مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت جاری، مزید 4 نوجوان شہیدتسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، غاصب بھارتی فورسز نےضلع راجوڑی کے گاؤں راواریاں تلہ میں فائرنگ کرکے 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔

 

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھارت کی بربریت تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

 

نوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقے میں بھارتی فورسز کے خلاف مظاہرے کیے گئے جس پرقابض بھارتی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑکی گولیاں برسائی گئیں۔

 

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 3 کشمیری نوجوان زخمی ہوگئے۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔

 

یاد رہے کہ 20 مارچ 2018 کو قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہلمت پورہ میں سرچ آپریشن کی آڑ میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔

ابهرتے فتنے اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

 

 

اہل فتنہ ہمیشہ دین کے ظاہری احکام کا سہارا لے کر لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے باطل کو چھپانے کے لئے دینی اقدار اور امور کے ظاہر کا استفادہ کرتے ہیں، با الفاظ دیگر دینداری کا لبادہ اوڑھ کر ہی یہ اہل باطل سادہ لوح دینداری کو شکار کرتے ہیں۔ اگر لوگوں کو دین کی حقیقت کا درست ادراک ہو اور وہ دین کی اصلیت کو جانتے ہوں تو فتنہ گروں کے لئے ایسے لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے سامنے فتنہ گر باطل کو حق کی پالش کر کے دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ دین کی حقیقت اور اصلیت سے آشنا ہے، تو اس کے لئے اصل اور نقل کی پہچان میں مشکل پیش نہیں آتی۔ دین کی صحیح شناخت اور علم نہ ہونے کی وجہ سے فتنے کا شکار ہو کر گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گرنے والوں کی ایک مثال خوارج کی ہے کہ انہیں کلمہ "لا حکم إلا للہ" کا مفہوم سمجھ میں نہ آنے اور اسلام کے نظام حکومت سے جاہل ہونے کی وجہ سے علی ابن ابی طالب (ع) جیسی عظیم شخصیت پر کفر کا فتوی لگاتے ہوئے آپ سے برسر پیکار ہوئے۔

 

تحریر: محمد حسن جمالی

 

ابتداء آفرینش سے لے کر آج تک حق اور باطل کے درمیان کشمکش اور ٹکراو رہا ہے، کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں ساری انسانیت حق کی چهتری تلے جمع ہوگئی ہو اور باطل کا کوئی نام لیوا نہ رہا ہو، اسی طرح تاریخ بشریت میں ایسا زمانہ بهی نہیں گزرا ہے جس میں کرہ ارض کے انسانوں نے باطل پر اجماع کرکے حق کو یکسر طور پر مسترد کرچکے ہوں، بلکہ شروع سے ہی افراد بشر دو گروہ میں تقسیم رہے ہیں، ایک گروہ حق سے متصل رہا جسے اہل حق کہلایا اور دوسرا گروہ باطل سے وابستہ رہا جو اہل باطل سے موسوم ہوا البتہ کمیت کے اعتبار سے ہر دور میں باطل کی اکثریت رہی ہے۔ آج بهی اگر دیکها جائے تو دنیا میں باطل کی اکثریت ہی دکهائی دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائنات میں اہل باطل زیادہ کیوں ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہو سکتا ہے کہ باطل کے نمائندے انسان نما شیطانوں نے حق کا لبادہ اوڑها اور حق و باطل کو ملاکر سادہ لوح عوام کو حق سے منحرف کرنے میں اپنی پوری طاقت سے کردار ادا کیا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سارے لوگ حق و باطل میں تمیز نہ کرپائے اور باطل کو حق سمجهتے ہوئے اسے قبول کیا یوں باطل کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ 

 

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بهی باطل کے ٹهیکیداروں کا یہ حربہ کامیاب دکهائی دیتا ہے۔ اس حقیقت پر تو سارے مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اس وقت باطل کا سرپرست اعلٰی امریکہ اور اس کا نمک خوار اسرائیل ہے، یہ دونوں کرہ ارض پر ام الفساد ہیں، وہ چاروں جوانب سے تحقیق اور ریسرچ کرکے اس نتیجے پر پہنچے ہوئے ہیں کہ کرہ ارض پر ان کے لئے خطرہ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہے، اگر ان کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر ان سے مقابلہ کرنے کی ہمت، جرات اور شجاعت کسی میں ہے تو وہ فقط مسلمان ہیں، لہذٰا انہوں نے اپنی ساری توانائیوں کو مسلمانوں کے خلاف یکجا کیا، وہ اعلانیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کے بجائے خفیہ طور پر مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہوگئے، انہوں نے اپنے وسیع پیمانے کی تحقیقات کے ذریعے مسلمانوں کی اصل طاقت تک رسائی حاصل کی پهر اسے کمزور کرنے کے لئے شب و روز کام کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی حقیقی طاقت ان کا اتحاد ہے، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر وحدت جیسی عظیم طاقت کو پاش پاش کرنے پر پورا زور لگایا، جس کے لئے مسلمانوں کے دیرینہ اصلی دشمنوں نے درهم و دینار اور ڈالر دے کر خود مسلمانوں سے کمزور عقیدے و ایمان کے حامل افراد کو خرید لیا اور ان زرخرید غلاموں کے ذریعے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی اور بڑی زیرکی سے انہوں نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے مسلمانوں کے درمیان پهوٹ ڈال کر ان کے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کا پورا نقشہ کهینچا، پهر دونوں طرف سے فکری اور عقیدتی تربیت سے عاری بظاہر تعلیم یافتہ مذہبی رجحان رکهنے والے افراد کو خرید کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا، ان کی زبان سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز باتیں نکلوائیں، ایک دوسرے پر بدعت اور کفر کے فتوے تک لگوائے، البتہ کفر اور شرک کے فتوے سعودی عرب کے مفتیوں نے دیئے جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں خاص طور پر پاکستان میں سینکڑوں بے گناہ مسلمان شهید ہوئے۔ جن کے خون ناحق سے شہر کا چپہ چپہ رنگین ہوا، در و دیوار سرخ ہوئے۔ تکفیری ٹولے نے لاتعداد افراد کو ذبح کیا گیا، بے شمار لوگوں کو دریا برد کیا گیا۔ 

 

2012ء میں پیش آنے والا دلسوز سانحہ چلاس کو ہی لے لیجئے، جہاں راولپنڈی سے گلگت بلتستان آنے والے مسافروں کو بے جرم و خطا کچھ تکفیری ذہنیت کے حامل شرپسند افراد نے بسوں سے  نکال کر شناختی کارڈ چیک کرتے ہوٸے مومنین پر گولیوں  پتھروں، ڈنڈوں، اور چھریوں سے وار کیا، عینی شاہد شبیر کھوکرہ نقل کرتا ہے کہ نہتے مسافروں کو بے دردی سے قتل کرنے والے اتنے سفاک تھے کہ قتل کے بعد نعرہ تکبیر بلند کرتے اور تالیاں بجاتے تھے، یعنی اسلام کے نام پر اس بہیمت اور درندگی کا مظاہرہ کیا گیا، اسی طرح کا ایک دلخراش واقعہ کوہستان میں بھی پیش آیا تھا جس میں 16 مومنین کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ کفر کے فتووں سے متاثر ہوکر جنت کی ٹکٹ کے لالچ میں انسان نما درندوں نے ملک کے طول و عرض سے چن چن کر ہزاروں کی تعداد میں قوم کے عظیم قیمتی سرماٸے ڈاکٹرز، وکیل ،ٹیچرز اور سماجی شخصیات کو ہم سے چھین لیا گیا، انہوں نے پاکستانی معاشرے میں اس قدر خوف پھیلایا کہ آج پاکستان کا ہر فرد امنیت کے لٸے ترس رہا ہے طالبان القاعدہ اور داعش کا نام سن کر ہی لوگوں پر خوف طاری ہوتا ہے۔ 

 

امریکہ و اسرائیل نے طالبان اور داعش کو مضبوط کرنے کے لئے وافر مقدار میں ڈالر خرچ کئے لیکن اسکے  باوجود انہیں وہ کامیابی نہیں ملی جس کا خواب وہ دیکھ رہے تھے، تو انہوں نے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے عقیدے کے کمزور افراد سے خدمات لینا شروع کی اور کسی حد تک وہ اپنے اس ہدف میں کامیاب بھی ہوئے۔ شیرازی گروہ نے سعودی عرب کے مفتیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوٸے اپنے دین کو امریکہ و اسرائیل کے ثمن قلیل کے مقابلے میں بھیج دیا اور بخوشی ان کے جاسوس بن کر اپنی دنیا آباد کی، اس گروہ میں شہرت یافتہ افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ سرفہرست صادق شیرازی، اللہ یاری اور یاسر الحبیب کے نام آتے ہیں، ان کا کام بھی داعش والا ہی ہے، یعنی شدت پسندی اور دوسروں کے مقدسات کی توہین کرنا، سرعام خلفاء اور حضرت عائشہ کے خلاف بول کے اہلسنت مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانا، شیعہ مجتہدین کو لعن طعن کا نشانہ بنانا۔ ایسی شنیع و قبیح حرکتوں کو یہ لوگ دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہدف مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکا کر انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا کر لڑانا ہے۔ اتحاد پر کاری ضرب لگاکر مسلمانوں میں دوریاں اور تفرقہ پیدا کرنا ہے تاکہ مسلمان آپس میں الجھ کر اصل دشمنوں سے غافل رہیں۔ 

 

حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹولہ امریکہ اسرائیل اور برطانیہ کا ایجنٹ اور جاسوس ہے، ان لوگوں کا اصل مرکز بھی برطانیہ میں ہے، ان کے مختلف چینلز ہیں، جن پر امریکہ اور برطانیہ خوب پیسے خرچ کر رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں یہ لوگ فتنہ گر ہیں، ان کا مقصد مسلم دنیا میں فتنوں کو پروان چڑھانا ہے، اسی طرح بعض ناداں لوگ مسئلہ شام و یمن کو بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا سبب بنانے میں کوشاں نظر آتے ہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے اس میں بعض پڑھے لکھے اور اہل قلم کا کردار کچھ زیادہ نظر آتا ہے، بلاشبہ یہ بھی ایک فتنہ ہے، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفریق اور فرقہ واریت کو پیدا کرنے والے نہ شیعہ ہیں اور نہ ہی سنی  بلکہ وہ استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ یہاں تین بنیادی سوال پیدا ہوتے ہیں، فتنہ ہے کیا؟ اور اس کا سبب کیا ہے؟ نیز فتنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ فتنے کا کلی مفہوم یہ ہے کہ وہ حوادث و اتفاقات جو مختلف معاشروں میں کبھی کبھی حق و باطل کو باہم مخلوط کرنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں، جن کا سرچشمہ خواہشات نفسانی ہوتی ہیں، امام علی (ع) نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر  50 میں یوں فرماتے ہیں:"انَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ وَ أَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ يُخَالَفُ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ وَ يَتَوَلَّى عَلَيْهَا رِجَالٌ رِجَالًا عَلَى غَيْرِ دِينِ اللَّهِ فَلَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِزَاجِ الْحَقِّ لَمْ يَخْفَ عَلَى الْمُرْتَادِينَ وَ لَوْ أَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ مِنْ لَبْسِ الْبَاطِلِ انْقَطَعَتْ عَنْهُ أَلْسُنُ الْمُعَانِدِينَ وَ لَكِنْ يُؤْخَذُ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ وَ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ فَيُمْزَجَانِ فَهُنَالِكَ يَسْتَوْلِي الشَّيْطَانُ عَلَى أَوْلِيَائِهِ وَ يَنْجُو الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ الْحُسْنى۔" "فتنوں کے وقوع کا آغاز وہ نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ نئے ایجاد کردہ احکام جن میں قرآن کی مخالفت کی جاتی ہے، جنہیں فروغ دینے کے لئے کچھ لوگ دین الٰہی کے خلاف باہم ایک دوسرے کے مددگار ہو جاتے ہیں، اگر باطل حق کی آمیزش سے خالی ہوتا، تو ڈھونڈنے والوں سے پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق باطل کے شائبہ سے پاک و صاف سامنے آتا، تو عناد رکھنے والی زبانیں بھی بند ہو جاتیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ ادھر سے لیا جاتا ہے اور کچھ ادھر سے اور دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر شیطان اپنے دوستوں پر چھا جاتا ہے اور صرف وہی لوگ بچے رہتے ہیں جن کے لئے توفیقات الہی اور عنایت خداوندی پہلے سے موجود ہو۔" 

 

کسی بھی معاشرے میں جب فتنے کے آثار نمایاں ہونے لگیں تو مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ 

اولا: فتنہ کے نطفے کو آغاز ہی میں افہام و تفہیم، روشن گری و تبیین کے ذریعے ختم کر دیں۔ 

ثانیا: فتنہ گروں کی ہدایت ممکن نہ ہو اور وہ اپنی فتنہ انگیزیوں سے باز نہ آئے تو سینہ تان کر فتنے کا مقابلہ کرکے اسے نابود کردیں۔ 

ثالثا: اگر انسان شک و تردید، حیرت و سرگردانی اور عدم بصیرت کی وجہ سے فتنے کا مقابلہ نہ کر سکنے کی صورت میں کم از کم اہل فتنہ کے ہاتھوں باطل کے پھیلاؤ میں استعمال نہ ہوجائے۔

اب جو لوگ فتنے کو ابتدا ہی میں دفع کرنا چاہتے ہیں یعنی فتنہ کا نطفہ منعقد ہی ہونے نہیں دینا چاہتے ہیں یا پھر وقوع یافتہ فتنے کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیرتے ہوئے امت کو نت نئے فتنوں کی دہل سے نجات دلانے چاہتے ہیں تو ان کے لئے مولائے متقین نے کچھ راہ و اصول بیان  فرمایا ہے، جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انسان نہ فقط خود نجات کی ساحل تک پہ پہنچ سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی مسیحا کا کردار ادا کرسکتا ہے 

 

1۔ دین کی صحیح شناخت 

اہل فتنہ ہمیشہ دین کے ظاہری احکام کا سہارا لے کر لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے باطل کو چھپانے کے لئے دینی اقدار اور امور کے ظاہر کا استفادہ کرتے ہیں، با الفاظ دیگر دینداری کا لبادہ اوڑھ کر ہی یہ اہل باطل سادہ لوح دینداری کو شکار کرتے ہیں۔ اگر لوگوں کو دین کی حقیقت کا درست ادراک ہو اور وہ دین کی اصلیت کو جانتے ہوں تو فتنہ گروں کے لئے ایسے لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے سامنے فتنہ گر باطل کو حق کی پالش کر کے دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ دین کی حقیقت اور اصلیت سے آشنا ہے، تو اس کے لئے اصل اور نقل کی پہچان میں مشکل پیش نہیں آتی۔ دین کی صحیح شناخت اور علم نہ ہونے کی وجہ سے فتنے کا شکار ہو کر گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گرنے والوں کی ایک مثال خوارج کی ہے کہ انہیں کلمہ "لا حکم إلا للہ" کا مفہوم سمجھ میں نہ آنے اور اسلام کے نظام حکومت سے جاہل ہونے کی وجہ سے علی ابن ابی طالب (ع) جیسی عظیم شخصیت پر کفر کا فتوی لگاتے ہوئے آپ سے برسر پیکار  ہوئے۔ 

 

2۔ بصیرت 

عموما فتنہ پھیلانے والے لوگ عوام کی جہالت اور نادانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو فتنہ و آشوب کے حامی بناتے ہیں اور لوگوں کے اسی جہالت سے اپنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لوگوں کی سادگی، جہالت اور غفلت کو غنیمت جان کر حق و باطل کو ملا کر ایسی صورتحال کا انہیں شکار کرتے ہیں کہ آسانی سے حق اور باطل میں شناخت نہ کر سکیں۔ بلکہ ایسی صورت حال میں ہی بصیرت اور آگاہی نہ رکھنے والے لوگ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اور دشمن بھی اسی حالت سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لہذٰا فتنے سے مقابلے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں آگاہی اور بصیرت ہو۔ یہ آگاہی و بصیرت ہے جو لوگوں کو فتنے کی گمراہیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی بھی بصیرت کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "بصیرت وہ مشعل ہے جو تاریکیوں میں راستہ دکھاتی ہے، یہ ایسا قطب ہے جو غبار میں ڈھکے ہوئے بیابان میں صحیح ہدف اور سمت کا تعین کرتا ہے۔" 

 

3۔ حفظ وحدت 

فتنہ و آشوب نہ فقط اختلافات کی جڑ ہے بلکہ خود فتنے کو برقرار رکھنے کے لئے فتنہ گر معاشرے میں اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی نسلی اختلافات، کبھی قومی اختلاف، کبھی مذہبی اختلافات اور کبھی زبانی اختلافات وغیرہ ہی کے ذریعے معاشرے میں اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ لہذٰا امیر المومنین علیہ السلام نے فتنے کے مقابلے میں کسی بھی گروہ کی کامیابی کو اس گروہ کے اتحاد میں مضمر جانا ہے۔ فَلَا تَكُونُوا أَنْصَابَ الْفِتَنِ وَ أَعْلَامَ الْبِدَعِ وَ الْزَمُوا مَا عُقِدَ عَلَيْهِ حَبْلُ الْجَمَاعَةِ وَ۔۔۔ "تم فتنوں کی طرف راہ دکھانے والے نشان اور بدعتوں کے رہنما نہ بنو، تم ایمان والی جماعت کے اصولوں اور ان کی عبادت و اطاعت کے طور طریقوں پر جمے رہو، اللہ کے پاس مظلوم بن کر جاؤ ظالم بن کر نہ جاؤ۔ شیطان کی راہوں اور تمرد و سرکشی کے مقاموں سے بچو۔ اپنے پیٹ میں حرام کے لقمے نہ ڈالو اس لئے کہ تم اس کی نظروں کے سامنے ہو جس نے معصیت اور خطا کو تمہارے لئے حرام کیا ہے اور اطاعت کی راہیں آسان کر دی ہے۔"(خطبہ: 149) اسی لئے ابھرتے فتنوں کا مقابلہ کرنا سارے مسلمانوں کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ 

 

 

مورخین کا کہنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کے گھر میں حضرت امام حسن (ع) کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول اکرم (ص) کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورۂ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔

رسول اکرم (ص) کی رحلت اور امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کی مناسبت سے؛

ایران کے چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس و مجالس کا سلسلہ جاری

خبر کا کوڈ: 1252624 خدمت: دنیا
مسجد نبوی و جنت البقیع

ختم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس ہائے عزا برآمد کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران کے شہر مشہد مقدس میں بارگاہ حضرت امام رضا علیہ السلام میں 30 لاکھ 50 ہزار زائرین جمع ہیں اور رحلت رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شہادت امام حسن علیہ السلام  کی مناسبت سے ماتم داری کرتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں پرسہ دے رہے ہیں۔

حرم امام رضا علیہ السلام میں زائرین کے مختلف دستوں کی وجہ سے پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہے اور حرم کے مختلف صحنوں میں  علماء کرام مختلف زبانوں میں رسول اکرم صل اللہ عیہ وآلہ وسلم اور امام حسن علیہ السلام کی احادیث مبارکہ اور فضائل و مصائب اہلبیت بیان کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کی عظیم علمی، سماجی، تنظیمی اور مذہبی شخصیت ابراہیم تبسم کا انتقال۔۔۔۔ناقابل تلافی ملی نقصان!
 ابراہیم تبسم علم بیچنے کے نہیں بلکہ پھیلانے کے قائل تھے، یہی وجہ تھی کہ ایک طویل عرصہ اپنے ہی گھر میں طلباء کو بلا کر ٹیوشن مفت پڑھاتے اور زیور علم سے آراستہ کرتے رہے۔ آدمی کی جان جا سکتی ہے، جسم مر سکتا ہے، لیکن اسکا کردار اور عمل کبھی نہیں مر سکتا۔ ہزاروں کی تعداد میں طلباء انکے کردار کے زندہ ہونے کا ثبوت ہیں۔ سوشل میڈیا پر انکی وفات کے بعد محسن نقوی کا ایک شعر گردش کرتا رہا، جو علاقے کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا کہ محسن ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا ہم رہ گئے ہمارا تبسم چلا گیا

 

 

روزمبعث انسانیت کی بیداری کا دن