنے کا حضرت حمزہ جیسا جذبہ رکھتے ہیں۔؟

اور دفاع رسول (ص) میں ہماری تلواریں بھی بنو ہاشم کی تلواروں کی طرح بے نیام ہوتی ہیں؟ کیا غازی علم دین جیسے پاکیزہ جذبات کا سمندر ہمارے میں موجزن ہے، جو رسول (ص) کی گستاخی کا سن کر راتوں کو سونے نہیں دیتا؟ کیا ہمارے دلوں میں وہ اضطراب و خواہش ہے جو ۸۰ سالہ سید روح اللہ خمینی (رہ) کے دل میں تھی کہ میں اپنے ہاتھوں سے اس گستاخ رسول (ص) کا خاتمہ کروں۔ اگر جواب ہاں میں ہے اور ہم اس کے لیے عملی اقدام بھی کر رہے ہیں تو ہمارا دشمن ناکام و نامراد رہے گا۔ عظمت رسول (ص) زندہ و پائندہ رہے گی۔

اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اہل مغرب نے مسلم معاشرے پر تحقیق کرکے ہماری دکھتی رگ یعنی محبت رسول (ص) کا پتہ چلایا ہے۔ یقیناً انہوں نے ایسا کیا ہوگا، بلکہ اس سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ کیا ہوگا، مگر کیا ہم بطور مسلمان حرمت رسول (ص) کو مسلمانوں کی وحدت کی بنیاد نہیں بنا سکتے۔؟ کیا آج اہل مغرب نے شیعوں کے رسول (ص) کی اہانت کی ہے؟ یا دیوبندیوں، اہل حدیثوں یا بریلویوں کے رسول (ص) کی اہانت کی ہے۔؟ کیا آج محبت میں فقط شیعہ گریہ کناں ہے یا آج اس بےحرمتی پر فقط بریلویوں، اہل حدیثوں اور دیوبندیوں کے دل زخمی ہیں۔؟ نہیں! نہیں! یقیناً نہیں، بلکہ آج ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ توہین کرنے والوں نے رسول اسلام (ص) کی توہین کی ہے، انہوں نے ہر مسلمان کے دل کو پارہ پارہ کیا ہے۔

مجھے امام خمینی (رہ) کا وہ جملہ یاد آ رہا ہے کہ تم ہاتھ باندھنے اور کھولنے پر جھگڑ رہے ہو اور دشمن تمہارے ہاتھ کاٹنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ میرے خیال میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گروہی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنے نبی (ص) کی حرمت کے لیے متحد ہو جائیں، اور آج جسطرح ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر لبیک یارسول اللہ (ص) کے دلنشین نعرے لگا رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھ رہا کہ نعرہ لگانے والا شیعہ ہے یا سنی، ہمیں اسی اتحاد کو آگے بڑھانا چاہیے۔
بقول علامہ اقبال،
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک         کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

نبی (ص) کی حرمت تقاضائے اتحاد کر رہی ہے، مسجد اقصٰی پکار پکار کر کہہ رہی ہے مسلمانوں متحد ہو جاؤ۔ فلسطینی ایھا المسلمون اتحدوا اتحدوا، کے نعرہ لگا رہے ہیں، اہل کشمیر مسلم اتحاد زندہ باد کہہ رہے ہیں۔ عراق، افغانستان کے مسلمانوں کی یہی دلی آواز ہے۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے، جس کی طرف منہ کرکے ہر مسلمان نماز ادا کرتا ہے اور قرآن تو مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دے رہا ہے ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘ اور ہمارے نبی (ص) نے تو بات بات پر لڑنے والے عربوں کو ایک قوم، ایک قبیلہ اور ایک خاندان کی طرح متحد کر دیا۔ اگر ہم نے اتحاد کے راستے کو اختیار کر لیا تو یقین جانیے کہ گستاخی کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور اگر اتحاد نہ کیا اور ایک نہ ہوئے تو آج امریکہ نے گستاخی کی ہے، کل خدا نخواستہ فرانس سے ہوگی، پھر کہیں اور سے ہوگی، اور ہم فقط آنسو بہاتے رہیں گے۔ خدا ہمیں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
خب

تحریر: ثاقب اکبر
شام کے مسئلے میں ترکی کا کردار ہمارے نزدیک اس پورے قضیے میں سب سے عجیب اور حیران کن ہے۔ تاہم اس کردار کو سمجھنے کے لیے چند حقائق پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔ ترکی امریکا اور مغربی یورپ کے ساتھ فوجی اتحاد نیٹو کا رکن ہے۔ اس لحاظ سے وہ نیٹو کے فیصلوں کا پابند ہے۔ اسی لیے اس نے افغانستان میں موجود نیٹو فورسز میں اپنا حصہ ڈال رکھا ہے۔ جدید ترکی کا قدیمی ارمان ہے کہ وہ یورپی یونین میں شامل ہو جائے۔ یورپی یونین نے حیلوں بہانوں سے ابھی تک ترکی کو رکنیت نہیں دی، لیکن ترکی نے بھی یہ آرزو ترک نہیں کی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے یورپی یونین کو متعدد مرتبہ یہ توجہ دلائی ہے کہ وہ ترکی کو رکنیت دے دے وگرنہ ترکی کا رجحان دوسری طرف زیادہ ہو جانے کا امکان ہے۔ امریکی صدر نے خاص طور پر یہ بات فریڈم فلوٹیلا کے واقعے کے بعد زور دے کر کہنا شروع کی۔ اگرچہ فریڈم فلوٹیلا کے واقعے نے ترکی کا ایک ایسا کردار آشکار کیا، جس سے عالم اسلام میں اس کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا پیغام گیا، البتہ اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاﺅ کے باوجود ترکی کے اب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات قائم ہیں۔

ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود ترکی کے اقتصادی تعلقات ایران کے ساتھ اب بھی قائم ہیں اور ترکی تیل کی اپنی داخلی ضروریات کا ایک بہت بڑا حصہ اب بھی ایران سے درآمد کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بڑھتے ہوئے امریکی دباﺅ کی وجہ سے بالآخر ترکی کو اس درآمد میں کچھ کٹوتی کرنا پڑی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ترکی کے پاس متبادل ذرائع موجود ہوں تو اس درآمد میں مزید کٹوتی کا بھی امکان ہے۔ اس سلسلے میں اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایران سے تیل اور گیس کا حصول ترکی کے لیے آسان بھی ہے اور سستا بھی، کیونکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں۔ علاوہ ازیں دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدہ کے مطابق ایران سے ایک گیس پائپ لائن ترکی کے راستے یورپ تک جانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ یہ منصوبہ ترکی کے لیے بھی مالی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔

ترکی خلافت عثمانیہ کا کئی صدیوں تک مرکز رہا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک افسوسناک پہلو ہے کہ خلافت عثمانیہ کے بعض ادوار میں اور خاص طور پر اس کے آخری دور میں شیعہ سنی مسئلہ بہت نمایاں ہو گیا تھا۔ ترکی سنی مسلک کا مرکز اور ایران شیعہ مسلک کا مرکز بن کر ابھرا تھا۔ ترکی کے اندر موجود شیعوں کو وہاں حکومت میں دخیل مذہبی طاقتوں کی طرف سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ شیعہ انہی حالات کی وجہ سے ترکی کے دور دراز پہاڑی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے، جس کی وجہ سے ان کا رابطہ عالمی سطح پر موجود شیعہ مذہبی مراکز سے بھی منقطع ہو گیا تھا۔

عثمانی خلافت کے زوال کے بعد یہ لوگ آہستہ آہستہ پھر شہروں کی طرف آنے لگے۔ ان شیعوں کو ترکی میں علوی کہتے ہیں۔ مختلف اعداد وشمار اور دعووں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علوی ترک آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد ترکی میں ایک تہائی ہے۔ عصر حاضر میں شام، عراق اور ایران کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں اونچ نیچ کے پس منظر میں بعض مبصرین مذکورہ ماضی میں وجوہات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ترکی اور ایران کے مابین چند برسوں سے نسبتاً قریبی اور دوستانہ تعلقات میں فروغ کی وجہ سے عالم اسلام میں یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ یہ دونوں ملک تلخ ماضی کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ عالم اسلام میں مشترکہ طور پر ایک امید افزا کردار ادا کریں گے۔

غزہ میں اسرائیل کے مظالم کے بعد ترکی نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں جس طرح سے آواز بلند کی تھی، اس سے ان امیدوں میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا، لیکن شام کے مسئلے میں دونوں ملکوں کے الگ الگ بلکہ باہم متقابل راستوں کی وجہ سے عالم اسلام میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تشویش میں اس وقت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب امریکی وزیر خارجہ ترکی میں جا کر شام کے خلاف ترک امریکا مشترکہ موقف کا اظہار کرتی ہیں یا پھر ترکی شام کے بارڈر پر تعینات کرنے کے لیے نیٹو کی افواج سے مدد کا طالب ہوتا ہے۔ امریکا اور نیٹو سے مدد طلب کرنے کے بعد اور ان سے ہم آہنگی کے بعد ترکی واضح طور پر ایک ایسے کیمپ کا حصہ بن جاتا ہے، جسے بہر حال عالم اسلام اپنا دوست نہیں سمجھتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شام خلافت عثمانیہ کا ایک حصہ رہا ہے۔ کیا ترکی میں یہ امنگ پیدا ہو چکی ہے کہ اس نے خلافت عثمانیہ کی بحالی کے لیے پھر سے کوئی کردار ادا کرنا ہے؟ کیا ترکی شام پر اپنا اثرورسوخ بڑھا کر اسی آرزو کی تکمیل کی طرف قدم اٹھا رہا ہے؟ یہ سوال بھی شام کے حوالے سے ترکی کے کردار کو سمجھنے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ترکی کو عالم اسلام میں ”ایک بڑے“ کا کردار ادا کرنا ہے تو اس کا راستہ فوجی نہیں ہے۔

مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم قدیم خلافت عثمانیہ کی موجودہ ساخت پرداخت پھر سے ایک سلطنت کے سانچے میں ڈھلنے کا امکان کھو چکی ہے۔ عالم اسلام کے اتحاد کے لیے عصری تقاضوں کے مطابق نئے سیاسی اجتہاد کی ضرورت ہے اور یہ سیاسی اجتہاد انفرادی نہیں اجتماعی صورت میں ہی نتیجہ بخش ہو سکتا ہے۔ عالم اسلام کی ذمہ دار اور مشترکہ قیادت کو مل جل کر دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق عالم اسلام کے اتحاد کے کسی فارمولے پر پہنچنا ہوگا۔

شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کا جو عمل شروع ہوا ہے، ترکی نے اس کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا ہے اس میں کوئی ہم آہنگی اور ایک اصول دکھائی نہیں دیتا۔ لیبیا میں عوام نے کرنل قذافی کے خلاف آواز اٹھائی تو پہلے ترکی نے کرنل قذافی کی حمایت کی، لیکن جب امریکا اور نیٹو نے کرنل قذافی کے خلاف فوجی اقدام کیا تو ترکی کا طرز عمل بھی تبدیل ہو گیا۔ بحرین کے مسئلے پر بھی ترکی کے متعدد راہنماﺅں نے پہلے آل خلیفہ کے مظالم کی مذمت کی، لیکن بعدازاں اس نے چپ سادھ لی، بلکہ عملی طور پر آل خلیفہ اور سعودی عرب کا ہمنوا بن گیا۔ دیگر کئی ممالک کے بارے میں بھی اس کا رویہ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اس خطے میں عوام اب بھی کئی حکومتوں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن انھیں ترکی کی زبانی تائید بھی حاصل نہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی واقعی شام کے عوام کا ہمدرد بن کر سامنے آیا ہے یا اس کے مقاصد کوئی اور ہیں۔

ترکی کو داخلی طور پر جس طرح کے مسائل درپیش ہیں، ان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت کرد علاقوں میں ترک حکومت کے خلاف بغاوت کا ہے۔ یہاں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ ایسے میں ترکی نے بغداد حکومت کی مخالفت کے باوجود اردبیل کی نیم خود مختار کرد حکومت سے روابط کا آغاز کیا ہے۔ ترکی اردبیل سے اپنی انرجی کی ضروریات کا ایک حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی نے اس سلسلے میں عراق کی مرکزی حکومت کی مخالفت مول لینے کا سنجیدہ فیصلہ کر لیا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب مثبت ہے تو ہمارے بعض اندیشوں کو مزید تقویت ملے گی۔ ترکی کو اس حوالے سے خاصا غور و خوض کرکے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرد اگرچہ ایران، عراق، شام اور ترکی میں تقسیم شدہ ہیں، تاہم کردوں کی سب سے بڑی تعداد ترکی میں بستی ہے۔ ترکی نے اسی لیے کسی ملک میں بھی کردوں کی علیحدگی کی کسی تحریک کی تائید نہیں کی، کیونکہ اس صورت میں خود ترکی کے تقسیم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب تک ترکی عراق کی یکجہتی اور ایک حکومت پر زور دیتا چلا آیا ہے۔ اب اگر اس نے اردبیل کی حکومت سے الگ سے ڈیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ اس کے نتائج ترکی میں بسنے والے کردوں پر کیا ہوں گے، جن کے راہنماﺅں کے خلاف ترکی کے اندر مسلسل عدالتی، فوجی اور سیاسی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ترکی کے سیاست دان اور خاص طور پر موجودہ حکومت کے ذمہ داران عالمی سطح پر بہت اہمیت رکھتے ہیں اور انھیں عالمی مدبرین کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔ ترکی کو اقتصادی لحاظ سے مشکلات سے نکالنے میں بھی موجودہ قیادت کا بہت حصہ ہے۔ ایسے میں اگر ترکی نے پھر سے نیٹو کو اپنے امور میں دخیل ہونے کا موقع فراہم کر دیا تو ہمارے نزدیک یہ عقل و دانش کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔

ہم نہیں سمجھتے کہ شام کے ساتھ مخاصمت میں ترکی کو اتنا آگے جانا چاہیے کہ پھر خود ترکی نیٹو کے رحم و کرم پر آجائے۔ ترکی کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ شام اور ترکی کو بہرحال ساتھ ساتھ جینا ہے، جبکہ نیٹو کو اپنے مفادات کے حصول کے بعد رفوچکر ہو جانا ہے، جیسا کہ اس نے افغانستان میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جیسا کہ امریکا اور اس کے حواریوں نے عراق میں کیا ہے۔ یہ تازہ ترین تجربے ترکی کو مثبت فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

 تحریر: حامد مير
  ابن سينا نے کہا تھا کہ دنيا ميں دو قسم کے لوگ ہوتے ہيں۔ ايک وہ جن کے پاس عقل ہے اور مذہب نہيں، دوسرے وہ جن کے پاس مذہب ہے مگر عقل نہيں۔ ايسا لگتا ہے کہ پاکستان ميں دوسری قسم کے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جنرل ضياءالحق کے دور ميں مذہب کے نام پر غير عقلی فيصلے کئے گئے،پھر جنرل پرويز مشرف کا دور آيا۔ انہوں نے روشن خيال اعتدال پسندی اور لبرل ازم کے نام پر فاشسٹ پاليسی اختيار کی۔
 
انہوں نے جنوبی وزيرستان ميں فوجی آپريشن کيلئے اکثريتی فرقے کے عسکريت پسندوں کے خلاف اقليتی فرقے کے قبائلی سرداروں کی زبردستی مدد حاصل کی اور قبائلی عوام کو اندر سے تقسيم کر ڈالا اور پھر يہ فرقہ وارانہ تقسيم صرف اورکزئی ايجنسی اور کرم تک محدود نہ رہی بلکہ پشاور، لاہور اور کراچی سے ہوتی ہوئی کوئٹہ تک پہنچ گئي۔
 
2003ء ميں کوئٹہ ميں ہزارہ نسل سے تعلق رکھنے والے اہل تشيع پر حملے شروع ہوئے، جو آج تک جاری ہيں۔ ويسے تو آج پاکستان ميں کوئی بھی محفوظ نہيں اور پچھلے دس سال کے دوران بم دھماکوں، ڈرون حملوں اور فوجی آپريشنوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ميں مارے جانے والے 40 ہزار سے زائد پاکستانيوں کو مختلف فرقوں ميں تقسيم نہيں کيا جا سکتا، ليکن پچھلے چار سال کے دوران کوئٹہ اور گلگت بلتستان کے علاوہ کراچی ميں اہل تشيع پر مسلسل حملے ہر محب وطن پاکستانی کے لئے باعث تشويش ہيں۔ کوئٹہ ميں صورتحال يہ ہے کہ شہر ميں صرف ہزارہ شيعہ دہشت گردی کا نشانہ نہيں بن رہے، بلکہ سني علماء کی بھی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، ليکن حکومت مکمل طور پر بےبس نظر آتی ہے۔
 
حکومت کی اتحادی جماعت ايم کيو ايم کے قائد الطاف حسين نے کوئٹہ اور کراچی ميں اہل تشيع پر حملوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے پاکستانی قوم کو ياد دلايا ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی اثناء عشری شيعہ تھے۔ الطاف حسين صاحب کی اس ياد دہانی کا مقصد يہ نظر آتا ہے کہ قائداعظم کے نام پر پاکستانی قوم کو فرقہ وارانہ تقسيم سے بچايا جا سکے۔ تاريخی لحاظ سے يہ دعویٰ درست نظر آتا ہے کہ قائداعظم اثناء عشري شيعہ تھے، ليکن يہ بھی درست ہے کہ قائداعظم کے حاميوں اور جانثاروں کی اکثريت شيعہ نہيں تھی۔
 
تحريک پاکستان کے حامی قائداعظم کو صرف ايک مسلمان سمجھتے تھے اور اسی لئے مسلمانوں کی اکثريت نے قائداعظم کی قيادت پر اتفاق کيا۔ برصغير کے مسلمانوں کی يہ خوش قسمتی تھی کہ پاکستان کا خواب ديکھنے والے شاعر علامہ محمد اقبال ايک سنی خاندان ميں پيدا ہوئے، ليکن وہ شاعر اہل سنت نہيں کہلوائے، بلکہ شاعر مشرق کہلوائے اور آج بھی ان کا فارسی کلام پاکستان سے زيادہ ايران ميں مقبول ہے۔
 
کچھ سياسی معاملات ايسے تھے، جن پر علامہ محمد اقبال اور قائداعظم کے درميان اختلاف پيدا ہوا۔ اقبال مسلمانوں کے لئے جداگانہ طرز انتخاب کے حامی تھے اور قائداعظم نے دہلی مسلم تجاويز کے ذريعہ مخلوط طرز انتخاب پر مشروط آمادگی ظاہر کی۔ سائمن کميشن اور نہرو رپورٹ پر بھی اقبال اور قائداعظم ميں سياسی اختلافات تھے، ليکن 1935ء ميں مسجد شہيد گنج لاہور کے تنازع پر مسلمانوں اور سکھوں ميں کشيدگی پيدا ہوئی تو قائداعظم کے جرأت مندانہ کردار پر علامہ محمد اقبال ان کے معترف ہوگئے۔
 
اقبال نے ايک بيان ميں قائداعظم کو بطل جليل قرار ديا۔ قائداعظم پر کچھ مولويوں نے کفر کے فتوے لگائے تو اقبال نے ان کا دفاع کيا۔ 1937ء ميں ايک ايسا واقعہ پيش آيا، جس نے قائداعظم کو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے ايک متفقہ ليڈر کے طور پر اُبھارا۔ سنٹرل ليجسليٹو اسمبلی آف انڈيا ميں ايک سنی مسلمان رکن حافظ محمد عبداللہ نے مسلم پرسنل لاء (شريعت) بل پيش کيا، جس ميں کہا گيا تھا کہ مسلمانوں کے انتقال جائيداد کے مقدمات کا فيصلہ اسلامی قوانين کے مطابق ہونا چاہئے اور عورتوں کو بھی جائيداد ميں حصہ ملنا چاہئے۔
 
اسمبلی ميں ايک بڑے جاگيردار سر محمد يامين خان نے کہا کہ شيعہ اس شريعت بل کو نہيں مانيں گے۔ قائداعظم نے انہيں سمجھايا کہ اس قانون کے تحت مقدمات کے فيصلے مسلمان جج کريں گے اور فيصلہ درخواست دہندہ کے مسلک کے مطابق ہوگا، ليکن سر محمد يامين خان نے ميجر نواب احمد نواز خان اور کيپٹن سردار شير محمد خان کو بھی اپنے ساتھ ملا ليا۔ اس موقع پر مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان، مولوی محمد عبدالغنی، قاضی محمد احمد کاظمی اور شيخ فضل حق پراچہ سميت کئی مسلمان ارکان اسمبلی نے قائداعظم کو اس شريعت بل پر بحث کيلئے متفقہ طور پر اپنا نمائندہ مقرر کر ديا۔
 
اور آخر کار طويل بحث کے بعد سر محمد يامين خان نے بھی اس بل کی حمائت کر دی اور 16 ستمبر 1937ء کو يہ بل سنٹرل اسمبلی نے منظور کر ديا۔ بل کی منظوری اہل سنت کی نہيں، اہل اسلام کی کاميابی بنی۔ قائداعظم نے ہميشہ اپنی ذات کو شيعہ سنی اختلافات سے دور رکھا، بلکہ وہ شيعہ سنی اتحاد کی علامت تھے۔ ايک دفعہ قائداعظم سے پوچھا گيا کہ آپ شيعہ ہيں يا سنی؟ قائداعظم نے سوال پوچھنے والے سے کہا کہ يہ بتاؤ پيغمبر اسلام حضرت محمد (ص) کيا تھے؟ سوال پوچھنے والے نے کہا کہ وہ مسلمان تھے۔ جواب ميں قائداعظم نے کہا کہ ميں بھی مسلمان ہوں۔
 
قائداعظم ايسی مذہبی محفلوں ميں شرکت کرتے تھے جہاں شيعہ سنی اختلاف نظر نہيں آتا تھا۔ وہ عيد کی نماز عام مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی مسجد ميں ادا کر ليتے تھے۔ عيد ميلاد النبی (ص) کے جلسوں ميں بھی شرکت کرتے، ليکن کسی مخصوص فرقے کی مجلس ميں شرکت نہيں کرتے تھے۔ پشاور اور کوئٹہ ميں اہل تشيع کے علماء نے قائداعظم کو اپنی محافل ميں مدعو کيا، ليکن قائداعظم نے معذرت کر لی۔
 
قائداعظم نے اپنی زندگی ميں وصيت کر دی تھی کہ مولانا شبير احمد عثمانی ان کی نماز جنازہ پڑھائيں گے، ان کی نماز جنازہ ميں سر ظفر اللہ خان کے سوا تمام مسلمانوں نے فرقہ وارانہ تفريق سے بالاتر ہو کر شرکت کی۔ 1968ء ميں محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی بہن شيريں بائی نے سندھ ہائيکورٹ ميں ايک درخواست دائر کی کہ فاطمہ جناح کی جائيداد کا فيصلہ شيعہ وراثتی قانون کے مطابق کيا جائے۔

20 اکتوبر 1970ء کو حسين علی گانجی والجی نے کورٹ ميں شيريں بائی کی درخواست کو چيلنج کرتے ہوئے کہا کہ فاطمہ جناح شيعہ نہيں سنی تھيں۔ درخواست گزار رشتے ميں قائداعظم کے چچا تھے لہذا ان کی درخواست پر سماعت شروع ہوگئی۔ سماعت کے دوران شريف الدين پيرزادہ نے عدالت کو بتايا کہ قائداعظم نے 1901ء ميں اسماعيلی عقيدہ چھوڑ ديا تھا، کيونکہ ان کی دو بہنوں رحمت بائی اور مريم بائی کی شادی سنی خاندانوں ميں ہوئی، تاہم قائداعظم نے خود کو کبھی شيعہ يا سنی نہيں کہا تھا۔ شيريں بائی کی شادی اسماعيلی خاندان ميں ہوئی، ليکن بعد ميں وہ بھی شيعہ ہو گئيں۔
 
عدالت ميں آئی ايچ اصفہانی نے کہا کہ وہ 1936ء ميں قائداعظم کے پرائيويٹ سيکرٹري تھے اور انہيں قائداعظم نے بتايا تھا کہ انہوں نے اسماعيلی عقيدہ چھوڑ کر شيعہ عقيدہ اختيار کيا۔ ايک اور گواہ سيد انيس الحسنين نے عدالت ميں کہا کہ انہوں نے فاطمہ جناح کی ہدايت پر قائداعظم کو شيعہ روايات کے مطابق غسل ديا، ليکن وہ يہ انکار نہ کرسکے کہ قائداعظم کی وصيت کے مطابق ان کی نماز جنازہ مولانا شبير احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔
 
24 فروري 1970ء کو سندھ ہائيکورٹ نے اپنے فيصلے ميں فاطمہ جناح کی جائيداد پر شيريں بائی کے حق کو قائم رکھا، ليکن اپنے فيصلے ميں يہ بھی کہا کہ قائداعظم نہ شيعہ تھے نہ سنی تھے بلکہ وہ ايک سادہ مسلمان تھے۔ سندھ ہائيکورٹ کا يہ فيصلہ قائداعظم کو اس جگہ لے آيا، جہاں قائداعظم ہميشہ خود کھڑے رہے۔ وہ خاندانی طور پر شيعہ ضرور تھے، ليکن عملی زندگی ميں خود کو صرف مسلمان کہلوانا پسند کرتے تھے۔

جو لوگ آج اہل تشيع پر کفر کے فتوے لگاتے ہيں، وہ مولانا شبير احمد عثماني کے بارے ميں کيا کہيں گے، جنہوں نے قائداعظم کی نماز جنازہ پڑھائی۔؟ حقيقت يہ ہے کہ شيعہ اور سنی ايک قرآن اور ايک نبی (ص) پر متفق ہيں۔ اسلئے انہيں علامہ اقبال اور قائداعظم کے راستے پر چلتے ہوئے شيعہ سنی اتحاد کی مثال قائم کرنی چاہئے اور اس کا بہترين راستہ يہ ہے کہ تمام اہم سياسی و دينی جماعتوں کی قيادت کوئٹہ اور کراچی ميں اکٹھے ہو کر فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرے۔ جس طرح اقبال اور قائداعظم ايک تھے، ہميں بھي ايک دوسرے کي مساجد اور امام بارگاہوں ميں جا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

 جسٹس (ر) راجہ افراسیاب
بھارتی افواج کے کمانڈر انچیف ’’جنرل دیپک کپور‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں ایک محدود جنگ کا امکان موجود ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب تک مسئلہ کشمیر کا حل ریاست جموں و کشمیر کے دو کروڑ عوام کی خواہش اور مرضی کے مطابق نہیں ہو جاتا اس وقت تک یقینی طور پر دونوں ممالک کے درمیان خوفناک جنگ کا خطرہ برصغیر پاک و ہند میں ہمیشہ موجود رہے گا۔
پاکستان اور بھارت ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں آئندہ جنگ سے یقینی طور پر گریز کرینگے۔ دونوں ملک اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آئندہ جنگ میں ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جو بھی ملک روایتی جنگ میں ناکامی سے دوچار ہوگا وہی ملک ایٹمی جنگ میں پہل کریگا۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو دونوں ملک پاکستان اور بھارت ایک انتہائی تباہ کن صورت حال سے دو چار ہونگے۔ ’’انسان، جانور، پرندے‘‘ گویا تمام زندہ کائنات ایک وسیع قبرستان کی شکل اختیار کرلے گی۔ ’’نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘‘ بھارتی کمانڈر کو میرا مشورہ ہوگا کہ وہ ایٹمی تباہی و بربادی کو دیکھنے کیلئے ’’ہیروشیما اور ناگاساکی‘‘ کا تفصیلی دورہ کریں۔ جاپان کے عظیم شہروں کی تباہی کا مکمل ریکارڈ دنیا کے تقریباً ہر ملک کے پاس موجود ہے۔ اس ریکارڈ کا وہ غور سے پورا پورا مطالعہ کریں۔

اس وقت مسلم ممالک کی تعداد تقریبا57ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سب کہ سب نام کے اسلامی ملک ہیں ایک نظریے کے مطابق ان اسلامی ممالک میں آپ کو اسلام کم ہی نظر آئے گا۔ اگر اسلام کی کوئی بات ان ممالک میں ہوتی تو امیریکہ اور اسکے اتحادی کبھی بھی عراق اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے خون کی ہولی نہ کھیلتے۔ اتحاد کی اس وقت امت مسلمہ کی شدت سے ضرورت ہے لیکن پورے مسلم حکمران اس بارے میں کوئی قدم اٹھانے تو دور کی بات سوچنابھی گنوارہ نہیں کرتے۔ امیریکہ اور یورپ اپنے اتحاد کو روز بروز تقویت دے رہے ہیں لیکن مسلم دنیا کواپنے اندرونی مخالفتوں سے فرصت نہیں۔  وہ اسلامی قوانین جو کہ ایک مسلم ملک میں ہونے چاہیںنظر نہیں آتے۔ ان 57 اسلامی ممالک میں سعودی عرب کے علاوہ کہیں بھی عوام کو انصاف فراہم نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے امیریکہ اور اسکے حامی ممالک کو سعودی قوانین کھٹک رہے ہیں اور ممکن ہے کے آئندہ آنے والے دنوں میں یہاں بھی امیریکہ اپنی نام نہاد جمہوریت کے پنجے گاڑ نے میں کامیاب ہو جائے۔